(چشم کشا) چارٹر آف ہیومین رائٹس نہیں خطبہ حجۃ الوداع عظیم ہے - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

9 /

چارٹر آف ہیومین رائٹس نہیں خطبہ حجۃ الوداع عظیم ہے

ڈاکٹر ضمیر اختر خاننائب ناظم رابطہ و قانونی امور تنظیم اسلامی

محترم افضال ریحان ایک قومی روزنامے میں باقاعدگی سے ہفتہ وارکالم لکھتے ہیں۔ ان کاانداز تحریرماشاء اللہ پختہ ہے اور اپنی بات سلیقے سے قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔ 7 دسمبر 2024ء کو انہوں نے ’’ ہیومن رائٹس چارٹراور ہم؟‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں جہاں اس چارٹر کے بارے میں قارئین کے لیے معلومات فراہم کی ہیں وہاں خوب مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا ہے ۔ ہم محترم کالم نگار کی خدمت میں ریکارڈ کی درستگی کے لیے گزارشات پیش کریں گے جو اس چارٹر کے حوالے سے مبالغے پر مبنی ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
’’یواین یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر کے متعلق ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اب تک کی انسانی آگہی ،شعوری ترقی و سربلندی اور انسانی عظمت کی مظہر دستاویز ہے۔‘‘
اس جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کالم نگاراس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلے ’’انسانی حقوق کاعالمی منشور‘‘ تقریباً 632ء میں پیش فرمایا تھاجسے بجاطور پرانسانی عظمت کی بحالی کا جامع ضابطہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ بقول عظیم مسلم محقق ڈاکٹرمحمد حمیداللہ یہ تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور تھا۔ یہ صرف ایک دستاویز نہیں تھی بلکہ حضور ﷺ نے اس میں پیش کردہ اصولوں پر ایک عادلانہ نظام قائم کرکے دکھادیا اور پھر ساری انسانیت کو اسے اختیار کرنے کی دعوت دی ۔ اس کی گواہی اہل مغرب کے منصف مزاج دانشوروں نے بھی دی ہے۔ اصل فضیلت وہ ہوتی ہے جس کا دشمن بھی اقرار کریں۔ محترم کالم نگار ان دانشوروں کی آراء ملاحظہ فرمائیں اور پھر اپنے کالم کو دوبارہ دیکھیں ان پر حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ’’بنگالی ہندو‘ انٹرنیشنل کمیونسٹ آرگنائزیشن کے رکن ایم این رائے نے کہا:’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلاب محمد(ﷺ) نے برپا کیا‘‘۔ ’’سو بڑے آدمی‘‘ کے امریکی عیسائی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کے نزدیک انسانی زندگی کے دو علیحدہ علیحدہ میدان ہیں۔ ایک ہے مذہب، اخلاق اور روحانیت کا میدان، جبکہ ایک ہے تمدن، تہذیب، سیاست اور معاشرت کا میدان، اور ان دونوں میدانوں میں انتہائی کامیاب انسان تاریخ ِانسانی میں صرف اور صرف ایک ہی ہیں اور وہ ہیں حضرت محمد(ﷺ)۔
ایچ جی ویلز نے حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ پر سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین (دو بدبخت جومسلمانوں میں پیدا ہوئے) سے کہیں زیادہ زہریلے اور ان سے کہیں زیادہ کمینگی والے جملے کہے ہیں۔ لیکن جب اُس نے آنحضورﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کے مندرجہ ذیل الفاظ کا حوالہ دیا ہے تو وہ گھٹنے ٹیک کر خراجِ تحسین پیش کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا:(( یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اَ لَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَ بَاکُمْ وَاحِدٌ ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍ وَلَا لِعَجَمِیٍ عَلٰی عَرَبِیٍ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی))(مسند احمد، ح ۲۲۹۷۸) ’’لوگو! آگاہ ہو جاؤ،یقیناً تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔‘‘ ایچ جی ویلز اگرچہ عیسائی ہے، لیکن خطبہ حجۃ الوداع کا حوالہ دینے کے بعد وہ یہ اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے اور لکھتا ہے:
’’اگرچہ انسانی اخوت ، مساوات اور حریت کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے تھے اور ایسے وعظ ہمیں مسیح ناصری کے ہاں بھی بہت ملتے ہیں، لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محمد (ﷺ) ہی تھے جنہوں نے تاریخِ انسانی میں پہلی بار ان اصولوں پر ایک معاشرہ قائم کیا۔‘‘ واقعتاًکسی دشمن کی زبان سے اس سے بڑا خراجِ تحسین ممکن نہیں۔ اس لیے کہ ایچ جی ویلز بدترین دشمن ہے۔(یاد رہے کہ ایچ جی ویلز کی اس کتاب ’’A Concise History of the World‘‘ کے نئے ایڈیشن سے اس عبارت کو نکال دیا گیا ہے)۔ حضورﷺ نے نہ صرف چارٹرپیش فرمایا بلکہ اس پر عمل بھی کر کے دکھایا۔ چنانچہ دشمنوں کی گواہی سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ تاریخِ انسانی کا عظیم ترین انقلاب تھا جو محمد رسول اللہﷺ نے برپا فرمایا۔ انقلابِ محمدی (علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام) کا انقلابِ فرانس اور انقلابِ روس سے تقابل کریں تو نظر آتا ہے کہ انقلابِ فرانس میں صرف سیاسی نظام بدلا اور انقلابِ روس میں صرف معاشی نظام تبدیل ہوا لیکن انقلابِ محمدیﷺ میں ہرچیز بدل گئی۔مذہب بھی بدل گیا، عقائد بھی بدل گئے، رسومات بھی بدل گئیں، سیاسی نظام بھی بدل گیا، معاشی نظام بھی بدل گیا، معاشرت بھی بدل گئی۔ کوئی بھی شے اپنی سابقہ حالت پر قائم نہیں رہی‘‘ (رسول ﷺ انقلاب کا طریق انقلاب از ڈاکٹر اسراراحمدؒ)۔
محترم افضال ریحان اعتراف کرتے ہیں کہ چارٹر آف ہیومین رائٹس کی ’’فکری بنیادیں قدیم یونانی تہذیب کے معماران و فلاسفرز کی شعوری بیداری و عرق ریزی میں ہی نہیں رومن تہذیب سے ہوتے ہوئے ماڈرن دورکے عظیم الشان فلاسفرز جان لاک، روسو، کانٹ اور رسل جیسے داناؤں کے انسان نواز فکری نکھار میں ہیں۔‘‘
اس کا مطلب واضح ہے کہ یہ چارٹر انسانی اذہان کی پیداوار ہے۔ جبکہ حضور ﷺ نے جو انسانی منشور پیش فرمایا اس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے۔ انسان ساختہ فکر اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فکرونظریہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک انسان کسی دوسرے انسان کی فکر کے سامنے نہیں جھکتا بلکہ وہ اپنے خالق ومالک کی عطا کردہ ہدایت پر چلتا ہے ۔ یہی شرف انسانیت کا تقاضا ہے۔ اسی لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے انسانوں سے خدائی احکام کی تابعداری اور اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی یہ بات بھی انسانوں کے سامنے کھول کر بیان کی کہ وہ اپنی اطاعت کا مطالبہ اللہ کے حکم سے کر رہے ہیں۔ ایک آزاد انسان کسی دوسرے انسان کی برتری آنکھیں بند کر کے تسلیم نہیں کر سکتا۔ بحیثیت مسلمان ہم انبیاء کی فکر کے وارث ہیں جس کی تکمیل محمدﷺ پر ہوئی ہے۔
محترم کالم نگار انسانی بھائی چارے کے لیے چارٹر آف ہیومین رائٹس کو بنیاد قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن نے ’’تمام اہل ایمان کو بھائی قرار دیا ہے ۔‘‘ اس کے علاوہ انسانی بھائی چارے کے لیے دعوت فکر دی ہے کہ ’’ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے‘‘ (الحجرات:13)۔ اس وحدت و بھائی چارے میں دو چیزیں مشترک ہیں ،جن کی بنا پر سارے انسانوں کو حقیقی مساوات کے اصول پر جمع کیا جا سکتا ہے۔ ایک ’’وحدت خالق‘‘ اور دوسری ’’وحدت آدم وحوا۔‘‘
محترم کالم نگار نے صرف اس چارٹرکی تعریف ہی نہیں کی بلکہ اس کی تبلیغ بھی کر دی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں: ’’ہم نے پوری عالمی برادری کے سامنے اس عہد نامے پر دستخط کر رکھے ہیں کہ بحیثیت قوم و ریاست ہم اس ڈکلیئریشن پر عمل درآمد کے پابند رہیں گے۔‘‘ کاش وہ بحیثیت مسلمان اپنے نبیﷺ کی سیرت سے آگاہی حاصل کرتے اور اس کی اشاعت وتبلیغ میں لگ جاتے تو دنیاوآخرت میں کامیاب ہوتے۔ جناب یو این او کے اس چارٹر پر دستخط کر کے آپ اتنے پابند ہو گئے ہیں کہ اس کے خلاف دین و ایمان شقوں کے مبلغ بن گئے ہیں ۔ کیا آپ نے اسلام و ایمان کا دعویٰ کر کے یہ عہد نہیں کیا کہ آپ صرف اللہ و رسولﷺ کے احکام کی پابندی کریں گے اورکسی صورت میں بھی اللہ ورسولﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گے؟ آپ والدین کے حقوق کو جانتے ہوں گے جن کی تاکید اللہ نے اپنے پاک کلام میں فرمائی ہے مگران کے بارے میں بھی حد قائم کر دی کہ اگر وہ شرک اور اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کی اطاعت نہیں ہو گی۔ البتہ دنیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک ضرور کیا جائے گا۔ کالم نگار اپنے آپ کو ’’درویش‘‘ کہتے ہیں۔اقبال نے اس طرح کی ’’درویشی‘‘کو عیاری سے تعبیر کیا ہے۔ موصوف اپنے کالم کو نقطہ عروج پر پہنچاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’درویش یہ کہہ سکتا ہے کہ آج کی ڈیموکریٹ لبرل سیکولر مہذب دنیا کا ایمان اگر ’’ہیومینٹی‘‘ ہے اور اس کا ٹارگٹ عالمی امن، انسانی بہبود اور تعمیر و ترقی کے ذریعے عالمگیر ہیومن سوسائٹی یا برادری کا قیام ہے تو یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر اس کی مقدس ترین دستاویز ہے جس کا نفاذ اور پھیلاؤ ،یو این کی ممبر تمام ریاستوں کا اولین فریضہ ہے۔‘‘
یہ ہے کالم نگار کی اصلیت ! یعنی مسلمانوں جیسا نام رکھا ہواہے اور ایمان ’’Humanism‘‘ پر رکھتے ہیں۔ لبرل ازم کے پرستاروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ’’باطل دوئی پسند ہے۔ حق لا شریک ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر توبہ و استغفار کریں اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔ اللہ نے آپ کو تحریر کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ اس کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے استعمال کریں اور دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کریں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ آئیں مل کر اس کو اسلامی بنائیں ۔ یہی اقبال اور قائد کا Visionتھا۔ آخر میں قائد کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے بقول قائداعظم کا ایک قول آپ کی خدمت میں پیش کرتاہوں ۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!
’’برصغیرکے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن سے روشناس کرانے والے قائد اعظم کا خدا پر ایمان اور اصولوں پر یقین ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔ قائد اعظم بظاہر ان معنوں میں مذہبی رہنما نہ تھے جن معنوں میں عام طو رپر ہم مذہبی رہنماؤں کو لیتے ہیں ،لیکن مذہب پر اُن کا یقین کامل تھا۔ ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کے لیے ہم ان کے پاس بیٹھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں ،لیکن ہم نے بات چیت سے منع کر رکھا تھا، اس لیے الفاظ لبوں پر آ کر رک جاتے ہیں۔ اس ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کے لیے ہم نے خود انہیں دعوت دی تو وہ بولے:’’تم جانتے ہو، جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے! یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ رسولِ خداﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں،تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔ پاکستان میں سب کچھ ہے۔ اس کی پہاڑیوں، ریگستانوں اور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی۔ انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے۔ قومیں نیک نیتی، دیانت داری ، اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اوراخلاقی برائیوں، منافقت، زرپرستی اور خودپسندی سے تباہ ہو جاتی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر ریاض علی شاہ کی یادداشت کا یہ اقتباس روزنامہ ’’جنگ‘‘ نے اپنی 11ستمبر 1988ء کی ایک خصوصی اشاعت میں شائع کیا تھا، جس میں قائد اعظم نے پاکستان کے مستقبل کا پورا خاکہ اہلِ پاکستان کے سامنے رکھ دیا ہے۔