اسلام میں شرم و حیا کی اہمیت
ڈاکٹر اسرار احمدؓ
سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدریؓسے روایت ہے‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’سابقہ نبوت کے کلام میں سے لوگوں نے جو باتیں پائی ہیں ‘ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تم حیا چھوڑ دو تو جو دل چاہے کرو!‘‘
امام یحییٰ بن شرف النووی ؒ کے مشہورمجموعہ احادیث ’’اربعین نووی‘‘ کے سلسلہ وار مطالعہ کے ضمن میں آج20 ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ یہ حدیث انتہائی مختصر مگر اپنے موضوع کے حوالے سے جامع ترین ہیں۔ حضرت ابومسعود عقبہ بن انصاری بدریؓسے مروی ہے ‘ جو بدری صحابی ہیں اور ان کا تعلق انصار سے ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں شامل کیا ہے۔
زیرمطالعہ حدیث اور اس کی تشریححضرت ابومسعود ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی))’’نبوت ِاولیٰ (یعنی پہلے انبیاء کرامؑ ) کے کلام میں سے جو چیز لوگوں نے پائی ہے یا جو اُن کے پاس محفوظ ہے‘‘----ظاہر بات ہے کہ انبیاء کرام ؑ کاایک سلسلۃ الذہب ہے اور ہم اللہ کے تمام انبیاء و رسلؑ پر ایمان رکھتے ہیں۔البتہ ان کی تعلیمات میں کچھ تحریف بھی ہوئی‘اور کچھ نسیان کا شکار بھی ہو گئیں کہ لوگوں نے اُن کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ بہرحال ان کی تعلیمات کے کچھ نہ کچھ اثرات اُس وقت یعنی دورِ نبویؐ میںبھی موجود تھے اور وہ حکمت کے موتیوں کی طرح سے لوگوں کے اندر مشہور تھے۔ انہی میں سے ایک موتی وہ ہے جس کی نشاندہی حضورﷺ نے فرمائی:
(( اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ))
’’جب تم حیا کا پردہ اٹھا دو تو پھرجو چاہو کرو!‘‘
خوف اور حیا کا مرکز:انسانی دماغ کا اعلیٰ ترین حصہزیرمطالعہ حدیث درحقیقت ایک بہت بڑ ی نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے ------ حیا کے بارے میں ایک اور حدیث بہت مشہور ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:((اَلْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ))
’’حیاایمان کی ایک شاخ‘ ایک شعبہ ہے‘‘۔ یعنی حیا ایمان کا حصہ ہے۔
میں اس کی مزید وضاحت کر رہا ہوں کہ حیازندگی کا جزوِ لازم ہے ‘اس لیے کہ حیات اور حیاکا مادہ ایک ہی (ح ی ی ) ہے۔ اصل میںہمارا مرکزی اعصابی نظام (Central Nervous System) ہمارے دماغ(Brain) اور حرام مغز (Spinal Cord)پر مشتمل ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں چل رہا ہے۔ دماغ میں اعلیٰ ترین حصہ سیریبرم(cerebrum) ہے۔ یہ گرے میٹر (gray matter) کہلاتا ہے اور رنگ دار سا پیلا سا مادہ ہوتا ہے۔ سیریبرم کا جو سب سے اعلیٰ (highest) حصہ ہے وہ fear & shyness center ہے یعنی خوف اور حیا کا حصہ۔
حیا اور حیات کا خصوصی تعلقاس ضمن میں نوٹ کیجیے کہ حیا کا حیات کے ساتھ خصوصی تعلق ہے ‘ اس لیے کہ حفظ ِ ذات (preservation of the self)سب سے بڑا محرک (motive) ہے اور یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے۔اس کے بعدہے اپنی نسل کو برقرار رکھنا (preservation of the species)۔ اس کے لیے آدمی شادیاں کرتا ہے اور پھر اولاد اور اپنے کنبے کے سو جھمیلوں کو برداشت کرتا ‘ اس کا بوجھ اُٹھاتا ہے ۔ یہ سب اس لیے کرتا ہے کہ اپنی نسل کو برقرار رکھنا‘اس کو بچانا اس کے فطری اور جبلی داعیات (instincts)میں سے ہے۔ البتہ اپنے آپ کو بچانا یعنی حفظ ذات اہم ترین محرک ہے‘ اوراس کے یہ دو فنکشنز ہیں: خوف اور حیا(fear & shyness)۔ یعنی خطرہ ہے تو اس سے اپنا بچائو کرنا‘ شیر آ رہا ہے تو بھاگو‘ دوڑو۔ یہ خوف ہے۔اسی طرح حیا اور جھجک بھی درحقیقت انسان کے دماغ اورسیریبرم کے اعلیٰ ترین حصے کا جزو ہے۔
شراب کا اوّلین اثر :حیا اور خوف کا خاتمہ
اس ضمن میں میں ایک اور حقیقت واضح کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھئے‘شراب کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ انسانی دماغ کی تمام سطحوں (levels)کو رفتہ رفتہ ناک آئوٹ کرتی ہے‘ ایک دم سارے دماغ کو متاثر نہیں کرتی۔ مثلاً آپ نے تھوڑی سی شراب پی لی ہے تو خوف اور جھجک (حیا) دونوں جاتے رہیں گے۔ اس سے انسان میں جرأت و بہادری (boldness)پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ شراب پی کرایک مقرر بڑی عمدہ تقریر کرے گا‘ ورنہ مقرر کو احساس یا خدشہ ہوتا ہے کہ میری تقریر کا پتانہیں لوگ کیا اثر لے رہے ہوں گے‘ دل میں اس کا کوئی مذاق اڑا رہا ہوگا ‘ وغیرہ۔ یہ خدشات و احساسات ایک مقرر کو قدم قدم پر روکتے ہیں‘لیکن جب جھجک ختم ہوگئی تو اب اس کے ذہن سے یہ سارے خدشات ختم ہوجائیں گے اور وہ بہت عمدہ تقریر کرے گا۔اسی طرح اگر کوئی بہت بڑا وکیل ہے تو شراب پی کر جو وہ مقدمے کی پیروی کرے گا وہ بغیر شراب کے نہیں کر سکتا۔ اسی طور سے لڑائی کا معاملہ ہے۔ لیکن یہ سب اُس وقت ہے جب شراب کی مقدارکم ہو۔اور اگر شراب کی مقدار زیادہ ہو جائے گی تو پھروہ نچلی سطحوں کو بھی متاثر کرے گی اور ڈپریشن پیدا کرے گی اورپھر یہ ڈپریشن دماغ کے ساری سطحوں کو نقصان پہنچاتا چلا جائے گا۔ البتہ شراب کا پہلا کام خوف اور حیا کو ختم کرنا ہے ۔ اس سے مقرر اچھی تقریر کرے گا اور شاعر اچھے اشعار کہے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ سارے کے سارے بڑے شاعر‘ غالب ہو یا کوئی اور‘ اس لال پری سے جی بہلاتے تھے۔ اقبال بھی ابتدائی دور میں شراب پیتے تھے۔ جگر نے تو خود کہا ہے :
؎
سب کو مارا جگر کے شعروں نے
اور جگر کو شراب نے مارااس لیے کہ شراب توگویا ان کی گھٹی میں تھی‘ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ جگر موت سے کافی پہلے تائب ہوئے اور توبہ کرنے کے بعد پھر جو شاعری انہوں نے کی ہے وہ بڑی نفیس اور بہت روحانی پہلو لیے ہوئے تھی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی جو غزلیں مشہور ہیں وہ تو اُسی شراب نوشی کے دور کی ہیں۔الغرض‘خوف اور حیا کے ختم ہونے سے مقرر اچھی تقریر کرے گا ‘ وکیل اچھے دلائل دے گااورشاعر اچھی شاعری کرے گا۔ لیکن رفتہ رفتہ شراب کے زیر اثر انسان بالکل ہی نڈر اور بے حیا ہو جاتا ہے۔
اس اعتبار سے حیا (shyness)بہت اہم شے ہے‘اسی لیے حضورﷺ نے فرمایاکہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور اس کی مزید تشریح میں ‘میں نے بتایا کہ درحقیقت یہ حیات کا جزوِ لازم ہے ‘بایں طور کہ انسان اپنی حیات کو بچانے کے لیے خوف اور حیا کے میکنزم کا استعمال کرتا ہے۔
عورت میں حیا کا مادہ زیادہ ہے!یہ خالق ِکائنات کی حکمت تخلیق ہے کہ اُس کی طرف سے حیا کا مادہ مرد کی نسبت عورت میں زیادہ رکھا گیا ہے۔ مرد اپنی جسمانی ساخت‘ اپنی صلاحیتوں اور functions جو اسے دیے گئے ہیں‘ ان کی ر و سے فعال اور متحرک (active) ہوتا ہے‘ اقدام کرتا ہے ‘ جبکہ عورت گریز کرتی ہے۔ عورت کے نسوانی حسن کا یہ خاصہ ہے کہ وہ گریز کرے‘ اور اگر عورت میں بھی اقدام آ جائے تو پھر اس کی وہ نسوانیت ختم ہو گئی اور وہ بھی مرد ہو گئی۔اس لیے کہ عورت کی خلقت میں شرم و حیا اور گریز کا عنصر ہے ۔کوئی بھی معاملہ ہو‘ چاہے وہ عام طو رپر جس کو ہم عشق مجازی کہتے ہیں‘ اس میں بھی اقدام مرد کی طرف سے ہوتا ہے۔مرد طالب ہوتا ہے اور عورت مطلوب ہوتی ہے۔ تویہ مادہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے اندر زیادہ رکھا ہے اور یہ عورت کے نسوانی حسن کا سب سے بڑا زیور اورسب سے بڑا حصہ ہے۔
سورۃ القصص میں اس کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے --- حضرت موسیٰؑمصر سے چل کر مدین تک پہنچے ہیں اوراس دوران حضرت موسیٰ ؑنے پورا صحرائے سینا عبورکیا ہے۔ کوئی سواری کیا‘ کوئی شے پاس تھی ہی نہیں‘ اور یہ سانپوں سے بھرا ہوا صحرا تھا۔
حضرت موسیٰ ؑ تھکے ماندے‘ بھوکے پیاسے مدین پہنچے اور وہاں ایک پانی کے کنویں کے پاس جا کر پڑائو ڈالا۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ دو لڑکیاں کنویں کے ایک طرف کھڑی ہیں اور اپنے ریوڑ کو پانی پینے سے روک رہی ہیں۔حضرت موسیٰ ؑ کنویں کے پاس گئے اور چرواہوں اور ان کے جانوروں کو اِدھر اُدھر ہٹا کر ان لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پلایا اور وہ اپنا ریوڑ لے کر چلی گئیں۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور انہوں نے اس وقت یہ دعا مانگی:{رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ(24)}’’اے میرے پروردگار! میں تو تیری ہر اُس خیر اور خیرات کا مستحق ہوں جو تو ُمیری جھولی میں ڈال دے‘‘۔
دوسری طرف اُن لڑکیوں نے گھر جا کر اپنے والد کو سارا واقعہ بتایا۔ اب ان میں سے ایک لڑکی اپنے والد کا پیغام لے کر جب آئی تو اس کی چال ڈھال کے لیے قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں:{فَجَآئَ تْہُ اِحْدٰ ىھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَـآئٍز}’’پس آئی ان دونوں میں سے ایک لڑکی حیا کے ساتھ چلتی ہوئی‘‘۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ عورت کے چلنے میں بھی حیا ہے۔
مغرب عورت کی حیا کو ختم کرنے پر ُتلا ہوا ہے!اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں جو بھی عناصر رکھے ہیں‘ ان میں مرد کے مقابلے میں حیا کا پہلو بہت قوی ہے‘ جس کومغرب آج ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مغرب حیا کے پردے کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس وقت دنیا میںاس کے لیے جو عظیم تحریک چل رہی ہے‘ اس کو ’’سوشل انجینئرنگ پروگرام‘‘ کا دل فریب نام دیاگیا ہے۔یعنی سوسائٹی اور معاشرہ کی تعمیر نوکرنی ہے‘اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عورت میں سے حیا کو باہرنکال دو۔ مغرب میں عورت کی بے پردگی کا معاملہ کوئی بہت پرانا نہیں ہے‘بلکہ زیادہ سے زیادہ سو‘سوا سوسال پرانا ہے۔ امریکہ کی پرانی فلموں میں عورت مکمل لباس زیب تن کیے ہوتی تھی‘ یعنی گردن سے لے کر ٹخنے تک‘سوائے چہرے کی ٹکیا کے اور سر پر ان کے یقیناًسکارف ہوتاتھا۔ یہ جو سکرٹس اور منی سکرٹس آنی شروع ہوئی ہیں ان کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔
1897ء میں ’’پروٹوکولزآف دی ایلڈرز آف زائن‘‘ کی پہلی کانفرنس سوئٹزرلینڈ کے شہر Baselمیں ہوئی تھی‘ جہاں ٹاپ کے یہودی جمع ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر یہودی بینکرز تھے۔Zionist موومنٹ بھی یہودی بینکرز کی تحریک ہے اور وہ مذہبی یہودی نہیں ہیں‘ بلکہ سیکولر ٹائپ کے یہودی ہیں۔مذہبی یہودی وہ ہیں جن کی چھلے دارزلفیں ہوتی ہیں۔ ان کی داڑھیاں لمبی ہوتی ہیں۔ سر ننگے کا تو سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ سر کے اوپر چھوٹی سی ٹوپی نہیں بلکہ پورا ہیٹ ہوتا ہے اور وہ بھی سیاہ رنگ کا۔ اسی طرح انہوں نے سیاہ اَچکن کی طرز کا لمبا کوٹ پہنا ہوتا ہے۔ یہ ہیں مذہبی یہودی۔ لیکن سوئٹزرلینڈ کے شہر Baselمیں جو لوگ جمع ہوئے تھے وہ سب سیکولر تھے اور بینکرز کے نمائندے تھے۔نوعِ انسانی کے لیے انہوں نے جو چیزیں طے کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا جائے تاکہ انسان حیوان بن جائے اور پھر ہم ان حیوانوں کو استعمال کر سکیں۔ یہ ان کا فلسفہ ہے کہ سوائے یہودیوں کے تمام بنی آدم انسان نما حیوان ہیں ‘یعنی شکل تو انسانوں کی سی ہے لیکن درحقیقت سب حیوان ہیں۔چنانچہ غیر یہودی انسانوں کے لیے وہ goy`imsاور gentilesکے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے حیوان کو استعمال کرنا عام انسان کا حق ہے ---- گھوڑے کو تانگے میں اور بیل کوہل میں جوتاجاتا ہے ---- اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم انسان نما حیوانوں کو بھی اسی طرح استعمال کریں۔اور یہ بات ان کی باقاعدہ مذہبی تعلیمات میں شامل ہے۔
یہودیوں کی مذہبی کتاب ’’تالمود‘‘ جو اصل میں فقہ کی کتاب ہے اور مذہبی اعتبار سے بہت اہم ہے‘ اس میں یہ مذکورہے کہ غیر یہودیوں کو دھوکہ دینا‘ ان سے سود وصول کرنا‘ ان کے مال پر ڈاکہ ڈالنا‘ چوری کرنا وغیرہ جائز ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس کا تذکرہ بایں الفاظ موجود ہے :{قَالُوْا لَـیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ} (آل عمران:75)’’وہ کہتے ہیں کہ ان اُمیوں کے ساتھ ہم جوچاہیں کریں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ‘‘۔ چنانچہ آزادی ٔ نسواں (Women Lib) کے نام پر شرم و حیا کو ختم کرنے کی ایک عظیم تحریک اس وقت سے چل رہی ہے۔لیکن ہم پاکستانیوں کے لیے انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پرویز مشرف کی حکومت نے ساری دنیا سے آگے بڑھ کراس تحریک کو لبیک کہا۔ اس لیے کہ تمام اداروں‘ یعنی سینٹ میں‘ پارلیمنٹ میں اور اس سے نیچے یونین کونسلوں میں33 فیصد عورتوں کی نمائندگی مقرر کر دینا ‘عورتوں کو گھر سے نکالنے کا اتنا بڑا کام پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوا۔ آج تک امریکہ اور یورپ میں بھی ایسا نہیں ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت میںجمہوریت کا وجود ایک معجزہ ہے۔معجزہ میںاس لیے کہہ رہا ہوں کہ دنیا میں یہ مانا جاتا ہے کہ کم شرح خواندگی میںڈیموکریسی نہیں چل سکتی۔ لوگوں کے اندر خواندگی ہونی چاہیے‘ تعلیم ہونی چاہیے‘ تب ڈیموکریسی چل سکتی ہے۔ جبکہ بھارت انتہائی کم شرح خواندگی کے ساتھ اس بہترین انداز سے جمہوریت چلا رہا ہے کہ دنیا دیکھ کر حیران ہو رہی ہے‘لیکن ان کے ہاں بھی عورتوں کی نمائندگی کی شرح 33 فیصد نہیں ہے‘ صرف چند عورتیں ہیںجوپارلیمنٹ میں آجاتی ہیں۔ امریکہ کے اندر بھی گنی چنی عورتیں جنرل الیکشن جیت کر آ جاتی تھیں‘جیسے ہمارے ہاں جنرل الیکشن جیت کر بے نظیر آ جاتی تھی اور اس طرح سے چند ایک اور عورتیں بھی آ جاتی تھیں۔ یہ کبھی نہیں تھا کہ 33 فیصد سیٹیں عورتوں کے لیے مختص کی جائیں اور خواتین سے ہی اُن کو پُرکرنے کولازم قرار دے دیا جائے۔
اس وقت بے حیائی کی اشاعت یو این او کے ایجنڈے پر ہے۔ چنانچہ اس کے لیے پہلی کانفرنس قاہرہ میں ہوئی تھی۔پانچ سال کے بعد بیجنگ کانفرنس اور پھر بیجنگ پلس فائیو کانفرنس ہوئی۔ یہ تمام کانفرنسیں اقوامِ متحدہ کے تحت ہوئی ہیں اور وہاں طے ہوا ہے کہ شرم و حیا جو عورت کا سب سے بڑا زیور ہے ‘ اسے ختم کیا جائے۔ اس وقت مغرب کا معاشرہ اور مغرب کی ساری طاقت اسی پرلگی ہوئی ہے۔ ان کے ہاں تو شرم و حیا ختم ہو چکی ہے اور بے حیائی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا سے بھی حیا کا خاتمہ ہو جائے۔جیسے اگر کسی بلی کی دم کٹ جائے تو وہ یہی چاہے گی کہ سب بلیوں کی دُمیں کٹ جائیں ‘ ورنہ وہ تو تمام بلیوں کے اندر ’’نکو‘‘ بنی رہے گی۔اسی طرح مغربی ممالک بھی پوری نوعِ انسانی سے حیا کے زیور کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اصل میںیہ ایجنڈا یہودیوں کا ہے جس کے آلہ کار عیسائی بن رہے ہیں اور عیسائیوں میں سے بھی خاص طور پر White Anglo Saxon Protestants (WASP) فرقہ اس میں پیش پیش ہے ۔پھر اس فرقے کی بھی اعلیٰ سطح کی کلاس Evengelists (جن کو ’’نیوکانز‘‘ بھی کہا جاتا ہے) اسرائیل کے سب سے بڑے سپورٹر ہیں اوران کے پروگرام کی تکمیل میں یہ سب سے بڑے آلہ کار ہیں۔ واضح رہے کہ wasp’’بھڑ‘‘ کو کہتے ہیں جس کے کاٹنے سے جسم سوج جاتا ہے۔
بچوں پر روک ٹوک لگانا ازحدضروری ہےآج کل مغرب کے اثر کے تحت یہ سوچ عام ہو گئی ہے کہ بچوں پر کوئی روک ٹوک نہ لگائو ‘اس لیے کہ یہ بات ان کی نشوونما (development) میں رکاوٹ بنتی ہے۔یہ سوچ سراسر حماقت ہے اور یہ حضوراکرمﷺ کی تعلیم کے برعکس ہے۔ ہمیں تو یہ تعلیم ملی ہے کہ اپنی چھڑی کو کبھی اٹھا کر نہ رکھ دینا‘ بلکہ اولاد کو سیدھا رکھنے کے لیے اس کو استعمال کرنا ہے۔اولاد کو محبت بھی بھرپور دو‘لیکن ساتھ ہی ان پر کڑی نظر رکھو۔ جیسے ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے کہ ’’کھلائو تو چوری چور کے اور دیکھو گھور کے‘‘۔ بچوں کے اوپر جب تک بڑوں کا رعب نہ ہو‘بڑوں کا خوف نہ ہو‘ بڑوں کی حیا نہ ہو کہ میرے اس کام پر والد کیا کہہ دیں گے تو ہمارے نزدیک ان کی صحیح انسانی نشوونما (human development) نہیں ہوتی۔ وہ بچے جنہیں آپ جری ‘ بے شرم‘ بے حیااور بے ادب بنا دیتے ہیں وہ پھرآپ کے سینے پر مونگ دلتے ہیں‘ آپ کے بڑھاپے کے اندر سوہانِ روح بنتے ہیں۔ ان کے اندر کہاں سے وہ آداب آ جائیں گے اور کہاں سے وہ تہذیب آ جائے گی جو بچپن میں اگر انہیں نہ سکھائی گئی ہو؟ اسی طرح نماز کے بارے میں حکم ہے کہ بچے کو سات سال کی عمر سے نماز کی تلقین شروع کر دو اور دس برس کے بعد بھی اگر بچہ نماز نہیں پڑھتا تو اس کو مارو۔ اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ملاحظہ ہو:
’’اپنی اولاد کو نماز پڑھنے کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہو جائیں ‘اور جب دس برس کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کو مارو۔ اور ان کے بستر بھی الگ کردو۔‘‘
لہٰذا جدید چلڈرن سائیکالوجی کی بڑی حماقتوںمیں سے ایک حماقت یہ ہے کہ بچوں کو روک ٹوک کرنے سے ان کے اندر جو آزاد شخصیت کے پروان چڑھنے کا امکان ہوتا ہے‘ وہ ان میں کم ہو جاتی ہے تو انہیں روکو ٹوکو نہیں‘وہ جو چاہے کریں۔ایسی سوچ سراسرحماقت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
بہرحال زیر مطالعہ حدیث انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تمام انبیاء کرامؑ کی تعلیمات کے اندر یہ بات موجود تھی کہ جب تم نے حیا کا پردہ اٹھا دیا تو جو چاہو کرو۔ اس لیے کہ یہی تو بیریئر تھا‘ یہی تو روک ٹوک کی بات تھی۔ فارسی میں اس کا بہترین ترجمہ ہے :’’بے حیا باش وہر چہ خواہی کن!‘‘ یعنی ایک دفعہ ذرا حیا کا پردہ اٹھا دو تو جو چاہوکرتے پھرو!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026