استقبالِ رمضان
مفتی مسعود الرّحمٰن
استاذ قرآن انسٹیٹیوٹ لطیف آباد
رمضان المبارک ہزاروں برکتوں اور رحمتوں کو اپنے دامن میں لیے ہم پر سایہ فگن ہے ۔یہ بابرکت مہینہ ایمان و تقویٰ کا مہینہ ہے۔ ہر بندہٴ مومن اپنی اپنی ہمت اور ظرف کے مطابق اس کی برکتوں سے لطف اندوز ہوگا۔ جس شخص کے دل میں ایمان کی معمولی بھی رمق باقی ہو اس مہینے میں معمولی ایمانی صلاحیتیں بھی ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔
اس مبارک مہینے کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنا مہینہ فرمایا ہے۔ گویا اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ انسان کو اپنا بندہ بنانا چاہتے ہیں اور انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑلے۔ اس مہینے میں رحمت ِخداوندی کا دریا موجزن ہوتا ہے اور ہر طالبِ رحمت کے لیے آغوشِ رحمت وا ہو جاتی ہے۔
20 حدیث ِمبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ اس ماہِ مبارک کا پہلا عشرہ رحمت ہے ، دوسرا بخشش اور تیسرا جہنم سے آزادی۔ یہ مہینہ نور انیت میں اضافہ، روحانیت میں ترقی، اجر و ثواب میں زیادتی اور دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں کسی سائل کو خالی ہاتھ، کسی امید وار کو نا امید اور کسی طالب کو ناکام و نامراد نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر شخص کے لیے اس مہینے میں حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے رحمت و بخشش کی صدائے عام ہوتی ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے مگر یہ ماہ مبارک ہمارے لیے کیا پیغام لے کر آتا ہے اور ہماری زندگی میں کیا انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے؟ بہت کم لوگ ہیں جو اس سوال پر غور کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔
رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے اور اس کی امتیازی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قمری سال کے بارہ مہینوں میں یہی ایک منفرد مہینہ ہے جس کا نام قرآن کریم میں مذکور ہے:{شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ} (البقرۃ 185 )’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔‘‘
رمضان رمض سے مشتق ہے اور رمض کے معنی لغت ِعربیہ میں جلد دینے کے ہیں چونکہ اس مہینے میں یہ خصوصیت ہے کہ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے بشرطیکہ رمضان المبارک کا پورا احترام اور اس کے اعمال کا اہتمام کیا جائے ۔اس لیے اس کا نام رمضان ہوا ۔
امام رازی ؒ فرماتے ہیں:’’ جس طرح انتہائی درجہ حرارت اور تپش میں دھاتوں کوپگھلا کر ان کا میل کچیل اورکھوٹ کو علیحدہ کر کے خالص سونا اور چاندی اور صاف ستھری دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں اسی طرح اس ماہِ مبارک میں روزہ رکھ کر بھوک پیاس کی شدت برداشت کر کے اور گناہوں سے اجتناب کر کے روحانی صفائی اور گناہوں سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے یا جس طرح موسمِ بہار کی پہلی بارش سے نباتات، درختوں اور پودوں کی کونپلیں، پتے اور پھول نکلنے لگتے ہیں اور مٹی اور گرد و غبار سے صاف ہو کر درخت اور پودے ہرے بھرے نظر آنے لگتے ہیں اسی طرح رمضان کے مبارک مہینے میں شب روز کی عبادت اور روزہ اور تراویح کے اہتمام سے ایمان و عمل میں تازگی اور رونق آ جاتی ہے اور روحانی صفائی اور ایمانی ترقی سے اسلامی معاشرہ باغ و بہار بن جاتا ہے۔
نبی اکرمﷺ کا رمضان المبارک کی تمنا اور شوق کرنا:
نبی اکرمﷺ رمضان کی آمد کی تیاری بہت اہتمام سے فرماتے تھے اور اس مبارک مہینے کے استقبال کے لیے بہت اشتیاق اور تمنا کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ دعا فرماتے:((اَللّٰھُمَّ ھٰذَا شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا اِلٰی رَمَضَانَ)) ’’اے اللہ یہ شعبان ہے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے یعنی اے اللہ آپ نے ہمیں شعبان کا مہینہ نصیب فرما کر ہم پر احسان فرمایا اب آپ مزید فضل و کرم فرما کر ہماری زندگی میں اس قدر مہلت اور برکت عطا فرما دیں کہ ہمیں جیتے جی رمضان المبارک کا مہینہ دیکھنا نصیب ہو جائے اور اس مہینے کی روحانی بہاروں سے ہمیں لطف اندوز ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے۔
دوسری جگہ فرمایا: ((شَعْبَانُ شَھْرِیْ وَرَمَضَانُ شَھْرُ اللہِ))’’شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ حضور ﷺ رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ بھی سال کے مختلف ایام میں نفلی روزے رکھا کرتے تھے مثلاً پیر اور جمعرات کا روزہ، شوال کے روزے ، ذو الحجہ کے ابتدائی ایام کے روزے، محرم الحرام کے روزے ، ہر ماہ ایامِ بیض کے روزے وغیرہ مگر شعبان کے مہینے میں نبیﷺ جس کثرت اور اہتمام کے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے، اس کی مثال کسی دوسرے مہینے میں نہیں ملتی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :’’میں نے حضور ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ مولانا منظور احمد نعمانی ؒ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ شعبان میں کثرت سے روزے اس لیے رکھا کرتے تھے کہ رمضان کا قرب اور اس کے خاص انوار و برکات سے مزید مناسبت پیدا کرنے کا شوق اور داعیہ پیدا ہو جائے اور شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے وہی مناسبت ہے جو فرض نمازوں سے پہلےپڑھے جانے والے نوافل کو فرضوں سے ہوتی ہے۔
نبی کریمﷺ رمضان کے فضائل و مناقب بیان فرما کر صحابہ کرام ؓ کی ذہن سازی فرماتے اور انہیں رمضان کے استقبال کے لیے تیار فرماتے۔ آپﷺ نے شعبان کے آخری دن خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انتہائی مؤثر اور جامع انداز میں رمضان المبارک کا تعارف کرایا اور اس مہینے میں اعمالِ خیر کی کثرت کرنے کی ترغیب دی ۔
حضرت سلمان فارسی ؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور مبارک مہینہ سایہ افگن ہوا چاہتا ہے، اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام کو ثواب کی چیز بنا دیا ہے۔ اس مہینے میں نفلی عمل فرض کے برابر اور ایک فرض کی ادائیگی 70 فرضوں کے برابر ہو جاتی ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اس مہینے میں مومن کے رزق میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں اگر کوئی شخص کسی روزے دار کا روزہ افطار کرا دے تو یہ عمل اس کے گناہوں کی معافی کا باعث بن جاتا ہے اور اس کی جہنم سے آزادی کا سبب ہوگا اور روزے دار کے برابر اسے ثواب بھی ملے گا اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ہم میں سے ہر شخص روزے دار کو افطار کرانے کی گنجائش نہیں رکھتا یعنی کیا غریب لوگ اس ثواب سے محروم رہیں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا :’’یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ کھجور کے ایک دانے، دودھ کے ایک گھونٹ یا صرف پانی پلا کر روز افطار کرانے پر بھی عنایت فرما دیتے ہیں اور اگر کسی شخص نے روزہ دار کو سیر ہو کر کھانا کھلایا تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب فرمائیں گے کہ وہ اس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس محسوس نہیں کرے گا ۔اس مہینہ کا پہلا حصہ رحمت ہے ، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے خادم کی ذمہ داریوں میں نرمی کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما کر اسے جہنم سے آزادی عطا فرمائیں گے۔‘‘
محاسبہ کرنے کی ضرورت:
ہماری زندگی میں کتنے رمضان آئے اور گزر گئے، ہم اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہم نے ان کا پورا پورا حق ادا کیا یاوہی روایتی طریقے سے اپنی آخرت سنوارے بغیر اپنی بخشش کرائے بغیر ایسے بھی خالی گزار دیے۔ اگر ہم نے اپنے پچھلے رمضان غفلت میں گزار دیے تو ہمارے لیے بہت خسارے والی بات ہے۔لہٰذاآنے والا رمضان ہمارے لیے ایک موقع غنیمت ہے کہ اس میں ہم اعمالِ خیر کا اہتمام کر کے اپنی غفلت میں گزاری ہوئی زندگی کی تلافی کر سکیں ۔ اہل اللہ کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے معمولات و مشاغل پورے سال کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں جو شخص رمضان میں سدھر گیا وہ ان شاءاللہ پورے سال سدھرا رہے گا اور جو شخص اس مہینے میں بھی معصیت سے باز نہ آیا اسے آئندہ بھی توفیق ملنے کا امکان نہیں رہتا۔ دراصل رمضان کا موسم کسی فرد یا قوم کی سعادت یا شقاوت کے لیے فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سال کے ماہِ رمضان کوہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر و سعادت کا موجب بنائیں۔ آمین یا رب العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2025