آسان نکاح:حیا ، اقدار اور ایمان کی حفاظت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے27نومبر 2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
گزشتہ خطاب جمعہ نکاح کو آسان بنانے کے حوالے سے شریعت کے جو تقاضے ہیں اور ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس حوالے سے جو اصلاحی تحریک چلائی تھی ، اس کا ذکر ہوا تھا، اسی تسلسل میںآج کچھ اور باتیں بھی عرض کرنا مقصود ہیں ۔ خاص طور پرآج کل سوشل میڈیا پر عدالت کے ایک فیصلے کی بازگشت ہے جس میں ایک جج صاحب نے اسلامی معاشرت کا حوالہ دیا ہے ، اس پر بھی کلام ہوگا ۔ علاوہ ازیں IMFکی رپورٹ ، مسجد اقصیٰ اور غزہ کے مسائل بھی زیر بحث آئیں گے ۔ ان شاء اللہ !
حیا کی حفاظت اور زنا کی روک تھام
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط}(الملک:14) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
جس خالق نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اُس سے بڑھ کر کون جان سکتاہے کہ کون چیز مخلوق کے فائدے میں ہے اور کونسی اُس کے لیے نقصان دہ ہے۔ انسانی عقل بہرحال محدود ہے اور اس میں بڑی خطائیں بھی ہوتی ہیں، غلطیاں بھی ہوتی ہیںاور جب بھی نظام کوفقط انسانی عقل کے مطابق استوار کیا جائے گاتو لا محالہ اس کے نتائج انسانی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے، جیسا کہ آج ہو بھی رہے ہیں۔ اسی لیے وحی کی اہمیت ہے ۔ وحی کی تعلیم وہ ہے جوہمارے انفرادی اور اجتماعی معاملات کے لیے خالق نے عطا فرمائی، اپنے پیغمبروں کے ذریعے تعلیم فرمائی اور قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے ۔ اس پر عمل پیرا ہونے میں ہی انسانیت کی بھلائی اور خیر پوشیدہ ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ دین ِاسلام کو مکمل فرمانے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اللہ کی نعمت قراردیتے ہیں ۔ فرمایا :{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْـنَـکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَـکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْـنًاط}(المائدہ :3)
’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے‘اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا ‘اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین‘کے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل دین عطا فرما کر انسانیت کو بہت بڑی نعمت سے سرفراز فرمایا ۔ اگر انسانی معاشرے اس دین کومکمل طور پر اپنا لیں تو امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائیں لیکن انسان اپنی کم علمی اور محدود عقل کے باعث کبھی کبھی اس فطری دین کے خلاف شکوہ شکایت کرنے لگتا ہے اور بعض اوقات کفریہ کلمات تک زبان پر آجاتے ہیں ۔ جیسا کہ سیکولر طبقہ کی جانب سے اکثر یہ کہا جاتاہے کہ سود کے بغیر تو ہمارا معاشی نظام چل ہی نہیں سکتا ، سود کو کیوں منع کیا گیا ، شراب پر پابندی کیوں لگائی گئی ، پردے کا حکم کیوں دیا گیا ، اگر پردہ کریںگے تومعاشرے میں مسائل کا سامنا ہوگا ۔ اسی بات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط}کیا اللہ کو نہیں پتہ کہ مخلوق کےلیے کونسی چیز فائدہ مند ہے اور کونسی نقصان دہ ہے ؟ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے بہت بڑی نعمت بنایا ہے ،انسان اپنی کم عقلی کے باعث اُسے اپنے لیے زحمت سمجھنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی کوشش کرتاہے ۔ اس کا نتیجہ پھر معاشروں کی اُس تباہی کی صورت میں نکلتا ہے جس کا سامنا آج اکثر معاشروں کو ہے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَـکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْـنًاط}اللہ تعالیٰ اسلام کو بطور دین پسند کرتا ہے ۔ اسلام انگریزی والا Religion نہیں ہے، مسیحت ،یہودیت ، بدھ مت، جین مت وغیرہ مذہب ہو سکتے ہیں لیکن اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں کے لیے رہنمائی دیتاہے ۔ سورۃ الاحزاب میں فرمایا:
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الاحزاب:21) ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
ہمارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں اس مکمل دین کا نمونہ موجود ہے ۔ نکاح بھی آپ ﷺ کی ایک اہم سنت ہے جس کے طریقہ کار اور تقاضوں پر گزشتہ خطاب جمعہ میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے ۔ اگر مسنون طریقے سے نکاح کو رواج دیا جائے گا تو کئی فرسودہ رسومات سے بھی جان چھوٹ جائے گی ، ہم نے اپنے لیے خود پہاڑ جیسے بوجھ بنا رکھے ہیں اُن سے بھی نجات ملے گی اور کئی گردنیں طوق سے آزاد ہو جائیں گے ، اس کے علاوہ نکاح کو آسان بنایا جائے گا تو معاشرے میں حیا ، عصمت اقدار کی حفاظت بھی ممکن ہو جائے گی ۔ حیا کی حفاظت ہوگی تو ایمان کی تکمیل بھی ممکن ہوگی اوراپنے گھروں اور اپنی نسلوں کے مستقبل کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا ۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں نکاح کو مشکل بنا دیا گیا ہے ، وہاں نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے ، جیساکہ جاپان ، فرانس اور دیگر کئی ممالک میں بوڑھوں کی اکثریت ہے اور نوجوان نسل ناپید ہورہی ہے۔ قومیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہیں کہ اپنے معاشرے کو کیسے بچائیں ۔ آج2025 ءمیںہم کہاں کھڑے ہیں ؟اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ نکاح کو مشکل بنانے کے نتیجے میں آج ہمارا معاشرہ ، دینی اقدار ، حیا اور ایمان بھی خطرے میں پڑ چکا ہے ۔ کب تک شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دے کر بیٹھے رہیں گے؟
کراچی کے بعض تعلیمی اداروں کے ذِمّہ داران اور طلبہ جو کچھ بتاتے ہیں وہ بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑانے لگتی ہے ۔ ایک مشہور پرائیویٹ یونیورسٹی کے بی ایس کمپیوٹر سائنس کے طالب علم نے بتایا کہ کلاس میں 21 طلبہ ہیں ، اُن میں سے 18 ڈپریشن کا شکار ہیں اور ان میں سے اکثریت مخلوط ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والے نفسیاتی کیفیت کی وجہ سے اس حالت کو پہنچی ہے ۔ جب ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جس میں حیا اور پردہ نہ رہے تو پھر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ نسلوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ کراچی کے شہر میں ہی وہ واقعہ بھی رونما ہوا جس کی بازگشت پوری دنیا کے میڈیا پر سنائی دی گئی ۔ 9ویں جماعت کے طالب علم نے پہلے اپنی کلاس فیلو کو گولی مار کر قتل کیا اور پھر اپنی جان بھی لے لی ۔ اسی طرح گھر سے بھاگ کر شادی کرنے اور کورٹ میرج کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے اور اس کے منفی اثرات کی وجہ سے زندگیاں تباہ ہورہی ہیں ، ایک بار جو لڑکی گھر کی دہلیز کو پار کر جاتی ہے تو پھر معاشرے میں اُس کو وہ عزت نہیں ملتی اور اس وجہ سے بھی نفسیاتی مسائل، خودکشی اور قتل جیسے مسائل سامنے آتے ہیں جیسا کہ آج کل بھی سوشل میڈیا پر مشہور کیسز کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پھر اسی مخلوط ماحول کی وجہ سے منشیات کا استعمال بھی نوجوان نسل میں بڑھ رہا ہے ، کیونکہ پردہ ، حجاب اور حیا جیسے فطری اسلامی اصولوں سے بغاوت کی جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ انسانی المیوں کی صورت میں سامنے آئے گا اور سکون کے لیے منشیات اور شراب کا سہارا لیا جاتاہے اور اِس طرح نوجوان نسل تباہ و برباد ہو رہی ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب نکاح کے مسنون عمل کو مشکل بنایا جائے گا تو پھر حیا اور ایمان جاتا رہے گا ، عزتیں برباد ہوں گے ،زنا اور نفسیاتی مسائل بڑھیں گے اور نوبت قتل و غارت اور بربادی تک پہنچے گی ۔ فقہاء نے دین کا ایک بنیادی اصول بیان کیا ہے جس کو سد ذرائع کہتے ہیں۔’’سد‘‘دیوار کو کہتے ہیں ۔ سد ِذرائع کا مطلب ہے وہ تمام راستے بند کر دئیے جائیں جو انسان کوبے حیائی ، معصیت ، حرام اور زنا کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن پاک میں صرف زنا سے نہیں منع کیا گیا بلکہ زناکی طرف لے جانے والے تمام ذرائع کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی}(بنی اسرائیل:32) ’’اور زنا کے قریب بھی مت جائو‘‘
یعنی وہ تمام ذرائع جو بالآخر اس جرم تک لے جا سکتے ہیں ان تمام پر اللہ نے پابندی لگائی ہے ۔ اللہ کی شریعت کی تعلیم جرم کے ہو جانے کے بعد متحرک نہیں ہوتی۔ یہ تو انسان کا قانون ہے کہ جرم ہو جانے کے بعد قانون حرکت میں آتا ہے ۔ شریعت کی تعلیم تو جرائم کی جڑ کو ہی ختم کرنے کی بات کرتی ہے۔ یہ دین فطرت کا بہت پیار اصول ہے۔ زنا جیسے گھناؤنے جرم کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے کئی احکامات عطا کیےجن کا بڑا مقصد حیا ، ابرواور ایمان ، گھروں ، نسلوں اور معاشروں کی حفاظت ہے تاکہ معاشروں کو گندگی کا ڈھیر بنانے سے بچایا جا سکے ، نسل انسانی آگے بڑھے اور پُر وقار معاشرت وجود میں آئے ۔ مشہور حدیث ہے : اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : حیا اور ایمان دونوںلازم اور ملزوم ہیں ۔ اگر ایک چلا جائے تو دوسرا بھی چلا جائے گا۔ یعنی حیا چلی جائے گی تو ایمان بھی چلا جائے گا۔حیا اور ایمان کو بچانے کے لیے دین نے پردے اور حجاب کو لازم قرار دیا ہے اور مخلوط ماحول کی نفی کی ہے ۔ سورہ نور کی آیات30 اور 31 میں اللہ تعالیٰ نے پہلے مردوں کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے ، پھر عورتوں کو اور اس کے بعد گھروں کے اندر پردے اور حجاب کے تقاضے اور لباس کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح سورۃ الاحزاب کی آیت 32 میں کہا گیا ہے کہ کسی خاتون کو کسی غیر مرد سےبامر مجبوری گفتگو کرناپڑ جائے تو اس انداز میں کرے کہ کوئی لہجے اور الفاظ میں ایسی نرمی نہ ہو کہ سامنے والے کے دل میں کوئی بُرا ارادہ یا بُرے جذبات جنم لے سکیں ۔ اسی سورت کی آیت 33 میں فرمایا کہ عورت کی اصل ذِمّہ داری گھر کی چار دیواری کے اندر ہے۔ یعنی عورت کا اصل مقام گھر کے اندر ہے ۔ ا ولاد کی اچھی طرح سے تربیت کرنا بہت اہم ذِمّہ داری ہے اور ابتدائی طور پر یہ ذِمّہ داری گھر میں رہ کر عورت کر سکتی ہے جبکہ مرد کے ذمے گھر سے باہر کی ذِمّہ داریاں دی گئیں ۔ پھر اسی سورت کی آیت 53 میں صحابہ کرامj کو حکم دیا گیا کہ:
{فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ط} (الاحزاب:53) ’’ تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔‘‘
اس میں پوری اُمت کے لیے یہ حکم ہے کہ اگر کسی غیر محرم خاتوں سے کوئی جائز بات کرنی ہو تو پردے کے پیچھے رہ کر کریں ۔ اس آیت میں باقاعدہ طور پر حجاب کا حکم ہے ۔ انبیاء کے بعد پاکیزہ ترین جماعت صحابہؓ کی تھی ، اگر ان کے لیےغیر محرم خواتین سے حجاب کے پیچھے سے بات کرنا لازم قرار پایا تو باقی اُمتیوں کو کس قدر اہتمام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اسی طرح سورہ احزاب کی آیت 59 میںحکم آیا کہ :
’’اے نبی(ﷺ)! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ ‘‘
جلباب اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جو اس طرح ڈھانپ لے کہ بندہ پہچانا نہ جائے ۔ گھر سے باہر جب کسی خاتون کو جانا ہو تو اس کے لیے جلباب کا اوڑھنا لازمی ہے۔اس قدر واضح احکامات کے باوجود بھی اگر جن لوگوں کو پردے اور حجاب کی فرضیت کا علم نہیں تو اُن کی حالت پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے ۔ اسی طرح سورہ نور کی آیت 31 میں محرم اور نامحرم کے درمیان فرق بتایا گیا ۔ ان کے الگ الگ تقاضے بھی قرآن میں بیان ہوئے ۔ یہاں تک حکم آیا کہ چھوٹے بچے جب بڑے ہو جائیں توپردے کے احکامات لاگو ہوں ، گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا پڑے گی۔اسی طرح زنا کا ایک اور ذریعہ نشہ ہے ، جیسا کہ شراب وغیرہ ۔ بعض مسلم ممالک سمیت جن ممالک میں شراب کا دھندہ عام ہو رہا ہے وہاں زنا اور فحاشی بھی اُسی قدر بڑھ رہی ہے ۔ سود بہت بڑا جرم ہے لیکن سود کے معاملے کے تعلق سے چار افراد(لینے اور دینے والا ، لکھنے اور گواہ بننے والا) پر لعنت کی گئی ۔عجیب بات ہے کہ شراب کے تعلق سے دس قسم کے افراد(مثلاً شراب کشید کرنے والا ، پیک کرنے والا ، بیچنے والا ، سپلائی کرنے والا ، پلانے والااور پینے والا وغیرہ ) پر لعنت کی گئی ۔ اس پر سزا کا ذکر بھی ہمیں تفصیل سے ملتا ہے۔اسی طرح رقص و سرود کی محافل پر بھی اسلام پابندی لگاتاہے ، موسیقی اور گانے بجانے کے تمام معاملات کو حرام قرار دیتا ہے ۔ ان میں فلمیں، ڈرامے وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ ان کو دیکھ کر انسان کے اندر سے حیا جاتی رہتی ہے اور جب حیا جاتی ہے تو حدیث کے مطابق ایمان بھی چلا جاتاہے ۔ پھر اس کے نتائج وہی نکلتے ہیں جن کا آج معاشرے کو سامنا ہے ۔ اسی طرح غیر محرم مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ دائرہ کار اسلام نے معین کیا ہے اورمخلوط ماحول میں دونوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کی ہے ۔ خواتین اگر مسجد میں نماز ادا کرنے آئیں گی تو اُن کے لیے الگ جگہ ہوگی تاکہ مردوں اور عورتوں کے درمیان پردہ رہے ۔ بدقسمتی سے آج مغربی تہذیب کو اس قدر سر پر چڑھا لیا گیا ہے کہ اسلام کی یہ سنہری تعلیمات اجنبی لگنے لگی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت کے ایک فیصلے میں جج صاحب نے اسلامی معاشرت اور شرعی مسائل کا ذکر کیا اس کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر شور اُٹھ رہا ہے کہ تمہارا کام فیصلہ سنانا ہے، تبلیغ کرنا نہیں۔ حالانکہ اسلامی معاشرت میں قاضی فیصلہ دیتے تھے تو لوگوں کی اصلاح کے لیے اخلاقی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے تھے ۔
شریعت نے معاشرتی جرائم پر سزائیں بھی مقرر کی ہیں جیسا کہ غیر شادی شدہ مردو عورت اگر زنا کریں تو انہیں 100 کوڑے مارے جائیں گے۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کریں تو دونوں کو رجم کیا جائے گا جس میں پتھر مار مار کر زانی کو ہلاک کیا جاتاہے ۔ اسی طرح شرابی اور سود خور کے لیے بھی سزائیں مقرر ہیں ۔ یہ سب سزائیں اِس لیے دی جاتی ہیں تاکہ ان جرائم کی روک تھام ہو سکے جو معاشرے ، گھروں اور زندگیوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی انسانوں کا ہی فائدہ ہے ۔ اگر سخت سزاؤں کی وجہ سے لوگ ایسے جرائم سے رُک جاتے ہیں تو ان کی حیا اور ایمان بھی محفوظ رہیں گے ، ایمان محفوظ رہے گاتو آخرت کی دائمی کامیابی کے مواقع بھی میسر ہوں گے ۔ بصورت دیگر دنیا و آخرت دونوں برباد ہو سکتی ہیں ۔
اسلام کےان فطری اصولوں کو جب منبر و محراب سے بیان کیا جاتاہے تو مغرب زدہ طبقہ اس کے خلاف چیختا چلاتا ہے کہ یہ کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں ، آج ماڈرن دور ہے ، جس کے تقاضےاور ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن جب اسلام کے ان فطری اصولوں کو توڑنے کی وجہ سے ایسے حادثات رونما ہوتے ہیںکہ جن میں کسی کی عزت جاتی ہے ، کسی کا قتل ہوتا ہے ، کوئی خود کشی کرتاہے تو پھر یہی طبقہ شورمچاتاہے کہ ظلم ہوگیا ۔ حالانکہ اصل ظلم تو یہی طبقہ کر رہا ہے جو اسلام کے فطری اصولوں کی مخالفت کرتا ہے اور مادر پدر آزاد مغربی معاشرت کو پروموٹ کرتاہے جس کے نتیجے میں یہ سارے جرائم ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حیا ایمان گھرانوں اور نسلوں کی حفاظت فرمائے۔آمین
غزہ کا معاملہ
ٹرمپ نے دباؤ ڈال کر سکیورٹی کونسل میں قرارداد منظور کروا لی۔ ہمارے لیے شرم کا مقام ہے کہ پاکستان نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی ہے ۔ فلسطینیوں سے کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ان کے فیصلے دنیا بیٹھ کر کر رہی ہے ۔ قراردادکے مطابق فلسطین میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس بنائی جائے گی جس میں پاکستان کی فوج بھی حصہ لے گی ۔ انا للہ و اناالیہ راجعون ! ابراہم اکارڈ کو بھی سائن کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ اسرائیل کی ناجائز اور قابض ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ حالانکہ پاکستان کی اسرائیل کے حوالے سے آفیشل پالیسی قائداعظم کے دور سے ہی واضح تھی جس کے مطابق اسرائیل ایک ناجائز اور قابض ریاست ہے ، اس کو تسلیم کرنے کا مطلب ظلم کو تسلیم کرنا ہے ۔ آج قائداعظم کی اِس پالیسی کو پاؤں تلے روندنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ظالم اور غاصب صہیونیوں کی صف میں کھڑے ہونے جارہے ہیں جن کا مقصد مسجد اقصیٰ کو گرا کر تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرنا ہے ۔ بین الاقوامی استحکام فورس کا ایک مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا بھی ہوگا ۔ حالانکہ حماس کو غیر مسلح کرنا ایسا ہی ہے جیسے بوسنیا میں مسلمانوں کو غیر مسلح کیا گیا تھا اور پھر ان سب کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا تھا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے سامنے جھکنے کی بجائے اُمت کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں ۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کی حفاظت کے لیے کھڑا ہونا چاہیے ۔ یہ اس اُمّت کا فرض تھا ، اس سے منہ موڑ کر آخرت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین !