(خصوصی رپورٹ) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

11 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صورت حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

 
l قابض اسرائیلی افواج نے تادم تحریر جنگ بندی کی 80 سے زائد مصدقہ سنگین   خلاف ورزیاں کرتے ہوئےغزہ کے مختلف علاقوں پر سفاک فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں 97 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔یہ حملے اس وقت کیے گئے جب القسام بریگیڈز نے واضح کر دیا تھا کہ ان کا رفح کے مشرقی علاقے میں پیش آنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں، جس میں دو صہیونی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ قابض طیاروں نے مشرقی غزہ شہر کے التفاح محلے میں بھی حملے کیے ۔ اسی دوران وسطی غزہ کے الزوایده   علاقے میں قابض اسرائیل کی بمباری میں صحافیوں کی قیام گاہ پر بھی حملہ ہوا جس میں pmp میڈیا کمپنی سے تعلق رکھنے والے دو صحافی شہید ہو گئے۔ یادرہے کہ 10 اکتوبر2025ء کو قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد صرف دس دنوں میں قابض اسرائیل نے 47 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس میں 38 فلسطینی شہید اور 143 زخمی ہوئے، جو عالمی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
l غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ7اکتوبر2023ء سے قابض اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 68 ہزار 116  ہو گئی ہے۔ ان میں وہ 120 شہداء بھی شامل ہیں جن کا اندراج کمیٹی برائے شہداء و لاپتہ افراد کی عدالتی رپورٹ میں مکمل کیا جا چکا ہے۔10 اکتوبر2025ء کو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے بعد سے قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے چار مراحل میں 135 شہداء کی لاشیں وزارتِ صحت کے حوالے کی گئی ہیں، جنہیں دشمن فوج نے  نسل کشی کے دوران قبضے میں لے لیا تھا۔
l   غزہ میں محکمہ آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر نکاسی آب کے سنگین بحران کو حل نہ کیا گیا تو پورے غزہ شہر کے کئی علاقے تباہ کن سیلاب سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ محکمہ آبی وسائل نے اقوام متحدہ اور متعلقہ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر پانی کے شعبے کے لیے ضروری سازوسامان، بجلی کے جنریٹرز اور پرزہ جات غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دیں تاکہ مکمل طور پر تباہ شدہ آبی ڈھانچے کی بحالی ممکن ہو سکے۔
l عبرانی ٹی وی چینل 12 کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت نے قابض اسرائیل کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کے سابق وزیردفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ 
l غزہ کے مظلوم عوام نے قابض اسرائیل کی دو سالہ نسل کش جنگ کے دوران بمباری سے مکمل طور پر تباہ شدہ مساجد کے ملبے پرکئی ماہ کے وقفے کے بعد نمازِجمعہ ادا کی۔ واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے اب تک 835 مساجد کو زمین بوس کر دیا ہے جبکہ 180 سے زائد مساجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جن میں کئی تاریخی مساجد بھی شامل ہیں۔
 
مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں 
 
l پرتگال : نقاب پر پابندی عائد، سزا، جرمانے کا فیصلہ : پارلیمان نے عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، خلاف ورزی پر 200 سے 4 ہزار یورو تک جرمانہ ہوگا۔واضح رہے کہ یہ بل پرتگال کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت چیگا پارٹی نے پیش کیا تھا۔ جس پررائے شماری کی گئی۔حکومتی اتحاد لبرل جماعتوں اور شیگا پارٹی کے 60 اراکین نے بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ بائیں بازو کی جماعتوں اور کمیونسٹ ارکان نے مخالفت کی۔پارلیمان سے منظوری کے بعد اب یہ بل صدر کے پاس توثیق کے لیے جائے گا۔ مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا بل کو ویٹو کرسکتے ہیں یا نظرثانی کے لیے آئینی عدالت میں بھیج سکتے ہیں۔
l بنگلہ دیش:شیخ حسینہ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ: بنگلہ دیش کے پبلک پراسیکیوٹر تاج الاسلام نےعدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مفرور سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت دی جائے کیونکہ شیخ حسینہ ایک تجربہ کار مجرم ہیں جسے اپنی درندگی پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوا، ان کا واحد مقصد مستقل طور پر اقتدار میں رہنا تھا۔واضح رہے کہ شیخ حسینہ پر 2024ء میں ہونے والے مظاہروں کو دبانے کا حکم دینے کا الزام ہے۔ 
l قطر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی: پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر شدید جھڑپوں سے شروع ہونے والی جنگ افغانستان کی چوکی پر پاکستانی قبضے کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطر اور ترکی کی ثالثی کے نتیجہ میں ختم ہوگئی۔ مذاکرات میں طے پایا کہ دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بندی کریں گے اور ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہیں کریں گے، دوسرے ملک کے خلاف حملے کرنے والی تنظیموں کی حمایت نہیں کریں گے اور جنگ بندی کے نفاذ کے لیے مستقبل میں نگران میکانزم بنائیں گے۔
l یمن:حوثی فوج کے چیف اسرائیلی حملے میں جاں بحق: یمن کے حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے چیف آف سٹاف محمد عبد الکریم الغماری اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اگرچہ حوثیوں نے ان کی ہلاکت کا براہ راست الزام اسرائیل پر عائد نہیں کیا، تاہم بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا تصادم ختم نہیں ہوا اور اسے اپنے جرائم کی سزا ضرور ملے گی جبکہ اسرائیل نے عبدالکریم الغماری پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ 
l ایران:جوہری معاہدہ ختم ہوتے ہی پابندیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا: ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے اختتام پر جوہری پروگرام پر پابندیاں بھی ختم ہو چکی ہیں، ایران سفارت کاری کے لیے پُرعزم ہے ۔واضح رہے کہ ایران کا امریکہ سمیت چھ ملکوں سے دس سالہ معاہدہ 2015ء میں ہوا تھا ۔
ایران : اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو پھانسی :  اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ پراسیکیوٹر کاظم موسوی نے بتایاہے کہ مجرم صہیونی حکومت کی خفیہ سروسز سے رابطے میں تھا ، اس نے موساد افسران سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔واضح رہے کہ ایران اب تک کئی اسرائیلی جاسوسوں کو پھانسی دے چکا ہے۔