نیا سوراخ نیا ڈنگ ،کیا یہ ضروری ہے؟
خالد نجیب خان
[email protected]
کچھ دنوں سے رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ذہن میں آرہی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری مرتبہ نہیں ڈساجاتا۔پھر خیال آیا کہ ہم میں سے مومن ہیں کتنے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی بتایا ہے کہ اسلام لانے اور مومن ہونے میں فرق ہے۔مسلمانوں کی کل آبادی اِس وقت دو ارب کے قریب بتائی جاتی ہے جس میں مومن کتنے ہوں گے؟ باقی تو مسلمان ہی ہیں اور مسلمان بھی وہ جو خود سے مسلمان نہیں بلکہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسلمان ہیں۔ یہ چند کروڑ مومن بے شک دنیا بھر میں کچھ اِس طرح سے بکھرے ہوئے ہیں کہ آٹے میں نمک کی طرح نظر نہیں آتے مگر اُن کی موجودگی اور افادیت معاشرے میں ضرور محسوس ہوتی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اِن مومنوں کو کم کرنے کے لیے دنیا بھر کی طاقتیں برسرپیکار ہیں۔
ہماری ایک اور بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم گردن گھما کر ماضی کی طرف دیکھ کر جائزہ لینا ہی نہیں چاہتے کہ ہم نے ماضی میں کیا غلطیاں کی تھیں اور اِس سے پہلے کس سوراخ سے ڈسے گئے تھے۔ قیامِ پاکستان کو پون صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے،اسلامی جمہور کایہ ٹھپہ لگائےبھی کم و بیش 70 برس ہو گئے ہیں مگر ہر چند سال کے بعد ہم وہی غلطی کرتے چلے آرہے ہیں کہ جو ہمارے بزرگوں کے بزرگوں نے بھی کی تھی ۔اِس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ پھر بھی ہم یہی خیال کرتے ہیں کہ یہ غلطی ہم سے پہلی مرتبہ ہی ہوئی ہے،آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔
بچپن میں مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں ہم نے پڑھا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہے،مگر جب کھلی آنکھوں سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ تو اِس قدر آزاد بلکہ آزاد خیال ہے کہ اِسے امریکہ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا اور اگر کسی پابند خیال اور سر پھرے نے آزاد خیالی سے انحراف کیا تو پھر وہ ہمیشہ کے لیے غموں سے آزاد ہوگیا۔ اِس سب کے باوجود ہر چند دہائیوں کے بعد ہم نے ایک نئے سوراخ سے کچھ اس طرح سے ڈنگ کھایا کہ ڈنگ مارنے والی طاقت تو نہ بدلی مگر شخصیات بدلتی گئیں۔ ہمارا کہنا ہے کہ ڈنگ کھانا ہی ہے تو پھر کم از کم ڈھنگ سے تو کھائیں ،پرانے دقیانوسی اور گھسے پٹے انداز میں ڈنگ کھایا جا رہا ہے جبکہ سمجھانے اور بتانے والے سمجھا اور بتا بھی رہے ہیں کہ ’’اِس طرف مت جاؤ، مت جاؤ ،ڈسے جاؤ گے۔‘‘ مگرڈنگ کھانے والے عشقِ زہر میں سرشار ہوکرہر رکاوٹ کو توڑ کر اورعوام کو اپنی طاقت دکھا کر ڈنک کھانے کے لیے مطلوبہ مقام پرپہنچ ہی جاتے ہیں۔
اصل غم تو ہمیں اسرائیل کی وجہ سے ہے کہ اسرائیل تو کبھی بھی ہمارا دوست نہیں رہا بلکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تو اِس کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مغرب کا ناجائز بچہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں تو جاسکتے ہیں مگراسرائیل نہیں جاسکتے۔ بات صرف یہ نہیں ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا،بلکہ اسرائیل کو بھی پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔وہ ہرلمحہ پاکستان کو نقصان پہنچانے بلکہ اِس کو ختم کرنے کے در پے رہتا ہے۔مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں ہم نے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کو جانا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ازلی دشمن اسرائیل ہے، جس کو اِس وقت تسلیم کیے جانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ پاکستان عرب ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ پہل کریں تو وہ اُن کی تقلید میں اسرائیل کو تسلیم کرلے اور عرب ممالک پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان پہل کرے۔اِس وقت ایک اعصابی جنگ جاری ہے جو کسی بھی کمزور لمحے میں فیصلہ کُن ہو سکتی ہے۔اسرائیل، امریکہ اور بھارت سب مل کر ایک ہی جذبے سے پاکستان پر نظریں ٹکائے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان اور عرب ممالک میں وہ جذبہ نظر نہیں آرہا، جس کی ضرورت ہے۔
گزشتہ دنوں غزہ میں امن قائم کرنے کے نام پربین الاقوامی استحکام فورس کے لیے پاکستان کو آخر کیا سوجھی کہ سلامتی کونسل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ قراردادکے حق میں ووٹ دے دیا جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔یہ حقیقت ہے کہ اگر پاکستان بھی اس رائے شماری میں حصہ نہ لیتا تو پھر بھی یہ قرارداد منظور ہو ہی جانا تھی مگر ایسی صورت میں پاکستان کم ازکم اس گناہ میں تو شریک نہ سمجھا جاتا جو دیگر 12 ممالک نے کیا ہے۔ اِس قرارداد کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ’بین الاقوامی استحکام فورس برائے غزہ‘ کا قیام عمل میں آگیا ہےجسے ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو ارضِ مقدس پر مکمل اجارہ داری حاصل ہو گی۔ فلسطینی مسلمانوں کو درجہ دوم سے بھی کمتر شہری قرار دیا جائے گا اور نام نہاد ’امن‘ اور ’تعمیرِ نو‘ کے نام پر نہ صرف فلسطینی مجاہدین کو اسرائیلی فوج کی معاونت کے ساتھ غیر مسلح کیا جائے گا بلکہ مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے اور گریٹر اسرائیل کے قیام جیسے مذموم صہیونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اِس قرارداد کو منظور کرتے ہوئے بین الاقوامی فورس کا حصّہ بننا قیامِ پاکستان کے وقت بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی اسرائیل کے حوالے سے اٹل اور ناقابلِ ترمیم پالیسی سے بھی انحراف ہے کہ پاکستان کسی صورت صہیونی ریاست اسرائیل،جو مغرب کا ناجائز بچہ ہے، کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ دینا،دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنا ہی ہے۔اس قرارداد کے نتیجے میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل بین الاقوامی استحکام فورس کاپاکستان کو حصّہ ہرگزنہیں بننا چاہیے۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد امن معاہدے سے غزہ میں امن قائم نہیں ہو سکا کیونکہ اِس معاہدے کا ایک فریق،ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل،مسلسل ہٹ دھرمی، وعدہ خلافی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صہیونی فورسز کے مظالم کی وجہ سے آج بھی غزہ میں ہسپتالوں کے ملبے سے فلسطینی شہداء کی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی نسل کُشی کے دوران امریکہ کی اسلام دشمنی دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔ایسے میں ٹاسک فورس کا حصّہ بننا ابراہم اکارڈز میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہی ہے ۔ اسرائیل کا وزیراعظم نتن یاہو گریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن قرار دے رہا ہے اور صہیونی ریاست عرب ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اِن حالات میں دشمن اور اُس کے معاونین کا ساتھ دینے جسے مجرمانہ فعل کے ارتکاب کی بجائے مسلم ممالک آپس کے اتحاد و اتفاق سے نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی عملی طور پر دادرسی کریں بلکہ مسجدِاقصیٰ کی حرمت کے تحفظ کا دینی فریضہ ادا کرنے کا بھی ذمہ لیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ وہی سوراخ ہے جس سے ہم اس وقت ڈنگ کھانے جارہے ہیں جہاں سے ہم نے اِس صدی کے آغاز میں ڈنگ کھایا تھا، یہ وہی سوراخ ہے جہاں سے ہم نے 1970ء کی دہائی میں ڈنگ کھایا تھا،یہ وہی سوراخ ہے جہاں سے ہم نے 1950ء کی دہائی میں ڈنگ کھایا تھا۔
20 ویں صدی میں1950ء کی دہائی سے لے کر 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں پاکستان کی چند شخصیات نے ڈنگ نہیں کھائے بلکہ یہ ڈنگ پوری پاکستانی قوم نے کھائے ہیں۔چند لوگوں کی غلطی کی سزا پوری قوم کو ملنا ہے تو پھر پوری قوم کو ہی نہ صرف سوچنا ہوگا بلکہ عمل بھی کرنا ہوگا۔
کیونکہ بقول شاعر
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
پاکستانیوں کو خصوصاًاپنی حالت بدلنے کی اِس لیے بھی اشد ضرورت ہے کہ احادیث مبارکہ کی رو سے قیامت سے پہلے یہاں سے ہی حضرت مہدیؒ کی نصرت کے لیے لشکروں نے نکلنا ہے۔اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ جب تک مسلم ممالک متحد ہو کر نیٹو طرز کا عسکری اتحاد نہیں بنائیں گے، اس وقت تک اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحاد ثلاثہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھے گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا کہ ہمارے ملک کے ذمّہ داران اور ارباب بست و کشاد پرانی کی گئی دانستہ یا نادانستہ غلطیوں سے سبق لیںاور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کریں ۔