اداریہ
خورشید انجمپاکستان کا مطلب کیا…
اگرچہ عام طور یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دنیا میں پاکستان اور اسرائیل کی ریاستیں مذہب کی بنیاد پر قائم کی گئی نظریاتی ریاستیں ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف پاکستان موجودہ دور میں واحد ریاست ہے، جسے اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا جبکہ اسرائیل کو نسل پرستی کی بنیاد پر قائم کیا گیا اور آج بھی اس کا وجود انہی خطوط پر ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عملی طور پر پاکستان آج ایک سیکولر ریاست کی مانند ہے جسے بظاہر اسلامی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل ایک ناجائز صہیونی نسلی ریاست ہونے کے باوجود اپنے نظریات پر قائم ہے اور انتہائی فعال انداز میں اپنی تحریف شدہ مذہبی کتابوں کی روشنی میں عظیم گریٹر اسرائیل کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ مملکتِ خداداد جدید دور کی ایک حقیقی اور مکمل اسلامی فلاحی ریاست ہوگی جس پر علامہ اقبال اور قائد اعظم کے بیانات و تقاریر دلالت کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد قراردادِ مقاصد کا منظور ہو جانا اور تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے 31 علماء کا 22 نکات پر متفق ہو جانا کہ ان کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے تو کسی مکتبۂ فکر کو کوئی اعتراض نہیں، یہ سب پاکستان کے قیام میں اسلام کے کلیدی کردار کا واضح ثبوت ہیں۔ مؤخر الذکر دستاویز نے ان عناصر کو مدلٔل جواب دے دیا جو یہ کہتے تھے کہ مختلف مسالک میں سے کس کا اسلام نافذ ہو گا؟
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کا قیام اسلامی ملک کے طور پر ہوا تھا، جب کہ دوسری طرف ہمسایہ ملک بھارت کو دیکھیں تو اس کا قیام سیکولرازم کی بنیاد پر ہوا تھا۔ بھارت کے قیام کے وقت امبیڈ کر کا آئین اور گاندھی جی کی شخصیت اس پر گواہ ہیں۔ پھر یہ کہ گاندھی کو قتل کرنے والا نتھورام گوڈ سے ایک انتہا پسند ہندو تھا۔ تاہم حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان ’’اسلامک ٹچ‘‘ لینے کے باوجود آج تیزی سے سیکولرازم کی طرف گامزن نظر آتا ہے جبکہ بھارت ایک خالص ہندو مذہبی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہےجس کا نصب العین ہندوتو ا اور مقصد اکھنڈ بھارت کا قیام ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ بھارت میں انتہا پسند ہندو ازم ایک ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ہےتو ہرگز مبالغہ نہ ہو گا۔
ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ نہ صرف اس خطے میں بلکہ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی ایک بھی حقیقی اسلامی ریاست موجود نہیں ہے۔ عرب ممالک میں سے کسی ملک میں جو اسلام کی جائے پیدائش ہیں، نہ اسلامی انقلاب کے بعد کے ایران میں، جسے عالمی سطح پر بہت شہرت حاصل ہوئی۔ اگرچہ تین سال قبل قائم ہونے والی امارت اسلامیہ افغانستان ایک اسلامی ریاست بننے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے لیکن ابھی وہ بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔
ان حالات میں ہماری بنیادی توجہ پاکستان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ پاکستان 1947ء میں ’’پاکستان کا مطلب کیا: لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے نعرے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ گویا پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دیئے ہوئے نظام کو مکمل طور پر نافذ و قائم کر دینے کے لیے بنیادی کام ابتدا سے ہی مکمل کر لیا گیا۔ بہرحال جب تک پاکستان میں موجودہ فرسودہ باطل نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر یہاں اسلام کے عادلانہ نظام کو قائم و نافذ نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک مملکت کا نظم و نسق چلانے کے لیے ملک میں صاف اور شفاف جمہوریت مارشل لاء سے کہیں بہتر ہے۔ جب تک پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے، اس وقت تک الیکشن اس کا ناگزیر حصہ ہوں گے۔ ملک میں امن وامان کے قائم رکھنے اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے اس ’’قبل از اسلامی انقلاب دور‘‘ میں صاف، شفاف اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ضروری ہے۔ پھر جس پارٹی کو بھی زیادہ ووٹ ملیں اور وہ زیادہ سیٹیں حاصل کرے، اس کو حکومت بنانے اور چلانے دی جائے۔ یہاں ہم یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح کرتے چلیں کہ ہمارے نزدیک الیکشن کی سیاست کے ذریعے موجودہ فرسودہ باطل نظام کو بدلا نہیں جا سکتا کیونکہ الیکشن میں محض چہرے ہی بدلتے ہیں۔ البتہ جب تک پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت الیکشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے،تو ہمارے نزدیک درج ذیل معاملات اور شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس مملکت خداداد کا نام ہم نے رکھا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، لیکن درحقیقت اس میں نہ اسلام نظر آتا ہے اور نہ حقیقی جمہوریت۔ اس مملکت کا استحکام اور اس کی بقا درحقیقت اسلام ہی سے وابستہ ہے۔ پھر یہ کہ ریاستی جبر سے اگر دبانے کی کوششیں کی جائیں گی تو نفرتوں کو بڑھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اورجو مملکتِ خداداد پاکستان کے لیے قطعاً سود مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ چاہے وہ ریاستی جبربلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگوں کے ساتھ ہو یا کسی مخصوص جماعت کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ۔
ہماری رائے میں ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اسٹیبلشمنٹ کے افراد ہوں، عسکری اداروں کے لوگ ہوں یا عدالتوں کے ججز ہوں، سب آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔دوسری طرف عوامی رائے کی بہرحال ایک اہمیت ہے، ہاں مادر پدر آزاد رائے کے ہم قائل نہیں ہیں۔ آئین کے مطابق حکومت کرنا عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ایک مقدس امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کی گئی ہے۔ لہٰذا کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے منافی نہیں کی جا سکتی۔دوسری طرف سیاسی جماعتیں ہی کیوں نہ ہوں، اگر ان کی طرف سے اس ٹکراؤ کی طرف پیش قدمی ہے تو یہ قطعاً ریاست کے لیے مفید نہیں ہے اور اگر جبر کر کے اس کو ٹکراؤ تک پہنچانے کی کوشش، ریاستی اداروں کی طرف سے کی جائے تو یہ بھی درست نہیں ہے۔ ملک کی سلامتی کے لیے نفرتوں کا خاتمہ بے حد ضروری ہے۔
سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کا فرض ہے کہ ملک و قوم پر رحم کریں اور جھوٹ ،وعدہ خلافی، خیانت، گالم گلوچ اور مفاد پرستی سے دور رہیں۔ ماضی میںحکومتیں بنانے اور گرانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کو استعمال کیا گیا ہے لہٰذا اس روش کو ختم کیا جائے۔ سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اقتدار کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی طرف نہ دیکھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو شام میں حالیہ واقعات سے بھی سبق سیکھنا چاہیے کہ عوام پر ظلم و جبر کی فضا پیدا کرنے کا نتیجہ بالآخر انتشار و افتراق کی صورت میں ہی نکلتا ہے اور آمریت چاہے چھپی ہو یا کھل کر سامنے آئے، اُس کا ملک و قوم کو نقصان اور دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے۔
آج شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم کے اندر حقیقی ایمان اجاگر کرنے کے لیے محنت کی جائے اور وہ د رحقیقت قرآن کریم کے ذریعے ہوگی جس کو آج ہم نے فراموش کر رکھا ہے ۔ الا ماشاء اللہ! ایمان کا تقاضا سچی توبہ کرنا بھی ہے اور ہماری اجتماعی توبہ یہ ہو گی کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد کریں۔ مذہبی اور دینی سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ انتخابی سیاست کے راستے کو چھوڑکر، منہج انقلاب نبویﷺ سے رہنمائی لیں اور نظام کو بدلنے کے لیے انقلابی جدوجہد کا آغاز کریں۔
یہ ملک ہم نے اس لیے حاصل کیا تھا کہ اس میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے نظامِ عدل اجتماعی کو قائم اور نافذ کریں گے۔ تاکہ اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا ہو اور دنیا کے سامنے ایک حقیقی اسلامی حکومت کا نمونہ پیش کیا جا سکے۔ ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہ کام پوری قوم کے مل کر شروع کرنے کا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیں۔آمین !
tanzeemdigitallibrary.com © 2025