(زمانہ گواہ ہے) شام کی صورتحال اور پاکستان - محمد رفیق چودھری

9 /

54 سال تک اسد خاندان نے اقتدار کے لیے خونِ مسلم بہایا ، مگر ہر آمر

کی طرح بشار کو بھی رسوا ہو کر ملک چھوڑنا پڑا : خورشید انجم

اسرائیل گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر کے دمشق کے قریب پہنچ چکا ہے

اور ایسا لگتا ہے کہ وہ مزید آگے بڑھے گا : رضاء الحق

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت و الجماعت کو شام میں عارضی طور

پر ریلیف مل گیا ہے لیکن بحیثیت مجموعی اُمت کے لیے بڑا نقصان

ہے :خلیل الرحمان چشتی

شام کی صورتحال اور پاکستان کے لیے سبق

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال

میز بان :آصف حمید

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: مسلم اکثریت والے ملک شام کے اقتدار پر ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے بشارالاسد اور اس کے والد حافظ الاسد نے 54 سال تک غاصبانہ قبضہ جمائے رکھا۔ لیکن اب 10 دن کے اندر اندر اس خاندان کے اقتدار کا سورج اچانک غروب ہو گیا اور بشارالاسد کو دو ارب ڈالرز لے کر بھاگنا پڑا ۔ یہ سب اچانک کیسے ہوگیا ؟
خورشید انجم: آمریتوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی بڑے آمر کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب ہو گا۔ فراعنۂ مصر ہوں یا نماردۂ بابل یا کوئی بھی بڑا آمر ہو ایک وقت آتا ہے کہ اس کے اقتدار کا سورج ڈوبتے پتا  بھی نہیں چلتا ۔ اسد خاندان کے لیے آمریت کا لفظ تو بہت چھوٹا ہے ، ان لوگوں نے تو شام کو مسلمانوں کے لیے عقوبت خانہ اور قتل گاہ بنایا ہوا تھا ۔ یہاں تک کہ 130 ملین مسلمان شام سے یورپ ، ترکی اور دوسرے ممالک میں ہجرت کرگئے ، لاکھوں شہید ہوگئے ۔ اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کےلیے انہوں نے ظلم و جبر کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا لیکن اس کے باوجود ان کے اقتدار کی بنیاد چونکہ کسی مستحکم بنیاد پرنہیں کھڑی تھی اس لیے گرتے پتا بھی نہیں  چلا۔ جیسے قرآن پاک میں فرمایا گیا :
{ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّ  لَّــۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ}(آل عمران:112)
 ’’ان کے اوپر ذلت تھوپ دی گئی ہے جہاں کہیں بھی پائے جائیں‘سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہو جائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے۔‘‘ 
 اگرچہ یہ آیت یہود کے لیے ہے لیکن سرکش آمروں کے لیے بھی یہی اصول ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ اللہ ان کی رسی کھینچ لیتا ہے ۔ اسد خاندان نے 54 سال تک اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں کا خون بہایا ، ٹارچر سیلوں میں  بے گناہ مسلمانوں کوا ذیتیں دیں ۔ اب تفصیلات سامنے آرہی ہیں کہ سالہا سال سے عقوبت خانوں میں قید مسلمانوں نے سورج کی کرن تک نہیں دیکھی ۔ کئی آزاد ہونے والے حافظ الاسد کا پوچھ رہے ہیں ، انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ کب کا مرگیا۔ ایک پائلٹ کومسلمانوں پر بمباری سے انکارپر اس وقت جیل میں ڈالا گیا جب وہ جوان تھا ، آج 43 سال بعدبوڑھا ہو کر جیل سے آزاد ہوا ہے۔ اسی طرح بے گناہ مسلمانوں کو اجتماعی پھانسیاں دی گئیں ۔ قیدیوں کی ہڈیوں کو ڈرل کیا جاتا۔ کئی قیدی اب آزاد ہوئے ہیں تو ان کے بہن بھائیوں اور والدین کو معلوم بھی نہیں تھا وہ زندہ ہیں ۔ اذیت کی بے شمار داستانیں ہیں جو اب کھل کر سامنے آرہی ہیں ۔ اب بھی ایک جیل ایسی ہے جس میں لاکھوں مسلمان قید ہیں، ان قیدیوں کے لیے خوراک کا مسئلہ ہے ، آکسیجن کا مسئلہ ہے ، مگر اس جیل کے دروازے کھولنے کے لیے خفیہ کوڈز نہیں مل رہے کیونکہ بشارالاسد اور اس کی انتظامیہ بھاگ چکی ہے۔ اس طرح عرب نیشنل ازم کا بھوت بھی ختم ہو گیا ہے ۔ ان لوگوںنے عربوں کو نیشنل ازم کا جھانسہ دے کر اپنا اقتدار حاصل کیا اور پھر کمیونسٹ نظریات  کا پرچار کیا ۔ اس سارے فریب کا پردہ اب چا ک ہو چکا ہے اور شام کے مسلمان جاگ چکے ہیں ۔ الحمد للہ ۔ 
سوال: کیا نئی حکومت کا عوام نے ساتھ دیا یا یہ آگے بڑھتے چلے گئے اور ان کے لیے راستے خالی ہوتے چلے گئے؟
خورشید انجم:  بشارالاسد کا شام تو گویا مسلمانوں کے لیے عقوبت خانہ تھا، اس لیے جب انہیں پتا چلا کہ ظلم سے نجات ملنے والی ہے تو انہوں نے کھل کر انقلابیوں کا ساتھ دیا ہے۔ انہیں گویا نجات ملی ہے۔ اس لیے وہ بشارالاسد کے مجسمے گرا رہے ہیں ، جشن منا رہے ہیں۔ HTSنے بھی تمام لوگوں کو آزادی سے اپنے گھروں میں  رہنے کی اجازت دی ہے اور عام فوجیوں کے لیے بھی معافی کا اعلان کیا ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو جنگی جرائم میں ملوث ہیں ۔ ان کے خلاف مقدمات قائم ہوں گے اور ان کو سزائیں بھی ملیں گی۔ لوگ جو ق درجوق شام کے شہروں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے شام کی سڑکیں جام ہو چکی ہیں ۔ خاص طور پر ترکیہ میں موجود شامی مہاجرین کی بڑی تعداد شام کا رُخ کر رہی ہے۔ 
سوال:کیا HTS  القاعدہ ٹائپ کی کوئی آرگنائزیشن ہے ؟ اس کے سربراہ ابو محمد الجولانی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ، کیسے ایک شخص نے پورے سسٹم کو ٹیک اوور کرلیا؟ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی ایسی طاقتیں نظر آرہی ہیں جن کے مقاصد کچھ اور ہیں؟
رضاء الحق:  2011 ءمیں جب عرب سپرنگ شروع ہوئی تھی تو اس وقت ابو محمد الجولانی عراق میں امریکی قبضہ کے خلاف مزاحمت کرنے والے عسکری گروہ جبہۃ النصرہ ( النصرہ فرنٹ ) میں شامل تھے جو کہ القاعدہ کی ایک شاخ تھی ۔ اوباما کے دور حکومت میں ہیلری کلنٹن نے القاعدہ کی اس شاخ کو Goodالقاعدہ کا عنوان دیا تھا ۔ جبکہ افغانستان میں القاعدہ کو Badالقاعدہ قراردیا تھا ۔ ابو محمد نے 20 سال کی عمر میں النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیا رکی تھی اور بعد ازاں امریکہ نے اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی ۔ 1996ء میں جب امریکہ کا نیو سنچری پلان سامنے آیا تو اس کے مطابق انہوں نے مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ ترتیب دیا اور ویسلی کلارک نے وائٹ ہاؤس میں CIAکے ایک اجلاس کا تذکرہ کیا جس کے مطابق فیصلہ ہو چکا تھا کہ سات ممالک میں رجیم چینج ہوگی۔ ان میں عراق ، شام ، لیبیا، سوڈان ، صومالیہ ، لبنان اور ایران شامل تھے ۔ ایران کے سوا باقی چھ میں تو وہ رجیم چینج کر چکےہیں ۔ ایران کے ارد گرد گھیرا اپنی جگہ تنگ ہو رہا ہے۔   نیو سنچری پلان کے تحت عرب سپرنگ سامنے آئی اور یہ سارے عسکری گروہ متحرک ہوئے ، پھر النصرہ فرنٹ سے ہی ISIS نکلی ۔ تاہم ابو محمد نے CNNکو دئیے اپنے حالیہ انٹرویو میں القاعدہ اور داعش سے اپنے تعلق سے انکار کیا ہے ۔ 
سوال:کیا ابو محمد کو امریکہ کیمدد حاصل تھی؟ 2011ءاور 2016ءمیں بھی تو داعش کے نام سے ایک گروہ سامنے آیا تھا اور اس نے خلافت کا اعلان بھی کیا اور ابو بکر البغدادی کے نام سے ایک خلیفہ بھی سامنے آیا لیکن بعدازاں پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا ؟
رضاء الحق:نعرے انہوں نے بھی یہی دئیے تھے کہ ہم ایک اسلامی ریاست قائم کرنے جارہے ہیں اور جہاں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو گا ہم اس کے خلاف لڑیں  گے۔ لیکن انہوں نے اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ۔ HTSنے بھی ابھی تک اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ۔ اگر کوئی بیان سامنے آیا بھی ہے تو یہ کہ ہم بہت تھک چکے ہیں ۔ 2011ء اور 2016ٰ ء میں بھی ان باغیوں کی پشت پر امریکہ تھا ۔ اگر ایران اور حزب اللہ کی سپورٹ بشارالاسد کو حاصل نہ ہوتی تواس وقت بھی یہ کامیاب ہو جاتے ۔ اب چونکہ حزب اللہ کمزور ہو چکی ہے اور اسے شام سے واپس لبنان آنا پڑا، اس وجہ سے ان کو موقع مل گیا ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ روس نے بھی کوئی ڈیل کی ہے کہ اس کی طرطوس کی بندرگاہ کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ بشارالاسد کے مسلمانوں پر شدید مظالم کے باوجود ایران نے بھی بشارالاسد کا ساتھ دیا تھا مگر اب اس کی پالیسی واضح نہیں ہے۔ اسرائیل صورتحال سے فائدہ اُٹھا کر قبضہ کرتا  ہوا دمشق کے قریب پہنچ چکا ہے ، گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر چکا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ وہ مزید آگے بڑھے گا ۔ 
سوال: بعض تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ بشار الاسد  حکومت کا خاتمہ خوش آئند ہے ۔ بعض دینی حلقوں میں بھی بہت خوشی منائی جارہی ہے ۔ البتہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ  اس کا اصل فائدہ اسرائیل کو ہوگا ۔ اس حوالے سے آپ کی رائے کیا ہے ؟
خلیل الرحمان چشتی:  اس میں کوئی شک نہیں کہ عارضی طور پر اہل سنت والجماعت کے افرادکو ایک ریلیف مل گیا ہے ۔ اسد خاندان کے 54 سالہ دور غلامی سے نجات ملی ہے ، اہل سنت جیلوں سے رہائی پارہے ہیں ، لوگوں کو بولنے کی آزادی مل جائے گی۔ بہت سارے شامیوں کے ساتھ میری ملاقات ہوتی تھی تو وہ بولنے سے ڈرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر تین آدمی آپس میں بات کریں تو ان میں سے ایک بشارحکومت کا جاسوس ہوتا ہے۔ ان پر اس قدر خوف طاری تھا ۔ اب وہ خوف ختم ہو جائے گا ۔ لیکن بحیثیت مجموعی یہ عالم اسلام کے وسائل کےحوالے سے بہت نقصان دہ ہے ۔ کیونکہ اسرائیل نے فضائی اور زمینی حملے کر کے شام کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے۔ اب شام بے دست و پا ہو گیا ہے۔ یعنی اب وہ ایک ایسی ریاست ہوگی جو مغرب اور اسرائیل کے رحم و کرم پر ہوگی اور دشمن یہی چاہتے تھے کہ غزہ کی طرح ایک آدمی بھی اسلحہ کے ساتھ موجود نہ رہے ۔ بحیثیت مجموعی امت کے لیے یہ صورتحال اچھی نہیں ہے۔ 
سوال: بظاہرروس کو شام میں پسپائی ہوئی ہے ۔ آپ کے خیال میں روس نے شام میں کوئی مزاحمت کیوں  نہیں کی ، کیا وہ کمزور ہو گیا ہے یا اس نے امریکہ سے کوئی بارگین کرلیا ہے ؟
خلیل الرحمان چشتی: روس باضابطہ ایک منصوبے کے تحت اور امریکہ سے بارگین کر کے ہی وہاں سے نکلا ہے۔ جغرافیائی صورتحال کو دیکھ لیجیےکہ گزشتہ 14 ماہ سے روزانہ کئی جنگی جہاز امریکہ سے اسرائیل کی مدد کے لیے آرہے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ بھی اسرائیل کی مدد کر رہا ہے ۔  لہٰذا روس نے عافیت اسی میں سمجھی ہے کہ وہ یوکرین کی  جنگ تک محدود رہے اور شام میں مزید مداخلت نہ کرے ۔ امریکہ کی فوجیں سعودی عرب میں کنگ خالد ملٹری بیس پر موجود ہیں ، عراق میں موجود ہیں ۔ اسی طرح برطانیہ کی افواج بھی عراق میں موجود ہیں۔ لہٰذا روس اب مزید کوئی خطرہ مول نہیں لے گا ۔ 
سوال:کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یوکرین کےحوالے سے امریکہ اور یورپ نے روس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلیا ہو کہ تم یوکرین سنبھالو اور ہمیں شام کو دیکھنے دو ؟
خلیل الرحمان چشتی: عارضی مدت کے لیے ایسا ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ نے بہت سے جوہری ہتھیار یوکرین منتقل کر دئیے ہیں اور یوکرین کا صدر بھی ایک یہودی ہے اور اسی لیے روس خائف ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ لہٰذا یہ عارضی طور پر روس کی پسپائی ہو سکتی ہے لیکن وہ کبھی بھی امریکی بالادستی قبول نہیں کرے گا ۔ 
سوال:ایران نے شام میں حکومت کی تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ حالانکہ بشارالاسد حکومت میں حزب اللہ کو جو مدد اور حمایت حاصل تھی، وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے ۔ ایران کے اس موقف پر آپ کیا کہیں گے ؟
خلیل الرحمان چشتی: اسلامی تاریخ میں ایران کا  کردار بہت ہی عجیب و غریب اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ اس کے باوجود کہ 400 ہجری میں بغداد میں سنی اور شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہو گیا تھا کہ نصیری علوی مسلمان نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ایران نے کھل کر شام کے علویوں کا ساتھ دیا ، نہ صرف اپنی فوجیں الاخوان کو کچلنے کے لیے بھیجیں بلکہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی ہدایت کی کہ تم بھی شام جاؤ ۔ اس پر شیخ یوسف القرضاوی بھی چیخ پڑے ، ان کی ویڈیوز موجود ہیں ۔ پھر حسن نصراللہ کے خلاف مرسی کی ویڈیوز بھی موجود ہیںجن میں انہوں نے سوالات اُٹھائے ہیں کہ حزب اللہ اور ایران کیوں علویوں کی حمایت میں سنی مسلمانوں کا قتل عام کر رہےہیں ۔ اسی طرح یمن کےزیدی بہت ہی معتدل شیعہ تھے اور سنیوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن ایران نے انہیں اسلحہ اور تربیت دے کر سنیوں کے خلاف اُکسایا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ زیدی مذہب چھوڑ کر اثناء عشری مذہب اختیار کریں ۔ اس طرح یمن میں بھی سنی شیعہ جنگ بھڑکائی گئی۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں جانتا ہوں کہ دیالمہ کے دور میں ، عباسی خلافت کے دور میں اور اس کے بعد صفویوں کے دور میں فارس اور ایران کی پالیسی میں ایک تسلسل نظر آتا ہے ۔میری پختہ رائے ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور مغربی طاقتیں ایران کو نہیں چھیڑنا چاہتیں ۔ اس لیے کہ افغانستان، ترکمانستان اور پاکستان کی سنی بیلٹ اور ترکی ، عراق اور شام کی سنی بیلٹ کے درمیان ایران ایک بفر زون ہے اور عالمی طاقتیں اس بفر زون کو برقرار رکھیں گی تاکہ شیعہ سنی آپس میں لڑتے رہیں اور اسلام دشمن قوتوں کے مفادات پورے ہوتے رہیں ۔ 
سوال:جس طرح طالبانِ افغانستان ایک دم اُٹھے اور کابل کو ٹیک اوور کرلیا ، اسی طرح دمشق پر بھی HTSنے  ایک دم ٹیک اوور کیا ہے ۔ بعض لوگوں کے نزدیک وہاں بھی ایک افغانستان بننے جارہا ہے ۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
خورشید انجم: بعض اعتبارات سے تو کچھ مماثلت  ہے ۔ مثلاًبشارالاسد اور اشرف غنی دونوں کو بڑا زعم تھاکہ ہمارے ساتھ عالمی طاقتیں ہیں ۔ امریکہ نے کہا تھا کہ ہم نےافغانستان میں ایک مضبوط فوج تیار کرلی ہے مگر افغانستان اور شام دونوں میں آرمی سب سے پہلے بھاگی ہے ۔ دونوں ممالک کے حکمران خزانہ بھی ساتھ لے کر بھاگے ہیں ۔ تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ ابو محمد الجولانی پہلے القاعدہ میں تھے ، 2006ء میں گرفتار ہوئے ، پھر شام  میں جاکر انہوں نے النصرہ فرنٹ کے نام سے تنظیم بنائی۔ 2016ء  میں اسے جبہۃ الشام کا نام دیا گیا ، 2017ء  میں تحریر الشام کہلائی۔ افغان طالبان نے پہلے بھی افغانستان میں حکومت بنائی ہے ، اسے پاکستان ، سعودی عرب اور UAEنے تسلیم بھی کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ کے خلاف 20 سال جہاد کیا ۔ ان کے مقابلے میں دنیا بھر کی طاقتیں اکٹھی ہوگئی تھیں لیکن اس کے باوجود اللہ نے انہیں فتح دی ۔ شام میں اخوان المسلمون نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں ۔ 
سوال: اسرائیل نے بغیر وقت ضائع کیے شام کی 80 سے 90 فی صدی ملٹری انسٹالیشن کو تباہ کر دیا ہے ۔ شام  کی موجودہ صورتحال سے اسرائیل کیافوائد حاصل کرنا  چاہتا ہے؟
رضاء الحق:گریٹر اسرائیل کا منصوبہ شروع دن سے عیاں ہے۔ اس میں وہ شام ، اردن ،لبنان کو شامل گردانتے ہیں ۔ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیل مسلسل غزہ پر بمباری کر رہا ہے جس سے 99 فیصد نقصان مسلمانوں کا ہوا ہے جبکہ1 فیصدسے بھی کم نقصان اسرائیل کا ہوا ہوگا ۔ اسی طرح حزب اللہ کا بھی اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ شام کی صورتحال سے بھی اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کر رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ جب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا تو امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اسرائیل کا دفاع کیا ۔ ان میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں ۔ 
سوال:حماس نے جو طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیا اس کا بھی سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو نہیں ہوا ؟
رضاء الحق:بظاہر تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے ۔ البتہ اخلاقی اور سفارتی محاذ پر حماس اور فلسطینیوں کی جیت ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے ۔ پھر یہ کہ پوری دنیا میں فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے ۔  غیر مسلموں نے بھی حماس اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے ہیں ۔ گویا ایک لحاظ سے حالات اُسی طرف جارہے ہیں جیسا کہ حدیث میں تذکرہ ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ پتھر اور درخت بھی یہودیوں کی مخالفت میں بولیں گے اور مسلمانوں کو پکاریں گے کہ ان کو قتل کر و ۔ احادیث میںیہ بھی خبریں موجود ہیں کہ آخری دور کی جنگوں میں پہلے تو مسلمانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ یہاں تک کہ عربوں کے لیے تباہی کا اشارہ بھی ہے :
))وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ))(بخاری)’’عرب کی خرابی ہونے والی ہےایک بلا سے جو نزدیک آ گئی ہے۔‘‘
یہ تباہی اب عربوں کے سر پر آن کھڑی ہے، لیکن اس کے بعد پھر احادیث میں یہ بھی ہے کہ بالآخر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی ۔ البتہ اہل پاکستان کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ طاغوتی طاقتوں کا ہدف صرف   مشرق وسطیٰ نہیں ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی ان کے اہداف ہیں ۔ 2006ء میں رالف پیٹر نے ’’بلڈ بارڈرز‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں تذکرہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کو افغانستان کے ساتھ ملایا جائے گا اور بلوچستان آزاد ہوگا ۔ 
سوال: ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم استعمال ہو جاتے ہیں۔ 1979 ءسے لے کر آج تک سنی مسلمانوں نے امریکہ کے مفادات کے لیے بڑے کام کیےہیں۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑے ، پھر بلقان کا معاملہ ہوا ۔ اب شام میں بھی جو معاملہ سامنے آیا ہے تو کہیں ایک بار پھر اسلام امریکی مفادات کے لیےتو ا ستعمال نہیں ہو رہا؟
خورشید انجم: پاکستان میں نظامِ مصطفیٰ تحریک اس کی ایک بڑی مثال ہے ۔ بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے یہ سارا معاملہ ہوا ۔ پھر اس کے نتیجہ میں ضیاء الحق کا 11 سالہ مارشل لاء قوم کا مقدر بنا ۔کمیونسٹ روس نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے قرآن پاک کے نسخے چھاپ کر مسلمانوں میں تقسیم کیے کہ روس سے لڑو ! اس وقت کی برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ تھیچر آئی اور اس نے طور خم بارڈر پر کھڑے ہوکر نعرہ تکبیر اللہ اکبر لگایا اور ہم بھی اس کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے اورسمجھ رہے تھے کہ کمیونسٹ دشمن (سوویت یونین ) کے خلاف اہلِ کتاب اور مسلمان اکٹھے ہوگئے ہیں ۔ اس طرح ہم استعمال ہوتے رہے ۔ 
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
ہماراایک  المیہ ہے کہ ہم شارٹ کٹ کی کوشش میں ہوتے ہیں کہ جلد ازجلد معاملہ ہو جائے اور اسی وجہ سے ہم جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ اس کی بجائے اگر ہماری کوئی لانگ ٹرم پالیسی ہو اور ہم ایک سمت میں اہداف کی طرف بڑھیں تو کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بہرحال شام کے معاملے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ تھوڑا وقت گزرنے کے بعد ہی پتا چلے گا کہ نئی حکومت کس سمت میں جارہی ہے ۔ 
سوال:شام کی صورتحال نے ثابت کیا کہ آمریت کو بالآخر زوال آتا ہے۔ پاکستان کے حالات کے تناظرمیں ہمیں اس سے کیا سبق سیکھنا چاہیے؟ 
رضاء الحق :شاہ ایران کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے ۔ اس کو بھی امریکہ سمیت کافی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی لیکن جب زوال آیا تو کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ افغانستان کی نجیب حکومت کا بھی یہی معاملہ ہوا۔ چلی میں جنرل پنوشےاور فلپائن میں مارکوس کا انجام بھی یہی ہوا۔ پاکستان میں جنرل ایوب خان نے آخرمیں فرینڈز ناٹ ماسٹرز کے عنوان سے کتاب لکھ کر شکوہ کیا جبکہ اپنے دور حکومت میں امریکہ کا ہر حکم سر آنکھوں پر ہوتا تھا ۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ پاکستان کے حکمران چاہے وہ سول ہوں یا فوجی ،امریکی آشیر باد کے متلاشی رہتے ہیں ۔ یہی حالات ہمیں عرب حکمرانوں کے بھی نظر آتے ہیں لیکن یہ سب یہ بھول جاتے ہیں کہ جب امریکہ کے مفادات پورے ہوجاتے ہیں تو وہ کسی کو CI30میں اڑا دیتا ہے ، کسی کو ٹھڈے مروا کر کرسی سے اُتروا دیتا ہے ، کسی کو قتل کروا دیتاہے ۔ پاکستان کے لیے اس میں سبق یہی ہے کہ ہم آئین کی بالادستی قائم کریں۔یہاں پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام ہے ۔ جمہوریت کو آزادی کے ساتھ چلنے دیں ۔ ہر ادارہ چاہے وہ فوج ہویا عدلیہ، پارلیمان ہو یا سیاسی جماعتیں، آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرے ۔ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ 
سوال:16 دسمبر کا دن آنے والا ہے، 1971ء میں اسی دن ہماری ایک آمریت کو بڑی شکست ہوئی اور نتیجے میں ہمارا ملک دو لخت ہوگیا ۔ آج ایک بار پھر ملک انہی حالات سے دوچار ہے ۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو کیا سبق سیکھنا چاہیے اور عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟
خورشید انجم: تاریخ کا یہ سبق ہے کہ تاریخ سے کبھی سبق نہیں سیکھا گیا ۔سانحہ سقوط ڈھاکہ میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی کا بھی قصور تھا ۔ اس وقت بنگالیوں کو بھی غلامانہ حیثیت سے دیکھا جاتا تھا ۔ پھر مارشل لاء میں بھی ان کا گلہ تھا کہ ہم پر پنجاب کی حکومت ہے ۔ ادھر ڈھاکہ جل رہا تھا اور ادھر ہمارے حکمران عیاشیوں میں مصروف تھے ۔ اس سے سبق سیکھنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر غور کریں ، اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے اجتماعی توبہ کریں ۔ خاص طور پر حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ۔ جس نظریہ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا ہے اس کو نافذ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ جمہوری طریقے سے ملک حاصل کیا تھا تو جمہوریت کو چلنے دیا جائے ۔ اسلام کا کیچ ورڈ عدل ہے ۔ کفر کی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی ۔ ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ جمہوریت میں سندھ ، پنجاب ، کے پی کے،  بلوچستان ، کشمیر اور گلگت کے نمائندے اسمبلی میں بیٹھے ہوتے ہیں تو نمائندگی کا ایک احساس رہتا ہے ۔ جب یہ احساس عوام سے چھین لیا جائے گا اور فارم 47 کے ذریعے جمہوریت کا گلا گھونٹا جائے گا تو پھر 1971ء جیسے حالات پیدا ہوں گے ۔ 
رضاء الحق :اصل میں ہمیںایک قومی لائحہ عمل بنانے اور  حکمت عملی کے ساتھ اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ سبق تب ہی سیکھا جائے گا جب ہم مخلص ہوں گے ۔ جو جس جگہ موجود ہے وہاں آئینی حدود کے اندر رہ کر مخلصانہ طور پر ملک کے لیے کردار ادا کرے ۔ عوام کو بھی مخلص ہونا ہوگا ۔ سوشل میڈیا ہاتھ میں آگیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جو چاہیں لکھتے جائیں ۔ اس حوالے سے علماء کا بھی ایک کردار بنتا ہے کہ وہ عوام کی ذہن سازی کریں ۔   تنظیم اسلامی اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارا موقف یہی ہے کہ یہ ملک باقی رہے گا تو یہاں اسلام نافذ ہوگا ۔ اس کو ہم نے اسلام کی تجربہ گاہ بنانا تھا تاکہ یہ باقی دنیا کے لیے روشنی کا ایک مینارہ ثابت ہو ۔ اگر ہم سب اس بات کو اپنا ہدف بنا لیں اور اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں تو پھر ہم ایک قوم بھی بنیں گے اور یہ ملک بھی اچھے طریقے سے چلے گا ۔