(منبرو محراب)  اللہ سے خیر کیسے طلب کریں ! - ابو ابراہیم

9 /

 اللہ سے خیر کیسے طلب کریں !


(قرآن و احادیث کی روشنی میں)


مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں نائب امیر تنظیم اسلامی محترم اعجاز لطیف کے6 دسمبر 2024ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ المومن میں فرمایا :
’’اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بے شک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے۔‘‘(المومن:60)
اللہ کے رسول ﷺنے اسی آیت کی یہ شرح بیان فرمائی کہ:
((اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ))’’ دعاعبادت کا جوہر ہے۔‘‘
اصل میں دعا بندے کا رب کے ساتھ رابطے کا ذریعہ ہے ۔ 
دعا میں بندہ اپنے رب کے سامنے براہ راست اپنی بات رکھتا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ دعا کو قبول فرمائے گا ۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ میں فرمایا :
’’اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پھر چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔‘‘(البقرہ :186)
اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں انبیاء کرام ؊ کی بعض دعائیںاس امت کے استفادہ کے لیے نقل فرمائی ہیں۔ اسی طرح  اللہ کے رسول ﷺنے 900 کے قریب دعائیں تعلیم فرمائی ہیں جن کا ذکر احادیث میں ہمیں ملتا ہے ۔ ان سے ہمیں استفادہ کرنا چاہیے ۔ 
آج کی نشست میں ان شاء اللہ ہم دعائے استخارہ کی بابت احادیث نبوی ﷺکی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے کیونکہ استخارہ کے نام پر آج کل معاشرے میں بہت غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ، خاص طور پر سوشل میڈیا کی آمد کے بعد تو گویا استخارہ ایک ایسا عمل بن گیا ہے کہ چٹکی بجاتے مسئلہ حل ہو جاتاہے ۔ ادھر آپ نے سوال کیا ، اُدھر جواب آگیا کہ جی فلاں صاحب نے استخارہ کر لیا ہے اور فلاں کام غلط ہےا ور فلاں صحیح  ہے۔ یہ ایک غلط تصور ہے جو عام ہورہا ہے ۔ 
اصل میں استخارہ کیا ہے ؟
احادیث نبویہ ﷺکی روشنی میں استخارہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی دعا ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب سے کسی معاملے (ملازمت ، کاروباریا شادی وغیرہ ) میں مشورہ کرتاہے ۔ اس کے لیے اللہ کے رسول ﷺنے باقاعدہ طریقہ بھی بتایا کہ یہ دعائے استخارہ کیسے کرنی ہے ۔ اصل میں ہم اللہ کے بندے ہیں اور ہمیں اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کرنے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی کارسازاور مسبب الاسباب نہیں ہے ۔ سوائے اللہ کے کسی کے پاس غیب کا علم نہیں ہے ۔ وہی ہمارا خالق اور مالک ہے اور اسے ہی علم ہے کہ کیا چیز ہمارے لیے اچھی ہے اور کیا بُری ہے ۔ بندے کو خود اس بارے میںکامل علم نہیں ہوتا ۔ دعائے استخارہ میں اسی بات کا شعوری طور پر اعتراف سب سے پہلے کیا جاتاہے :’’اے اللہ میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں اور تجھ سے ہی تیری قدرت کے ذریعہ قدرت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضلِ عظیم مانگتا ہوں ، یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں (کسی چیز پر ) قادر نہیں ، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو تمام غیبوں کا علم رکھنے والا ہے ۔ ‘‘
اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرنے کی اتنی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المومن میں اپنے ایک بندے کی کم و بیش دو رکوعوں پر مشتمل تقریر کو نقل فرمایا ہے جو اس نے فرعون کے دربار میں کی تھی ۔ اپنی تقریر میں وہ اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے اور کفر وشرک کی حقیقت واضح کرنے کے بعد آخری بات یہ بیان کرتا ہے :
{فَسَتَذْکُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ ط وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط  اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌم بِالْعِبَادِ(۴۴)}(المومن)  ’’تو عنقریب تم یاد کرو گے (یہ باتیں) جو میں تم سے کہہ رہا ہوںاور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔اللہ یقیناً اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردینا چاہیے ۔ اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرنے کا جو طریقہ صحیح ہے وہ اللہ کے رسول ﷺ نے دعائے استخارہ کی صورت میں ہمیں تعلیم کیا ہے ۔ 
  استخارہ کانبویؐ طریقہ
  عام طور پر تو یہ چل رہا ہے کہ والدہ کا نام پوچھا ، کچھ قواعد پوچھے اورپھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ استخارہ ہوگیا ہے، آپ کا کام ٹھیک ہو جائے گا یا کہہ دیا کہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ حالانکہ دعائے استخارہ کا یہ طریقہ بالکل نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے جو تعلیم ہمیں فرمائی ہے؟ اس کے مطابق استخارہ ایک دعا ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب سے دعا کرتاہے اور اپنے کسی معاملے میں اللہ سے رہنمائی اور ہدایت چاہتا ہے کہ اگر وہ کام بندے کے حق میں بہتر ہوتو اس کو اللہ آسان بنادے اور اگر اس کے حق میں بہتر نہ ہو تو اس کو بندے سےدور فرمادے ۔ استخارے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہمیں  معلوم ہو جائے کہ کوئی کام ہمارے لیے خیر کا باعث ہے یا شر کا ۔ گویا یہ اللہ کی بارگاہ میں خیر کو طلب کرنے کی ایک درخواست ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؄سے روایت ہے کہ  اللہ کے رسولﷺ ہر کام کرنے سے پہلے استخارہ کی تعلیم اس اہتمام سے فرماتے تھے کہ جیسے قرآن کی کوئی سورۃ سکھا رہے ہوں ۔ یعنی استخارہ کی ایک مسلمان کی زندگی میں اس قدر اہمیت اور فضیلت ہے لیکن آج ہم میں سے کتنے مسلمان اس سنت کا اہتمام کرتے ہیں ؟ہم اپنے بچوں کو قرآن سکھانے کا اہتمام تو کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے لیکن کیا ہم اتنا ہی اہتمام استخارہ سکھانے کا بھی کرتے ہیں ؟اللہ کے رسول ﷺ تو یوں تعلیم فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی کام آ پڑے تو دو نفل اللہ کی بارگاہ میں نماز پڑھے اور پھر دعائے استخارہ پڑھے ۔ اس دعا کا اہتمام ہمیں خود بھی کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے اور ہر کام میں اس سے خیر طلب کرنی چاہیے ۔ ا س لحاظ سے استخارہ کی بہت زیادہ فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔  آپﷺ نے فرمایا : جس نے (ہر کام کرنے سے پہلے)استخارہ کرلیا وہ کبھی شرمندہ نہیں ہوگا اور نہ نقصان اُٹھائے گا ۔ استخارہ کرنا  نیک نیتی کی علامت ہے کیونکہ اللہ کی بارگاہ میں سوالی بن جانا ہماری نیت کو خالص کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دوسروں سے اُمیدیں ختم ہیں اور ہم اپنا سارا توکل اور بھروسا اللہ تعالیٰ پر کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس کا بندہ صرف اسی سے مانگے اور اسی پر توکل کرے ۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں فرمایا :
’’اور ہم نے موسیٰ   ؑکو کتاب عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز (کام بنانے والا) نہ ٹھہراؤ۔‘‘
بندہ اس کیفیت میں جب اللہ کی بارگاہ میں ہوتا ہے تو اللہ کی قدرت اس پر مہربان ہوتی ہے ۔ استخارہ نہ کرنا بدقسمتی ہے۔استخارہ کا طریقہ بہت ہی آسان ہے ۔ حدیث میں  ہے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھی جائے اور پھر یہ دعا پڑھی جائے :
((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَ اَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ، اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ (اس جگہ اپنے کام کا تصور کرے)خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَ یَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ (اس جگہ اپنے کام کا تصور کرے) شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَ اصْرِفْنِیْ عَنْہُ، وَ اقْدُرْلِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ))(بخاری) ترجمہ:’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت بھلائی چاہتا ہوں اور میں طاقت مانگتا ہوں تیری قدرت کی برکت سے، اور میں تجھ سے تیرا عظیم فضل مانگتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں میرا یہ کام بہتر ہے میرے لیے، میرے دین اور میری معیشت میں اور میرے انجام کار میں تو مقدر کر اس کو اور آسان کر اس کو میرے لیے، پھر مجھے بھی برکت عطا کر اور اگر تیرے علم میں یہ کام برا ہے، میرے لیے، میرے دین اور میری معیشت میں اور میرے انجام کار میں، پس تو دور کر دے اس کو مجھ سے اور دور کر دے مجھے اس سے اور مقدر کر دے میرے لیے خیر جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔ ‘‘
جہاں پر ((ھذا الامر)) کے الفاظ آتے ہیں وہاں اپنے کام کو ذہن میں لائے ۔ دعا کے باقی سارے الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں جس میں بندہ اپنے رب سے کسی کام کے بارے میں خیر طلب کرتاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ وحی کے ذریعے حضور ﷺپر نازل ہوئے ہیں ۔ ایک وحی متلو ہے اور ایک غیر متلو ہے ۔ حضور ﷺکا جو بھی فرمان ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے :
{وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی(3) اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(4)}(النجم) ’’اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘
’’لہٰذا جو بھی حضور ﷺ نے تفویض کیا ہے اس میں   خیر ہی خیر ہے ۔حضرت انس ؄سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اے انس! جب تم کسی کام کا ارادہ کر لو تو اپنے رب سے سات مرتبہ استخارہ کرلیاکرو۔ اس کے بعد غور کرو جو بات تمہارے دل میں آئے اسی میں بھلائی ہے۔‘‘
اس سے ایک اور نوعیت واضح ہو گئی کہ     دعائے استخارہ سنت کے مطابق کرنے کے بعد انسان اس معاملے پر غوروفکر کرے جو درپیش ہے تو اللہ اس کے دل میں وہ بات ڈال دے گا جس میں اس کے لیے خیر ہوگی ۔ 
یہ دعا سورۃ فاتحہ سے بہت مشابہت رکھتی ہے ۔ سورہ فاتحہ میں بھی بندہ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کرتاہے ، اس کے بعد اپنی غرض اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اے اللہ !  سیدھے راستے کی جانب میری رہنمائی فرما ۔ وہاں پربھی صرف اللہ سے ہی مدد چاہتا ہے اور اسی کی بندگی کا عہد کرتاہے ۔ دعائے استخارہ میں بھی بندہ پہلے اللہ کے سامنے اپنے بے علمی ، بے خبری ، بے بضاعتی اور بے بسی کا اعتراف کرتاہے اور پھر اللہ سے مدد اور ہدایت طلب کرتاہے کہ فلاں کام اگر میرے حق میں بہتر ہے تو اسے میرے لیے ممکن بنا دے ۔ 
اہم چیز یہ بھی نوٹ کیجئے کہ عام طور پر جب ہم کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو اس میں سب سے پہلے دنیوی فائدہ دیکھتے ہیں لیکن دعائے استخارہ میں دنیوی فائدہ کے ساتھ ساتھ دینی اور اُخروی فائدہ بھی مطلوب ہے۔ ہم نے ہمیشہ دنیا میں ہی نہیں رہنا ، انجام کار اس دنیا سے جانا ہے اور اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ اصل کامیابی اس کی ہو گی جو آخرت میں کامیا ب ہوا ۔ جیسا کہ فرمایا :
{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط}(آل عمران:185)’’تو جو کوئی بچا لیا گیا جہنم سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ 
دعائے استخارہ میں (وَعَاقِبَةِ أَمْرِي )کے الفاظ اُخروی انجام کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہیں ۔ یعنی بندہ اللہ سے التجا کرتا ہے کہ جو کام میں کرنے جارہا ہوں وہ اُخروی انجام کے لحاظ سے بھی میرے لیے بہتر ہوتو اسے میرے لیے آسان بنا دے اور اگر ان تینوں ( معاشی ، دینی اور اُخروی) لحاظ سے میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو اُسے مجھے سے دور فرمادے اور میرے مقدر میں وہ لکھ دے جو ان تینوں لحاظ سے بہتر ہو ۔ 
اس دعا کے الفاظ حضور ﷺکے سکھائے ہوئے ہیں ، آپ ﷺ سے بہتر دعا مانگنے والا کون ہوگا ؟ جب ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ ﷺ کے الفاظ ہیں تو پھر ہمیں اس دعا کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہیے اور اس دعا کو یاد بھی کرنا چاہیے ، اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے ۔ 
دعائے استخارہ کے حوالے سے غلط فہمیاں 
شیطان کا مشن ہے کہ بندے کو دین کی اصل سے دور کردے اور اسے بدعات میں ایسا اُلجھا دے کہ عبادت کے جوہر سے محروم ہو جائے ۔ لہٰذا دعائے استخارہ میں بھی شیطان نے کئی پیوند لگا دیے کہ جناب پہلے دو رکعت پڑھ کر کسی سے بات کیے بغیر دائیں کروٹ قبلہ رُخ ہو کر سونا ضروری ہے ورنہ استخارہ کا فائدہ نہ ہوگا ۔ پھر یہ کہ لیٹنے کے بعد خواب کا انتظار کیجئے ! اگر خواب میں فلاں رنگ نظر آئے تو یہ ہوگا ، فلاں نظر آئے تو فلاں ہوگا ، ہری بتی نظر آئے تو یہ کرلو ، پیلی نظر آئی تو فلاں کرلو ۔ یہ سب فضولیات ہیں ۔ حدیث میں ایسا کوئی ذکرنہیں ہے اور نہ ہی صحابہ کرام ؇ کے عمل سے ثابت ہے۔ حقیقت میں دعائے استخارہ کے ذریعے بندہ اپنی عاجزی ، بے علمی ، بے بضاعتی اور بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے علیم ِ کل اور قادر مطلق    اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہتا ہے اور اپنےمعاملہ کو اللہ کے سپرد کرتا ہےجیسا کہ قرآن میںہمیں تعلیم دی گئی ہے :
{ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط}(المومن:44)’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کےسپرد کرتا ہوں۔‘‘
  دعائے استخارہ کے ذریعے آپ نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اب جس چیز میں آپ کے لیے خیر ہوگی وہ اللہ آپ کے لیے آسان کر دے گا اورجب بندہ دل سے دعا کرتا ہے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد اور رہنمائی نہ کرے ۔ 
علماء نے بعض چیزوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں دعائے استخارہ کے ضمن میں یاد رکھنا چاہیے ۔ اوّل یہ کہ دعائے استخارہ کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ہے ،مکروہ اوقات کے سوا 24 گھنٹے میں کسی وقت بھی یہ دعا کی جاسکتی ہے ۔ 
جہاں تک دوسروں سے استخارہ کروانے کی بات ہے تو احادیث میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ دعا کے الفاظ ہی واضح کرتے ہیں کہ یہ دعا بندے نے خود اپنے رب سے کرنی ہوتی ہے ۔ صحابہ کرام ؇کے دور میں بھی ایسی کسی روایت کا ثبوت موجود نہیں کہ انہوںنے کسی سے استخارہ کروایا ہو ۔ حالانکہ حضور ﷺسے بہتر استخارہ کون کر سکتا تھا مگر صحابہ کرام ؇ نے کبھی نہیں کہا کہ ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے، آپ ﷺ ہمارے لیے استخارہ کر دیجئے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی اور سے استخارہ کروانا سنت یا مستحسن عمل ہرگز نہیں ہے ۔ سیدھی سی بات ہے جس کوحاجت ہو، دعا اُس کے دل سے نکلتی ہے تو وہ اثر بھی رکھتی ہے ۔ 
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جناب ہم تو بڑے گنہگار ہیں، ہم کس منہ سے استخارہ کریں، آپ ذرا نیک آدمی ہیں  لہٰذا آپ استخارہ کیجئے ! اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ اگر ہم گنہگار ہیں تو کیا ہمیں توبہ نہیں کرنی چاہیے ؟ اللہ کے سامنے جھکنے میں ہمیں کیوں شرمندگی ہورہی ہے ؟دوسری بات یہ ہے کہ یہ دعا اللہ کے نبی ﷺ نے سکھائی ہے ۔ کیا آپ ﷺ نے ایسی کوئی شرط عائد کی ہے کہ جو متقی ہوگا وہی یہ دعا کرے؟
توبہ کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہوا ہے ۔ سچی توبہ کریں اور رب سے مغفرت کی اُمید رکھیں ، آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور رب سے دعا بھی کریں ۔ اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام کریم ہے اور کریم کا مفہوم یہ بتایا گیا کہ وہ ذات جو بغیر کسی استحقاق اور قابلیت کے بھی عطا کرتی ہے۔ لہٰذا اپنی نالائقی، نااہلی ،گناہوں کے باوجود یا کریم یا کریم کہہ کر اللہ سے مانگیں ،شیطان کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیںاور استخارہ خود کریں ۔ 
استخارہ کا خواب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ استخارہ میں آپ صرف اپنے رب سے اپنے فیصلے میں خیر طلب کرتے ہیں ، اگر وہ کام ہونا ہوتا ہے تو ہو جاتا ہے، ورنہ نہیں ہوتا ۔ کسی بھی حدیث میں یہ نہیں لکھا کہ استخارہ کے بعد خواب میں جو نظر آئے گا اس کے مطابق کرنا ہے ۔ ان چکروں میں پڑ کر کتنی بچیوں کے رشتے رُکے ہوتے ہیں اور وہ گھر میں بیٹھی رہتی ہیں ۔احادیث میں تعلیم یہ ہے کہ جس کا کام ہو وہ خود استخارہ کرے اور پھر دیکھے کہ دل کس بات پر مطمئن ہو رہا ہے ۔ اگر ایک بار استخارہ سےدل کسی بات پر یکسو نہ ہورہا ہے تو بار بار استخارہ کریں ۔ حدیث ہم نے پڑھی کہ اللہ کے رسول ﷺنے اپنے صحابی؄ کو سات بار استخارہ کرنے کی تعلیم دی۔ سات دن روزانہ استخارہ کرلیں یا وقت کم ہے تو دو دو رکعت پڑھ لیں اور ہر دو رکعت کے بعد دعا استخارہ مانگ لیں ۔ سنت طریقے یہی ہیں، ان کے علاوہ جتنے بھی طریقے لوگوں نے رائج کر رکھے ہیں وہ سب خلاف ِسنت ہیں۔ مثلاً پاؤں کا رُخ مڑ جائے یا کچھ اور ہو جائے ،پاؤں ہل جائے وغیرہ وغیرہ ۔ 
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ استخارہ کرنے کے بعد خود انسان کے دل کا رجحان ایک طرف ہو جاتا ہے۔   بس جس طرف رجحان ہو جائے وہ کام کرلیں لیکن اگر بالفرض دل میں کشمکش ہو تو تب بھی استخارہ کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اس لیے کہ بندے کے استخارہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ قادر ہے جو بندے کے حق میں بہتر ہو وہ کردے ۔ اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جس میں بندے کی خیر ہوتی ہے اورخیر کس میں ہے انسان کو پتہ نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہےکہ ظاہری اعتبار سے لگتا ہے کہ جو کام ہوا وہ اچھا نظر نہیں آتا ، دل کے مطابق نہیں ہے ،اب بندہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتا ہے کہ یا اللہ ! میں نے تو استخارہ کیا تھا مگر کام وہ ہو گیا جو میری طبیعت کے خلاف ہے اور بظاہراچھا معلوم نہیں ہورہا ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمرiکا قول ملتا ہے : انہوںنے فرمایا : ’’ارے نادان! تو اپنی محدود عقل سے سوچ رہا ہے لیکن جس کے علم میں ساری کائنات کا نظام ہے وہ جانتا ہے کہ تیرے حق میں کیا بہتر ہے ۔  اس نے جو کیا وہی تیرے حق میں بہتر تھا اور بعض اوقات دنیا میں انسان کو پتہ چل جاتاہے کہ اس کے حق میں کیا بہتر تھا اور بعض اوقات ساری زندگی پتہ نہیں چلتا مگر آخرت میں جاکر لازماً پتہ چل جائے گا۔ اس لیے انسان کو رب کی رضا میں ہی راضی  رہنا چاہیے ۔ 
یہ بھی خیال رہے کہ صرف استخارہ پر اکتفا نہیں کرنا۔ استخارہ کے ساتھ ایک دوسرا لفظ استشارہ بھی آتاہے ۔ استشارہ مشورہ کرنے کو کہتےہیں ۔ جو معاملہ درپیش ہے اس کے ماہرین سے مشاورت کی جائے۔ مشورہ کرنا بھی دین کی تعلیمات میں سے ہے ۔ اسباب کے درجے میں مشورہ بھی شامل ہے اور تحقیق اور چھان بین بھی ہے ۔اسی طرح اگر آپ کو کوئی فوری نوعیت کا کام پڑ گیا ہے ، اور آپ ایسی جگہ ہیں جہاں آپ استخارہ نہیں کر سکتے تو مختصرالفاظ میں اللہ تعالیٰ سے خیر مانگنے کے الفاظ بھی احادیث میں آئے ہیں :
((اَللّٰھُمَّ خِرِلیْ وَاخُتَرْلِیْ))’’اے اللہ! تو میرے لیے خیر کا فیصلہ فرما دے اور اسے میرے لیے پسند فرما دے۔ ‘‘
اسی طرح صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں :
((اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ وَسَدِدْنِیْ))’’ اے اللہ! تو مجھے ہدایت فرما دے اور مجھے سیدھے راستے پر قائم رکھ ۔‘‘
یہ بھی بہت جامع الفاظ ہیں ۔ یعنی جو بھی کام اس وقت مجھے درپیش ہے اس میں اللہ کی طرف سے مجھے ہدایت بھی مل جائے اور میں سیدھے راستے پر بھی رہوں ۔ 
  ترمذی شریف میں یہ الفاظ آئے ہیں :
((اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ))’’اے اللہ جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل میں القا کر دیجیے۔ ‘‘
ان دعاؤں میں سے جو دعا یاد ہو تو فوری نوعیت کے معاملات میں پڑھ لی جائے اور اگر عربی میں دعا یاد نہ ہو تو اردو میں ہی اللہ سے دعا مانگ لی جائے ۔ اگر زبان سے نہ کہہ سکیں تو دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے التجا کریں ۔ چنانچہ اپنے معاملات میںا للہ سے مشورہ کرنا ایک مومن کا شیوہ ہے لیکن آج کتنی بڑی اکثریت اس نعمت سے محروم ہے ۔ حالانکہ اس میں ہمارا اپنا ہی دنیوی اور اُخروی فائدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں  اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !