ادایہ
رضاء الحق
اصل کامیابی
پاکستان کی سیاست کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘‘ تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ گزشتہ 78 برس سے بڑوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔پاکستان کی سیاست اب اُس موڑ پر آچکی ہے کہ دوست اور دشمن کی پہچان بہت مشکل ہو چکی ہے ۔ ایک سیاسی کارکن جس کو اپنا رہنما اور ملک کا خیر خواہ سمجھ کر اُس کے پیچھے چل رہا ہوتا ہے کچھ دیر بعداُسے معلوم ہوتا ہےکہ وہ تو اُس کے پیچھے چل کر حقیقت سے بہت دور نکل آیا ہے مگر اُس وقت تک اُس کا واپس پلٹنا اُسے اپنی سیاسی موت نظر آتا ہے نتیجتاً وہ بادلِ نخواستہ اُس کے ساتھ چلتا رہتا ہے ۔حتیٰ کہ کئی سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی اِسی صورت حال کا شکار ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اپنے مفادات یا شماتت کے ڈر سے یہ راز اپنے سینے میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔اِس وقت یہ کہنا بھی کہ ’’سیاست صرف آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کی جانی چاہیے‘‘ کسی افسانے سے کم نہیں۔یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں نے جس انداز میں آئین پاکستان کو اپنے ہاتھوں میں کھلونا بنا رکھا ہے اُس سے ملک کو نقصان ہی پہنچا ہے۔
معاشی سطح پہ بھی حالت کچھ مختلف نہیں۔گزشتہ78برس کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان جب بھی ترقی کرتا ہوا کسی خاص مقام پر پہنچتا ہے تو کچھ سیاستدان عوام میں مقبول نعرے لے کر میدان میں آجاتے ہیں اور ملک کم ازکم 20 سال پیچھے چلا جاتا ہے۔1947ء سے لے کر آج تک کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے اور اُس تاریخ کو دہرا کر صفحات سیاہ کرنا لاحاصل ہے۔موجودہ حکومت کی پالیساں کچھ ایسی ہیں کہ اُن میں یہ بات ڈھونڈنا پڑتی ہے کہ ان سے پاکستان یا پاکستانی عوام کو کیا فائدہ پہنچا؟
گزشتہ حکومت جو اب اپوزیشن میںہے،اُس نے نااہل اور ناانصاف ہونے کے کئی ریکارڈ توڑ ڈالےتھے۔آج یہ حال ہے کہ اگر حکومت کے سو میں سے دس نمبر بھی آجائیں تومیڈیا پر اُس کو ایک سو دس نمبر دے دئیے جاتے ہیں۔ عوام روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کررہے ہیں اور شاید آئندہ بھی کرتے رہیں مگر ملک کی بقا اور امن وامان ہی اگر نہ ہو تو پھر دو دو چپڑ یاں بھی بے کار ہوجاتی ہیں۔ہماری قوم اور خاص طور پرہماری نوجوان نسل کایہ المیہ ہے کہ اُنہیں پاکستان اور ملت اسلامیہ کے اصل مسائل اور حقائق سے جان بوجھ کر مخفی رکھا گیا ہے۔
حال ہی میں International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کی غالباً جولائی2025ءکی 186صفحات پر مشتمل رپورٹ برائے پاکستان (Governance and Corruption Diagnostic Assessment) (GCDA) پیش کی گئی، جسے معاشی ترقی کی دعوے دار اُجلی اور دُھلی ہوئی حکومت نے تین ماہ تک چھپائے رکھا اور پھر آئی ایم ایف کی دھمکی پر کہ اگر رپورٹ عام نہ کی گئی تو آئندہ قرض نہیں ملے گا، مجبوراََ جاری کرنا پڑا۔ رپورٹ کیا ہے ملک کے طاقتور طبقوں بشمول سول حکومت اور مقتدر حلقوں پر فردِ جرم سے کم نہیں۔
رپورٹ کےاہم نکات درج ذیل ہیں:
گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں بدعنوانی ’’مستقل اورمہلک‘‘ ہے؛ عام خدمت سے لے کر ریاستی ملکیت والی صنعتیں اور سرکاری ٹھیکے سب متاثر ہیں اور سب سے زیادہ نقصان دہ وہ کرپشن ہے جو ’’ اشرافیہ‘‘ سرکاری شعبوں اور معیشت سے متعلق اداروںپر قبضے کے ذریعے کرتی ہے۔
رپورٹ میں عدالتی نظام، نگرانی کرنے والے اداروں، ٹیکس اور پبلک پروکیورمنٹ کے شعبوں میں شفافیت کی شدید کمی کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ قانونی فریم ورک اور ذِمّہ داریوں کی تقسیم اتنی پیچیدہ اور غیر مؤثر ہے کہ بدعنوانی پکڑنا اور اس کا تدارک کرنا مشکل ہے۔ جس کا شاخسانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مملکت جس کی شرحِ نمو صرف پانچ برس میں 5 تا 6 فیصد تک بہتر ہو سکتی ہے، بدعنوانی اور گورننس کی خرابی کے باعث ایک فیصد سے بھی کم رہتی ہے، حتیٰ کہ کبھی منفی میں جا گرتی ہے۔
آئی ایم ایف نے خاص طور پر دس ایسے شعبہ جات اور ریاستی اداروں کی نشاندہی کی ہے جو ’’ جوکھم بھرے‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں ،یعنی وہ ادارے جہاں کرپشن کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ اُن اداروں میں احتساب، ٹیکس کو جمع کرنا ( FBR)، مالیاتی نگرانی (بنک دولت پاکستان، SECP )اور مارکیٹ ریگولیشن(مثلاً مسابقتی کمیشن) وغیرہ کے شعبے شامل ہیں۔ صرف دو مثالیں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔سونے جیسی قیمتی دھات، جس سے اللہ تعالیٰ نے ملک کو بہت نوازا ہے، کی 90 فیصد سے زیادہ تجارت غیر رسمی چینلز اور طریقوں سے ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان زیادہ تر درآمدی سونے پر انحصار کرتا ہے۔اِسی طرح ملک کی مالی پالیسی (Fiscal Policy)کا بڑے پیمانے پر انحصار بالواسطہ ٹیکسوں پر ہے، جس کا فوری اور لازمی منفی اثر کم آمدن والے گھرانوں پر ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میںٹیکس کےنظام کی پیچیدگیاں، سرکاری اخراجات و مالیاتی انتظام میں شفافیت کا نہ ہونا، عوامی ٹھیکوں کا بحیثیت رشوت استعمال اور ریاستی اداروں کی نگرانی کا فقدان بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے۔
مستزاد یہ کہ پاکستان میں کرپشن کا’’اصل حجم اور حقیقی مقدار‘‘ معلوم کرنے کا طریقہ کارہی موجود نہیں بلکہ سرکاری محکمے رشوت، کالے دھن (منی لانڈرنگ)، غیر قانونی ٹھیکوں اور دیگرمالی بدعنوانیوں میں اشرافیہ کے دست و بازو بن چکے ہیں ۔
نام نہاد احتساب و نگرانی کرنے والے اداروں جیسےنیب (NAB)، ایس ای سی پی (SECP) اور مسابقتی کمیشن(CCP Pakistan) کو ملک کی اشرافیہ نے یرغمال بنا رکھا ہے، جنہیں وہ اپنے حریفوں (سیاسی اور معاشی) کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے اور اِنہی ذرائع سے غریب اور متوسط طبقہ کا خون بھی نچوڑتی ہے۔ ملکی آمدنی اکٹھا کرنے والے اداروں کے سربراہان کی تقرری سیاسی اثر و رسوخ سے ہوتی ہے اور آج تک میرٹ اور شفاف اصولوں پر نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مالیاتی سیکٹر بھی انتہائی بوسیدہ ہو چکا ہے۔ کالے دھن (منی لانڈرنگ ) کا راج ہے۔نظامِ عدل و انصاف اِس حد تک لاغر کر دیا گیا ہے کہ عوامی وسائل کے غلط استعمال، سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ اور مالی بے ضابطگیوں پر کسی کو کٹہرے میں لانے کے بھی قابل نہیں، جرم کی سزا دینا تو دور کی بات ہے۔
جب بدعنوانی عام اور ادارہ جاتی شفافیت ناپیدہوگی، تو عوام سرکاری اداروں اور عدلیہ پر اعتماد کیونکر کریں گے۔ کاروباری طبقہ ( غیر ملکی و ملکی) بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے قبل سوبار سوچےگا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کئی بڑے اور معروف کاروباری نام اپنی کمپنیاں اور فیکٹریاں پاکستان سے بند کر کے بنگلہ دیش اور اس جیسے دیگر ممالک میں منتقل کر چکے ہیں۔
اگرچہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اصلاحات کا ایک 15 نکاتی ایجنڈا تجویز کیا گیا ہے ،لیکن ہمیں اِس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ خرابی اور اس کی جڑ سب کے سامنے ہے۔ اس کو جاننے کے لیے کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں۔
ٹریڈنگ اکنامکس کی ویب سائٹ کے مطابق 4 دسمبر 2025ء کے اشاریوں کے مطابق پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 280 تا 283 کے درمیان قدرے مستحکم ہے اور افراطِ زر کی شرح تین سال قبل کی 38فیصد سے کم ہو کر اب 6.1 فیصد ہے۔ البتہ معیشت کے دوسرے اشاریوں کو دیکھیں تو حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ تجارتی خسارہ 803 ارب روپے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 59.4 کروڑ ڈالر (جو ملکی پیداوار کا 0.5فیصدہے) تک جاپہنچے ہیں۔ حکومتی بجٹ خسارہ ملکی پیداوار کا 6.8 فیصد ہے۔ بے روزگاری بے لگام ہو کر تقریباً 5.5 فیصد کو چھو رہی ہے۔ حکومتی قرض کا شرح نمو سے تناسب 80 فیصد ہے اور پاکستان80.5 کھرب روپے کا مقروض ہے، جس میں ایک بڑا حصّہ واجب الادا سود پر مشتمل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سودی قرضوں نے پاکستان کو گہری کھائی کے دہانے لاکھڑا کیا ہے ،لیکن حکومت ہو یا ریاستی ادارے، کوئی اس لعنت سے نجات حاصل کرنے کو تیار نہیں۔رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو قائم ہونے والا پاکستان جو اپنا مطلب لا الٰہ الا اللہ بتاتا ہے سودی معیشت کی جکڑ بندی میں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ سودی لین دین اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا بدترین استحصال ہے، اُن کے حقوق پر ڈاکہ ہے جو باہمی نفرت اور دشمنی کا موجب بنتا ہے۔
آخر میں ہم یہ کہنے سے ہرگز نہیں ہچکچائیں گے کہ اگرحکومت، مقتدر حلقے، عدلیہ، علماء کرام ، دینی جماعتوں اور عوام الناس نے سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اپنا تن من دھن نہ لگایا تو اللہ رب العزت کا قہر اور غضب نازل ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺکے خلاف جنگ کا اس کے علاوہ اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ آیئے، اسلام کا نظام عدل اجتماعی آزما کر دیکھیں۔معیشت سے سود، کرپشن، اقرباء پروری اور اشرافیہ کے اللےتللے ختم کرنے کے لیے کمر کس لیں۔ شاید نہیں یقیناً وہ دنیا جس کے پیچھے ہم خوار ہو رہے ہیں وہ بھی ہمارےقدموں تلے آئے گی اور آخرت کی کامیابی بھی حاصل ہو گی ،ان شاء اللہ ! وہی اصل کامیابی ہے۔