(کارِ ترقیاتی) روحِ امم کی حیات، کشمکشِ انقلاب - عامرہ احسان

9 /

روحِ امم کی حیات، کشمکشِ انقلاب

عامرہ احسان

 

گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا ڈرامائی تبدیلیوں سے یوں گزر رہی ہے کہ : محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی! بڑے بڑے برج الٹ گئے۔ حالیہ بڑی تبدیلیاں جو اچانک افغانستان کا منظرنامہ یک بیک بدلنے سے شروع ہوئیں تو شام تلک آن پہنچیں ۔حالات میں مماثلت بھی ہے۔ سبھی کچھ مسلم ممالک میں ہو رہا ہے۔ اگست 2021، جب امریکہ سمجھ رہا تھا کہ سال بھر لگ جائے گا، آرام سے سامان باندھیں گے۔ بگل بجائیں گے اور سہج سہج نکل جائیں گے رعب داب سے۔ مگر پھر نجانے کیا ہوا کہ باگرام اڈے سے اچانک رات کو بتیاں بجھا کر خاموشی سے بتائے بغیر یوں نکلے کہ جہاز جب افغان حدود کماحقہ‘ پار کر چکا ، سانس بحال ہوئی تو پیچھے اطلاع دی کہ ہم باگرام خالی کر چکے۔ اور پھر دوسرا مرحلہ جب امریکی C-16جہاز ٹانگے کی سواریوں کی طرح ٹھنسا لدا نکل گیا۔ امریکی جھنڈے لپٹ گئے اور امریکی سفارخانے کی پوری دیوار پر کلمہ طیبہ والا جھنڈا تاریخ کے نئے باب کا معلن تھا! لٹکے منہ، پریشان حال، حواس باختہ امریکی جرنیلوں کی تصاویر اخباروں میں ہزیمت کی کہانی سنا رہی تھیں۔ آج جس طرح بشار الاسد کی فوج کے بھگوڑے یونی فارم اتار کر عراق کی سرحد پارکرکے وہاں پناہ لینے دوڑے، عین اسی طرح امریکہ کی اتحادی افغان فوج ہمارے ہاں لپکی اور آج تک بہت سے موجود ہیں! اگلا حیرت زدگی کا اہتمام ’طوفان اقصیٰ‘ نے کیا۔ 75 سال سے دبے پسے کچلے فلسطینی شیروں کی سی گھن گرج لیے اٹھے اور اسرائیل اور اس کے حواری دہل کے رہ گئے۔ خانہ ساز راکٹ، آئرن ڈوم گرانا بھول گیا۔ ریو پارٹی کے رنگ میں شاہیں کا جگر رکھنے والوں نے اچانک وارد ہو کر بھنگ ملا دیا۔ ارضِ موعودہ کے دعوے دار ایئرپورٹوں کو دوڑے کہ کون سی آبادکاری اور کیسی صیہونیت … جان بچی سو لاکھوں پائے کے مصداق۔ جن مغربی ممالک سے لا کر مصنوعی طور پر کاشت کیے گئے تھے، سارے بدھو انہی گھروں کو لوٹ گئے۔ اب اسرائیل تھا، قصابِ اعظم نیتن یاہو، امریکہ یورپ کا اسلحہ اور بمبار طیارے اور پھر چل سو چل۔ فلسطینیوں نے غزہ میں انسانی تاریخ میں عزیمت کی لازوال داستان اپنے صبر و ثبات ، اخوت و اتحاد کے ذریعے عورتوں، بچوں کے پاکیزہ خون سے لکھی۔ دبی پسی قوموں کو جباروں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے اور ناکوں چنے چبوانے کے اسباق سکھا دئیے۔ اسرائیل میں قابض فوج کے سورما آئے دن دھاڑیں مار کر روتے، خودکشیاں کرتے، نفسیاتی عوارض کے سارے ریکارڈ توڑتے شکست خوردگی کی عجب تاریخ مرتب کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ غزہ آج بھی شامی فتوحات پر روشن چاند چہروں کے ساتھ اپنے غم بھلا کر کھلکھلاتا ، مٹھائیاں تقسیم کرتا، تکبیر و تہلیل کرتا مطمئن پُر سکون دیکھا جا سکتا ہے۔ طوفانِ اقصیٰ کے بعد ایک صبح اور طلوع ہوئی ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں! جہاں صرف 36دن کی نوجوان طلبہ نہتی تحریک نے 53سال باپ مجیب الرحمان اور بیٹی حسینہ واجد کی جابر و قاہر حکمرانیوں کے ادوار سے یک لخت نجات کا سامان اپنی پامردی سے کر دیا۔ سینے گولیوں کے لیے پیش کر دیے اور قوم کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کر دیا! اور اب جب ساری توجہات کا مرکز خونچکاں غزہ، پاگل بھیڑیا بنا اسرائیل تھا، یکایک شام میں سرِ شام ہی آزادی کا آفتاب گویا پوری چکاچوند لیے نکل آیا!11دن میں 2011ء سے چھائی گھپ اندھیری گھنگھور رات چھٹ گئی۔ حسینہ واجد جس طرح 45منٹ کے نوٹس پر ہیلی کاپٹر پر لشٹم پشٹم سوار ہو کر بھارت کی گود میں منہ سر چھپانے لپکی۔ اب عین اسی طرح بشار الاسد دانت کچکچاتا، مٹھیاں بھینچتا جہاز میں سوار (اشرف غنی کی طرح ڈالروں سے بھرے؟) اپنے میکے روس جا پہنچا۔ شام آزاد ہو گیا پوری دنیا میں بکھرے شامیوں کو نوید ہوئی! جیسے 75سال اہل غزہ نے اپنی سرزمین پر غاصب حکمرانوں کے ہاتھوں جھیلے، 54سال شامیوں پر کچھ کم نہ بیتی، جبر و ظلم کی حکمرانی میں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق’اتنے سال بعد پہلی مرتبہ سنی اکثریت کو حکمرانی کا موقع ملا ہے‘۔ 7فی صد نصیری باپ بیٹا نہ صرف اکثریت کا حق (جمہوریت کے غلغلے بھری دنیا میں!)  غصب کیے رہے بلکہ اکثریت کے لیے سفاک بے رحم جابرانہ سیاسی نظام تھا۔ خوف کی حکمرانی ۔ قید و بند تعذیبیں، بلا جرم، بلا ثبوت ماورائے عدالت۔ ایک لاکھ30ہزار جبری گمشدگیاں۔ جیلوں میں خوفناک ٹارچر تھے۔ 2011ء میں عرب بہار  ہر جگہ آتے دیکھ کر شامی اکثریتی عوام نے پر امن مظاہروں میں جینے کا حق، عزت اور امن مانگا تھا۔ آزادی، عزت و وقار کے طالب تھے۔ مسلح تنازعہ نہ تھا۔ بدلے میں قتل و غارت گری اور صیدنیا ، سرخ جیل (خون سے سرخ)!جسے انسا نی قصاب خانہ کہا جاتا تھا، انھیں وہاں ٹھونسا گیا ۔ ہزاروں بے گناہ مارے گئے۔ اب آزادی کے پروانوں نے سب سے پہلے آ کر یہی جیل کھولی۔ قیدی آزاد ہوئے۔ ولولے اور جذبات سے شہر ابل رہا تھا۔ خوشی، امید اور آزادی کی فضا میں اتنی دہائیوں بعد کھل کر سانس لینا کیسا تھا! ایک ہولناک ماضی کا خاتمہ۔ تاکہ قانون کی حکمرانی، مضبوط ریاست، آزادیٔ اظہار، اتحاد و اتفاق سے ملکی تعمیر نو اور ترقی عدل و انصاف اور حقوق کا تحفظ نئے شام اور شامیوں کو بلا تخصیص ملے۔ یہ عزم نو لیے دنیا بھر میں بکھیر دئیے گئے مہاجر شامی گھر لوٹنے کو تیار، بے قرار ہیں۔ 2کروڑ20لاکھ آبادی کئی ممالک میں بکھر گئی۔ترکیہ، مشرق وسطیٰ، یورپ، غرض شامی مہاجرین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ 68لاکھ ملک کے اندر در بدر ہجرتوں میں رہے۔ 20لاکھ ٹینٹوں والی خیمہ بستیوں میں۔ 5لاکھ شہید ہو گئے۔ 40لاکھ ادلب میں (جہاں سے تحریک اٹھی) مسلسل روسی، اسدی بمباریوں کی زد میں۔ اگست 2013ء میں غوطہ اور دومہ میں خوفناک کیمیائی حملہ جس میں ایک ہزار شہید ، ہزاروں زخمی۔ کیمیائی حملے کے مقتولین، وہ بچے بھی جو سانس لینے کی کوشش میں ادھ موئے ہوئے تھے۔ منہ سے اذیت کے مارے جھاگ نکلتی۔ نظر دھندلا جاتی۔ دل کی دھڑکن۔ کم سے کمترین، پھر جھٹکے لگنے لگتے اور موت نجات بن کراپنی آغوش میں لے لیتی۔
’غوطہ‘ کے محصور لاکھوں نے یہ خوفناک حملہ سہا، دیکھا۔ وہ بھوکے، روٹی کے منتظر تھے، بچے کھلونوں کا خواب دیکھ رہے تھے جب ان کی معصوم تمنائوں کو سانس کھینچ لینے والی سارین گیس کا تحفہ بشارالاسد نے دیا۔ شام سرسبز وشاداب لہلہاتا ، عین اسی طرح مسلم اکثریتی علاقوں کو کھنڈر کر دیا بیرل بموں سے۔فرق یہ ہے کہ اہل غزہ کا لمحہ لمحہ دنیا نے دیکھا، تڑپے، پوری دنیا مظاہروں میں جت گئی۔ سفاک مغربی پشت پناہ جو کل بشار اور آج نیتن یاہو کے ہمنوا و اتحادی ہیں، آج اپنے عوام کے ہاتھوں دروغِ مصلحت آمیز پر مجبور ہو کر عوام کوجھوٹی تسلیاں دے لیتے ہیں۔ شام کے لیے اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ شور مچتا 
تو قراردادیں پاس کرکے مسلمانوں کے منہ میں کشمیر، روہنگیا، فلسطین کی طرح زبانی جمع خرچ کا تکا دے دیا جاتا۔ 
BBCکے مطابق اسدی حکومت کے بڑے مددگار روس، ایران، مغربی طاقتیں اور کئی خلیجی عرب ممالک رہے۔ روس کے فوجی ( نیول ، ایئربیس) اڈے موجود رہے جن سے پروازوں نے ’باغیوں‘ اور عام شہریوں کو نشانے پر رکھا۔ ایران نے ہزاروں مسلح تربیت یافتہ جنگجو اور اربوں ڈالر فراہم کیے۔ ایرانی فوج/ جرنیلوں کی قیادت میں لبنان (حزب اللہ)، عراق، یمن، افغانستان (ہزارے) سے لڑاکا قوت مہیا ہوئی۔ امریکہ کی سرکردگی میں گلوبل اتحاد نے 2014ء سے ’شامی ڈیموکریٹک فورسز‘ کی مدد کو خصوصی فورسز لگائیں (مسلمانوں کو عطا ہونے والی ڈیموکریسی ملاحظہ ہو!) جہادی گروپوں کے خلاف شام کو مضبوط کرنے کے لیے! غزہ، شام کی سرزمین پر انسانوں کو چیتھڑوں میں بدل دو تو ان کا جرم ’جہادی‘ ہونا ہے اور تمھاری جمہوریت حسین تر ہو جاتی ہے نیتن یاہو ، بشار الاسد اور حواریوں کے خون آلود ہاتھوں سے ! موجودہ HTS، ہیئت تحریر الشام (شام کی آزادی کی تحریک) جس میں دیگر گیارہ گروپ مزید شامل ہیں، جو مل کر مضبوط مزاحمت کی صورت اٹھی ہے۔ چار سال سے جنگ ختم سمجھی جا رہی تھی اس لیے ترکی کی آشیرباد اور ان کی خاموش پلاننگ سے اٹھنے والی مزاحمت بھونچال کی طرح محسوس کی گئی شام تامشرق وسطیٰ و مغربی دنیا میں۔ ترکی میں 35لاکھ شامی مہاجر ہیںخانہ جنگی کی بنا پر۔ لہٰذا اس تحریک میں ترکی کی مدد ، پشت پناہی عین متوقع تھی۔ HTSکا لیڈر ابو محمد الجولانی دمشق میں پلا بڑھا۔ امریکی حملے کے بعد عراق میں القاعدہ کے ساتھ رہا۔ شام میں القاعدہ سے مربوط رہا مگر پھر خود کو اس سے الگ کر کے صرف شامی حدودکے لیے اپنا گروپ بنایا۔ مختلف نام بدلتے بالآخر HTSبنی جس کا مقصد شام کو اسد کی جابرانہ حکومت سے آزاد کروانا تھا۔ ایرانی ملیشیائیوں ملک سے نکال باہر کرنا اور اسلامی قانون کی حکمرانی (ان کی اپنی تشریحا ت پر مبنی) لاگو کرنا مقصود تھا۔ الجولانی نے اپنا تاثر  قومی سطح پر شام کے سب سے بڑے مسلح گروپ کے سربراہ کا رکھا ہے جس کا کوئی گلوبل ایجنڈا نہیں ہے۔ (القاعدہ سے مختلف ہونا واضح کرنے اور مغرب کو مطمئن کرنے کے لیے)۔  خصوصیت سے اقلیتوں سے حسن سلوک اور حقوق کے تحفظ کی یقین دہانیاں کرواتے رہے ہیں تاکہ… مغرب سمجھ لے! جولانی نے خود کو بتدریج تبدیل کیا۔ روایتی مغرب دشمن جہادی سے زیادہ قابلِ قبول انقلابی صورت بنا کر۔
CNNکے مطابق جولانی نے اپنے جہادی حلیے کو مغربی کوٹ اور قمیص سے بدل دیا۔ ادلب میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت قائم کر لی، جس پر ان کے گروپ کا کنٹرول تھا۔ خود کو مغربی اور علاقائی قوتوں کے لیے ایک قابلِ قبول پارٹنر کے طور پر ظاہر کیا۔ ISISکے خلاف 2023ء میں آپریشن کرکے ان کے بڑے لیڈر ابو حسین الحسینی القریشی کو قتل کیا۔ سی این این کو انٹرویو میں واضح کیا کہ ISISاور القاعدہ سے روابط ختم کرکے ان تنظیموں کے کارندوں کو اکھیڑ پھینکا۔
جولانی جہاد کا حوالہ دینے سے گریزاں ، خود کو صرف انقلابی ظاہر کرتا ہے۔ صرف شام کو اسد کے ظلم کے لیے نجات دہندہ کی حیثیت سے کھڑا ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس گروپوں نے HTSکا ادلب میں مخالفین کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا۔ مظاہرین کے خلاف، نیز اختلاف رائے رکھنے والوں کو ٹارچر اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ یہ سب خود کو شدت پسند تنظیموں سے دوری ثابت کرنے کی سعی ہے اور مغرب؍ دنیا کے لیے قبولیت۔ اس سب کے باوجود امریکہ نے اس گروپ کو دہشت گرد ہی قرار دیا ہے۔ یہ بتانے کو کہ نام بدلنے کی کوشش ناکام ہے۔بہرطور HTSممبران اور انقلابی تحریک تمام تر ’سافٹ امیج‘ دینے کی کوششوں کے باوجود جذبۂ ایمانی سے معمور ہے۔ جس کا اظہار حلب کی دیوار پر لکھے اس جملے میں پوشیدہ ہے!’میں حلب میں ہوں، میری روح دمشق میں ہے، میرا دل حمص میں اور میری نگاہیں قدس پر جمی ہیں!‘ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا۔ ادلب میں سختیاں جھیلتے مجاہدوں کی اٹھان اپنی جگہ مصلحت بینی بھول جایا کرتی ہے۔ پھر وہ تصویر کیا ہو جس میں جولانی کرسی پر  بیٹھا یا بٹھایا گیا ہو اور اس کے دونوں اطراف کلمہ لا الٰہ … سے مزین جھنڈا لہرا رہا ہو۔ سر زمینِ شام ہو اپنی درخشاں ماضی کی تاریخ لیے اور حق چھپا رہ سکے؟ناممکن! پہلے  خطاب کے لیے جامع الاموی دمشق کا انتخاب کیا۔ (جہاں54سال بعد اذانِ ظہر اور نماز ادا ہوئی تو الجزیرہ کا رپورٹر رو دیا شدتِ جذبات سے!) CNNبلک اٹھا اس انتخاب پرکہ جولانی نے نہ ٹی وی سٹوڈیو ، نہ خالی شدہ صدارتی محل پہلی تقریر کے لیے منتخب کیا، بلکہ ایک ایسا مقام جو بہت بھاری، اونچی مذہبی حیثیت کا حامل ہے۔  یاد رہے کہ بعض روایات میں حضرت عیسیٰ d کا اسی مسجد میں نزول ہے۔ تاہم یہ حدیث سے ثابت نہیں۔ بلکہ دمشق کا وہ مینار جسے نور الدین زنگی نے تعمیر کروایا تھا، مقامِ نزول ہے۔ تاہم اس مسجد میں سیدنا مہدی کی موجودگی کا تذکرہ ضرور ہے۔ CNNکے نک رابرٹسن کا اس مسجد کا تاریخی تناظر میں نوٹس لینا یوں اہم ہے کہ آج کے مسلمان اس مسجد (بلکہ ہر مسجد!) کی اہمیت سے نا بلد ہیں مگر گورا جانتا ہے! کہتا ہے ’1300پرانی دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک! یہ ایک پیغام تھا ان سب کے لیے جو اسے قیادت میں آگے لائے۔ ایک چونکا دینے والی رفتارسے!‘  بشارالاسد کے فرار ہوتے ہی امریکہ نے وسطی شام میں ISISکے 75ٹھکانوں پر بھاری جنگی جہازوں سے بمباری کی ہے۔ساتھ ہی اسرائیل گولان پہاڑیوں کے راستے شام میںگھس آیا۔48 گھنٹوں میں 500دفاعی اہداف پر بمباری کر کے بحری، فضا ئی قوت اور اسلحے کا مکمل صفایا کر دیا۔مزید بمباری/پیش قدمی جاری ہے۔ سر زمین ِشام پر اسرائیلی، روسی، امریکی افواج نئی قیادت اور عالم ِ اسلام   کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے!کیا ہونے چلا ہے؟ واللہ اعلم!