(الہدیٰ) حقیقت ِشرک کو سمجھانے کے لیے عام فہم مثال - ادارہ

11 /
الہدیٰ
 
حقیقت ِشرک کو سمجھانے کے لیے عام فہم مثال
 
 
آیت 28 {ضَرَبَ لَکُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ط} ’’وہ تمہارے لیے خود تمہارے اندر سے ایک مثال بیان کرتا ہے۔‘‘
{ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآئَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ}’’بھلا وہ (غلام اور لونڈیاں) جو 
تمہاری ملکیت ہیں کیا اُن میں سے کچھ شریک بن جاتے ہیں اُس مال و اسباب میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے‘ اس طرح کہ (وہ اور) تم برابر ہو جائو؟‘‘
ظاہر ہے کوئی آقا اپنے کسی غلام کو کبھی بھی اپنی ملکیت اور اپنی جائیداد میں اِس طرح تصرف کی اجازت نہیں دیتا کہ اُس کا حق اور اختیار خود اُس کے برابر ہو جائے۔ گویا یہ امر ِمحال ہے۔
{تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط} ’’اور کیا تم ان کے بارے میں ایسے خدشات رکھتے ہو جیسے خدشات خود اپنے بارے میں رکھتے ہو؟‘‘
یعنی کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے خدشات اور اندیشے تم اپنی ذات اور اپنے مال و اسباب کے بارے میں رکھتے ہو، اُن لونڈی غلاموںکے بارے میں بھی تمہیں ایسے ہی اندیشے لاحق ہوئے ہوں؟ تم لوگ اپنے آپ‘اپنی اولاد‘اپنی ملکیت کے بارے میں تو ہر وقت متفکر ّرہتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے‘ویسا نہ ہو جائے‘مگر کبھی تمہیں اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں بھی ایسی ہی سوچوں نے پریشان کیا ہے؟ 
{کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(28)}’’اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘
یعنی تم لوگ اگر کچھ بھی عقل رکھتے ہوتو تمہیں اس مثال سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جب تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے برابر بٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تو پھر تم یہ کیسے سوچ لیتے ہو کہ اللہ اپنی مخلوق کو اپنے برابر کر لے گا؟ تم لوگ خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ بڑا معبود اللہ ہی ہے اور تمہارے بنائے ہوئے شریک چھوٹے معبود ہیں تو تم چھوٹے معبودوں کے بارے میں کیسے گمان کر لیتے ہو کہ اللہ انہیں اپنے اختیارات کا مالک بنا دے گا اور اُن کی سفارش اللہ کو مجبور کر دے گی؟ تمہارے یہ من گھڑت معبود چاہے ملائکہ میںسے ہوں یا انبیاءؑ اور اولیا ء اللہ ؒ میں سے‘وہ سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور مخلوق میں سے یہ لوگ خالق کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟
 
درس حدیث
 
حضور اکرم ﷺ کی حضرت انس ؓ  کو نصیحتیں
 
عَنْ أَنَسٍ ؓ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ:((يَا أَنَسُ! أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يَزِدْ فِي عُمُرِكَ، وَسَلِّمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ يَكْثُرْ خَيْرُ بَيْتِكَ، وَسَلِّمْ عَلَى مِنْ لَقِيَكَ مِنْ أُمَّتِي تَكْثُرْ حَسَنَاتُكَ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مُتَّ شَهِيدًا، وَصَلِّ صَلَاةَ الضُّحَى فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ مِنْ قَبْلِكَ، وَصَلِّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ يَحْفَظْكَ الْحَفَظَةُ وَوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَارْحَمِ الصَّغِيرَ تَلْقَنِي غَدًا(((مسند الشھاب)
سیدنا انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’اے انس! وضو مکمل کرو تمہاری عمر میں اضافہ ہو گا، اپنے گھر والوں کو سلام کرو تمہارے گھر میں خیر و برکت بڑھے گی، میری اُمّت کے جس شخص کو بھی ملو ،اُسے سلام کرو، تمہاری نیکیاں زیادہ ہوں گی، پاکیزگی کی حالت میں ہی سو یا کرو کیونکہ اگر تم (اس حالت میں) فوت ہو گئے تو شہید فوت ہو گئے، چاشت کی نماز پڑھو کیونکہ وہ تم سے پہلے (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والوں کی نماز ہے اور دن رات نماز پڑھو      محافظ فرشتے تمہاری حفاظت کریں گے اور بڑے کی عزت کرو چھوٹے پر رحم کرو کل (روز قیامت) مجھ سے مل پاؤ گے۔‘‘(تفسیر ابن کثیر جلد3)