(الہدیٰ) اسلام دینِ فطرت ہے - ادارہ

11 /
الہدیٰ
 
اسلام دینِ فطرت ہے
 
 
 
آیت 29 {بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ج} ’’بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ان ظالموں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے بغیر کسی علم کے۔‘‘
{فَمَنْ یَّہْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط} ’’تو اُس شخص کو کون ہدایت دے گا جس کو اللہ نے بھٹکا دیاہو!‘‘
اگر کسی کی ہٹ دھرمی کی سزا کے طور پر اللہ ہی نے اس کی گمراہی پر مہر ثبت کر دی ہو تو وہ ہدایت کیسے پا سکتا ہے؟
{  وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(29)} ’’اور اب ان کے لیے کوئی مددگا رنہیں ہے۔‘‘
آیت 30 {فَاَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاط} ’’پس تم قائم رکھو اپنے چہرے کو (اللہ کے) دین کے لیے یکسو ہو کر۔‘‘
تم اپنے کردار میں ایسی توحیدی شان پیدا کرو کہ تمہارا ایک ایک عمل گویا اس دعوے کی گواہی بن جائے: {قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(162)}(الانعام)’’ آپؐ کہیے کہ میری نماز‘ میری قربانی‘میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔ اور دنیا کے تمام جھمیلوں کو چھوڑ کر اپنی توجہ ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف اس انداز سے مرکوز کردو کہ تمہاری زندگی کے شب و روز میں حضرت ابراہیم ؑ کے ان الفاظ کا رنگ جھلکتا نظر آئے:’’ میں نے تو اپنا رُخ کر لیا ہے یکسو ہو کر اُس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘(الانعام:79)
{فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَاط} ’’اللہ کی بنائی ہوئی فطرت پر (قائم رہو) جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘
یہی فطرتِ سلیمہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کی ہے۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کی اس فطرت پر کچھ اور رنگ چڑھا دیتے ہیں یا اس کے ماحول کی وجہ سے اس کا رخ کسی اور طرف مڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے :
{      لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط} ’’اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔‘‘
یعنی اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے، اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا جائز نہیں ہے۔ 

 

{  ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ق وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(30)}’’یہی ہے سیدھا دین‘لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔‘‘
 
درس حدیث
 
قرآن کو یاد کر کے بھلانا
 
 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ:(( عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّی الْقُذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوْتِيْهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا))( رواہ الترمذي )
حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’ میرے سامنے میری اُمت کے اَجر و ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ  کوڑا کرکٹ بھی جو آدمی مسجد سے نکالتا ہے (اس کا ثواب بھی پیش کیا گیا)۔ اور مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت کسی آدمی کو (یاد کرنے کی توفیق) دی گئی اور پھر اُس نے اُسے بھلا دیا۔‘‘