اگر خدانخواستہ سقوط غزہ ہو جاتاہے تو پھر اگلا نشانہ عرب ممالک ہوں گے : رضاء الحق
انسانیت غزہ میں دم توڑ رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں : عبدالوارث
کیا اسرائیل فلسطین کا خاتمہ چاہتا ہے ؟ کے موضوع پر
حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
سوال: غزہ پر اسرائیلی جارحیت پانچویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ میڈیا پر بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 30 ہزار سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیںاور90 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ اس جنگ کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور یہ معاملات کس طرف جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟
رضاء الحق:30ہز ار شہادتیں تو وہ ہیں جو میڈیا رپورٹ کر رہا ہے ۔ حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ شہادتیں ہوئی ہیں ۔ اسی طرح وہاں پر جو ڈاکٹر موجود ہیں مختلف ذرائع سے ان کے بیان سامنے آتے ہیں ، ان کے مطابق زخمیوں کی تعداد بھی 90 ہزار سے کہیں زیادہ ہے اور اتنے ہی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں ۔ 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک 70 فیصد (ساڑھے تین لاکھ)گھر اسرائیل نے بمباری کرکے گرا دیے ہیں ۔ غزہ میں 35 بڑے ہسپتال تھے جن میں سے صرف 8 ہسپتال بچے ہیں اور ان میں بھی سہولیات نہیں ہیں ۔ 300 چرچ بھی اسرائیلی بمباری میں تباہ ہوئے ہیں ۔ 13 لاکھ فلسطینی اس وقت رفح میں کھلی فضا میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں کیونکہ ان کے اوپر بھی اسرائیل بمباری کر رہا ہے ۔ خود اسرائیلی میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ہر گھنٹے میں 42 بم گرائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں ایک گھنٹے میں 20 گھرتباہ ہو رہے ہیں ۔ 20 افراد شہید ہوتے ہیں جن میں سے 9 بچے ہوتے ہیں ۔ غزہ کی آبادی کا 47 فیصد بچے ہیں۔ صحافیوں اور ڈاکٹر ز کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ، اقوام متحد ہ کے کارکن بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ یعنی آپ کہہ لیں کہ جنگ عظیم اول اور دوئم میں بھی اس قدر کم ایریا میں اتنی زیادہ اموات نہیں ہوئیں ۔اسرائیل کے اعلیٰ فوجی و سول عہدیدار ، صہیونی آبادکار اور ربی سب ایک پیج پر ہیں کہ غزہ کو خالی کرنا ہے۔ یہ ان کے مذہبی مشن کا حصہ ہے ۔ وہ مغربی کنارہ میں بھی مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں ، ابھی تک وہاں 5 سو سے زائد شہید اور 6 ہزار کے قریب زخمی ہیں ۔ یہ جنگ ایک تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے اور انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم ممالک کا طرزعمل انتہائی شرمناک ہے ۔ جیسے مرغی کے ڈربے میں سے ایک مرغی کو نکال کر ذبح کیا جاتاہے تو باقی مرغیاں سمجھتی ہیں کہ یہ صرف اس کے ساتھ ہوا ہے جبکہ وہ محفوظ ہیں ۔حالانکہ وقت ان کا بھی قریب ہوتاہے ۔
سوال:وال ا سٹریٹ جرنل میں ایک تازہ ترین رپورٹ شائع ہوئی ہےجس کے مطابق مصر میں21 مربع کلو میٹر کا ایک ایسا کیمپ تیار کیا جارہا ہے جہاں غزہ سے نکالے گئے فلسطینیوں کو ٹھہرایا جائے گا ۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ کسی قوم کو اس کی سرزمین سے نکال دیا جائے ؟
عبدالوارث: یہ منصوبہ اصل میں آج کا نہیں ہےبلکہ بہت پہلے سے وہ تیاری کر رہے تھے لیکن مصرنہیں مان رہا تھا ۔ شاید مصری حکمرانوں کو خطرہ ہے کہ فلسطینی ان کی سرزمین پر آئیں گے تو ان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ اب حماس کے لوگوں نے مصر کوکہا ہے آپ عورتوں اور بچوں کو آنے دیں اس پر مصر نے آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہاں کیمپ لگیں گے تو وہاں بھی ان پر اسرائیلی جارحیت جاری رہے گی جیسے پہلےان کوبے گھر کیا گیا ، پھر رفح کی طرف دھکیلا گیا اور اب وہاں بھی بمباری کی جارہی ہے ۔ اسرائیل انسانی حقوق کی خلاف ورزی آج سے نہیں بلکہ اپنے قیام سے بھی پہلے سے کر رہا ہے ۔ 1948ء کے بعد کون سا ایسا دن ہے جب فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور جبر نہیں کیا گیا ۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ ، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور انسانی حقوق کی بات کرنے والی عالمی تنظیموں کے علم میں ہے لیکن آج تک اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ یونیسف جو بچوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، آج کہاں ہے جب فلسطینی بچے لہو میں نہا رہے ہیں اور سردی میں کیچڑ میں سورہے ہیں ؟ انسانیت غزہ میں دم توڑ رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں ۔ جو مظالم آج غزہ میں ہو رہے ہیں وہ پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھے ہوں گے اور نہ سنے ہوں گے ۔ سچی بات ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کے ادارے ادارے نہیں بلکہ یہ سرکس کے مراکز ہیں جو ہمیں بندر بنا کر دنیا کو تماشا دکھا رہے ہیں ۔ کسی شاعر نے خوب کہا تھا کہ ؎
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہےہمیں ان سب اداروں سے کوئی شکایت نہیں ہے ، ہمیں شکایت ہے 57 مسلم ممالک کے حکمرانوں سے اور ان کی افواج سے ۔ ہمارے مسلمان بچوں ، بہنوں ، بیٹیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے اور ان سے جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور ہم زندہ لاشوں کی طرح یہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں۔ حشر والے دن اگر ایک بچے نے بھی مقدمہ دائر کردیا کہ دنیا کا ایک تہائی تیل مسلم ممالک کے پاس تھا اور میں ایمبولینس میں صرف اس لیے شہید ہوگیا کہ اس میں ڈالنے کے لیے تیل نہیں تھا ۔ مسلم ممالک کی افواج اقوام متحدہ کے مشن کے تحت دنیا کے ہر کونے میں جا کر لڑتی رہیں لیکن فلسطین میں مسلم بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے کچھ نہ کیا ۔ آپ تصور کیجیے جب مسلم حکمرانوں کے ہاتھ حوض کوثر کی جانب بڑھیں گے اور اگر فلسطینی بچے نے کہہ دیا کہ اللہ کے رسولﷺ ان ہاتھوں پر ہمارے خون کے دھبے ہیں تو کیا ہوگا ۔
سوال: UNO فلسطینیوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ یہاں آپ کی زندگیاں خطرے میں ہیں لہٰذا آپ غزہ کی پٹی چھوڑ دیں اور مصرکے پناہ گزیں کیمپ میں جائیں ۔ کیا UNO مسلمانوںکو اس طرح کا مشورہ دے سکتا ہے اور کیا فلسطینی مسلمانوں کو یو این او کا یہ مشورہ ماننا بھی چاہیے؟
رضاء الحق:2015ء میںروہنگیا مسلمانوں کی اسی طرح میانمار میں نسل کشی کی گئی تھی ۔ اس میں وہاں کی فوج اور سول انتظامیہ دونوں ملوث تھے ۔ اس وقت بھی UNO نے یہی کہا تھا کہ آپ یہ علاقہ چھوڑ دیں ۔ آج بھی بنگلہ دیش میں ساڑھے نولاکھ روہنگیا مسلمان پناہ گزین کیمپوں میں بدترین زندگی گزار رہے ہیں ۔لاہور میں فی مربع کلومیٹر تقریباً 7300 افراد رہتے ہیں جبکہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے جو کیمپ بنایا گیا ہے اس میں فی مربع کلومیٹر 73000 افراد رہتے ہیں ۔ یہ عالمی ادارے واقعی ایک سرکس کا تماشاہیں ۔ اصل کام تو 57 مسلم ممالک کا تھا کہ وہ اس پرآواز اٹھائیں یا کوئی اقدام کریں ۔ بجائے اس کے سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کے انٹرویو آن ریکارڈ ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں ، اگر 7 اکتوبر کا واقعہ نہ ہوتا تو ان کی دوستیاں مزید بڑھ رہی تھیں ۔ UAEتو اب بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ہمارے اسرائیل کے ساتھ strategic تعلقات ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو کچھ بھی اسرائیل کر رہا ہے یہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہے ۔ ہم تو اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو دیکھیں گے کہ مستقبل میں کیسے ان کو آگے لے کر چلنا ہے ۔ ایران اور ترکی کی طرف سے بھی صرف بیانات ہی آئے ہیں عملی کام ان کی طرف سے بھی کوئی نہیں ہوا ۔ مصر میں جس کیمپ کے متعلق وال اسٹریٹ جرنل نے سٹوری دی ہے اس کے مطابق وہ چاروں طرف سے باڑ سے گھرا ہوا کیمپ ہوگا اور باڑھ میں بجلی چھوڑی جائے گی اور گیٹوں پر مسلح فوجی پہرے دیں گے کہ یہاں سے کوئی باہر نہ نکلنے پائے ۔ جس طرح فلموں میں دکھایا جاتاہے کہ ایلینز نے حملہ کردیا اور انسانوں کو پکڑ کر قید کر لیا ، جو نکلنے کی کوشش کریں ان کو مار رہے ہیں ، قتل کر رہے ہیں ، بیگار لے رہے ہیں ، غلام بنا رہے ہیں ۔ اسی طرح کی صورتحال کا وہاں بھی سامنا ہو سکتا ہے ۔ وہ قوم جو خود کہتی ہے کہ فرعونوں نے ہمیں غلام بنائے رکھا اور کبھی کہتی ہے کہ جرمنوں نے ہماری نسل کشی کی وہ آج خود وہی کام کررہی ہے ۔ غزہ کے لوگ وہاں سے نکل کر اگر مصر کے کیمپوں میں بھی جاتے ہیں تو وہاں بھی ان کے خلاف اسرائیلی جارحیت جاری رہے گی کیونکہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ وہ آگے بڑھا رہے ہیں اس میں نیل کے ساحل سے لے کر فرات تک کے علاقے کو شامل کرتے ہیں ۔ آج وہاں جائیں گے تو وہاں دوبارہ ان کا قتل عام کیا جائے گا ۔ غزہ میں وہ کم ازکم مزاحمت تو کر رہے ہیں ، ان کا یہ دینی حق بھی ہے اور عالمی قوانین بھی انہیں اپنے دفاع کی اجازت دیتے ہیں ۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو قوم مزاحمت ترک کر دیتی ہے تو اس کا صفایا کر دیا جاتاہے ۔ جو شہادتیں ہو رہی ہیں ان پر دل تو دکھتا ہے بہرحال وہ پوری امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔ اگر خدانخواستہ سقوط غزہ ہو جاتاہے تو پھر اگلا نشانہ عرب ممالک ہوں گے ۔ اس کے بعد مدینہ اور مکہ کے متعلق بھی یہود کا ناپاک پلان ہے اور انہوںنے اپنے پلان کی جانب بڑھنا ہے ۔
عبدالوارث:سچی بات یہ ہے کہ اسرائیل کامقصد صرف غزہ کو حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ وہ گریٹر اسرائیل کی جانب بڑھ رہا ہے ۔اس کے لیے جو مین کوریڈور ہےوہ بحیرہ احمر ہے ۔ جب تک وہ غزہ کو مکمل طور پر خالی نہیں کریں گے وہ بحیرہ احمر میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ بحیرہ احمر کے ذریعے ہی وہ مدینہ اور مکہ تک پہنچ سکتے ہیں ۔ آپ یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ یو این او مسلمانوں کا خیر خواہ ہے اس لیے وہ غزہ سے نکل کر مصری کیمپ میں جانے کا مشورہ دے رہا ہے ۔ اصل میں یہ اسرائیل کو مین کوریڈور تک پہنچنے کا راستہ دیا جارہا ہے ۔ یورپ کا جو دعویٰ تھا کہ ان کے ہاں بڑا انصاف ہے تو ان کا اصل چہرہ غزہ نے بے نقاب کر دیا ہے۔
سوال:عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی پر جو کیس دائر کیا تھا ، اس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب تو قرار دیا لیکن جنگ بندی کا کوئی حکم نہیں دیا ۔ کیا اس طرح عالمی عدالت انصاف نے بھی اسرائیل کو license to kill نہیں دے دیا؟
عبدالوارث: بالکل عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کے جنگی جرائم کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن کہیں پر یہ نہیں کہا کہ جنگ بند کی جائے بلکہ اسرائیل کو کہا گیا ہے کہ آپ پچیس دنوں میں جواب جمع کرائیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ ان پچیس دنوں میں فلسطینیوں کا قتل عام کرے ، ان کی آبادیوں کو مسمار کرے ۔ فیصلے میں کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ سیز فائز ہو یا کم ازکم ہسپتالوں پر بمباری مت کرو ۔ کہیں نہیں کہا گیا کہ عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ دوسری طرف عالم اسلام کے منہ پر تھپڑ یہ پڑا ہے کہ غیر مسلموں نے اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور اس احتجاج میں ایک بینر پر انہوں نے لکھ رکھا تھا کہ مسلمان آرام کر رہے ہیں اور مسیحی احتجاج کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں ہم اس وقت پی ایس ایل دیکھ رہے ہیں اور یورپ میں غیر مسلم احتجاج کر رہے ہیں کہ فلسطینیوں کا قتل عام بند کیا جائے ۔ جنوبی افریقہ ایک غیر مسلم ملک ہے وہ فلسطینی مسلمانوں کا کیس لڑ رہا ہے حالانکہ یہ کام 57 مسلم ممالک کا تھا ۔ 25دسمبر 1969ءکو مسجداقصیٰ پر حملہ کے بعد مراکش میں مسلم ممالک کے سربراہوں کے اجلاس میں اوآئی سی وجود میں آئی تھی اور اس کا بنیادی ایجنڈا تھا کہ ہم بیت المقدس کی حفاظت کریں گے ، فلسطینیوں کی جان ، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے ۔ ان کا ہیڈ آفس یروشلم قرار پایا ۔ 1960 ء میں یہودی بھاگ کر امریکی صدر نیکسن کے پاس گئے کہ مسلمانوں نے تو او آئی سی بنا لی ہے اور وہ متحد ہو گئے ہیں ۔ اس نے کہا ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آج اس کی بات سچ ثابت ہورہی ہے ۔ وہ اپنے اوپر او آئی سی کا ٹیگ لگا کر آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل کے خلاف ایک چھوٹا سا ملک جنوبی افریقہ کیس لڑ رہا ہے ۔ فلسطینی تو مسجد اقصیٰ کی خاطر شہادتیں پیش کر رہے ہیں اور جنتوں کی طرف جارہے ہیں لیکن جاتے جاتے انہوں نے امت مسلمہ کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ آج بھی جب اسرائیلی جہاز غزہ پر بمباری کرتے ہیں تو ان میں تیل ترکی اور عرب ممالک کا ہی ڈلتا ہے ۔ دوبئی نے سات جہاز اسرائیل کے لیے بھیجے ہیں ۔ حدیث رسولﷺ میں جس وہن کی بیماری کا ذکر آیا ہے ، غزہ کی اس جنگ نے بتادیا کہ یہ ہیں وہ لوگ جو وہن کی بیماری میں مبتلا ہیں ۔
سوال:سات اکتوبر سے لے کر آج تک امریکی انتظامیہ اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑی ہےاور امریکی وزیر خارجہ اس دوران اسرائیل کے پانچ دورے کر چکے ہیں ۔ ابھی بھی رپورٹس یہ ہیں کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل کی مدد کے لیے ایک بڑا پیکج تیار کر رہی ہے ۔ آپ بتائیے کہ جب یہ نیا پیکج آئے گا تو اس کے بعد کیا صورتحال develop ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟
رضاء الحق: یہ نیا پیکج 95 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے جو امریکی سینٹ نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اسرائیل اور یوکرین کے لیے پاس کیا ہے ۔ اس سے قبل 163 بحری جہاز امریکہ اوریورپ سے مدد لے کر اسرائیل جا چکے ہیں ۔ ان جہازوں میں اسلحہ بھی تھا اور برطانوی وزیراعظم خود ایک جنگی جہاز میں بیٹھ کے اسرائیل گیا تھا۔اسی طرح 7 اکتوبر کے بعد جب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انتھونی بلینکن اسرائیل کے دورے پر گیا تھا تو وہاں اس نے کہا تھا کہ میں یہاں ایک یہودی کی حیثیت سے آیا ہوں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کی حیثیت سے نہیں آیا ۔ اسی طرح امریکی صدر کھلے عام کہہ چکا ہے کہ میں ایک صہیونی ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ ظاہر ہے انہوں نے تو اسرائیل کو سپورٹ کرنا ہی ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمان ممالک کیا کر رہے ہیں ۔ تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام ایک گیارہ روزہ مہم دسمبر کے دوران حرمت مسجد اقصیٰ اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے چلائی گئی جس کے تحت پورے پاکستان میں مظاہروں کا اہتمام بھی کیا گیا اور اس میں امیر تنظیم اسلامی نے 14 نکات پر مشتمل ایک لائحہ عمل پیش کیا کہ اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے ۔ سب سے پہلے انفرادی سطح پر نوافل ، دعاؤں اور قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کو خود بھی پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں ۔ قرآن میں بنی اسرائیل کے متعلق جو کہا گیا ہے اس کو عام کریں ۔ مسجد اقصیٰ اور یروشلم کی اہمیت کو اجاگر کریں ۔ جہاں تک ممکن ہے فلسطینیوں کی مالی مدد کریں ۔ جو کمپنیاں براہ راست اسرائیل کو سپورٹ کررہی ہیں ان کا بائیکاٹ کریں ۔ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں اور ہم خود بھی فلسطین کے لیے پُرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں ، اس مسئلہ کو سرد نہ ہونے دیں ۔ اپنی طرف سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں ۔ پھر مسلمان حکمرانوں اور افواج کے کرنے کے کام ہیں۔دسمبر 2022 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی کہ اسرائیل نے 75 سال سے جو فلسطین پر قبضہ کیا ہوا ہے اس پر لیگل opinion دیا جائے ۔ اس قرارداد کے حق میں 87 ممالک نے ووٹ دیا تھا جبکہ مخالفت میں 26 ممالک نے ووٹ دیا تھا ، 53 نے abstainکیا ۔ وہ کیس بھی 19 فروری سے دوبارہ شروع ہو چکا ہے ۔ 23 فروری کو پاکستان نے بھی اپنا موقف پیش کیا ۔ ہماری پالیسی تو پہلے دن سے طے ہے ۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے ۔ ہماری طرف سے پاکستان کی حکومت کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ اس پالیسی کے تحت ہی اسرائیل کے خلاف سٹینڈ لے ۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے امت مسلمہ کو لیڈ کرنا ہے تو اسلحہ کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی پوزیشن کو بھی بحال کرنا ہوگا ۔ اخلاقی پوزیشن انہی کی بنتی ہے جو ہر قسم کے حالات میں حق کے لیے ڈٹے رہیں ۔ جیسے بھٹو نے کہا تھا کہ چاہے ہمیں گھاس کھانی پڑے لیکن ہم ایٹم بم بنائیں گے ۔ شاید اب گھاس کھانے کی نوبت آئے کیونکہ دجال کے فتنے کے متعلق احادیث موجود ہیں کہ اس کے ایک ہاتھ میں آگ ہوگی اور دوسرے ہاتھ میں پانی ہوگا۔ جو اس کے پانی میں داخل ہوگا یعنی اس سے مراعات لے گا ،آئی ایم ایف کے پیچھے لگے گاوہ اصل میں خسارے کا سودا کرے گا ۔
عبدالوارث:ہماری ملاقات چند ہفتے قبل وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑسےہوئی تو ہم نے پوچھا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا کوئی جاندار موقف نہیں آیا ۔ ہم نے گزارش کی کہ کم سے کم پاکستان میں جو فلسطینی اساتذہ کرام یا طلبہ ہیں اُن کو بلا کر اُن کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی کردیں ۔ وہ جس پروگرام میں بھی جاتے ہیں تو وہاں فون آنا شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ کیوں آئے تھے ۔ آپ کم سے کم ان کے ساتھ ذرا ہمدردی کا ہی اظہار کردیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان شاءاللہ ہم ضرور اس پر کام کریں گے ۔ اس کے بعد گورنر پنجاب سے ہماری ملاقات ہوئی اور ان سے بھی ہم نے یہی گزارش کی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ دس منٹ لے کر مجھ سے بات کرنے آئے تھے اب میں دس منٹ آپ سے مانگتا ہوں اور آپ سے مجھے بات کرنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کی بات کی تھی تو اس پر پوری قوم نے مجھے بُرا بھلا کہا حالانکہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے میرے پاس میسج ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم دو ریاستی فارمولا پر سٹینڈ لینے کے لیے تیار ہیں ، مصر کہہ رہا ہے ، ترکی کہہ رہا ہے ، سعودیہ ، بحرین ، دوبئی سب کہہ رہے ہیں ، میں نے کہہ دیا تو کونسی غلطی کی ۔ میں نے کہا جناب جب وہ کہتے تو اور بات تھی لیکن آپ نے پہل کرکے غلطی کی ۔ پاکستان کی پالیسی تو قائداعظم کے وقت سے واضح ہے ، کہنے لگے قائداعظم کی بات قرآن و حدیث تو نہیں ہے ۔ میں نے کہا قرآن و حدیث نہیں ہے لیکن ہمارے بڑوں کا جو موقف ہے اس کو تو آپ کھلم کھلا چیلنج نہ کریں ۔
رضاء الحق: مسئلہ فلسطین کا ایک پہلو تو وہ ہے جو انٹرنیشنل لاء کے مطابق واضح ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے ۔ دوسرا ایک دینی پہلو ہے جس کے تحت یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ مسجد اقصیٰ کی حرمت کا معاملہ ہے ، مسلمانوں کی شناخت کا معاملہ ہے ۔ مسجد اقصیٰ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں بغیر کسی جنگ کے عیسائیوں نے خود مسلمانوں کے حوالے کر دی تھی ۔ اس وقت سے یہ وقف اسلامی ہے۔ جس طرح مکہ یا مدینہ کے کسی حصہ کو(خدانخواستہ) کفار کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ہے اسی طرح مسجد اقصیٰ کا کفار کے حوالے کیا جانا بھی قطعاً ناقابل قبول ہے چاہے یہ کام کوئی مسلمان ہی کیوں نہ کرے ۔ اس پر مفتیان کرام کے فتاویٰ بھی موجود ہیں ۔
سوال: اسرائیل اور اس کے حامی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہم کر سکتے ہیں لیکن پاکستان میں پی ایس ایل کاseason شروع ہو چکا ہے ۔ اس کے official sponsors میں KFCبھی شامل ہے اور ہماری حکومت اور ساری انتظامیہ نے پی ایس ایل کی طرف قوم کو لگا دیا ہے۔ آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
عبدالوارث:یقیناً انتہائی شرم کا مقام ہے کہ PSL شروع کر دیا گیا جس کے سپانسرز میں KFCبھی شامل ہے ۔ حالانکہ KFCاور اس طرح کی دوسری اسرائیلی کمپنیوں کی پروڈکٹس میں مجھے اپنے بچوں کا خون نظر آتا ہے ۔ حالانکہ ہم اتنی غیرت کا مظاہرہ تو کرسکتے ہیں کہ KFCکی بجائے کسی اور کمپنی کی سپانسرشپ قبول کرلیں ۔ ریاست کی سطح پر سٹینڈ بالکل نہیں لیا جارہا ہے ۔ اس وقت ہماری یونیورسٹیوں سے اسلامک سٹڈی کے پروفیسرز کو نکالا جارہا ہے ۔ پہلے سکولوں میں گورنمنٹ ناظرہ قرآن کا اہتمام کرتی تھے اب وہ بھی نہیں کر رہی ۔ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں ۔ دیگر کاموں کے لیے فنڈز ہیں لیکن اسلام کے لیے نہیں ہیں ۔ 13 ارب ڈالر اس وقت ہمارے پاس ریزرو ہیں 24 ارب ڈالر کی قسط ہم نے اس ماہ دینی ہے ۔ انتخابات کے حالات دیکھئے ۔ کم از کم اتنا تو ہم کرسکتے تھے کہ PSLمیں KFCکی صورت میں زخموں پر نمک نہ چھڑکیں ۔ بحیثیت قوم بھی ہماری بڑی عجیب کیفیت ہے ، جہاں جائیں پیپسی ہے ، کوک ہے ، دیگر مشروبات ہیں۔ کم سے کم ہم ان کا تو بائیکاٹ کر سکتے ہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بائیکاٹ سے کیا ہوگا ۔ ابو حجم حق گوہ انسان تھے ،حق کہنے کی وجہ سے پابند سلاسل ہوگئے۔ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنتے تو غسل کرکے کپڑے پہنتے اور جیل کے دربان سے کہتے بھائی اللہ نے آواز دی ہے ، بلایا ہے مجھے مسجد جانا ہے ۔ دربان کہتا جانتے تو آپ بھی ہیں کہ میں جانے نہیں دوں گا لیکن اس کے باوجود آپ ہر جمعہ کو یہی عمل دہراتے ہیں۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے اے اللہ ! میں تو آنا چاہتا ہوں لیکن یہ مجھے جانے نہیںدیتا، حشر والے دن مجھ سے اس کا محاسبہ نہ کیجیے گا۔ اسی طرح بے شک ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے لیکن کم ازکم یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ تو کرسکتے ہیں ۔ اپنے گھروں ، عزیزوں ، رشتہ داروں کو تو اس بات پر قائل کر سکتے ہیں کہ روزقیامت ہم کیا جواب دیں گے ۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے اسلام قبول کیا اور میرے نزدیک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ کم ازکم اس اخوت کا مظاہرہ تو کریں ۔ ہماری بہنوں ، بیٹیوں ، بچوں اور بچیوں کو فلسطین میں گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ، ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے اور اس کے لیے جو اسلحہ بارود خریدا جارہا ہے وہ اسی پیسے سے خریدا جارہا ہے جو ہم یہودی کمپنیوں کی مصنوعات خرید کر انہیں دے رہے۔ روز قیامت فلسطینیوں کی نسل کشی میں اگر میرا ایک روپیہ بھی شامل ہوا تو میں رسول اللہﷺ کے سامنے کیا جواب دوں گا ، ہمارے حکمران کیا جواب دیں گے جو اس قتل عام پر خاموش ہیں ۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے ۔ اگر ہماری ماں ہمارے ساتھ یہ کرے گی تو اولاد کیا کرے گی ۔ میں آپ کے توسط سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ اقدام نہایت تکلیف دہ ہے کہ PSLکی سپانسرشپ KFC جیسی یہودی کمپنیاں کر رہی ہیں ۔ ہمیں ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔ کوئی بات نہیں اگر KFCسے ہمارے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں کم ازکم روز قیامت ہم رسول اللہ ﷺ کو منہ دکھانے کے قابل تو ہوں ۔ فلسطینیوں کے لیے ہم اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم ازکم اُن کے خون کے دھبے تو ہمارے ہاتھوں پر نہ ہوں ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2025