(زمانہ گواہ ہے) ’’نور مقدم کیس میں سیکولر بیانیہ کی شکست ‘‘ - محمد رفیق چودھری

11 /

قرآن پاک میں تو زنا کی طرف لے جانےو الے ذرائع کو بھی

حرام قرار دے کر اُن کا راستہ روکا گیا ہے چہ جائکہ غیر محرم

کے ساتھ رہنے کا معاملہ ہو :رضاء الحق

ہمارے دیسی لبرلز اور سیکولرز کی اُٹھان احساس برتری پر

نہیں بلکہ احساس کمتری پر ہے لہٰذا وہ مغرب کی

تعفن زدہ تہذیب کے داعی ہیں :قیصر احمد راجہ

’’نور مقدم کیس میں سیکولر بیانیہ کی شکست ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:  نور مقدم کیس میں جسٹس علی باقر نجفی صاحب نے جو اضافی نوٹ لکھا ہے اس پر پاکستان کا لبرل، سیکولر اورفیمینسٹ طبقہ اتنا برہم کیوں ہے؟ 
قیصر احمد راجہ: اس معاملے کے دو پہلو ہیں ۔ ایک تو یہ کہ نور مقدم کا قتل نکاح کے بغیر اکٹھے رہنے کی وجہ سے ہوا ہے ، اگر کیس کا بنیادی عنصر یہی ہوتا تو پھراس کو  اضافی نوٹ میں نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ فیصلےکےمتن میں  ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن چونکہ کیس کا بنیادی عنصر قتل تھا لہٰذا جو اضافی نوٹ لکھا گیا وہ بظاہر خلاف واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن جس طبقے کا آپ نے نام لیا وہ اعتراض اس وجہ سے نہیں کر رہا بلکہ وہ کہتا کہ جج کا کام فیصلہ دینا ہے اخلاقی درس دینا ہرگز نہیں ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی طبقہ نکاح کے بغیر مرد اور عورت کے ایک ساتھ رہنے کو جائز تسلیم کرلے ،معاشرے میں زنا عام ہو جائے ، گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا تصور عام ہو جائے تو پھر جو بھی اس ناجائز تعلق کے خلاف بات کرے گا تواُس پر تنقید ہوگی ۔ بدقسمتی سے ہمارے دیسی لبرلز اور سیکولرز کی اُٹھان احساس برتری پر نہیں بلکہ احساس کمتری پر ہے کیونکہ انہوں نے اپنے مذہب اور اپنی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی پیروی شروع کرلی ہے ۔ لہٰذا ان کی مجبوری بن گئی ہے کہ جو بھی اس مغربی کلچر کے خلاف بات کرے گا، وہ اس پر تنقید کریں گے ۔ اسی لیے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جج کا کام اخلاقی درس دینا نہیں ہے ۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی شیطانی تہذیب کے خلاف بات نہ کرے ۔ 
سوال: یہی سیکولر اور لبرل طبقہ اگر کسی ڈاکٹر کے پاس جاتاہے تو صرف دوائی نہیں لیتا بلکہ ڈاکٹر سے بیماری کی اصل وجہ بھی پوچھتا ہے کہ یہ مرض کیوںاور کیسے ہوا وغیرہ  لیکن جج اگر کسی برائی کی تشخیص کر دے جس کی وجہ سے قتل جیسے جرائم ہوتے ہیں تو وہ اس طبقہ کو قبول کیوں نہیں ہے ؟
قیصر احمد راجہ:جج کا کام ہے کہ فوجداری مقدمات میں جرم کی وجوہات پر بھی بات کرے۔جو کریمینل لاء ہے اس کو لیگل لینگویج میں مورل رول کہا جاتا ہے کیونکہ دنیا میں اخلاقیات کی عدالتیں نہیں ہوتیں، قانون کی عدالتیں ہوتی ہیں ۔قانون تب عمل میں آتا ہے جب اخلاقیات کو شکست دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً  قتل نہ کرو، زنا نہ کرو یا چوری نہ کرووغیرہ، یہ ساری قانونی باتیں نہیں ہیں ،اصل میں یہ اخلاقی باتیں ہیں ۔ جب ان اخلاقیات کے خلاف کوئی عمل کرے گاتو تب قانون حرکت میں آئے گا ۔ لہٰذا جج اگر اخلاقی بات کہتا ہے تو وہ اپنے کام کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ معاشرے ہمیشہ آراء کی بنیاد پر تعمیر ہوتے ہیں ۔ رائے دینے والا جتنا بڑا انسان ہوگا اُتنا ہی اس کی رائے معاشرے پر اثرا نداز ہوگی ۔ اسی وجہ سے عدالتوں کے جو فیصلے ہوتے ہیں ان کے بھی دو حصے ہوتے ہیں : ایک میں فیصلہ ہوتا ہے اور دوسرے میں ججز کی ضمنی آراء ہوتی ہیں ۔ لہٰذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ججز تبصرہ نہیں کرسکتے ان کی مت ماری ہوئی ہے ۔ جج کا تبصرہ اگرچہ فیصلے کا حصہ نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود اس کی اہمیت ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا بلکہ اس پر آرٹیکلز لکھے جاتے ہیں ،کتابوں میں حوالے دیے جاتے ہیں ۔ ان تبصروں سے ذہن سازی ہوتی ہے اورمعاشرے پراثر پڑتا ہے ۔ان سیکولرز سے کوئی پوچھے کہ جب جسٹس منصور علی شاہ نے پیمرا بمقابلہ ARY کیس میں زنا اور ہم جنس پرستی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ یہ چیزیں معاشرے میں ہوتی ہیںلہٰذا ان کو روکنا ممکن نہیں تو اس وقت آپ کہاں تھے ؟اُس وقت اس طبقہ نے کیوں نہ کہا کہ جج کا کام صرف فیصلہ دینا ہے ، تبصرہ کرنا نہیں ہے ۔ اس وقت یہ طبقہ خاموش رہاکیونکہ وہ تبصرہ ان کے مغربی ایجنڈے کی حوصلہ افزائی کرنے والا تھا۔ یہ صرف وہاں   شور مچائیں گے جہاں مغربی کلچر کے خلاف بات ہوگی ۔ 
سوال: کیا ججز کو فریقین کا کنڈکٹ زیر بحث لانے کی اجازت نہیں ہے ۔اگر جج فیصلہ سنانے کے ساتھ ساتھ کوئی نصیحت کردے تو اس میں کونسی قباحت ہے ؟
رضاء الحق:جب ہم یہ مانتے ہیں کہ پاکستان کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے تو یہاں اخلاقی اصولوں کی بنیاد بھی اسلام ہی ہونا چاہیے نہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے کلچر یا کسی طبقے کی آراء کی بنیاد پر جیسا کہ مغرب میں وقت اور شخصی آراء کے ساتھ اخلاقیات بدل جاتی ہیں ۔ اسی طرح اگر چہ تعزیرات پاکستان کا بڑا حصہ  انگریز کا دیا ہوا ہے اور اس میں بھی ترامیم ہوئی ہیں لیکن اس کے باجوود بھی ججز کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ کسی کیس کے وہ حقائق جن کی بنیاد پر فیصلہ دیا جاتاہے ، کے بارے میں تبصرہ کریں ۔ نور مقدم کیس کا فیصلہ پہلے ہوگیا تھا، اب نظر ثانی کی اپیل پر سماعت ہورہی تھی اور اس مقام پر جج یا تو سابق فیصلہ کو کالعدم قراردیتاہے یا پھر کیس کے حقائق دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس دوسری نوع کی بحث میں اکثر معروضی حقائق کے مطابق بات کی جاتی ہے اور ہمارے پاس اس کا معیار قرآن اور سنت ہے ۔ قرآن میں تو بہت واضح طو رپر زنا کی طرف لے جانے والے ذرائع کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا :
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی}(بنی اسرائیل:32)  ’’اور زنا کے قریب بھی مت جائو‘‘
  یعنی زنا تو بہت بعد کی بات ہے ، اس کی طرف لے جانے والےاسباب وذرائع سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ۔ یقیناً جب عدالت فریقین کے درمیان کوئی فیصلہ کرتی ہے توایک فریق کو غلط پاتی ہے اور دوسرے کو درست پاتی ہے ۔ ظاہر ہے جس فریق نے غلط کیا ہے تو اس غلطی کے اسباب پر بھی بات ہوگی ۔ جیسا کہ نور مقدم کیس کے پوائنٹ نمبر 10 میں جج نے اس جرم کے معاشرتی نظام پر گفتگو کی ہے اور ایک اخلاقی درس دیا ہے ۔ نور مقدم اور اس کے قاتل کے درمیان تعلق نکاح کے بغیر رہا جو کہ قرآن و سنت کے بھی خلاف ہے اور ہماری اقدار کے بھی خلاف ہے ۔ جب کوئی اقدار اور اخلاقیات کے خلاف عمل کرے گا تو اس کے منفی نتائج بھی آئیں گے۔ اب سیکولر طبقہ اسی بات پر سیخ پا ہے کہ شریعت کی بات کیوں کی گئی ۔ حالانکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین واضح طو رپر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو بھی بیان کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی ۔ لہٰذا ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اس ملک میں اللہ کا قانون ہی بالادست ہونا چاہیے ۔ جب اللہ کے قانون کے خلاف کوئی کام کیا جائے گا تو گویا وہ ہمارے قانون کے بھی خلاف ہے لہٰذا ججز کا اسلامی شریعت کی بات کرنا خلاف قانون ہرگز نہیں ہے ۔ سوال یہ ہےکہ سیکولر طبقہ صرف اسی وقت شور کیوں مچاتا ہے جب شریعت کی بات کی جاتی ہے ، جب شریعت اور اسلامی معاشرے کے خلاف بات ہوتی ہے تو تب کیوں نہیں بولتے ۔ 
سوال:نکاح کے بغیر غیر محرم مرداور عورت کا اکٹھے رہنا ، جیسا کہ نور مقدم کیس میں بھی حوالہ دیا گیا ، کیا یہ معاشرتی تقاضوں، ریاستی قانون اور شرعی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟
قیصر احمد راجہ: بالکل یہ شرعی اور قانونی لحاظ    سے جرم ہے ۔ یہاں تک کہ عوام نے بھی سیکولر طبقہ کی سوشل میڈیا پر خوب کلاس لی ہے جبکہ جج صاحب کے اضافی نوٹ کی تائید کی ہے جس کی وجہ سے سیکولر طبقہ کا منصوبہ اور بیانیہ خاک میں مل گیا ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ  ہمارے معاشرے میں اس طرح کی حرام کاری کی گنجائش نہیں ہے اور قانون بھی ہماری اخلاقی اقدار کا تحفظ چاہتا ہے ۔ سیکولر طبقہ کے خودساختہ اصولوں کی اس معاشرے میں کوئی اہمیت نہیں ۔ 
سوال:اگر جج صاحب کا اضافی نوٹ قانونی اعتبار سے درست تھا تو پھر جو لوگ اس کو متنازعہ بنا کر انتشار پھیلا رہے ہیں اُن کے خلاف توہین عدالت کا کیس نہیں بنتا ؟
قیصر احمد راجہ:جب عدالت فیصلہ سنا دے تو پھر وہ فیصلہ پبلک پراپرٹی بن جاتاہے جس پر ہر کوئی بات کر سکتا ہے ۔ البتہ ہماری معاشرتی اقدار ، ہماری شریعت اور ہمارے قانونی حقوق کی جو لوگ توہین کر رہے ہیں ان کے خلاف کیس ہو سکتاہے ۔ نور مقدم کیس میں عوام کی اکثریت یہی کہہ رہی ہے کہ جج صاحب نے ٹھیک کہا ہے ۔ لہٰذا سیکولر طبقہ سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بھی اپنا کیس ہار گیا ہے ۔ صرف سرکاری میڈیا کی حد تک ان کی بیان بازی جاری ہے ۔ قانونی لحاظ سے بھی ان کا بیانیہ غلط ہے کیونکہ دنیا کے ہر ملک میں ججز تبصرہ کرتے ہیں اور ان کو قبول بھی کیا جاتاہے ۔ ججز کے ریمارکس سے عوامی رائے عامہ بھی ہموار ہوتی ہے اور بعض اوقات اکثریتی رائے کو قانون میں بھی ڈھال لیا جاتاہے۔ ہمارے ملک میں سب سے بالاتر ہمارا ایمان اور ہمارا دین اسلام ہے ۔ اس کے خلاف ہم نہیں جاسکتے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی عمل کو برداشت کیا جاسکتاہے ۔ جج صاحب نے بھی اپنے اضافی نوٹ میں اس تقاضے کو اجاگر کیا ہے جو ہمارے شرعی قانون میں لکھا ہوا ہے ۔ 
سوال: پاکستان میں پایا جانے والا لبرل اور سیکولر طبقہ پاکستان کی کل آبادی کا کتنے فیصد ہے اور ان کی بات کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے ؟
رضاء الحق: درست پرسنٹیج تو شاید نکالنا مشکل ہو لیکن  اہم بات یہ ہےکہ یہ طبقہ بہت تھوڑی تعداد میں ہے ۔ شاید 2 فیصد سے بھی کم ہو ، گاؤں میں تو ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے البتہ بڑے شہروں میں چونکہ ریاستی میڈیا ان کی آواز بن جاتاہے اس لیے یہ اپنا وجود ثابت کرنے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں۔ دراصل مین سٹریم میڈیا بھی مغربی ایجنڈے کو ہی پروموٹ کرتاہے ۔ 1979ء میں جب CEDAWکا قانون آیا تو اُس کے بعد مغربی ایجنڈے کے تحت پے در پے کانفرنس ہوئیں ۔ پہلے نیروبی میں کانفرنس ہوئی ، اس کے بعد قاہرہ کانفرنس ہوئی ، پھر بیجنگ اور بیجنگ + کانفرنسز ہوئیں ۔ ان تمام کانفرنسز کا مقصد عورت کو مکمل اور مادر پدر آزادی دلوانا تھا۔ حالانکہ اسلام نے جو آزادی عورت کو دی تھی وہ قدرت کے فطری نظام کے عین مطابق ہے ۔ اس میں عورت کی عزت ، حیا اور وقار کا تحفظ کیا جاتاہے لیکن مغرب نے عورت کو جو آزادی دی اس نے عورت کا بازار کی چیز بنا دیا ۔ پھر مغربی ایجنڈے نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یوگیا کاٹا پرنسپلز کے تحت LGBT اور پھر LGBTQ+جیسے    بے حیائی پر مبنی اصناف کو متعارف کروایا جس کے ذریعے  ہم جنس پرستی کے شیطانی ایجنڈے کو فروغ دیا گیا۔ حالانکہ یہ سب غیر فطری چیزیں ہیں جنہوں نے مغربی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور اب اسی ایجنڈے کے تحت ہماری معاشرت کو بھی تباہ کیا جارہا ہے ، ہمارا سیکولر طبقہ چونکہ اس مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اس لیے مین سٹریم میڈیا پر اس کو موقع دیا جاتاہے ۔ چونکہ ہماری اشرافیہ بھی مغرب نواز ہے اس لیے وہاں سے بھی اس ایجنڈے کو مدد مل جاتی ہے جیساکہ پرویز مشرف نے بیک جنبش قلم قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 30 فیصد نشستیں مقرر کردیں ۔ حالانکہ کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اسی طرح 2018ء میںگھریلو تشدد کے نام پر جو قوانین بنانے کی کوشش کی گئی وہ بھی مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے تھی۔ حالانکہ جسمانی ، معاشی ، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کوئی تشریح بھی نہیں کی گئی ۔ اس کا مطلب ہے کہ بیوی بھی اگر ان میں سے کوئی جھوٹا الزام شوہر پر لگائے گی تو شوہر کو گرفتار کرلیا جائےگا ۔ دراصل مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے طبقہ کے بیانیہ کو زیادہ اسی لیے پھیلایا جاتاہے تاکہ ہمارے معاشروں  میں وہ اپنی مرضی کی رائے عامہ ہموار کر سکیں ۔ سعودی عرب میں بھی محمد بن سلیمان اسی ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آج سے 1400 سال پہلے بتا دیا ہے کہ شیطان بے حیائی اور برائی کی طرف ہی بلاتاہے ۔آج سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع سے اسی شیطانی تہذیب کو پھیلایا جارہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ہمارے ہاں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ۔حالانکہ مغرب میں بھی اس شیطانی ایجنڈے کے خلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں ۔ مغرب کے کئی بڑے رہنما اب عوام کو یہ تلقین کرتے نظر آتے ہیں کہ شادیاں کرو ، گھر بساؤ ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے ۔ ظاہر اگر نکاح نہیں ہوں گے ، گھر نہیں بسیں گے تو پھر جو نتائج سامنے آئیں گے وہ تباہ کن ہوں گے ۔ 
سوال:نور مقدم کیس میں ایک رائے یہ دی جا رہی ہے کہمقتولہ کے کردار پر سوال اُٹھانا انصاف کے قتل کے برابر ہے۔ کیا آپ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں؟
قیصر احمد راجہ:اگر ایک خاتون ایسا کام کرتی ہے جس کی اس معاشرے میں گنجائش نہیں۔ یعنی بغیر نکاح کے ایک مرد کے ساتھ رہ رہی ہے اور وہ قتل ہو جاتی ہے۔ کیا جج کا یہ کام ہے کہ وہ صرف اس قتل کی بات کرے؟    یا اس کا یہ کام ہے کہ پورے کیس کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات بھی بتائے کہ وہ بھی ایک جرم کر رہی تھی۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اگر وہ قتل ہو گئی ہے تو اس کا جرم زیر بحث نہیںلایا جائے گا۔ اگر آپ گھر کو تالا نہ لگا کر جائیں اور چور چوری کر کے چلا جائے اور کوئی آدمی یہ کہے کہ اگر آپ نے تالا لگایا ہوتا تو شاید یہ نقصان نہ ہوتا تو اس آدمی کی یہ بات بالکل جائزہے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ جس کا نقصان ہوا ہے اُس پر الزام لگایا جارہا ہے اور چور کی تائید کی جارہی ہے ۔ اسی طرح نور مقدم کا قتل اپنی جگہ ایک جرم ہے لیکن نور مقدم بغیر نکاح کے قاتل کے ساتھ جو زندگی گزار رہی تھی وہ بھی غلط تھا ۔ جب اس طرح کا تجزیہ عدلیہ کی سطح پر کیا جاتاہے تو باقی نوجوان نسل کو بھی ایک سبق   ملتا ہے ۔ نور مقدم کیس میں جج صاحب نے اضافی نوٹ لکھ کر بہت اچھا کیا ہے ۔ اب سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے ، آرٹیکلز لکھے جائیں گے ۔ ہزاروں بچیوں تک یہ حقائق پہنچیں گے اور ان کو سبق ملے گا کہ غیر اخلاقی اور غیر فطری زندگی گزارنے کا کتنا نقصان ہے ۔ جبکہ سیکولر طبقہ نوجوان نسل کو یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ بھلے تم قتل ہو جاؤ لیکن غیر فطری راستہ ٹھیک ہے ۔ اس طبقہ کے اسی شرپسندانہ بیانیہ کی وجہ سے آج ہماری یونیورسٹیوں میں بچیوں کی زندگیاں برباد ہورہی ہیں ،ریپ اور زنا کی شرع بڑھ گئی ہے ۔ نوجوان نسل نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہی ہے۔
1934ء میں 80 معاشروں پر ایک سٹڈی کی گئی کہ معاشرے اور تہذبیں تباہ کیسے ہوتی ہیں ؟نتائج میں ایک بڑی وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ جہاں حرام کاری عام ہوجائے وہ سوسائٹی برباد ہوجاتی ہے، جن معاشروں میں شادی اور خاندان کے ادارے مضبوط ہوں وہ مشکل سے مشکل حالات سے بھی گزر جاتے ہیں لیکن برباد نہیں ہوتے ۔ اگر ہم نے اپنے معاشرے کو 5 سو سال ، ہزار سال یا 2ہزار سال تک زندہ رکھنا ہے تو حرام کاری کا راستہ روکنا ہوگا اور گھر ، شادی اور خاندان کے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ 
سوال:اگر کسی حقیقی اسلامی ریاست میں ’’لیونگ ٹوگیدر‘‘  جیسے بےہودہ طرز زندگی کے حامی لوگ ہوں تو ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا؟
رضاء الحق: اگرکوئی جرم ہوتا ہے تو اس کے کچھ اسباب اور عوامل بھی ہوتے ہیں ۔ اسلام دین فطرت ہے ، وہ جرم کی سزا مقرر کرتاہے لیکن جرم کے اسباب اور عوامل کا بھی راستہ روکتا ہے ۔ جیسا کہ غیر محرم مرداور عورت کو ایک ساتھ رہنے اور کام کرنے سے منع کرتاہے ۔غیر محرم عورت کو  پردے اور حجاب کا حکم دیتا ہے، مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتاہے اور بے حیائی سے روکتا ہے۔ جہاں  ان اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی تو وہاں لازماً جرائم بڑھیں گے ۔ کسی بھی حقیقی اسلامی معاشرے میں ان چیزوں کو بالکل بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔
ہمیں بھی چاہیے کہ حالیہ بحث کو مزید پھیلائیں اور عوام تک اسلام کے فطری پیغام کو پہنچائیں ۔ ہمارے معاشرے میں اس غیر فطری تعلق کے خلاف سوچ اور ردعمل موجود ہے ، ہمارا آئین اور قانون بھی ہماری اقدار کو تحفظ دیتاہے ۔ لہٰذا ہمیں کھل کر سیکولر ز ، لبرلز اور فیمینزم کے حامی لوگوں سے مکالمہ کرنا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ سیکولرازم کا بیسک پریمس ہے ؟اس کی مختلف شکلیں کیا ؟  فیمینزم کیا ہے؟ کہاں سے آغاز ہوا، کیوں ہوا؟ لبرل ازم کیا تھا ؟ جان لاک، تھامس ہبز کون تھے؟ وہ لوگ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے ۔ وہ بھی بس بغیر سوچے سمجھے اور تحقیق کیے مغربی ایجنڈے کو فالو کر رہے ہیں ۔ ان کے دل میں ایک خواہش ہےمغرب کی طرح یہاں بھی مادر پدر آزادی ہو ۔ اسلام ان شیطانی حربوں پر قدغن لگاتاہے ۔ یہ لوگ قدغن پسند نہیں کرتے۔ اس لیے وہ اسلام کی بھی مخالفت کرتے ہیں ۔ 
سوال:مغربی معاشرت کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے پاکستانی معاشرہ کو اسلامائز کرنے کے لیے ہمیں کیا اقدامات کرنے ہوں گے؟
قیصر احمد راجہ: آج ہم مغرب کے پیچھے بھاگ رہیں لیکن مغرب خود کہاں جارہا ہے ، یہ بھی ہمیں دیکھنا چاہیے ۔ بھارت ہندو ازم کی طرف جارہا ہے ،کنزرویٹیو عیسائیت کی طرف جارہے ہیں ، ہمیں مسلمان ہوتے ہوئے اسلام کی طرف کیوں نہیں جانا چاہیے ۔ہمارے ہاں ایک ذہن سازی کی گئی کہ اسلام کی مخالفت کرو گے تو مغرب سرپرہاتھ رکھے گا جبکہ آج امریکہ سمیت ہر ملک میں سب سے پہلے اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ لہٰذا ہمیں بھی اب صرف اپنی طرف دیکھنا ہوگا ۔ ہمارے لیے جو سمجھنے کی چیز ہے، وہ اسلامی سیاست ، عدالت اور معیشت ہے ۔ اللہ کو صرف نماز ، روزہ ، چاہیے ہوتا تو اس کے لیے فرشتے کافی تھے ، مسلمان اُمت کو اس لیے کھڑا کیا گیا تاکہ اسلام کا نظام عدل اجتماعی دنیا میں قائم کرے ۔ اس کے لیے اب ذہن سازی ہو نی چاہیے ۔ 
رضاء الحق:بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے1975ء میں جب تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی تو اس کا مقصد یہی تھا کہ دین کا جو جامع تصور ہے وہ لوگوں کے سامنے آجائے ۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان کے ذمہ صرف نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ جیسی انفرادی عبادات ہی نہیں ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر اپنے گھر ، خاندان ، معاشرے اور پھر ریاست میں بھی اسلام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنا بھی مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ ہماری سیاست ، عدالت ، معیشت اور معاشرت بھی اسلام کے مطابق ہونی چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ سب اپنی زندگی میں کرکے دکھایا ہے اور آپ ﷺ کی سب سے بڑی سنت اقامت دین کی جدوجہد ہے جو مسلسل 23 سال پر مشتمل ہے ۔ آج ہمیں یہی بات پاکستان کے عوام کے سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو کس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور ہمیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔اگر ہم اسلام کو اپنے معاشرے میں قائم کریں  گے تو اللہ کی بندگی پر مشتمل نظام قائم ہو گا اور زنا ،       بے حیائی، مغربی تہذیب کے گندے انڈے، فحاشی ، سود اور ہر قسم کی برائیوں کے لیے ہمارے معاشرے میںکوئی جگہ نہ ہوگی ان شاء اللہ ۔ تنظیم اسلامی اپنے دروس قرآن کے ذریعے ، دورۂ ترجمہ قرآن کے ذریعے اور مختلف آگاہی منکرات مہمات کے ذریعے اسی دعوت کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ جب عوام قرآن پاک کو سنیں گے تو انہیں اللہ کا بھیجا ہوا پیغام سمجھ میں آئے گا ، سنت رسول ﷺ کے بارے میں معلوم ہوگا اور اس طرح لبرلز اور سیکولرز   کا ایجنڈا ناکام ہوگا۔ ان شاء اللہ !