الہدیٰ
حضور ﷺ کا سب سے بڑامعجزہ: قرآن کریم
آیت 50 {وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط} ’’اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل کی گئیں اُن پر نشانیاں اُن کے رب کی طرف سے؟‘‘
مشرکینِ مکّہ آئے دن یہ مطالبہ دہراتے رہتے تھے کہ اگر آپؐ نبی ہیں تو آپؐ کو معجزات کیوں نہیں دئیے گئے؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بھی اُن کا یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
{قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللہِ ط} ’’آپؐ کہیے کہ نشانیاں (نازل کرنے کے اختیارات) تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔‘‘
{وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(50)} ’’اور میں تو صرف واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘
آیت 51 {اَوَلَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ ط} ’’کیا ان کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں کہ ہم نے آپؐ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے!‘‘
اگر یہ معجزہ کے منتظر ہیں تو اُنہیں قرآن جیسا عظیم الشان معجزہ کیوں نظر نہیں آتا؟اگر کوئی شخص واقعی حق اور ہدایت کا طالب ہو تو اُس کے لیے یہی ایک معجزہ کافی ہے۔
{اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً وَّذِکْرٰی لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(51)} ’’یقیناً اِس میں رحمت اور یاد دہانی ہے، اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘
درس حدیث
ہوشیار اور دور اندیش ا نسان
عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ رَجُلٌ یَا نَبِیَّ اللہِﷺ:مَنْ اَکْیَسُ النَّاسِ وَاَحْزَمُ النَّاسِ؟ قَالَ :((اَکْثَرُھُمْ ذِکْرًا الِّلْمَوْتِ وَ اَکْثَرَھُمْ اِسْتِعْدَادًا اُولٰٓئِکَ الْاَکْیَاسُ ذَھَبُوْ بِشَرَفِ الدُّنْیَا وَکَرَامَۃِ الْاٰخِرَۃِ)) (رواہ الطبرانی )
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے پیغمبرﷺ! بتلائیے کہ آدمیوں میں کون زیادہ ہوشیار اور دور اندیش ہے؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور موت کے لیے زیادہ سے زیادہ تیار رہتا ہے۔ جو لوگ ایسے ہیں وہی دانشمند اور ہوشیار ہیں، اُنہوں نے دنیا کی عزت بھی حاصل کی اور آخرت کا اعزاز واکرام بھی۔ ‘‘
تشریح: جب یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے، جس کے لیے کبھی فنا نہیں، تو اِس میں کیا شبہ کہ دانشمند اور دور اندیش اللہ کے وہی بندے ہیں جو ہمیشہ موت کو پیش نظر رکھ کر اس کی تیاری کرتے رہتے ہیں، اور اس کے برعکس وہ لوگ بڑے ناعاقبت اندیش ہیں، جنہیں اپنے مرنے کا تو پورا یقین ہے لیکن وہ اس سے اور اس کی تیاریوں سے غافل رہ کر دنیا کی لذتوں میں مصروف اور منہمک رہتے ہیں۔