خواتین کا دعوتی کردار
مبشرہ علی
دعوت وتبلیغ انبیاء کرامf کا مشن ہے، دعوت کفر وشرک کے خلاف خاموش جنگ ہے، غلبہ توحید کی پُرامن جد وجہد ہے، شیوہ ایمان اور منبع خیر ہے، اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کی بازیابی کا نسخۂ کیمیا ہے، نبی کا حاصل زندگی دعوت ہی ہے اور انبیاء ؑکے بعد اُمّت مسلمہ کا فرض منصبی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو، اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر تھا، ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔‘‘(آل عمران:110)
اہمیت اورفرضیت کے اعتبار سےدعوت الی اللہ کا مشن مرد وعورت کے درمیان کسی تفریق کا قائل نہیں ہے،یہ علیحدہ بات ہے کہ دونوں جنسوںمیں فرق کے باعث دائرہ کار الگ ہے۔ عورت کا اصل کام گھر گھر ہستی کے معاملات میں شوہر کی معاونت کرنا اور بچوں کی پرورش و تعلیم اور تربیت پر توجہ مرکوز رکھنا ہے ۔لیکن اپنے دائرہ اختیار میں عورت دعوت وتبلیغ سے بری الذمہ نہیں ہے۔
رسول اللہﷺ کی کثرت ِازدواج کی ایک حکمت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپؐ نے اپنے دعوتی مشن کی کامیابی کے لیے کثرت سے شادیاں کی تھیں، کیونکہ خواتین کی الجھنیں، مسائل اور نفسیات کو ازواجِ مطہراتؓ ہی بہتر سمجھ کر رہنمائی کرسکتی تھیں، اور انہوں نے بحسن وخوبی یہ دعوتی فریضہ انجام دیا، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اُمّت کو دو ہزار سے زائد احادیث فراہم کیں جو ان گنت معاشرتی مسائل اور الجھنوں کو سلجھاتی ہیں۔ آپؐ کی دیگر ازواج نے بھی آپؐ کی خانگی زندگی کے طور طریقوں سے اُمّت کو آگاہ کیا۔ یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اسلام نے شرع کے دائرے میں رہتے ہوئے عورتوں کو خدمت ِدین وملت کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
عورت میدان جنگ میں یہی وجہ تھی کہ عورت میدان جنگ میں بھی اپنے شایان شان فرائض انجام دیتی تھی، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا، پانی بھر بھر کرلانا اور مجاہدین کو پلانا، ان کے سامان کی حفاظت کرنا، ان کے لیے کھانا بنانا وغیرہ۔ جہادی کاوشوں کے حوالے سے حضرت اُم عمارہ، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت اُم عطیہ، حضرت اُم رفیدہ، حضرت ربیع بنت معوذ، حضرت اُم سلیط، حضرت صفیہ رضی اللہ عنھن سرفہرست ہیں۔ یہاں تک کہ بوقت ِ ضرورت صحابیاتؓ نے کفار سے لڑائیوں میں بھی حصہ لیا ہے، جنگ ِاحد میں حضرت اُم عمارہؓ نے نازک حالات میں نبی ﷺ کا دفاع بھی کیا ہے۔
خواتین اسلام کے دعوتی کارنامے
تاریخ شاہد ہے کہ خدمت ِ دین کا یہ نکتہ خواتین ِاسلام کی نظروں سے کبھی اوجھل نہ رہا،وہ جذبہ دعوت سے ایسے سرشار تھیں کہ انھوں نے اسلام کی تبلیغ کا کوئی موقع فروگزاشت نہ کیا۔ بہت سے جید صحابہ کرام ؓ نے خواتین کی دعوتِ دین سے متاثر ہو کر اسلام کی دعوت پر لبیک کہا۔
’’حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنی ہمشیرہ حضرت فاطمہ ؓ کے ذریعے اسلام لائے۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ حضرت سعدی بنت کریزؓ کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے، حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ اپنی بیوی اُم حکیمؓ کی تبلیغی مساعی کے ذریعے راہ حق کے مسافر بنے۔
دعوت کے میدان میں خواتین ستروحجاب کے ساتھ اپنے علم وصلاحیت کے مطابق خدمات انجام دیں گی۔ یہ اُن کا فرض منصبی ہے، کار ِدعوت جو غیر معمولی اجر و ثواب کا ذریعہ ہے خواتین اس سے کیوں محروم رہیں؟ لیکن خواتین دعوتی فرائض کی ادائیگی کے لیے بعض اصولی باتوں کی طرف متوجہ ہوں۔
دعوت اور علم
دعوت الی الله کے لیے علم اساس کی حیثیت رکھتا ہے، بغیر علم کے دعوتِ فکر وعمل کے فساد کا ذریعہ ہے، ضلالت وگمراہی میں پڑنے اور مبتلا کرنے کا سبب ہے، دعوت الی الله کے لیے علم وبصیرت مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللہِ قف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(108)}(یوسف) ’’کہہ دو ! یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف پوری بصیرت کے ساتھ بلاتا ہوں میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔
بصیرت عام معلومات سے ہٹ کر ایک خاص چیز ہے اس میں دلیل، گہرا اِدراک، فہم وفراست، بات کے واضح ہونے اور اس پر یقین ہونے کے اضافی معنی شامل ہیں۔
امام ابن تیمیہؒفرماتے ہیں: علم، نرمی اور صبر یہ تین چیزیں داعی کے لیے ازحد ضروری ہیں۔ دعوت سے پہلے علم، دعوت دیتے وقت نرمی اور اس کے بعد صبر۔
علم کے بغیر دعوت کس درجہ نقصان دہ ہے یہ آیت کریمہ اس پر روشنی ڈالتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ(3)} (آلحج)’’اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے اللہ کی توحید کے باب میں کٹ حجتی کرتے اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں‘‘۔
عمل و تقویٰ کی شرط
دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے اخلاق وکردار کے اعلیٰ اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے، ایک سچے اور متقی انسان کی ہرکوئی قدر کرتا ہے اور طبعی طور پر دل ایسے افراد کی باتوں پر مائل ہوتا ہے، داعی سے یہ چیز مطلوب ہے، عمل وتقوی کے بغیر دعوت نقصان دہ ہے بلکہ مدعو کو اسلام کے بارے میں بدگمان کرنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
{یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللہَ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ ط اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا(۱)} (الاحزاب)’’اے نبیﷺ! اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی باتوں پرکان نہ دھرو، بے شک اللہ علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت داعی اعظم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو کی ہے، لہٰذا آپؐ کے بعد ہر داعی کے لیے دعوت سے پہلے تقوی اور حسن ِعمل سے آراستہ ہونا ضروری ہے تاکہ اُس کی دعوت مدعو کے دل کو فتح کرتی چلی جائے۔