سوشل میڈیا اور اس کے خطرات
مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی
آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور روز بروز بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص کی دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ ہزاروں ویب سائٹس ہیں جو عریانی و فحاشی پر مشتمل مواد اور ویڈیوز نشر کرتی ہیں۔ بے شمار Apps ایسی ہیں جن کے ذریعے بیرونی ایجنسیاں ہماری جاسوسی کرتی ہیں۔ ان حالات میں اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ لوگوں کو آگاہی دی جائے اور ان کی رہنمائی کی جائے کہ صرف اور صرف ناگزیر ضروریات کے لیے اِسے کیسے استعمال کیا جائے۔
اسلام ایک نظریاتی دین ہے۔ جب تک کسی عمل کے پیچھے کوئی نظریہ یا عقیدہ کارفرما نہ ہو تو وہ عمل بے مقصد اور لایعنی کوشش کہلاتا ہے۔ عموماً کسی بھی عمل کی بنیاد کوئی نہ کوئی فکر ہوتی ہے اور یہی عمل جب منظم اور اجتماعی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اُسے تحریک کہتے ہیں۔ لہٰذا عمل اور تحریک کے لیے عقیدہ اور فکر کی تصحیح اور تطہیر مسلّم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے پہلے عقیدہ اور فکر کی اصلاح پر زور دیا اور بعد میں عمل پر، کیونکہ اگر عقیدہ اور نظریہ درست ہوگا تو عمل بھی صحیح رُخ پر ہوگا، اور اگر فکر اور عقیدہ ہی میں بگاڑ ہوا تو عمل فاسد شمار ہوگا۔ پس انٹرنیٹ کے بارے میں بھی ہمیں اپنی سوچ اور فکر کو درست کرنا ہوگا۔
انٹرنیٹ کے بارے میں لوگوں کے درج ذیل مختلف نظریات ہیں:
٭ یہ فی نفسہٖ ایک خیر کا آلہ ہے اور اس سے دنیا میں بہت بڑا خیر وجود میں آیا ہے۔
٭ ایک رائے یہ ہے کہ یہ ایک مجرّد شے ہے جو فی نفسہٖ خیر و شر سے پاک ہے۔ یعنی یہ نہ خیر کا آلہ ہے نہ شر کا۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔ چاہے تو خیر کے لیے استعمال کر لیں اور چاہے تو شر کے لیے استعمال کر لیں۔
٭ ایک رائے یہ بھی ہے کہ فی نفسہٖ خیر یا شر تو نہیں ہے، البتہ شر کے لیے اس آلہ کے کثرتِ استعمال کی وجہ سے اس پر شر کا آلہ ہونے کا اطلاق ہوتا ہے۔ البتہ اس سے خیر کا کام لینے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ اس کے ذریعہ خیر کو پھیلا کر شر کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
٭ چوتھی رائے یہ ہے کہ انٹرنیٹ سمیت سائنس کی زیادہ تر ایجادات فی نفسہٖ شر ہیں کیونکہ ان ایجادات کی پیداوار ایک خاص فکر، عقیدہ، تہذیب، عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور ذہنیت کی بنیاد پر ہے، لہٰذا ان سائنسی ایجادات سے خیر کی کوئی توقع کرنا عبث اور بیکار ہے۔
ان میں سے ہر رائے اپنے پیچھے مضبوط دلائل رکھتی ہے، البتہ تیسری رائے زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ 20ویں صدی کے آغاز تک سائنسی ایجادات کے پس منظر میں انسانی ضرورت کا پہلو غالب رہا ہے۔19ویں صدی کے اختتام تک یہ ایجادات انسانی ضروریات کے تقریباً ہر پہلو کو محیط تھیں۔ اس کے بعد انسان نے ایک قدم آگے بڑھ کر آسائش کی خاطر ایجادات کی طرف توجہ دی۔ اس تمام عرصے میں ضروریات اور آسائش کے ساتھ ساتھ جنگ کے لیے اسلحہ کو بھی جدید سے جدید تربنانے کی کوششیں جا ری رہیں۔1970 ءکی دہائی کے بعد ان ایجادات میں عالمی سرمایہ دارانہ ذہنیت، سیکولر سوچ اور جاہلی تہذیب وتمدن کی نشر و اشاعت، لذت اور مغربی تہذیب کی ترویج کا پہلو غالب ہو گیا اور انہی بنیادوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایجادات پر ایجادات ہونے لگیں۔
انٹرنیٹ بھی درحقیقت تیسرے دور کی ایجادات ہے، اور ابتدا میں اس کو فوجی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس کی ایجاد کے پس منظر میں خیر و شر کا کوئی تصور موجود نہ تھا، پھر بھی یہ بات بہرحال مسلّم ہے کہ آج اس آلہ کو بے حیائی، عریانی، فحاشی، لچرپن، مادر پدر آزادی ،لبرل ازم ، سیکولرازم ، ٹرانس جینڈر جیسے نظریات اور مغربی تہذیب کی نشر و اشاعت کے لیے ابلیس اور اس کی ایجنٹوں کی باقاعدہ سرپرستی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
چنانچہ انٹرنیٹ پر بیٹھے ہوئے انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ وہ آگ کے ایک انگارہ پر بیٹھا ہوا ہے جو کسی بھی لمحے بھڑک کر اس کے ایمان کو جلا سکتا ہے۔ مال اور اولاد میں خیر کا پہلو بہت حد تک غالب ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ان کو ’’فتنہ‘‘ کہا ہے، جبکہ انٹرنیٹ میں تو ویسے ہی شر کا پہلو غالب ہے، لہٰذا اس کے فتنہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔پس ہمیں اس فتنے کی خرابیوں سے بچتے ہوئے اسے استعمال کرنا ہے۔
حفاظتی حصار کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال
ایک بندۂ مومن کو اس کے استعمال سے پہلے اپنے گرد شیطان سے ایک حفاظتی حصار کھینچ لینا چاہیے۔
جب قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے{فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (98)} (النحل)’’تو جب آپ قرآن پڑھیں تو اللہ کی پناہ طلب کر لیجیے شیطان مردود سے ۔‘‘ تو موبائل جیسے آلات کے استعمال سے پہلے تو اللہ سے پناہ طلب کرنے کی بدرجہا زیادہ ضرورت ہے۔ لہٰذا ہمیں موبائل ، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کے استعمال سے پہلے ’’اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ‘‘پڑھ لینا چاہیے۔ علاوہ ازیں شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کے لیے دئیے گئے مسنون اذکار کا ورد کرتے ہوئے اس کو استعمال کریں، مثلاً:
أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
’’میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کی ہر اس مخلوق کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے۔ ‘‘
یا أعُوْذُ بِاللهِ السّمَيْعِ العَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، مِنْ هَمْزِهٖ وَنَفْخِهٖ ونَفْثِهٖ
’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے، شیطان رجیم سے اور اس کے پھونک مارنے ، پھسلادینے اور اس کے برے وسوسے ڈالنے سے۔‘‘
یا المعوّذتین(سورۃ الفلق اورالناس) یا آیتُ الکرسی وغیرہ۔
علاوہ ازیں وضو کر کے انٹرنیٹ پر بیٹھنا چاہیے۔ ویسے تو انسان کو ہر وقت ہی باوضو رہنا چاہیے، لیکن اگر مجبوری میں شر کے مقامات پر جانا پڑے تو باوضو رہنے سے انسان کو بہت قوت ملتی ہے۔
وقت کی حدود اور ہدف کا تعین
ضرورت کے تحت استعمال میں بھی بعض اوقات انسان کے بہک جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے استعمال سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ ہم اس وقت انٹرنیٹ کیوں استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ہم کتنی دیر تک اس کو استعمال کریں گے۔ ہمارا یہ پختہ ارادہ ہونا چاہئے کہ ہم انٹرنیٹ پر اپنا ضروری کام ختم کرتے ہی اسے بند کر دیں گے۔
بعض اوقات ہم دعوت و تبلیغ کی نیت سے چیٹنگ شروع کرتے ہیں کہ اچانک کوئی Ad یا کسی ویڈیو کا لنک ہمارے سامنے آجاتا ہے اور ہم اُسے بے دھیانی یا تجسس میں کھول لیتے ہیں اور پھر کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔ بیٹھے تو ہم تھے دعوت و تبلیغ کی نیت سے، لیکن دو گھنٹے کے بعد کچھ فضول سی ویڈیوز دیکھ کر اٹھے۔لہٰذا ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال سے پہلے وقت کی حدود اور ہدف کے تعین کو یقینی بنا لینا چاہیے۔
سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بہت بڑا باعث ہے۔
ایک عام شخص جسے کسی نے ای میل نہیں بھیجنی اور نہ ہی اسے کسی کو ای میل بھیجنے کی ضرورت ہے، اس نے بھی اپنا ای میل ایڈریس ، فیس بک اور ٹویٹر پر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے اور موبائل پر اُن سب سے رابطہ میں رہ کر وقت ضائع کرتا رہتا ہے۔ بے شمار لوگ ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر ڈالتے رہتے ہیں۔ کئی ایک واٹس اپ گروپ کے ممبر ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر براؤزنگ اگر کسی ہدف اور مقصد کے تحت ہو تو اِس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر بلاوجہ ہو تو بعض اوقات ایک اخبار کے کالم سے شروع ہوتی ہے اور کسی فحش ویب سائٹ پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ پھر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسلامی اصطلاحات کے نام پر شرکیہ ویب سائٹس بھی قائم کی جا رہی ہیں۔قادیانیوں نے اپنی دعوت کے لیے ویب سائیٹس بنائی ہوئی ہیں اور ہم خواہی نخواہی ان کو دیکھتے ہیں اور بعض اوقات متاثر بھی ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ نے ’’اصول ِفقہ ‘‘ کے نام سے گوگل میں سرچ کیا اور اس نام سے بنی ہوئی کسی ویب سائٹ پر کلک کیا تو وہ شر پر مبنی ویب سائٹ نکلی۔
لہٰذا کسی نیک ہدف کے تحت براؤزنگ کرتے ہوئے بھی اگر کوئی غلط ویب سائٹ کھل جائے تو اسے فوراً بند کر دیں۔ اگرچہ یہ کام اتنا آسان نہیں، لیکن اگر درج ذیل آیات ذہن نشین ہوں تو شاید بہت حد تک آسان ہو جائے:
{وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ ج}(الانعام:151)’’اور تم بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ چاہے وہ کھلے ہوں یا پوشیدہ۔‘‘
یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ بے حیائی کے کام نہ کرو بلکہ فرمایا گیا ہے کہ بے حیائی کے قریب بھی مت پھٹکو۔
یعنی جو اس کے قریب گیا تو اس کا معاملہ ایسا ہے جیسے وہ اس میں مبتلا ہوگیا۔
ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: {قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ}(الاعراف:33)’’ کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو حرام قرار دیا ہے، بےحیائی کی باتوں کو خواہ وہ اعلانیہ ہوں اور خواہ چھپی ہوئی ہوں۔‘‘
انٹرنیٹ کا نشہ یا احتیاج
کسی چیز کے کثرتِ استعمال سے انسان اُس کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ انٹرنیٹ کا بھی ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم خود کو انٹرنیٹ کم سے کم استعمال کرنے والا بنائیں۔بعض لوگ انٹرنیٹ پر کام کرنے کے اِس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اس کے بغیر ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔اگر کبھی عارضی طور پر انٹرنیٹ بند ہو جائے تو وہ بے چینی، اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔انٹرنیٹ ایک استعمال کی شے ہے، اسے اسی حیثیت میں رکھنا چاہیے، نہ کہ ہم اسے ضروریاتِ زندگی کا درجہ دے دیں۔
بعض اوقات ہم ’’تفریح‘‘ اور ’’انٹرٹینمنٹ‘‘ کے نام سے بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً انٹرنیٹ پر کوئی ویڈیو گیم کھیلنے بیٹھ گئے۔ یہ بھی وقت کا ضیاع ہے جو شرعاً جائز نہیں۔ انٹرنیٹ پر بے شمار ایسی گیمز موجود ہیں جن میں دوسروں کو ہلاک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے یا ان میں عریانی و فحاشی بھی ایک لازمی عنصر کے طور پر موجود ہوتی ہے۔یہاں تک کہ ٹام اینڈ جیری کے کارٹونز اور دوسری کارٹون سیریز میں بھی بعض اوقات فحش قسم کے مناظر ہوتے ہیں۔
احتیاط اور تحمل
سوشل میڈیا پر اس وقت بہت سے مذہبی حلقوں نے بھی اپنے اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔ روزانہ کئی ای میلز اور میسجز ہزاروں افراد کو فارورڈ کیے جاتے ہیں۔کسی بھی میسج یا ای میل کو فارورڈ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں ہمیں اطمینان کر لینا چاہیے کہ یہ بات یا حدیث درست ہے، ورنہ کسی جھوٹی بات کو فارورڈ کرنے کی وجہ سے ہم بھی جھوٹ میں برابر کے شریک ہو جائیں گے۔
نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
((كَفٰى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُّحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ) (صحیح مسلم)’’ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔‘‘
یوٹیوب اس جھوٹ کی بہت بڑی مثال ہے جس میں ہر فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف زہر افشانی پر مبنی ویڈیوز upload کرتا ہے اور لوگ انہیں بلا تحقیق فارورڈ کرتے جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ کسی کی تقریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر کلپس بنا کر آگے پھیلا دئیے جاتے ہیں۔ AI کے ذیعے کلپس/ ویڈیوز بنا کر شئیر کی جاتی ہیں جن پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ قرآن مجید ہمیں کسی بھی خبر کو آگے نقل کرنے سے پہلے تحقیق کا حکم دیتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌ م بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓااَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا م بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ(6)} (الحجرات: 6)
’’ اے اہل ِایمان ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص کوئی بڑی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کرلیا کرو مبادا کہ تم جا پڑو کسی قوم پر نادانی میں اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ ‘‘
لہٰذا کسی بھی بات کو آگے فارورڈ کرنے سے پہلے اس کی صحت کی تصدیق ضروری ہے۔ انٹرنیٹ کے استعمال کے ضمن میں آخری ہدایت جو ہم سب کو پیش نظر رکھنی چاہیے وہ ہمارا دینی فریضہ ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ ہے۔ اگر ہم سب دینی فکر رکھنے والے لوگ اور ہمارے تمام مذہبی طبقات ان تمام سازشی یہود و نصاریٰ، مشرکین، دہریوں اور سیکولر لوگوں کے خلاف متحد ہو کر تحریک چلائیں تو انٹرنیٹ کی سطح پر بہت کچھ مثبت کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی حکومت کو اِس بات پر مجبور کرنا چاہیے کہ وہ تمام مخربِ اخلاق Apps اور ویب سائٹس پر پابندی لگائے۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر مخربِ اخلاق ویب سائٹس پر پابندی لگانے کی کوئی تحریک نہ چلائی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے معاشرے میں بھی بے حیائی اور فحاشی اس قدر عام ہو جائے گی جس قدر آج مغربی معاشروں میں دیکھنے میں آرہی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین!