کیا اب ’’شام‘‘ میں سحر طلوع ہو جائے گی؟
ایوب بیگ مرزا
امت ِمسلمہ میں بگاڑ کا آغاز تو خلافت کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے بعد سے ہی شروع ہو گیا تھا لیکن پھر بھی عرب اور ہند و سندھ میں مسلمانوں میں بے شمار ایسے حکمران گزرے ہیں جو خوفِ خدا بھی رکھتے تھے اور اپنی رعایا کی شب و روز خدمت بھی کرتے تھے۔ جیسے بنواُمیہ میں عمر بن عبد العزیزؒ اور بنو عباس میں ہارون رشید ہندوستان میں التمش اور اورنگزیب وغیرہ اِسی طرح مختلف تاریخ کے ادوار میں بڑے مثالی مسلمان حکمران گزرے ہیں لیکن حکمرانی کا وہ معیار جو خلافت راشدہ میں قائم کیا گیا تھا، بحیثیت مجموعی تنزلی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اگرچہ خلافت کا لاحقہ عرب اور اُن کی قائم کردہ بڑی سلطنت میں حکمرانوں کے نام کے ساتھ لگا رہا البتہ بادشاہی کرو فر بڑھتا چلا گیا اور اقتدار کے قیام اور دوام کے لیے ہر قسم کا ظلم و تشدد بھی روا تھا۔
عوام اور ریاست سے توجہ ہٹا کر مسلمان حکمرانوں کا اپنی ذات اور اقتدار کی طوالت اور استحکام پر فوکس کرنے سے ریاستیں کمزور پڑنا شروع ہوگئیں۔ اِس ضعف کو دور کرنے کے لیے مسلمان حکمرانوں نے غیروں سے مدد لینا شروع کر دی جس سے اُنہیں مسلمان ریاستوں کے اندرونی اور داخلی معاملات میں مداخلت کے مواقع ملنے لگے۔ یہ مداخلت بڑھتی چلی گئی، دریں اثنا یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہوگیا جس سے عرب اور ہندوستان بمقابلہ یورپ طاقت کا عدم توازن بہت بڑھ گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان تو مکمل طور پر آزادی کھو بیٹھا اور یہاں کے لوگ براہِ راست سلطنت برطانیہ کی غلامی میں آگئے اور وہ ادارہ خلافت جو عثمانی ترکوں کے زیر نگین تھا اگرچہ براہِ راست اہلِ یورپ کا غلام تو نہ ہوا البتہ ہر لحاظ سے اُن کا محتاج ہو چکا تھا۔ لہٰذا پہلی جنگ عظیم کے بعد ادارہ خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ترکوں نے اِس ادارے کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ جس پر علامہ اقبال نے رنجیدہ دل سے کہا:
چاک کر دی تُرکِ ناداں نے خلافت کی قبا
بات یہاں رُکی نہیں بلکہ عرب کے حصے بخرے کر دئیے گئے۔ وہ شام جو علوی نصیری فرقہ کے اسد خاندان کے زیر تسلط چون (54) سال رہا۔ وہ اصل مملکتِ شام کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا جس پر کبھی حضرت معاویہ جیسے جلیل القدار صحابی حکمران تھے۔ لبنان، فلسطین، اردن اور بہت سے قرب و جوار کے علاقے اُس شام کا حصہ تھے۔ شام میں اب اسد خاندان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا ہے۔ وہی آج کل زبانِ زدِ عام ہے اور ہر محرر کی نوکِ قلم سے اُسی کے بارے میں تفصیلات سامنے آ رہی ہے۔ راقم بھی اُسی حوالے سے چند گزارشات پیش کرے گا۔ لیکن اُس سے پہلے یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ آج کہنے کو قریباً تمام مسلمان ممالک آزاد ہیں لیکن کسی ایک مسلمان ملک کو بھی حقیقی آزادی حاصل نہیں۔ جن مسلم ممالک میں بادشاہت قائم ہے، وہ بھی غیروں کے اشارے اورسہارے کے محتاج ہیں۔ جہاں فوجی طالع آزما ڈکٹیٹر شپ قائم کیے ہوئے ہیں، وہ بھی جنہیں ہم کافر کہتے ہیں، اُن ہی کے لائے گئے۔ ہیں لہٰذا مسلمانوں کے مفاد کی بجائے اُن کے احکامات کی تعمیل بجا لاتے ہیں اور جہاں نام نہاد جمہوری حکمران ہیں وہ بھی فیک (Fake) جمہوریت ہے۔ یہاں بھی سامراجی قوتیں اپنے تابع فرمان لوگوں کو اقدار دے کر عوام پر مسلط کر دیتے ہیں اور اگر کوئی اُن کے مفادات سے روگردانی کرکے اپنے ملک کی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کرے تو پھانسی چڑھ جاتا ہے یا کوئی حقیقی آزادی کا مطالبہ کرے تو کال کوٹھری میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اِس وقت دنیا کے پونے دو ارب مسلمان 60 کے قریب ریاستوں میں منقسم ہو کر آزادی کے اعلان کے ساتھ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلمان اپنے حکمرانوں کے غلام ہیں اوراُن کے حکمران غیروں کے غلام ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس سے انکار خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اب آئیے شام میں ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کی طرف جو ایران، روس اور چین کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ایک فرقہ کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ لیکن اہلِ شام کی اکثریت، سعودی عرب اور ہم خیال مسلم ممالک کی نظر میں ایک شاندار، خوشگوار عظیم انقلاب ہے۔ اِس تبدیلی کے نتائج مستقبل میں کیا برآمد ہوتے ہیں، وہ تو بعد کی بات ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ علویوں کی چھوٹی سی اقلیت ایک بڑی اکثریت کو دبا کر بلکہ دبوچ کر ڈنڈے کے زور پر حکومت کر رہی تھی۔
مسلمانوں کے ماضی قریب کے حکمران اللہ جانے اِس حقیقت کو کیوں نہ پا سکے کہ اگر وہ عوامی رائے کو پامال کرکے اسلحہ کے زور پر برسر اقتدار آئیں گے تو پھر جلد یا بدیر اسلحہ ہی کی بنیاد پر نکالے جائیں گے۔ کیونکہ اُن کو لانے والے جب کام نکال لیتے ہیں اور اُن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ اُنہیں آسانی سے نکال باہر کر دیتے ہیں۔ اِن مسلمان حکمرانوں کی عوام میں جڑیں نہیں ہوتیں۔ 1970ء میں شام میں حافظ الاسد بزور بازو حکومت پر قابض ہوئے تھے۔ عجب بات یہ تھی کہ اُن کا تعلق ایک ایسے فرقہ سے تھا جسے نہ صرف سنی مسلمان غیر مسلم گردانتے ہیں بلکہ اہل تشیع کی بھی یہی رائے ہے۔ یہ فرقہ شام میں اقلیت میں ہے جب کہ شام کی اکثریتی آبادی سنی مسلمان ہیں اور امام شافعی ؒ کے پیروکار ہیں۔ حافظ الاسد 2000ء میں فوت ہوگیا تو اُس کا بیٹا بشار الاسد جوپیشہ کے لحاظ سے امراض چشم کا ڈاکٹر ہے، وہ شام کا صدر بن گیا۔ اکثریتی عوام کا چونکہ اُن سے کوئی تعلق نہیں تھا تو حکومت کی مخالفت میں لوگ کھڑے ہوتے رہے، لیکن باپ بیٹا دونوں نے اپنے اپنے دور میں مخالفین کو کچلنے کے لیے ایسے ایسے ظلم ڈھائے، وہ دہشت گردی کی کہ اُسے ضبطِ تحریر میں لانا انتہائی مشکل ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کفایت کرے گا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شام کو ’’زمین پر دوزخ‘‘ قرار دیا تھا۔
علویوں النصیریوں کا معاملہ یہ بھی ہے کہ تاریخ میں مختلف مواقع پر اُنہوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں عیسائیوں اور یہودیوں کی مدد کی تھی۔ موجودہ تبدیلی کے بعد جب جیلیں کھولی گئیں تو بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں باپ بیٹے نے جوانی میں گرفتار کیا تھا اور اب وہ بڑھاپے کو پہنچ چکے ہیں۔ قصۂ مختصر تاریخ انسانی میں جو ظلم و ستم اور درندگی کے عہد گزرے ہیں، اُن میں اسد خاندان کے اِن باپ بیٹے کا عہد کس طرح کم نہیں۔ بہرحال باپ اپنے جس انجام کو پہنچ چکا ہے، بیٹا بھی اُسی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے یعنی ذلت کی موت۔
بشار الاسد کے خلاف شام میں کئی گروپ برسرپیکار رہے جن سب کا جاننا اور اُن کا نام لکھنا بھی کارِدارد ہے۔ لیکن بشار الاسد کی فوجوں کو شکستِ فاش سے دوچار کرنے کا سہرا ہیئت تحریر الشام کے سر ہے۔ یہ ایک سرگرم سنّی اسلامی عسکریت پسند گروپ ہے جو شام کی اِس جنگ میں کلیدی رول ادا کر رہا تھا۔ یہ گروپ کسی زمانہ میں القاعدہ کا حصہ تھا، لیکن 2016ء سے اعلانیہ طور پر القاعدہ سے الگ ہو چکا ہے۔ اِس وقت اِس گروپ کے سربراہ احمد حسین الشرع جو اپنے جنگی نام ابو محمد الجولانی کے نام سے معروف ہیں۔ اب تحریر الشام کے سپہ سالار اور امیر ہیں۔ یہی وہ صاحب ہیں جنہیں 2013ء میں امریکی وزارتِ خارجہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا اور اِن کو پکڑنے کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کو دس ملین امریکی ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا۔تقریباً اس دور میں اُن کا داعش اور اُس کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ساتھ بھی قریبی تعلق رہا اور دونوں نے مل کر شام میں کئی آپریشن کیے۔
1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں گولان کی پہاڑیوں کے ایک بڑے حصہ پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا تو موصوف نے 28 ستمبر 2014ء کو ایک آڈیو بیان جاری کیا جس میں اُنہوں نے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا۔ عرب بہار جب شام کی طرف بڑھ رہی تھی اور بشار الاسد کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا تو روس اور ایران نے آگے بڑھ کر بشار الاسد کی حکومت کو بچایا تھا اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں چند ایک ریاستیں روس نواز تھیں اُن میں بشار الاسد کی حکومت بھی تھی۔ پھر یہ کہ طرطوس کا اڈہ روس کا مشرقِ وسطیٰ میں واحد اڈہ تھا اور وہ اُسے امریکہ کے حامیوں کے ہتھے چڑھنے سے بچانا چاہتا تھا، گویا روس کو اپنا مفاد بھی تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب روس نے بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے کوئی اہم رول ادا کیوں نہیں کیا؟ راقم کو یہاں روس کی طرف سے ایک سمجھوتے کی صورت نظر آتی ہے۔
درحقیقت روس ایک سال سے زائد عرصہ میں یوکرائن کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور اُسے وہاں مکمل کامیابی ہوتی نظر نہیں آتی۔ راقم کی رائے میں اِس ظاہری سمجھوتے میں اسرائیل نے انتہائی اہم رول ادا کیا۔ وہ یوں کہ امریکہ یوکرائن کی مدد سے ہاتھ کھینچ کر روس کا مسئلہ حل کر دے اِس لیے کہ اقتصادی اور جانی نقصان کے علاوہ یوکرائن کا سرنڈر نہ کرنا روس کے ناک کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ روس کو معلوم ہے کہ یوکرائن کی جنگ اگر طویل ہوتی چلی گئی تو جانی اور مالی نقصان روس کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا شام کو چھوڑ کر روس اپنا مسئلہ حل کرے۔اسرائیل نے عین ممکن ہے موجودہ امریکی قیادت اور پینٹاگون کو یہ سمجھایا ہو کہ ٹرمپ نے صدر بن کر یوکرائن کی جنگ تو بند کر دینا ہے لہٰذا مشرقِ وسطیٰ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بشار الاسد کی شکست کے فوری بعد اسرائیل نے کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ مکمل کر لیا اور شام میں مزید پیش قدمی بھی کرنا شروع کر دی ہے۔ راقم کی رائے میں علوی خاندان کے اقتدار کا خاتمہ درحقیقت اسرائیل کی بڑی فتح ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ روس، چین اور ایران کی شکست ہے۔ اللہ کرے ابو محمد الجولانی شام میں ایک مضبوط اور پائیدار حکومت قائم کر سکیں۔ لیکن منطق اور عقل نہیں مانتی کہ جن سامراجی قوتوں نے اُسے دہشت گرد قرار دیا ہوا تھا، وہ ٹھنڈے پیٹوں خالص سنّی مسلمان حکومت شام میں برداشت کریں۔ مسلمان ممالک اور اہل پاکستان کے لیے ایک ہی سبق ہے کہ عوامی حمایت اور عوامی مینڈیٹ کے بغیر عالمی قوتوں کے سہارے یا بندوق کے سہارے قائم ہونے والی حکومتیں عارضی ہوتی ہیں اور جلد انجام بد تک پہنچ جاتی ہیں۔ مسلمان حکمرانوں نے اگر اِس سے سبق نہ سیکھا تو اُن کے ممالک میں قتل و غارت گری جاری رہے گی اور وہ دوسروں کے محتاج بھی رہیں گے اور کبھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کر سکیں گے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2025