پاکستان اور ریاستِ مدینہ کی فکری بنیاد
پروفیسر یوسف عرفان
قیام پاکستان ریاستِ مدینہ کا نمونہ ہے، ان دونوں ریاستوں میں حیران کن ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔تحریک ِمدینہ ایک فکری اور نظریاتی تحریک ہے جس کو زوال نہیں۔ جس طرح مدینہ منورہ تاقیامت شاد آباد اور پائندہ آباد رہے گا، اسی طرح پاکستان بھی شاد باد اور زندہ باد رہے گا۔ دونوں ریاستوں کی فکری بنیاد قرآن اور اسوۂ حسنہ ہے یعنی اللہ و رسول ﷺ۔ جس کا بہترین اظہار کلمۂ طیبہ میں ہے اور پاکستان کی بنیاد بھی کلمہ طیبہ یعنی لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے۔ جس طرح مدینہ منورہ کے ازلی اور ابدی دشمن غیر مسلم ہیں، اسی طرح مدینہ ثانی کے ازلی اور ابدی دشمن بھی غیر مسلم ہیں۔ جس طرح مدینہ منورہ کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ ریاستی مساوات کا اصول Equal Citizen of the State میثاقِ مدینہ کی بنیاد تھا، اسی طرح بانیٔ پاکستان قائداعظم کی 11اگست 1947ء کا بیان آئین پاکستان کی بنیاد ہے، جس میں بنیادی انسانی حقوق کا مساوی تحفظ اور ریاستی حقوق و فرائض، ذاتی مذہبی آزادی کی نشاندہی ہے۔ قائداعظم کی مذکورہ تقریر اور میثاق کے نکات ہم آہنگ یعنی ایک جیسے ہیں۔ مدینہ منورہ کی آبادی، شادمانی اور پائندگی کی دعا اللہ کے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمائی۔ اسی طرح شاہنامۂ اسلام کے شاعر اور قومی ترانے National Anthem کے خالق کے الفاظ پاکستان اور اسلام کے لازم و ملزوم ہونے کی دعا ہے۔ قیامِ پاکستان کی دینی اساس کی بنیاد پر قائداعظم کے الفاظ دین و وطن کی یکجائی، یکتائی کا اظہار ہے۔ قائداعظم نے بجا فرمایا کہ: Pakistan is the will of God and the well of God must be fulfilled. پاکستان مرضیٔ مولا یعنی رضائے الٰہی ہے جو ہو کر امتی ہے اسی طرح قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد فرمایا کہ ’’ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ دنیا کی کوئی پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔
"Pakistan has come to stay. No power on earth can undo Pakistan." قائداعظم نے پاکستان کے قیام کی فکری اور اسلامی تعلیمات پر مبنی بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان ہندوؤں کے تعصب، منفی رویے یا نفرت کی پیداوار نہیں بلکہ پاکستان کا وجود ہمیشہ سے ہندوستان میں موجود تھا مگر مسلمان اس شعور کے اظہار سے ناآشنا تھے۔ گو مسلمان صدیوں سے ایک ہی مشترکہ بستی، قصبے اور گاؤں میں رہتے رہے مگر ان کاجداگانہ رہن سہن انہیں ایک متحدہ قوم نہیں بنا سکا اور ہندو، مسلم دو جداگانہ قوم اور شناخت سے رہتے رہے۔ پاکستان کا قیام اس دن عمل میں آگیا تھا جس دن ایک غیر مسلم (ہندو) نے اسلام قبول کیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ جب ایک ہندو اسلام قبول کرتا ہے وہ اسی وقت ہندو جاتی یعنی ہندو قوم کے لیے غیر (ناقابل قبول وجود) بن جاتا ہے اور ہندو قوم مذکورہ نو مسلم کا مسلمان قوم کی طرح مذہبی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی مقاطعہ، بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔‘‘ (بیان 8مارچ 1944ء) اگر ہم مکہ مکرمہ میں نئی قوم کے تحریکی، فکری اور دعوتی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو چودہ سو سال (1400) کی اسلامی زندگی کا وہی منظر دیکھتے ہیں جس کا سامنا ہر ہندوستانی مسلمان کو ہر دور میں رہا، خواہ یہ دور اسلامی حکمرانی کا تھا یا قیامِ پاکستان سے پہلے (برطانوی) اور بعد کا ہے۔ ہندوستان کے ہندو راج اور سماج میں مسلمان کی زندگی کتنی اجیرن اور تکلیف دہ ہے، اس کا اندازہ ہندوستانی مفکرین و مصنفین راشد شاد کی کتاب ’’لایموت‘‘ اور مشرف ذوقی کا ناول ’’مرگِ انبوہ‘‘ وغیرہ کو پڑھ کر ہو جاتا ہے۔ نبیٔ مکرم ﷺ کی مکی زندگی کے مناظر بھی ایسے ہی تھے یہی حالت ِ زار سیدنا بلال حبشیؓ، حضرت سُمیہ اور دیگر صحابہؓ و صحابیاتؓ کا تھا۔ بیت اللہ شریف کی حاضری پر پابندی اور مشکلات و مصائب کی تصویر ذہن میں رکھیں۔ ہندو بھارت میں مساجد کا انہدام، مسلمانوں کا قتل عام (گجرات) اور دینجہ برقتل و غارت کے مناظر ہمارے سامنے ہیں۔ نیز مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کا جہینی مقاطعہ (بائیکاٹ) اور شعب بنی ہاشم میں تقریباً 3 سال محصور ہو کر رہ جانا، آج کے ہندوستانی مسلمانوں کی حالت ِزار کی تصویر ہے۔ کئی ہجرتوں کا سفر اور بالآخر ہجرت مدینہ مسلمان قوم کی ریاست، طاقت، مجاہدانہ مقاوحت اور استقامت کی داستان ہے تقریباً یہی تصویر قیامِ پاکستان کے وقت عظیم ہجرت اور پاک بھارت جنگوں کا تسلسل ایک عظیم فتح (دہلی) کی نشاندہی ہے۔ ہندو بھارت کی حلیف عالمی طاقتیں برطانیہ، روس، امریکہ اور اسرائیل کا پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا، دورِ جدید کی جدید مدینہ ریاست کا کمال ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی 16 اگست 1971ء بھارتی اور عالمی سازشوں کا شاخسانہ تھا مگر غدارِ مشرق شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی فیملی کا غیور بنگالی مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک کے باعث عبرتناک انجام قیامِ پاکستان کی عظیم اسلامی فکری توانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج کا بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) ازسرنو 14 اگست 1947ء کے موڑ پر بھرپور مزاحمت اور طاقت سے کھڑا ہے۔ سقوط ڈھاکہ بھارتی سازش سے ہوا مگر بنگالی مسلمانوں نے اس وقت ہندو بھارت کا باقاعدہ حصہ بننے سے انکار کیا اور آج اپنے وطن عزیز میں ہندو بھارت کے خلاف اور اقبال و قائداعظم کے پاکستان کے ساتھ فکری اور نظریاتی ہم آہنگی اور یکجہتی کا عملی اظہار کر رہے ہیں۔ یہی قیامِ پاکستان کی اسلامی فکری بنیاد ہے جو ماضی ہیں زندہ رہی اور آج بھی زندہ و پائندہ ہے۔ خطے میں پاکستان کو وہی مرکزی اہمیت، افادیت اور حیثیت حاصل ہے جو جزیرۂ عرب میں مدینہ منورہ کو حاصل تھی۔ اسی منفرد فکر اسلامی کی نشاندہی کر تے ہوئے پاکستان کے قومی شاعر اور مفکر اسلام علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ مشرقی اور مغربی ہندوستانی مسلمانوں پر ایک بڑی الٰہی ذمہ داری عائد ہونے والی ہے جس کے لیے فکر اسلامی پر مبنی ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔
خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید بروںکارواں زیں وادیٔ دور و دراز آید بروںبہ مشتاقاں حدیثِ خواجۂ بدر و حنین آورتصرّف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمدخطے میں آزاد اسلامی ریاست (پاکستان) کی فکری بنیاد کے حوالے سے کہا کہ:
طرحِ نومی افگند اندر ضمیر کائناتنالہ ہا کزز سینۂ اہلِ نیاز آید بروں!ماہر اقبالیات استاد گرامی پروفیسر محمد منور ’’طرحِ نو‘‘ کی وضاحت بایں الفاظ کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی ریاست دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام میں آئی تھی، اسی طرح دورِ جدید میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر خطے میں ایک آزاد اسلامی ریاست یعنی مدینہ ثانی کا قیام عمل میں آئے گا۔ موجودہ دور میں قومیتی ریاست Nation State نسلی، لسانی، قبائلی، علاقائی اور تہذیبی یکجہتی کی بنیاد پر وجود میں آتی ہیں۔ پاکستان کا قیام دین اسلام کی بنیادی تعلیمات پر استوار ہے اور یہی علامہ اقبال کے نزدیک ’’طرحِ نو‘‘ ہے۔ قائداعظم نے اسی فکر اسلامی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی شناخت کسی غیر مسلم معاشرے میں ضم نہ کرے۔‘‘ ہندوستان میں صدیوں سے ہندو مسلم ایک ہی بستی اور دیس میں رہ رہے ہیں مگر ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوئے اور یہی جداگانہ شناخت قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ جب برطانوی اور امریکی اکابرین نے ایک مجلس میں قائداعظم سے پوچھا کہ " Who is the author of Pakistan?" قائداعظم نے برملا کہا کہ ہر مسلمان Every Musalman ۔ قائداعظم نے جواب دیا: " Not by asking, not by begging, not even by more prayers but by working with trust in God, Inshallah; Pakistan is now in your hands"۔ پاکستان برطانوی حکمرانوں کی اجازت یا خیرات اور محض دعاؤں سے نہیں بننا بلکہ اللہ پر یقین کامل یعنی ایمان اور توکل سے بنے گا، ان شاء اللہ! 8 مارچ 1944ء پاکستان معاشرتی یکجہتی کا ثمر ہے۔ یہ پنجابی، بنگالی، بلوچ، سندھی یا پٹھان نہیں بتایا بلکہ سب مسلمانوں نے مل کر بنایا ہے اور اس کی سلامتی اور استحکام بھی فکر اسلامی سے وفاداری میں مضمر ہے۔ اور اب پاکستان تمہارے ہاتھ میں ہے یعنی پاکستان مسلمانوں کے ایمان کا بیان اور اظہار ہے اور اس کا بیانیہ فقراء اور فقط فکر اسلامی ہے۔ جہاں تک متحدہ ہندوستان کا تعلق ہے تو یہ بھی مکہ مکرمہ کی آبادی کی طرح ذات پات، قبیلہ، چھوت جھات، نسل، قبیلہ میں بٹا ہوا ہے۔ قریشی سردار ابولہب، ابوجہل کی طرح ہندو برہمن کی گرفت ہے۔ مسلمانوں کی مکی زندگی بنیادی انسانی حقوق سے محروم تھی۔اسی طرح مسلمانوں اور کروڑوں اچھوت اقوام کی زندگی بھارت میں بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ جبکہ پاکستان ریاست مدینہ کی طرح معاشی اور جغرافیائی وسائل کا خزینہ ہے۔ سی پیک عالمی تجارتی راہداری ہے جس کی ہندو بھارت کو بھی ضرورت ہے۔بھارتی نژاد ہندو مؤرخ پروفیسر ونکٹ دھولی یال Vankat Dhoraphet نے 1915ء میں کیمبرج پریس سے کتاب "Creating a New Madina State Power, Islam and the Quest for Pakistan"ــ لکھی جس میں پاکستان جدید ریاست مدینہ کے عنوان سے ہندو مؤقف کو بیان کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان ریاست مدینہ کی طرح اسلامی ریاست بن گیا، مگر اسلامی ریاست میں اسلامی نظام کا نفاذ ہونا باقی ہے پاکستان دورِ حاضر کی ریاست مدینہ ہے مگر ابھی غزواتِ بدر، احد، خندق، حنین، حدیبیہ کے مراحل سے گزر رہا ہے مگر فتح مکہ یعنی دہلی کی فتح ہونا باقی ہے اور بھارت کے مظلوم، محروم مسلمانوں اور ذلت کی آزادی کا مرحلہ باقی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ بقول ڈاکٹر بھارت کا مذہبی مستقبل اسلام ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026