(کارِ ترقیاتی) ہزار موجوں کی ہو کشاکش… - عامرہ احسان

10 /

ہزار موجوں کی ہو کشاکش…عامرہ احسان

پاکستان اس وقت شدید موسمی تھپیڑوں کی زد میں ہے۔ فلیش فلڈ، (اچانک تیز سیلابی ریلے، شدید طغیانی) ، بادل پھٹنے، جس سے موسلادھار بارش گرج چمک کے ساتھ لاکھوں لیٹر پانی برسا کے خوفناک مظاہر نے جا بجا جانی نقصان، املاک کی تباہی کے ہولناک مناظر لا کھڑے کیے۔ بونیر میں بالخصوص بھاری چٹانوں کے بڑے بڑے تودے آن گرے۔ گائوں دب گیا۔ تیز پانی میں لاشیں بہہ گئیں۔ اموات کے علاوہ لا پتگی کی اذیت مزید ہے۔ خاندانوں کے خاندان اجڑ گئے۔ ’گلگت بلتستان‘ میں گلیشیر پھٹنے سے یہی سب ہوا۔ بونیر میں نقصانات زیادہ ہوئے۔ درخت تنکوں کی طرح اچھلتے تھے۔ پورا محلہ بہہ گیا۔ صرف ایک مسجد وہاں پانی پتھروں کی زد میں نہ آئی۔ پانی راستہ بدل کر گزر گیا۔ مسجد اپنے مکینوں، قریبی گھروں کے تحفظ کا سامان بنی۔ سلامتی صرف اس حصے میں رہی، باجوڑ، بٹگرام، شانگلہ، مانسہرہ ہر جگہ پانی کے ریلے تھے۔ خوفناک گرج چمک، کالے گھٹا بادل، قہر آمیزطوفانی ہوائیں اور ان میں گھرے سہمے انسان!
مت بھولیے کہ عین مشرف کی طرح کے مساجد کے خلاف آپریشن کے تہیے اور پھر لال مسجد کا سا جزوی اقدام مدنی مسجد اسلام آباد میں جس طرح ہوا، وہ (مسجدِ اقصیٰ کے تناظر میں) اللہ کے غضب کو پکارنے والا تھا۔ غزہ کی طرح مسجد پہلے اموال، سازوسامان پر ڈھا دی گئی۔ اب شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پھاوڑوں سے جو صفائی کھدائی شروع کی تو قرآن، دینی کتب کی الماریاں، نماز کی صفیں، پنکھے، قرآن کے شہید صفحات برآمد ہورہے ہیں۔ 50مساجد پر اس ارادے کا اظہار ۔ باجوڑ آپریشن کی تیاری۔ بادل بلاسبب نہیں پھٹے، سیلابی ریلے یونہی تو نہیں چڑھ دوڑے، گلیشیر کا سینہ بلاوجہ تو نہیں پھٹ پڑا، فلسطینیوں کے قاتلوں سے دوستی بھی اللہ کی ناراضگی کا سامان ہے۔ ہوش کے ناخن لیں!
خوف کی دوسری قسم وہ ہے جو دو سال ہونے کو آئے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہے۔ یہ دیکھئے ایک کم عمر لڑکی جو جبالیہ میں پانی بھر کر لا رہی تھی اسے اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ بھاری بھرکم نام والا جاسوس ڈرون، جو فوجی کارروائی سے پہلے دشمن کی پوزیشن، فوجی اہمیت کے ٹھکانوں کا کھوج لگاتا ہے! یہ کس دشمن کا پیچھا کر رہا ہے؟ شہری آبادی میں ایک معصوم بچی کا جو بم، گرنیڈ نہیں، پینے کا پانی لیے جا رہی تھی، اس کا لقمہ بنی! یہ جو دھڑا دھڑ صحافی مارے جا رہے ہیں اور ’الجزیرہ‘ کی پریس ٹیم ختم کی جا رہی ہے، وہ اسی لیے کہ وہ ایسے حقائق مع ثبوت سامنے لے آتی ہے۔ یوں تو امریکہ کی بھرپور پشت پناہی سے اسرائیل کو ڈر کس کا ہے! 34امریکی کانگریس ممبران اسرائیل کی میزبانی کا لطف اٹھانے ان حالات میں انہی دنوں وہاں عیش و طرب منا رہے تھے۔ امریکہ سے باہمی تعاون برائے فلسطینی قتل عام کا عکاس! اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹریچ نے کہا: ’’اسرائیل ہر اس ملک کے خلاف اقدام کرے گا جو فلسطین کو تسلیم کرے گا۔‘‘ فلسطین کا تصور دفن کر دو۔ یقینی بنائو کہ ستمبر تک یورپی ممالک کے لیے تسلیم کرنے کو کچھ باقی نہ رہے۔ یعنی غزہ مکمل تباہ کر دو۔
اگرچہ قرآن سورۃ الحشر، الاحزاب میں غزوئہ بنو نظیر، بنو قریظہ پڑھاتا ہے۔ مگر ہم ان پڑھ نابلد ہیں اپنی ایمانی نصابی کتاب سے۔ جبکہ فلسطینی حفاظِ قرآن ہیں بڑی تعداد میں! الجزیرۃ کے صحافی ختم کرنے کی مہم کے ساتھ اب اسرائیلی فوج کا سرکاری اعلان ہے:صابرہ اور زیتون کے علاقے پر حملے کا جو غزہ سے فلسطینیوں کی مکمل بے دخلی، خدانخواستہ خاتمے کا اعلان ہے۔ وہاں 300گھر تباہ کر دیئے۔ کوئی میڈیا کوریج اب نہیں ہے! جب القسام کہہ اٹھے: اے ہماری امت! ہم تمھارے خلاف حجت ہیں تمہارے حق میں نہیں۔ اللہ تم میں سے ہر اس کو کبھی معاف نہ کرے جس نے غزہ کو تنہا چھوڑ دیا اور بزدلی دکھائی۔ محمد ہانیہ نے کہا: ’غزہ شہر تباہ کن حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ دھمکیاں ،  (فاقے)، بمباریاںسہہ رہا ہے۔ ہمارے ساتھ آگے کیا ہو گا کون سے المیے ہمیں مزید دیکھنے ہیں! مگر اے دنیا! غزہ ڈھے گیا تو اس کے بعد باری ہے قاہرہ، عمان کی۔ کہانی آگے بڑھے گی، گریٹر اسرائیل کی۔ وہ تمہاری سرحدیں روند کر آگے بڑھے گی۔‘ حماس نے تیزی سے بگڑتے حالات پر متوجہ کرتے کہا: ’غزہ پر نسل کشی اور نئی جبری  بے دخلی کی لہر کا اعلان مہیب جنگی جرم اور عالمی قوانین کی مکمل نفی ہے۔ گریٹر اسرائیل منصوبہ پوری عرب دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ حماس مزاحمت میں امت کی پہلی دیوار ہے‘۔ یہ منہدم کرکے آگے کا راستہ کھل جائے گا۔ آگے دوستی کے پردے میں ہماری تباہی ہے۔ 
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے مسلمانو
 تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں!
خدانخواستہ۔
ہم نے دو سال غزہ پر ہر حکومت کی بلا استثناء شراکت اور ظالمانہ خاموشی دیکھی ہے۔ اگر احادیث میں بالآخر یہود کا مکمل صفایا مذکور نہ ہوتا تو ہم یہی حتمی سمجھتے۔ مگر یہ راستہ بہرطور خونچکاں ہے۔ عرب ممالک کھربوں ڈالر امریکہ پر نچھاور کر کے اسے اپنے تحفظ کی ضمانت سمجھے بیٹھے ہیں۔ مگر اہل شعور و دانش اسرائیلی، صہیونی ، امریکی، مغربی تاریخ کے آئینے میں سب کچھ ان احمقانہ خوش فہمیوں سے بہت مختلف دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان امریکہ سے دوستی کے لیے پیمان استوار کرکے اس کی افغانستان میں شکست کے زخم بھرنے ازسرنو چلا ہے۔ رب کی شدید ناراضی مول لے کر۔ امریکہ کی کہہ مکرنیوں کی طویل داستان ہمارے سامنے ہے۔ ازلی ابدی مکر و فریب مجسم ہے۔ پہلے مشرف نے ہمسایہ مسلم ملک کے خلاف امریکی جنگ کا شریک بنایا۔ اب قدس کے نازک مسئلے اور اس کے محافظ مظلوم ترین فلسطینیوں کے اصل اور بڑے دشمن امریکہ کو پہچاننے میں ہم تجاہل عارفانہ دکھا رہے ہیں۔ اللہ سے کچھ مخفی نہیں۔ سرحدوں پر شدید انتشار، آسمان زمین کا دشمنی پر اتر آنا، کمزور ترین سود کی کھائی،قرضوں میں ڈوبی، کرپشن زدہ معیشت۔خسر الدنیا والاخرۃ۔ 
ادھر گورنر سندھ نے ان دگرگوں حالات میں (اندرونِ پاکستان و غزہ) 13دن مسلسل گورنر ہائوس کو (آزادی کی خوشی میں!) گانے بجانے کا مرکز بنائے رکھا۔ مسلسل ڈیڑھ گھنٹہ آتش بازی کی۔ عوام جھومتے رہے۔ جیسا راجہ ویسی پرجا! ادھر غزہ کے غم میں یو این (یونیسف) کا اہلکار رو رو کر غزہ کے حالات بیان کر رہا ہے۔ روتا جاتا ہے پھر ہار کر کہتا ہے۔ اور کیا کہوں! (ٹیسوری سے پوچھ لو!) ان حالات میں بھی اسرائیلیوں کو حماس رُلا رہی ہے۔ ایک اسرائیلی اپنے مر جانے والے ساتھیوں کی یاد میں رو رہا ہے۔ جن کی فوجی یونٹ ان کی گھات میں پھنس کر تباہ ہوئی، 15سے زیادہ دھماکا خیز ڈیوائس لگے تھے وہاں۔ 
آسٹریا میں مقامی آبادی نے اپنے ایک شہر کا نام غزہ رکھ دیا۔ بورڈ بدل دیا شہر کا! اسرائیلی وزیر سموٹریچ  نے کہا:’اسرائیلی سرحدیں دمشق تک ہونی چاہئیں۔ 7عرب ممالک، شام، لبنان، اردن، عراق، مصر کا ایک حصہ ، سعودی عرب اور کچھ حصہ کویت کا۔ یہ ارضِ موعود ہے۔ ‘ نتن یاہو کا خواب ، عزم (اور وہم) کہ میں ایک روحانی مشن پر ہوں گریٹر اسرائیل والے (شیطانی ، دجالی مشن پر!)
اس کے مقابل ایک سعودی نے کہا: فلسطین میرا مسئلہ نہیں۔ مجھے پرواہ نہیں فلسطین میں کیا ہوتا ہے۔ ادھر برطانیہ میں بوڑھا ترین انگریز۔ نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت، بمشکل بیساکھیوں سے فلسطینی مظاہرے میں گھسٹ رہا ہے ۔ (المیہ یہ ہے کہ مسلمان آج 7آنتوں والا ہے!) اور گورے اہل درد خود کو قصداً بھوکا رکھ کر غزہ کا غم بانٹ رہے ہیں! منافقین خود اپنے ملکوں کے تحفظ سے عاری ہیں۔ اور یہ بوڑھا لڑھکتا لڑھکتا غزہ کے غم میں اس کا   عاشق زار بنا اسے ’فولو‘ کر رہا ہے! اللہ ایسے سب جوان بوڑھے اہل درد کو ایمان سے مالا مال کرے۔ اور ہم ؟ ’ترے سینے میں دم ہے دل نہیں ہے!‘ کے مصداق ہو چکے ہیں۔ کفر نے دنیا کا ذہین ترین مسلم طبقہ، فلسطینی دانشور، شاعر، ادیب، ڈاکٹر، طبی عملہ، حکومتی مشینری کے انتھک کارکن، نوجوان طلبہ ، طالبات، حسین خوبصورت ذہین بچے، سب امت سے چھین کر یا شہید کر دیئے یا زندانوں میں جھونک دیئے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ صرف غلام صفت مصنوعی (روبوٹ)  ذہانت ، مغرب جن کا میکہ بھی ہے ، رزق رساں بھی۔ تلچھٹ باقی رہ گئی۔ مسلم ممالک اعلیٰ تر شخصیات کی تشکیل میں بانجھ ہو گئے۔ ایک مکمل انقلاب درکار ہے جو شاید با ضمیر مغرب کی کوکھ سے کلمہ پڑھتا اُٹھے گا۔ قیادت حرم اور دمشق، مسجد اموی سے فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے اترے گی۔ حیرت انگیز دردمندی کی لہر پورے مغرب پر چھائی ہوئی ہے۔ اب فلوٹیلا 44ممالک کے اتحاد سے چلنے کو تیار ہے۔ غزہ کی مدد، فلسطینیوں سے یک جہتی کو! محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی! یہ بدبودار ،بد کردار متعفن دھوئیں کی کالک چھٹ کر رہے گی۔ بھوکے ، کمزور، مگر پرعزم فلسطینی۔
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا کے پار ہو گا!