شیشہ عقائد کاپاش پاش
عامرہ احسان
جولائی 2021 ء میں نور مقدم کا ظاہر جعفر کے ہاتھوں بہیمانہ قتل، تفتیشی مراحل طے کرتا، نومبر 2025ء میں آن پہنچا (ابتدا ہی سے ہر سطح پر سزائے موت کا فیصلہ ظاہر جعفر کے لیے لکھا گیا۔) سپریم کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے یہ بھی کہا کہ شواہد کی بنیاد پر رسی کا ایک سرا نور مقدم کے جسم اور دوسرا سرا ظاہر جعفر کی گردن سے بندھا ہے۔ بھر پور دلائل سزائے موت کے حق میں دیئے اور مجرم کا یہ عذر کہ ’وہ پاگل تھا‘ کو بھی بلا ثبوت قرار دے کر رد کیا۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ (مارچ 2023ء) اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اس سال 20 مئی کو بھی سزائے موت برقرار رکھی۔ اس اندوہناک واقعے پر کسی سطح پر بھی ملزم کے لیے اول دن سے اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے سوا کوئی دوسری بات نہ تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کا کڑنے بحیثیت منصفِ اعلیٰ قوم کو یہ نصیحت کی تھی کہ:’ بلا نکاح مرد عورت کا اکٹھے رہنا مذہبی، اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔ یہ یورپ میں ہوتا ہے، یہاں نہیں‘۔ اس پر مئی میں سوشل میڈیا پر آزاد خیال، سیکولر طبقے (بشمول وکلاء، صحافی) نے تنقید کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
اب جسٹس نجفی نے ایک ذِمّہ دارانہ منصب کا حق سمجھ کر نوجوانوں، والدین معاشرتی مصلحین کو متوجہ کیا: یہ کیس اونچے طبقے میں ایک ’’گناہ‘‘؍ بدی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ جسے Live-in Relationship (بلا نکاح اکٹھے رہنا) کہا جاتا ہے۔ ایسے تعلقات نہ صرف ملکی قانون شکنی کرتے ہیں بلکہ نجی قانون (شریعت کے مطابق ’پرسنل لاء ‘) بھی توڑتے ہیں۔ اسے جسٹس نجفی نے براہِ راست اللہ سے بغاوت کا نام دیا ۔ نوجوان نسل کو اس کے سنگین نتائج سے متنبہ کیا۔(اضافی نوٹ۔ 26نومبر ) خصوصیت سے معاشرتی مصلحین کو اُن کی ذِمّہ داری یاد دلائی کہ اِس اہم موضوع پر ضروربات کریں۔ ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر وکلاء، صحافیوں، حقوقِ نسواں برادری کی طرف سے شدید اشتعال کا مظاہرہ ہوا۔ اگرچہ تینوں طبقات پر لازم ہے کہ انصاف پسندی سے حقائق کا بے لاگ جائزہ لے کر نوجوان نسل کی مدبرانہ رہنمائی کی جائے۔ ایک غیر مسلم نے البتہ لگے ہاتھوں اسلام یا اخلاقیات پر بھاشن دینے یا پرزے اُڑانے کی بجائے (روشن خیال) خواتین کو اتنی احتیاط برتنے کو کہا کہ جس مرد سے دوستی، پارٹنر شپ کر رہی ہیں، اُس میں پُر تشدد، غصیلے رحجانات دیکھ کر دور ہو جائیں! ہمارے ہاں باضابطہ بلا نکاح رہنا ابھی ممکن نہیں ہوا۔ تاہم بلا نکاح تعلقات پرائیوٹ ہوسٹلوں، خاندانوں سے دور بلا سر پرستی رہنے سے وبا بن کر پھیل رہے ہیں۔ منصفین حضرات نے بھی ایسے ہولناک حادثات سے بچنے کے لیے تدابیر کی طرف ہی متوجہ کیا تھا۔ یوں لال بھبھو کا ہو کر ٹوٹ پڑنے کی وجہ نہیں بنتی۔ آتش بازی کے دوران بداحتیاطی سے اگر دامن پر شعلہ آن لپکے۔ لباس شدید آتش گیر نوعیت کا ہو اور جوانی بھسم ہو جائے تو کوئی کچھ بھی نہ کہے؟ مغرب میں نکاح کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔ وہاں آگ اور بارود کا یہی کھیل جس طرح عورت کو ویران، مرد کو غیر ذمہ دار، عیاش بنا چکا ہے۔ حقیقی حلال اولاد اور گھر، گرہستی، مبنی بر اخلاص رشتے کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ عورت کے ایسے ہی بہیمانہ قتل کے اعداد و شمار دیکھ لیجیے، ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے۔ ’می ٹو‘ کی تحریک وہاں کی عورت میں شدید احساسِ زیاں اور عیاش رئیس مردوں کی طرف سے (بالخصوص سیاست دان، شوبز اور سرمایہ دار) استحصال پر گواہ ہے۔ صدارت کے منصب پر بل کلنٹن اور ٹرمپ کی بد کرداری سے کون واقف نہیں۔ کیا گلوبل ویلیج میں ایسے وحشیانہ واقعات کا ایک مسلم معاشرے میں ظہور ہو تو چپ سادھ لی جائے؟
نور مقدم کے ساتھ جو قیامت ظاہر جعفر نے برپا کی، کیا والدین اور خود لڑکیوں کو متنبہ نہ کیا جائے؟ نور مقدم سولہ، اٹھارہ نہیں ستائیس برس کی بیرونِ ملک پروردہ، پڑھی لکھی آزاد خیال خود مختار خاتون تھی۔ ایس ایس پی کے مطابق ’یہ خاندانوں کا میل ملاپ اور پرانی دوستی تھی ‘۔ باہم رقص کی وڈیوز ایک آزاد خیال پارٹی میں نور اور ظاہر کی نیٹ پر موجود ہیں۔ وہ خود چل کر نیول اینکریج میں والدین کے گھر سے رات 10بجے دور ظاہر کے گھر 18 جولائی کو گئی جبکہ ظاہر کے والدین کراچی میں، اور وہ اسلام آباد میں تنہا تھا۔ وہ کس قماش کا تھا؟ قبل ازاں فروری 2019 ء میں اس کے گھر میں منشیات کی پارٹی اور کو کین، آئس کے نشے میں دھت وہ واقعہ منظر عام پر تذکرہ پا چکا تھا جس میں برساتی نالے میں گاڑی گر کر اسلام آباد کی چار لڑکیاں ہلاک ہوئی تھیں۔ گویا نور چل کر مقتل اپنے قدموں سے گئی۔ایک انگریزی اخبار نے اسے یوں بیان کیا کہ:’ وہ وحشیانہ تشدد اور الگ کٹے سر کے ساتھ اپنے ایک دوست کے ہاتھوں قتل ہوئی(20جولائی کو) جس پر وہ اعتماد کرتی تھی‘۔
2021 ء سے آج تک ان بے نکاحی دوستیوں میں لڑکیوں کی ہولناک داستانیں جس طرح گھروں کی عزت، زندگیاں درگور کر رہی ہیں، ان پر متوجہ کرنا، نصیحت کرنا یا اللہ کا خوف دلانا ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں اب شجر ممنوعہ ہو چکا؟ لب سی لو؟ اُف نہ کہو؟ عشق عاشقی کی داستانیں اونچا طبقہ تو سہہ برداشت کر لیتا ہے، عوام الناس کے لیے یہ قیامت ِصغریٰ بنتی ہے! لڑکے نے جھانسہ دے کر دوستی کی۔ شادی کی اجازت دونوں کو نہ ملی۔ لڑکے نے ساتھ جئیں گے، ساتھ مریں گے، کا عہد نبھانے کے لیے نہر کا انتخاب کیا۔ کم تجربہ کار، جذباتی لڑکی ساتھ جا کر ڈوب کر مر گئی۔ لڑکا تیر کر بچ گیا۔ کیا آپ خاموش رہیں؟ پی جائیں؟ اور کئی لڑکیاں پھنس کراس کے جال میں کسی اور نہر میں کود مریں؟ باری باری؟!!
یوں بھی یہ ظاہر جعفر طبقہ جو اتنے ہولناک حادثات کا شکار ہوتا ہے، اس کی وجوہات بھی جدا ہیں اور وہ اپر کلاس تک محدود ہے۔ شراب، منشیات بھی ظاہر کی زندگی کا حصہ تھیں۔ نور مقدم کا المیہ اتنا طویل چلنا بھی نہ چاہیے تھا کہ بار بار تکلیف دہ حقائق ابھر کر سامنے آتے۔ لیکن جب حقائق کھلیں گے تو وجوہات بھی لا محالہ کھلیں گی۔ اس میں عبرت ناک اسباق مضمر ہیں جو شاید ان راستوں پر بگٹٹ، بے لگام دوڑنے والیوں اور دوڑانے والوں کو بریک لگا دیں۔ اور یوں بھی لاکھ سیکولرازم کا دم بھریں، حقائق بہت مشکل اور تلخ ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، زندگی بعد موت ہمارا (عیسائی، یہودیوں کا بھی) ایمان ہے۔ کیا نور کی زندگی کی کہانی ختم ہو گئی؟ میری اور آپ کی بھی ختم ہو جائے گی موت کے ساتھ؟ ہر گز نہیں!
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دنیا تو خواہ موم بتیاں جلا کر، آنسو بہا کرچل دے یا مٹی تلے دبا کر سمجھے، مٹی پاؤ ہو گیا، اس کہانی کا بھی۔ مگر نہیں! واللہ نہیں۔ کاش ایسا ہوتا تو سچے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے خلیفۂ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خوف سے یوں نہ روتے کہ میں کھجور کا پتہ ہوتا اونٹ مجھے نگل جاتا۔ (میں نسیاً منیساً ہو جاتا) اللہ کے حضور کھڑا نہ ہونا پڑتا حساب نہ دینا پڑتا۔ سو کہانی تو لا منتہا ہے۔ اس لیے نسلوں کو سمجھانا لازم ہے۔ قرآن نصاب ِزندگی ہے۔ ٹیکسٹ بک ہے۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے۔ آئین اس حوالے سے بہت کچھ کہتا ہے۔ مگر مغرب کے ہاتھ بک کر ہم نے بڑی محنت سے سب کچھ بھولا اور بھلایا ہے۔
فیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش!
خفاش، چمگاڈر ہوتی ہے۔ انگریزی محاورہ ہے: چمگاڈر کی طرح اندھا؍ اندھی…جدید تعلیم ہمارے اخلاق وکردار، عقیدہ و ایمان کے حق میں زہر ناک ہو چکی۔ اس دور میں ہے شیشہ عقائد کاپاش پاش۔
کیا غضب ہے کہ غزہ میں تباہ حال عورتوں بچوں پر تو انہی خواتین نے واویلا نہ کیا۔ چار سال بعد از سرِ نو کھلی زندگی، شتر بے مہاری کالائسنس دینے کو کہا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا غزہ کے لیے روتی دو سال سے سارے معاشقے بھلا کر غزہ کے عشق میں مظاہروں میں جوتیاں چٹخا رہی ہے۔ ہمارے غم ہی کچھ اور ہیں! اقبال نے یہ بھی کہا تھا (فارسی اشعار کا ترجمہ): تعلیم جدید! تیرے جادو سے دریاؤں میں آگ لگ گئی ہے اور ہوا بھی آتشیں اور زہریلی ہو چکی ہے۔ اگر علمِ جدید خدا پرستی اختیار کرتا تو نور (حقیقی / آسمانی) بن جاتا (نور مقدم کی بجائے)۔ مگر افسوس یہ مقدس چیز شیطان کے ہتھے چڑھ گئی اور ملکوتی صفات کھو بیٹھی! (پیام مشرق)