(گوشۂ سیرت) رسول اکرم ﷺ کی پیروی: اللہ تک پہنچنے کا راستہ - طاہر عتیق صدیقی

10 /

رسول اکرم ﷺ کی پیروی: اللہ تک پہنچنے کا راستہ

طاہر عتیق صدیقی

علامہ اقبال اپنی فارسی نظم رسول اکرم ﷺ کے ایک بند میں فرماتے ہیں:
’’اے مسلمان! کیا تو اس محبوب سے واقف ہے، جو تیرے دل میں چھپا ہوا ہے؟ یاد رکھ تیرا دل رسول کی   قیام گاہ ہے، حضور ﷺ ہی کا اسم گرامی ہمارے لیے عزت و آبرو کاسرمایہ ہے۔‘‘
ایک مسلمان کا سرمایۂ حیات و افتخار ہی بھلا اس کے سوا کیا ہے۔ وہ رسول ﷺ میزبان سے محبت رکھتا ہے۔ اس کا تو وہ تسمیہ ہی ہیں۔ یہ کہ وہ اُن پر ایمان لایاجو کہ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں۔ جن کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ یہ عقیدہ اس کا مقصد زیست بھی ہے اور اسی میں بقا بھی کہ نبی خاتم النبیین ہیں تو اُمتِ مسلمہ اُمتِ آخر الزماں۔
ہمارا ایمان نبی رحمت سے ایسی محبت کا مقتضی ہے جو ہر چیز سے فزوں تر ہو۔
جیسا کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائوں۔‘‘
مسلمان محبت کرتا ہے ان رحیم و شفیق رسول ﷺ سے کہ جن کے مقام کے سامنے کائنات کی ہر چیز ہیچ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے بھلا یہ کم ہے کہ اُن کا امتی ہے۔ جنہیں خود خالق کائنات نے افضل البشر کا مقام عطا کیا ہے۔ مسلمان شمع رسالت کا پروانہ ہے۔ اسی لوسے جگمگاتا ہے۔ چاروں طرف روشنی سے روشن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تمام تعلیمات جو اُن کی طرف سے اس تک پہنچیں یہ اُن کا امین ہے۔ نبی ﷺ کے فرامین ہدایات ورہنمائی کا یہ بہت عظیم ذخیرہ ہمہ پہلو ہے۔ جس میں کارزار حیات کے تمام مسائل واضطرابات کے حکیمانہ اور اطمینان بخش حل پیش کر دئیے گئے ہیں۔ راستہ سمجھا دیا گیا۔ مسلمان اسی ہدایت کی روشنی میں جانب منزل گامزن ہے۔ مطمئن ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس کے نبی ﷺ ہر وقت اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے خیال و جذبات میں موجود و تابندہ ہیں۔ اس کی رہنمائی کرتے ہوئے۔ ایک صاحب ایماں گھر میں اپنے بچوں کے درمیان ہو، دوستوں کی مجلس میں ہو، بازار میں خرید وفروخت میں مصروف ہو، دفتر میں کھیت کھلیان میں ہو، عدالت کی کرسی پر ایوان اقتدار ہر جا کہیں ہواُسے وہ وقت یاد آتا ہے اور ذمہ دار بھی ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائے جیسا کہ حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:’’جو لوگ موجود ہیں وہ اس پیغام کو ان تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’تمہارے لیے نبی ﷺ کی زندگی ایک بہترین نمونہ ہے۔‘‘ حضور ﷺ نے معاشرے کو امن وسلامتی کی ضمانت دی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔‘‘ یہ وہ سانچہ ہے جس میں اس کو ڈھلنا ہے۔ 
      رسول ﷺ نے فرمایا کہ مجھے عورت اور یتیم کے حق کی بہت تشویش ہے۔ اور بیٹی کو رحمت قرار دیا۔ اور ایسا دین لائے جس میں عورت کا حق مرد کے حق کے لیے بنیاد قرار پایا۔ اور فرمایا:’’ گھر والوں کے ساتھ اچھا برتائو کرو اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں۔‘‘ انہوں  نے عدل و انصاف کی ایسی لازوال اور حیرت انگیز مثالیں پیش کیں کہ آج بھی چشم فلک اس کی نظیر دیکھنے کو ترساں ہے۔ جسے دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان ہے، اسی راستے پر چلتا ہے۔
میدان جنگ میںجرأت و شجاعت، استقامت اور استقلال کی وہ بے نظیر روایات آپﷺ نے قائم کیں کہ آنکھیں چشم تصور میں انہیں دیکھتی ہیں۔ ایک ہی وار میںغزوئہ خندق میں اس بھاری چٹان کا ریزہ ریزہ ہونا جو صحابہ کرام ؓ نہ توڑ سکے۔روم وفارس کی بادشاہوں کا اس کی چنگاریوں میں بھسم ہوتے اور ارض وسماء کی وسعتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تہلیل ہوتی ان فضائوں نے دیکھا۔ شعب ابی طالب کی صعوبتوں، ہجرت کی کلفتوں، صلح حدیبیہ کی استعجاب انگیز فتح میں اور فتح مکہ کا وہ تابناک لمحہ جب قافلہ نبوت کے سالار اللہ کی بڑھائی اور عظمت کا اعلان کرتے ہوئے عجزو انکساری و شکروسپاس کے احساسات سے لبریز امن و ایمان اور آشتی واحسان کے پیامبر بن کر مکہ میں داخل ہوئے:’’آج رحمت ومحبت کا دن ہے آج کسی سے بدلہ نہیں لیا جائے گا۔‘‘ اس پیغام نے گلیوں اور محلوں کو خون سے رنگیں کرنے کے بجائے فضائوں میں حیات جاوداں کو فراواں کر دیا۔ خوشیوں اور مسرتوں کی مہکار بکھیر دی۔
اہل ایمان کے زبان و قلب سے آپﷺ پر درودوسلام کے زمزمے پھوٹتے ہیں۔ زبانیں درود پاک سے تررہتی ہیں اور دل آپﷺ پر سلام سے دھڑکتا ہے۔ ہر مسلمان کی نبضوں کی ٹک ٹک آپ کی محبت سے رواں دواں رہتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بخیل نہیں جس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکر آئے اور وہ آپؐ پر درودوسلام نہ بھیجے۔
فدائے اُبی واُمی۔ ہم ان کے عاجزامتی ہیں۔ انہوں نے نماز سکھائی کہ ہم اپنے رب کے بندے بن جائیں۔ اس کا قرب پالیں۔ اسے پسند آجائیں۔ ہمارا قیام و رکوع اور سجود نجات کا ذریعہ بن جائیں۔ نبی کریم ﷺ اورتمام انبیاء کرام fنماز کی طرف ہی رجوع کرتے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نماز کی وجہ سے گناہوں کو زائل کر دیتے ہیں۔‘‘ روزوں کو ان کے آداب کے ساتھ اداکرنے کی تعلیم دی۔ سحر وافطار کی برکتوں اور محاسن سے استفادہ کا سلیقہ سکھایا کہ روزہ رب کریم کے لیے ہے اور وہی اس کا اجر دینے والا ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے اپنے اموال کو پاک کرنے اور معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار کو واضح کیا اور فرمایا: زکوٰۃ پاک کرنے والی چیز ہے یہ تمہیں پاک کر دے گی۔ اس کی وجہ سے مال بھی اور انسان بھی پاک صاف اور طیب بن جاتا ہے۔ فرمایا:’’ زکوٰۃ اسلام کا مضبوط پل ہے۔‘‘
زکوٰۃ کے ذریعے اپنے اموال کو پاک کرنے اور معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار کو واضح کیا۔ حج بیت اللہ، اللہ کی عالمگیر عبادت اور اس کے مناسک سے آراستہ کیا۔ فرمایا :’’ مقبول حج افضل عمل ہے اور ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ حتیٰ کہ صدقات وخیرات اور ان کی برکات و افادیت غرض یہ کہ تمام ہی تعلیمات فرائض واخلاق و آداب ہماری تربیت و تسویق کے لیے باہم پہنچائیں۔ نوافل کے ذریعے انہیں مزید مزین کرنے کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سجدوں کی کثرت کے ذریعے میری مدد کرو تاکہ آپﷺ کا دست دعا و شفاعت اللہ کے حضور مسلمان کے حق میں باریاب ہو جائے۔
معلم آفاقیﷺ نے ہمیں دعا کا سلیقہ اور آداب سکھائے کہ اگر اللہ کے ہاں اپنی دعا کی قبولیت کے خواہش مند ہو تو عجز و نیاز اختیار کرو، حلال کھائو، حلال پیو اور حلال پہنو۔ رسولﷺ کے اور احسان ہی ہم پر کیا کم تھے کہ ہمارا غم اُنہیں مسلسل کھاتا رہا۔ فرمایا کہ تم ہر اس کھوہ میں ضرور گرو گے جس میں یہود گرے۔ تمہاری دولت سے محبت اور دنیا سے رغبت تمہیں کمزور ہی نہیں کرے گی بلکہ جہاد سے بھی دور کر دے گی۔ اسے تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دے گی۔ اور تمہاری حیثیت دشمن کے لیے پر کاہ سے زیادہ نہیں ہو گی۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
امت کا غم انہیں اس طرح کھائے جا رہا تھا کہ قرآن کو گواہی دینی پڑی: ’’تمہارے پاس ایک رسول آچکے ہیں تمہاری ہی جنس سے ہیں جنہیں تمہاری مضرت کی بات گراں گزرتی ہے اور تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں۔ ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔ ‘‘ (التوبہ)
نبیﷺ کی اپنی امت کے لیے رحمت مودت ، محبت و الفت اور شفقت و رافت کو دیکھ کر ہی قرآن نے اسے اللہ کا احسان عظیم قرار دیا ہے: ’’اللہ نے مومنوں پر احسان کیا کہ اُن میں ایک ایسا رسولﷺ اٹھایا جو ان کے سامنے اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، انہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت سمجھاتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو معلم، مربی، مزکی بنا کر بھیجا اور ساتھ ہدایت کی کہ جو ’’آپﷺ دیں، لے لو اور جس چیز سے روکیں رک جائو۔ حضرت علامہ اقبال اپنی ایک فارسی نظم ’’حق کے لیے ہجرت کی دعوت‘‘ میں فرماتے ہیں:
ترجمہ: اگر حضورﷺ سے سچی محبت کا مدعی ہے تو آپﷺ کی پوری پیروی کر اور اس پیروی پر پختہ ہو جاتا کہ تیری کمند تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے گویا ہادی اور پیشوا کی صحیح اور کامل پیروی وہ کمند ہے جو مسلمان کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتی ہے۔