(خصوصی رپورٹ) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

10 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صورتحال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l قابض اسرائیلی فوج 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو خوراک اور ادویات کی ترسیل بند کرکے مسلسل 160 دن سے بھوکا رکھ رہی ہے جس سے غزہ کی پٹی میں قحط کی صورتحال سنگین تر ہو گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قابض فوج 44 لنگر خانے بمباری کرکے تباہ کرچکی ہے اور وہاں کام کرنے والے درجنوں افراد کو شہید کر دیاگیا۔ اس کے علاوہ 57 خوراک تقسیم مراکز پر بھی بمباری کی۔وزارت صحت غزہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 7اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 61944 شہید اور 155886 زخمی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ 18 مارچ 2025ء سے آج تک شہداء کی تعداد 10400 اور زخمیوں کی تعداد43845تک پہنچ گئی ہے۔ شہداء لقمہ العيش یعنی امدادی قافلوں کے متاثرین کی مجموعی تعداد1938اور زخمیوں کی تعداد14420 سے تجاوزکرچکی ہے۔بھوک اور غذائی قلت کے باعث ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 258 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 110بچے شامل ہیں۔
l غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی قبضہ ایک لاکھ سے زائد بچوں اور مریضوں کو بھوک اور قلت ِغذا کا نشانہ بنا رہا ہےاور بنیادی غذائی اجناس کے داخلے کو روکے ہوئے ہے۔وہ اسرائیل کی ’’انجینئرنگ آف ڈیتھ‘‘ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری قابض قوتوں اور ان کے حمایتیوں پر عائد ہوگی۔
l حماس نےقابض اسرائیلی افواج کی جارحیت کے خاتمے اور غزہ کے لیے تمام کوریڈورز کھلوانے کے لئے اُمّتِ مسلمہ اور دنیا بھر کے حریت پسند عوام سے احتجاجی مہم کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی ہے ۔
l اسرائیلی وزیرِ امنِ قومی، ایتمار بن غویر، نے کنیست کی داخلی امور کمیٹی کے اجلاس میں شہید عز الدین القسّام کے مزار کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
l قابض صہیونی افواج بھاری مشینری کے ساتھ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سلوان میں داخل ہوکر مکانات کے انہدام کی کارروائی شروع کر رہی ہیں۔ہسپتال المعمدانی کے مطابق،ایک اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے جنوب مشرقی علاقے، الزيتون محلی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید ہو گئے۔
l گزشتہ دنوں غزہ کی سرزمین نے اپنی صفوں کے ایک عظیم مجاہد اور خان یونس میں القسام کی النخبہ فورس کے کمانڈرمحمد أبو شمالہ (أبو صہيب) کو کھو دیا۔اُن کی جدوجہد اور قربانی کی کہانی جہادِ فلسطین کا روشن باب ہے۔زخموں سے شہادت تک2008 ءمیں ایک ایف-16 طیارے کے فضائی حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ حتیٰ کہ انہیں شہید قرار دے کر سرد خانے میں رکھ دیا گیا لیکن وہ زندگی کی طرف لوٹے۔ ایک ماہ تک بے ہوش رہے، بیرونِ ملک علاج کے بعد دوبارہ غزہ لوٹے اور مزاحمت کی راہ پر ثابت قدم رہے، حالانکہ ایک کان کی سماعت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔معرکہ 2014ء اور ’’جزار الـ D9‘‘2014 ءکی جنگ میں مزاحمت کی سب سے یادگار اور دلیرانہ کارروائیوں میں سے ایک وہ لمحہ تھا جب ایک مجاہد نے اسرائیلی بلڈوزر (D9) پر چڑھ کر اُس پر بم نصب کیا، پھر اندر موجود دو فوجیوں کی طرف ہاتھ ہلا کر ’’الوداع‘‘ کا اشارہ دیا اور چند لمحوں بعد وہ بم دھماکے سے پھٹ گیا۔

مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں

l فلسطین:160 بچوں کے قتل کا انکشاف: برطانوی نشریاتی ادارے نے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے 160 بچوں کو گولی مار کر قتل کیے جانے کے واقعات پرجاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 160 میں سے 95 بچوں کو سر یا سینے پر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا جن کی عمریں 12 سال سے بھی کم تھیں۔
l امریکہ: پاک بھارت جنگ بندی برقر ار رکھناآسان نہیں: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے، پاکستان اور بھارت کی صورت حال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کر رہے ہیں۔ جنگ بندی برقرار رکھنا آسان نہیں ،ہوتا کیونکہ سیز فائر معاہدہ بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔
l ایران: آئی اے ای اے سے بات چیت جاری رکھنے کا اعلان: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا اور ممکن ہے آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ہو۔واضح رہے کہ جون میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد سے آئی اے ای اے کے معائنہ کار ان مقامات تک رسائی حاصل نہیں کرسکے تھے۔
l بھارت: یوم آزادی پراقلیتوں کےخلا ف نفرت انگیز پر اپیگنڈا کیا گیا: ریاست گجرات کےایک سکول میںجشن آزادی کی تقریب، اُس وقت رسوائی کا باعث بن گئی جب ایک ڈرامے میں برقعے میں ملبوس مسلمان لڑکیوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا۔ والدین، بچوں اور مقامی شہریوں کے سامنے پیش کئے جانے والے اس ڈرامے کی لوگوں نے مذمت کی جس میں مسلمانوں کی توہین کی گئی۔
l اسرائیل: نیتن یاہو بوکھلا گئے: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’’تاریخ البینس کو ایک کمزور سیاست دان کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اسرائیل کو دھوکہ دیا اور آسٹریلیا کے یہودیوں کو تنہا چھوڑ دیا‘‘ واضح رہے کہ یاہو کی یہ بوکھلاہٹ اُس وقت سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور ایک اسرائیلی قانون ساز کا ویزا منسوخ کر دیا۔ ادھر غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیل میں ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ تل ابیب میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین جن میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِخانہ بھی شامل تھے، جنہوں نے ’’غزہ میں جنگ روکو‘‘، ’’یرغمالیوں کو واپس لاؤ‘‘ کے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
l اقوام متحدہ :پاکستان اور مائکرونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم: پاکستان اور مغربی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک مائکرونیشیا کے درمیان باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم ہوگئے۔پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد اور وفاقی ریاستِ مائکرونیشیا کے مستقل مندوب سفیر جیم ایس۔ لپوے نے نیویارک میں مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو باضابطہ شکل دی گئی۔
l امارات اسلامیہ افغانستان:طالبان حکومت کے چار سال: افغان طالبان کے اندرونی خطرات کے باوجود اقتدار میں واپس آئے چار سال مکمل ہوگئے۔ الحمدللہ! طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے بیان میں کہا افغانوں نے ملک میں مذہبی قانون کے قیام کے نام پر کئی دہائیوں تک مشکلات کا سامنا کیا، جس نے شہریوں کو ’’بدعنوانی، جبر، غصب، منشیات، چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار‘‘ سے بچایا۔یہ عظیم الٰہی نعمتیں ہیں جنہیں ہمارے لوگوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور یوم فتح کی یاد میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کریں تاکہ ان نعمتوں میں اضافہ ہو۔