ایک وقت تھا کہ اسرائیل کے خلاف بولنے پر ڈاکٹر اسراراحمد ؒ
کے خلاف امریکہ میں آرٹیکلز لکھے جاتے تھے لیکن آج پوری
دنیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں :آصف حمید
صہیونی ریاست روحانی مشن پر ہرگز نہیں ہے بلکہ شیطانی
مشن پر ہے :ڈاکٹر محمد عارف صدیقی
حماس آخری چٹان ہے، اس کے بعد اسرائیل پاکستان کی
جانب بھی بڑھے گا : مصطفیٰ کمال پاشا
گریٹر اسرائیل کا مشن روحانی یا شیطانی؟ کے موضوع پر
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد باجوہ
سوال:اسرائیلی وزیراعظم نےاپنے ایک حالیہ انٹرویو میں گریٹر اسرائیل کو تاریخی اور روحانی مشن قرار دیا ہے ، آپ یہ بتائیے کہ ظلم اور وحشت پر مبنی یہ گھناؤنا مشن تاریخی اور روحانی کس طرح ہے ؟
آصف حمید: عالمی غلبے کا خواب صرف اسرائیل کا نہیں ہے بلکہ بھارت بھی اکھنڈ بھارت کی بات کرتاہے ، گریٹر ایران کی بازگشت بھی کہیں کہیں سے سنائی دیتی ہے ، اسی طرح یورپ کا بھی عالمی غلبے کا ایک خواب تھا ۔ اس خواب میں سیاسی اور مذہبی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں ۔ جیسے یہود کا ایک دعویٰ ہے کہ وہ خدا کی پسندیدہ قوم ہے بلکہ وہ خود کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ان کے اس دعوے کو جھٹلایا گیا :
’’ یہودی اور نصرانی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیںاور اُس کے بڑے چہیتے ہیں۔(تو ان سے )کہیے کہ پھر وہ تمہیں عذاب کیوں دیتا رہا ہے تمہارے گناہوںکی پاداش میں؟(نہیں)بلکہ تم بھی انسان ہو جیسے دوسرے انسان اس نے پیدا کیے ہیں۔‘‘(المائدہ:18)
یہود کا یہی وہم اور گھمنڈ انہیں تکبر ، غرور اور حسد میں مبتلا کر گیا جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے نبیوں ؑکو جھٹلایا ۔ حالانکہ وہ اللہ کے آخری نبی ﷺ کو پہچان گئے تھے جیسا کہ قرآن میں فرمایا :{یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَـآئَ ہُمْ ط} (البقرۃ:146)’’وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔‘‘ لیکن اس کے باجود انہوں نے آپﷺ کی مخالفت کی اور کہا کہ چونکہ یہ بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے ہم ان کو نہیں مانیں گے ۔ ان کا یہ حسد پہلے دن سے مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے حضور ﷺ کے قتل کی سازشیں کیں حق، کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کیا اور آج تک ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو زیر کیا جائے اور اس کے پیچھے ان کا باطل اور شیطانی ایجنڈا کارفرما ہے ۔ اس سے قبل انہوں نے اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کا انکار کیا اور اپنے تئیں انہیں صولی پر چڑھادیا ۔ لہٰذا وہ ابھی تک اپنے مسایاح کے انتظار میں ہیں ، چونکہ انہوںنے حق کو چھپایا اور باطل کے ساتھی بن گئے لہٰذا وہ دجال کو ہی اپنا مسایاح سمجھ رہے ہیں۔ انہی خطوط پر اپنے بچوں کی بھی تربیت کر رہے ہیں ، اُن کا ہریہودی شہری ہائی سکول سے فارغ ہونے کے بعد عسکری تربیت حاصل کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے ہر یہودی ریزرو فوجی ہے اور جنگ میں وہ اسرائیل فوج کے ساتھ مل کر لڑتاہے ۔ ان کی کتاب تالمود کے مطابق ان کا مسایاح آئے گا اور پوری دنیا پر حکومت کرے گا ۔ اسی مذہبی تناظر میں وہ اپنے منصوبے پر مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں ۔خصوصاً نائن الیون کے بعدکہیں دہشت گردی کو پروموٹ کرکے اور کہیں عرب اسپرنگ کے نام پر مسلم حکومتوں کے تختے اُلٹ دیے۔ شیطانی ایجنڈے پر چلتے ہوئے وہ بچوں پر بھی رحم نہیں کر رہے اور بے دردی سے غزہ کے بچوں کو شہید کیے جارہے ہیں ۔ پوری دنیا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی ہیں مگران کے دل میں رحم نہیں آرہا ۔
سوال: اسرائیل ایک بے رحم اور ظالم و جابر ریاست ہے جو ظلم و دہشت گردی کے ذریعے قائم ہوئی اور اس وقت سے لے کر آج تک اس ریاست کا ظلم و ستم بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ پیغمبروںؑ کی تعلیمات تو ہرگز یہ نہ تھیں ، کیا ایسی ظالم ریاست کسی روحانی یا دینی مشن پر ہو سکتی ہے ؟
مصطفیٰ کمال پاشا: اسرائیل بنیادی طور پر یہودی ریاست نہیں ہے بلکہ یہ صہیونی ریاست ہے کیونکہ یہ یہودیوں نے نہیں بنائی بلکہ یہ کام صہیونیوں کا ہے ۔ یہودیوں کے کئی گروہ آج بھی اسرائیل کے خلاف ہیں اور وہ اسرائیل میں بھی اور یورپ اور امریکہ میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔ اسی طرح نصاریٰ میں سے بھی جو صہیونی عیسائی ہیں وہ اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں جبکہ غیر صہیونی عیسائی بھی اسرائیل اور اس کے قیام کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے 18 ہزار فلسطینی بچوں کے نام شائع کرکے یورپ کو بتایا کہ اسرائیل غزہ میں بچوں کو کس طرح نشانہ بنارہا ہے ۔ وہ صہیونی منصوبہ کے خلاف رائے عامہ کو بھی ہموار کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بھی کئی بار یہ بیان کیا ہے کہ جب دجالیت کے خلاف آخری معرکہ ہوگا توسچے عیسائی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے کیونکہ حضرت عیسیٰ؈ مسلمانوں کی قیادت کر رہے ہوں گے ۔ بیت المقدس عیسائی مذہبی پیشواؤں نے خود حضرت عمر فاروق کے حوالے کیا تھا اور شرط رکھی تھی کہ یہودیوں کو یروشلم میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ لیکن اسلام کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے سے نہیں روکتا۔ اس لیے حضرت عمر نے یہودیوں کو صرف بیت المقدس کی زیارت کی اجاز ت دی لیکن معاہدے میں یہ طے تھا کہ یہودی بیت المقدس میں نہ زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی مستقل قیام کر سکتے ہیں ۔ یہ معاہدہ 1917ء میں بالفورڈکلیریشن تک قائم رہا جوکہ صہیونیوں نے روتھ چائلڈ اور گولڈ سمتھ جیسے سرمایہ دار صہیونی خاندانوں کے ذریعے دنیا کی حکومتوں کو بلیک میل کرکےحاصل کیا تھا اور اس کے بعد فلسطین میں صہیونیوں کی آبادکاری شروع کی ۔ صہیونی تحریک کا بانی تھیوڈور ہرتزل تھا اور یہ ایک روحانی تحریک ہے جس کا نشان ڈیوڈ سٹار ہے ۔ حضرت داؤد اور سلیمان ؊ کے دور میں جو اسرائیلی ریاست تھی یہ اُسی کا احیاء چاہتے ہیں ۔ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر بھی ان کا خواب ہے جس میں بیٹھ کر ان کا مسایاح دنیا پر حکمرانی کرے گا ۔ صہیونی اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں ۔ مسلمان اور عیسائی بھی حضرت عیسیٰ ؈کا انتظار کر رہے ہیں جو کہ آکر دجالیت کا خاتمہ کریں گے ۔ لیکن صہیونی مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک مسلمان ناپاک ہیں جو ان کے مسایاح کو نہیں مانتے ۔
سوال:7 اکتوبر 2023ء سے لے کر اب تک 22 ماہ میں غزہ کھنڈر بن چکا ہے ، اہلِ غزہ مکمل طور پر بے گھر ہو چکے ہیں ،ا س کے باوجود بھی نیتن یاہو اعلان کر رہا ہے کہ غزہ کو مکمل طور پر خالی کروائیں گے ۔ اسرائیل کی وارکیبنٹ نے یہ قرارداد بھی پاس کرلی ہے کہ غزہ پر مکمل قبضہ کیا جائے گا ۔ کیا غزہ پر قبضہ اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے اہلِ غزہ کا بے دردی سے خون بہایا جارہا ہے اور جو مسلمان بچ گئے ہیں ان کو بھی لازمی وہاں سے نکالنا ہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: سب سے پہلے میں یہ وضاحت کردوں کہ صہیونی ریاست روحانی مشن پر ہرگز نہیں ہے بلکہ شیطانی مشن پر ہے ۔ مغربی اور صہیونی ذہنیت ہمیشہ لفظوں کے ذریعے کھیلتی ہے اور اس کووہ ری فریمنگ کہتے ہیں۔ جس طرح انہوںنے جہاد کے معنی دہشت گردی کردیے ، اسی طرح انہوں نے شیطانی مشن کو روحانی مشن قرار دے دیا ۔ یہود کے 12 قبائل میں سے شاید ہی کوئی صہیونی ہو ۔ صہیونی تحریک کے اصل کرتا دھرتا لوگ یا تو اشکنازی یہودی ہیں یا پھر وائٹ اینگلو سیکسن پروٹیسٹنٹ ہیں ۔ یہ دونوں گروہ شیطان پرست تھے ۔ ان کے مذہب کا اللہ کے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
آج تک اسرائیل کے جتنے بھی وزرائے اعظم اور صدر رہے ہیں وہ سب اشکنازی یہودی تھے ۔ عورتوں اور بچوں کا قتل عام روحانی مشن ہر گز نہیں ہو سکتاہے ۔ دراصل یہ شیطانی گروہ ہے جو پہلے بھی عورتوں اور بچوں کے سر کاٹ کر شیطان کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ جو اصل یہودی ہیں وہ آج بھی اسرائیل کے قیام کے خلاف ہیں ۔ گریٹر اسرائیل کا قیام اور اس کے ذریعے عالمی غلبہ صہیونیوں کا خواب ہے اور وہ صرف زمین ہی نہیں چاہتے بلکہ عسکری اور معاشی کنٹرول بھی چاہتے ہیں ۔ غزہ کی پٹی بحیرہ روم ، مصر اور فلسطین کے درمیان واقعہ ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اگر اسرائیل کا کنٹرول ہو جائے تو وہ یورپ ، افریقہ اور ایشاء کی تجارت اور معیشت پر اثرا انداز ہو سکتاہے ۔ اسی لیے وہ غزہ کو کھنڈر بنا کر اور وہاں سے مسلمانوں کو نکال کر اپنی پورٹس بنانا چاہتا ہے ۔ تاہم ایک بات یادرکھیں کہ اسرائیل خدا نہیں ہے کہ جو کچھ وہ چاہیے گا وہی ہوگا ۔ وہ خودکو AIکا خدا کہتا تھا لیکن سارا دعویٰ حالیہ جنگوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اس وقت حماس کی موجودگی اس کے لیے نفسیاتی صدمے کا باعث بن چکی ہے ۔ حماس کے 8 ہزار مجاھدین نے دنیا کی چوتھی بڑی عسکری طاقت کو 22 ماہ سےنکیل ڈال کر رکھی ہوئی ہے حالانکہ اس کو امریکہ اور یورپ کی طاقتیں بھی سپورٹ کر رہی ہیں ۔ اسرائیل کو نفسیاتی شکست ہو چکی ہے ۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک نے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا۔پوری دنیا میں صہیونیت کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں ۔ اہل غزہ کی قربانیوں نے فلسطین کے مسئلے کو دوبارہ دنیا میں زندہ کر دیا ہے ورنہ کئی مسلم ممالک تو اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہے تھے اور اکثر مسلم ممالک فلسطین کو بھلا چکے تھے ۔ جب تک حماس موجود ہے اور اہل غزہ موجود ہیں تب تک وہ گریٹر اسرائیل کے شیطانی ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹ بنے رہیں گے ۔ اس لیے ہم سب کو مل کر اہل غزہ کا ساتھ دینا چاہیے ۔وگرنہ غزہ کی رکاوٹ اگر دور ہوگئی تو گریٹر اسرائیل کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھے گا اور دیگر عرب ممالک بھی جنگ کی لپیٹ میں آجائیں گے ۔
سوال: پوری دنیا میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ، حتیٰ کہ یہودی بھی لاکھوں کی تعداد میںاسرائیل اور امریکہ میں نتین یاہو کے خلاف نکلے ہیں ،کیا ان سب مخالفتوں کے باوجود نتین یا ہو اپنے عزائم پر قائم رہے گا یا اس کے لیے سیاسی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ؟
آصف حمید: پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی دونوں طرف اسلحہ فروخت کرنے والے لوگ صہیونی تحریک سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ وہ گروہ ہے جو شیطانی ایجنڈے سے تعلق رکھتا ہے ، بقول ڈاکٹر اسرار احمدؒ یہ ابلیس کی نمائندہ قوم ہے ۔ اُن کا ایک اپنا منصوبہ ہے لیکن اللہ کا بھی ایک اپنا منصوبہ ہے ۔ ایک وقت تھاجب اسرائیل کے خلاف بولنے پر امریکہ میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خلاف آرٹیکل لکھا گیا تھا اور اُن پر اینٹی سیمٹزم کا الزام لگایا گیا تھا ۔ اس وقت کوئی ہولوکاسٹ کا ذکر بھی نہیں کرسکتاتھا لیکن آج پوری دنیا میں صہیونیت کے خلاف نفرت اُبھر کر سامنے آرہی ہے، یہی احادیث میں ہے ایک وقت آئے گا کہ پتھر اور درخت بھی یہودیوں کے خلاف گواہی دیں گے اور مسلمانوں سے کہیں گے کہ میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہے اس کو قتل کرو ۔ آج کئی ممالک بھی اسرائیل کے خلا ف بول رہے ہیں۔ صہیونیوں کا جو شیطانی ایجنڈا ہے اس کو وہ پورا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ ہی کامیاب ہوگا اور دجال کا یہ سارا لشکر دجال سمیت جہنم واصل ہو گا ۔ ان شاء اللہ
سوال: اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے عزائم خطرناک ہیں اوراس کے اقدامات سےپوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتاہے ، ان حالات میں مسلم اُمہ اور عالمی برادری کو کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ؟
مصطفیٰ کمال پاشا:اسرائیل نے کہہ دیا ہے کہ غزہ کے مسلمان مصر میں جاکر آباد ہو جائیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ غزہ پر ہر صورت قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ کامنصوبہ ہے ۔ جیسا کہ اس نے قرآن میں فرمایا :
’’اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمادے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(آل عمران :140)
ہلاکوخان کے ذریعے مسلمانوں کو جس تباہی کا سامنا ہوا، اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمان بداعمالیوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ پھر اُنہی تاتاریوں میں سے کچھ لوگ اُٹھے اور انہوں نے خلافت عثمانیہ قائم کی ۔ پھر عربوں نے غداری کرکے خلافت عثمانیہ کو ختم کیا تو اب انہیں سزا مل رہی ہے ۔
سوال:لیکن اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے کہ اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب ہوگااور احادیث میں بھی اس کی پیشین گوئیاں ہیں ، گریٹر اسرائیل کا منصوبہ تو اس کے خلاف ہے، پھر اللہ کیوں چاہے گا کہ صہیونی غالب ہو جائیں ؟
آصف حمید: روشنی کم ہوگی تو اندھیرا بڑھے گا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے :
{وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(139)} (آل عمران)’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘
آج ہم دنیا میں ذلیل و خوار ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم حقیقی مومن نہیں ہیں ۔ بے عمل اور بدعمل مسلمان ہیں۔ سارے غلط کام کرنے کے باوجود بھی ہم یہ توقع رکھیں کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی تو یہ ہماری غلط فہمی ہے ۔ اس وقت ہم ان کے ہی سودی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں ، ہمارا سیاسی نظام بھی ان کی تقلید کر رہا ہے ، معاشرت کے لحاظ سے بھی ہم ان کی تہذیب اپنا رہے ہیں ۔ لہٰذا ہماری ان غلطیوں کی سزا تو بہرحال ہمیں ملے گی ضرور ۔
مصطفیٰ کمال پاشا: پاکستان اس وقت واحد اسلامی ملک ہے جو ایک فوجی طاقت رکھتا ہےلیکن اطلاعات کے مطابق یہاں الومیناتی ایجنڈے کے مطابق تقریبات کا انعقاد بھی ہورہا ہے ۔ اگر ہم بھی شیطان کے راستے پر چلیں گے تو اللہ کی رحمتیں کیسے نازل ہوں گی ۔
سوال: اس صورت حال سے نکلنے کے لیے ہمیں کیا عملی اقدامات کرنے ہوں گے ؟
مصطفیٰ کمال پاشا:اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی ناراضگی کو ہم خوشنودی میں بدلیں تو ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ’’ بنیان مرصوص‘‘ بن کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہ پہلا کام ہے جو ہمیں کرنا چاہیے ۔ دوسرا اقدام جو ہمیں لازماً کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمیں حماس کو ہر صورت میں بچانا ہوگا کیونکہ حماس آخری چٹان ہے جس کے بعد اسرائیل کی جنگ دوسرے مسلم ممالک سے شروع ہو جائے گی ۔ نیتن یاہو کہہ چکا ہے کہ اس کے بعد پاکستان کا نمبر بھی آئے گا ۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ 1971ء کی جنگ میں جنرل جیکب کی صورت میں اسرائیل ملوث رہا ۔ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ میں بھی اسرائیل کا اسلحہ اور ٹیکنالوجی پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی ۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ ہم بھی صہیونی ریاست کے نشانے پر آجائیں ہمیں حماس کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تیسرا اور اہم اقدام یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو جگائیں ، ان کے اندر شعور اور ایمانی جذبہ پیدا کریں ۔ ہمارے نیشنل میڈیا پر90 فیصد وقت فضول قسم کی سیاست اور بے مقصد چیزوں پر صرف ہوتاہے ،اس کے برعکس ہمیں نیشنل میڈیا کومسلمانوں کو جگانے اور دجالی اور صہیونی فتنوں سے آگاہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیے تو بہت نقصان اٹھائیں گے ۔
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:اسرائیل کی وار کیبنٹ نے غزہ پر قبضے کا جو اجازت نامہ دیا ہے وہ غیرقانونی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حماس ختم ہونے والی نہیں ہے ۔ اسرائیل کے اپنے اخبارات کے مطابق حماس کسی جماعت کا نہیں بلکہ نظریہ کا نام ہے اور نظریہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ عارضی طور پر تو ہو سکتاہے مگر یہ مستقل نہیں ہوگا ۔ فلسطین کی سرزمین ہمیشہ سے فلسطینیوں کی رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ہلاکوخان کے ذریعے اگر تباہی ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں کی اپنی غلطیاں تھیں ، ان کو ہم غزہ کے مسلمانوںسے نہیں ملا سکتے ۔ غزہ میں جتنے بھی مجاہدین شہید ہورہے ہیں ،اکثر حافظ قرآن تھے ، وہ بدکردار نہ تھے ۔عربوں کی بدکرداری کی سزا غزہ کے مسلمانوں کوکیسے دی جا سکتی ہے ۔ وہ سچے مسلمان ہیں اور اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں ۔ دوسری طرف صہیونی شیطانی نظام کو قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس شیطانی نظام میں رکاوٹ بننے کے لیے پوری دنیا کے مسلمان پہلا کام یہ کریں کہ اسرائیل نواز کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والے ممالک کی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کریں ۔ اب یہ جنگ ہمیں دفاعی انداز میں نہیں بلکہ جارحانہ لڑنے کا وقت ہے ۔ جہاں جہاں صہیونی یا اسرائیلی مفادات ہیں ان کو زک پہنچائیں ۔ خدانخواستہ اگر غزہ کے مسلمانوں کو وہاں سے نکال بھی دیا جاتاہے تو وہ پوری دنیا میں جائیں گے اور اسرائیل کے خلاف نفرت اور جنگ پوری دنیا میں پھیلے گی ۔
سوال: نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس خطے کا یعنی خاص طور پر ارض فلسطین کا مستقبل کیا ہے؟
آصف حمید:فلسطین کی سرزمین وہ خطہ ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا :
{الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ}(بنی اسرائیل:1) ’’جس کے ماحول کو ہم نے با برکت بنایا‘‘
یہاں سے اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ معراج پر گئے اور کم و بیش سوالاکھ انبیاء کرام ؑ کی امامت فرمائی ۔ قبلہ اوّل بھی وہیں پر ہے ۔ اسی سرزمین پر حضرت ابراہیم ؑ نے قیام فرمایا ۔ کئی لحاظ سے یہ سرزمین بابرکت ہے ۔ احادیث کے مطابق آخری زمانے میں حق و باطل کے درمیان معرکہ بھی اسی سرزمین پر ہوگا ۔ لہٰذا اس سرزمین کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ حماس سمیت جو لوگ حق و باطل کے معرکہ میں قربانیاں پیش کر رہے ہیں وہ عظیم اجر کے مستحق ہیں ۔ لیکن باقی امت کا احوال انتہائی افسوسناک ہے اور اسی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی ہے ۔ان حالات میں بھی جبکہ پاکستان اورپوری اُمت سخت آزمائش میں ہے ، پاکستان میں ایک ایسی مووی آن ایئر کرنے کی بات ہورہی ہے جس میں شیطا نی ایجنڈے کو پروموٹ کیا جائے گا ۔ اسی طرح کی تقریبات بھی منعقد کی جارہی ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ ہماری انتظامیہ بھی اس شیطانی ایجنڈے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی ۔ پھر یہ کہ پورنوگرافک بلاسفیمی میں ملوث لوگوں کو بچانے کے لیے بھی ایک طبقہ سرگرم ہے۔ ہمارا یہ منافقانہ طرزعمل اللہ تعالیٰ کے شدید عذابوں کو دعوت دینے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق و باطل کے درمیان فرقان عطا فرمائے اور ہم اس معرکہ کی تیاری کریں جو احادیث کے مطابق شروع ہونے والا ہے۔
حضرت مہدیؒ جب آئیں گے تو ان کے ساتھ وہ لوگ شامل ہوں گے جو جذبے اور ایمان والے ہوں گے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید بھی حاصل ہوگی اور کچھ نشانیاں بھی حاصل ہوں گی ۔مثلاً ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر شام سے نکلے گا مگر وہ زمین میں دھنس جائے گا۔ حدیث میں ذکر ہے کہ : میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے بچا لیا ہے ۔ ان میں سے ایک وہ ہوگا جو ہند کے خلاف لڑے گا اور دوسرا وہ ہے جو عیسیٰ ابن مریم ؑکا ساتھ دے گا ۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس جنگ میں کہاں کھڑے ہیں ۔ ہم اپنی نسلوں کو کس کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار کر رہے ہیں ؟وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے کہ جب بڑی جنگ شروع ہوگی ۔
1990ء میں جب ڈاکٹر اسراراحمدؒ یہ حالات و واقعات بیان کرتے تھے تو لوگ یقین نہیں کرتے تھے لیکن آج وہی حالات سامنے نظر آرہے ہیں مگر اس کے باوجو د بھی کچھ لوگ غفلت میں ہیں اور کچھ ایسے بھی بدبخت ہیں جو اسرائیل کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی جو صہیونی ایجنڈے کو سپورٹ کرتاہے وہ غزہ کے معصوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے ۔