(اداریہ) 16 دسمبر: شکست نہیں احتساب، شعور اور سبق کا دن - رضا ء الحق

11 /

ادایہ


رضاء الحق


16 دسمبر: شکست نہیں احتساب، شعور اور سبق کا دن


16دسمبر کا دن پاکستان کی قومی تاریخ میں کچھ ایسی تلخ یادیں لئے ہوئے ہے کہ جنہیں پاکستانی قوم نے کبھی دل سے نہیں بھلایا اورجن کی تلخی وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی، بلکہ ہر سال اُس سے وابستہ زخموں کو تازہ کرتی رہتی ہے۔پہلا 16 دسمبر1971ءکو آیا تھا جب پاکستان کاایک بازو کٹ کر الگ ہوگیا ، آبادی اور وسائل کے اعتبارسے نصف سے زیادہ پاکستان، پاکستان نہ رہا۔ پاکستان کی ریاست 1947ء کے فوراً بعدسے دو جغرافیائی حصوں مشرقی اور مغربی میں منقسم تھی جس کے ساتھ بہت سے انتظامی، لسانی، سیاسی اور معاشی مسائل بھی جڑے ہوئے تھے ۔ مشرقی پاکستان کی آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کا کم وبیش55 فیصد تھی، لیکن فیصلہ سازی کا مرکز مغربی پاکستان تھا۔ 1948ء میں اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے کے اعلان نے فسادات کو جنم دیا اور یہ احساس بڑھایا کہ مشرقی بازو کی تہذیبی شناخت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ملک کی بنیاد یعنی دینی شناخت کو چند ابتدائی سالوں کے بعد سے ہی ریورس گیئر لگا دیا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان زرعی اور صنعتی پیداوار میں نمایاں تھا، لیکن ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی تقسیم اور بجٹ میں اسے مسلسل محرومی کا سامنا رہا۔یہ وہ ابتدائی دراڑیں تھیں جنہوں نے آگے چل کر ایک بڑے شگاف کی شکل اختیار کرلی۔ جمہوریت کی بساط لپیٹ کر ڈکٹیٹر شپ کے نفاذ نے ملک کے مشرقی بازو کو مزید کمزور کر دیا۔ پھر 1970ء کے عام انتخابات جو پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخاب کہلاتے ہیں، انہی انتخابات کا نتیجہ پاکستان کے دو لخت ہونے کا پیش خیمہ بنا۔عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کی۔ آئین سازی اور اقتدار کی منتقلی پر حکومتِ وقت کی تاخیر اور باہمی عدم اعتماد نے بحران کو شدید کر دیا۔مذاکرات بار بار ہوئے مگر کوئی سیاسی معاہدہ نہ ہو سکا۔
مارچ 1971ء میں آپریشن سرچ لائٹ کے آغاز نے صورت حال کو مکمل خانہ جنگی میں بدل دیا۔ یہ فیصلہ تاریخی، سیاسی اور عسکری اعتبار سے آج بھی شدید تنقید کا مرکز ہے۔ بھارت کو پاکستان کے اندرونی حالات نے ایک واضح موقع فراہم کیا،مکتی باہنی فعال تھی،مغربی پاکستان سے رابطہ مشکل تھا،عالمی سطح پر سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔سوویت یونین اور بھارت کا معاہدہ، امریکا کی غیر فعالی اور چین کی محتاط پالیسی نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا۔ 3دسمبر 1971ء کو پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر کو ڈھاکہ میں تاریخی ہتھیار ڈالے گئے۔یہ ہتھیار ڈالنا صرف عسکری شکست نہیں تھی بلکہ یہ ریاستی حکمت ِعملی کی مجموعی ناکامی تھی۔ اکثر ذرائع کے مطابق اُس دن پاکستان کے 93 ہزار فوجی جنگی قیدی بنے، پاکستان کا مشرقی بازو علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بنا، اور ایک ’متحد‘ قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
یہ سانحہ آج بھی کئی سوالات زندہ رکھے ہوئے ہے ،جیسے کیا سیاسی قیادت دانشمندانہ فیصلہ نہ کرسکی؟کیا عسکری قیادت زمینی حقائق سے بے خبر تھی؟کیا ہم نے قومی وحدت کی بنیادوں کو ذاتی مفادات کے گرد گھومتے سیاسی و عسکری فیصلوں پر قربان کر دیا؟کیا ریاست نے شکوے سننے، اختلافات کا حل نکالنے اور عوامی فیصلوں کو قبول کرنے میں پس و پیش سے کام لیا؟ بڑوں کی انا کی ایسی ہی مثالیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں گویا اتنے بڑے سانحہ سے بھی سبق نہ سیکھا گیا۔
پھر سانحۂ مشرقی پاکستان کا غم بھلانے کے لئےہم نے اپنی تاریخ، نصاب اور میڈیا سے اِس کو ایسے نکال دیا جیسے اِسے بھول جاناہی مسئلے کا حل ہو۔حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کئی دہائیاں دبائے رکھی اور غیر ملکی میڈیا نے اس کو لیک کرنے کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو جو معلومات ملیں وہ اُس سے سے زیادہ مختلف نہ تھیں جو سنجیدہ حلقوں میں پہلے بھی زیر بحث رہتی تھیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ قومی سطح پر تاحال اس موضوع پر وہ جامع مکالمہ نہیں ہو سکا جو ایسے سانحات کے بعد قومیں خود سے کرتی ہیں۔ ہم نے ذِمّہ داری کے تعین کے بجائے ماضی کو دفن کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اجتماعی غلطیوں کا اعتراف ہی مستقبل کے راستے کھولتا ہے۔ 43 برس بعد اسی تاریخ کو پھر ماتم کیا گیا جب انسانیت سوز حملے میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے 144بچے اور اساتذہ شہید ہوئےاور 16 دسمبر کی سیاہی مزید گہری ہوگئی۔
سقوطِ ڈھاکہ ہو یا سانحہ اے پی ایس بظاہر دو مختلف نوعیت کے واقعات ہیں، مگر ان کے درمیان کئی گہرے معنوی رشتے پائے جاتے ہیں جن میں قومی صدمہ اور اجتماعی سوگ بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ دونوں واقعات نے پوری پاکستانی قوم کو ایک ہی دن ایسی کیفیت میں مبتلا کیا جو صرف سیاسی یا عسکری نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی سطح کا المیہ تھا۔ 1971ء میں ایک بازو کا کٹنا اور 2014ء میں معصوم بچوں کا قتل، دونوں نے قومی شعور کو جھنجھوڑ دیا۔ دونوں سانحات کے پیچھے ریاستی سطح پر خامیاں نمایاں ہوئیں۔ یعنی 1971ء میں سیاسی مفاہمت کی ناکامی اور فوجی حل پر انحصار، 2014ء میں داخلی سلامتی کی کمزوری اور دہشت گردی کے خلاف ناکافی پیش بندی۔ 1971ء میں عام شہری، خواتین اور بچے براہِ راست متاثر ہوئے جبکہ 2014ء میں طلبہ اور اُن سے جڑے خاندان نشانہ بنے۔دونوں مواقع پر بے گناہوں کا خون مرکزی حقیقت بن کر سامنے آیا۔ دونوں سانحات کے بعد یہ سوال شدت سے اُٹھا کہ ریاست، قیادت اور معاشرہ کہاں غلط ہوا؟ مگر افسوس کہ حقیقی اور مسلسل احتسابی روایت مضبوط نہ ہو سکی۔
تاریخ گواہ ہے کہ سانحہ 1971ء کے بعد بھی وقتی قومی یکجہتی ہوئی جس کی ضرورت اس سے پہلے تھی اور 2014ء کے بعد بھی پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد دکھائی دی، مگر یہ اتحاد بھی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوسکا۔دو مختلف سالوں کے کیلنڈر میں ایک ہی دن، ایک ہی سبق ملنا محض اتفاق نہیں ہے یہ دن پاکستانی تاریخ میں طاقت کے غلط استعمال، کمزور حکمرانی اور انسانی جان کی بے قدری کی علامت بن چکا ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ جب ریاست انصاف، حکمت اور بروقت فیصلوں سے محروم ہو جائے تو نقصان صرف جغرافیہ کا نہیں،قومی ضمیر کا بھی ہوتا ہے۔یہ دونوں16دسمبر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں اپنے دشمنوں سے نہیں،اپنی غلطیوں سے زیادہ ٹوٹتی اور بکھرتی ہیں۔اور حالات یہی بتارہے ہیں کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے اُن غلطیوں کے جواز ڈھونڈتے ہیں اور اپنے مخالف کی حق بات کو بھی صرف اِس لئے درخور اعتنا نہیں سمجھتے کہ یہ مخالف کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہے ۔اپنی اقدار کو فراموش کرکے غیروں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہم جہاں پہنچ چکے ہیں وہ اپنے اصل سےیوں تو بہت دور ہے مگر رجوع کرنے والوں کے لئے دور نہیں ہے۔ آج سیاسی اور عسکری پالیسوں کی وجہ سے دوصوبے سخت ناراض ہیں لیکن اُن کے جائز مطالبات کو سننے کی بجائے اُنہیں دہشت گرد قرار دے کر اپنے حقوق کی خاطر پُرامن مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بھی کئی آپریشن کیے جاتے ہیں اور کبھی خواتین و بچوں پر سخت سردی کے موسم میں برف سے ٹھنڈا پانی اُنڈیلا جاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی ہے تو اِس کاسیدھا سادا اور برملا جواب یہی ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدے کہ؛ ’’اے اللہ اگر تو نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا کر دی تو ہم تیرے دین کا بول بالا کریں گے۔‘‘کو یکسر فراموش کردیا ہے۔بدقسمتی سے قائداعظم کے خالقِ حقیقی سے ملتے ہی پاکستان کے مسلمانوں سے یہ وعدہ فراموش کرا دیا گیا جس کی سزا ہمیں مل رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 16 دسمبر صرف شکست کا دن نہیںہے یہ احتساب، شعور، اور سبق کا دن ہے۔ہم جب تک تاریخ کے اس باب کو سمجھ کر آگے نہیں بڑھیں گے، تب تک نئے بحران ہمارے دروازے پر دستک دیتے رہیں گے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم 16 دسمبر کو صرف سوگ نہ سمجھیں، بلکہ قومی اصلاح کی علامت کے طور پر اپنائیںتاکہ دوبارہ کوئی سانحہ ہماری قومی وحدت کو نہ توڑ سکے۔توبہ کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہوا ہے ۔ انفرادی اور خاص طور پر اجتماعی سطح پر سچی توبہ کریں اور اپنے رب سے مغفرت کی اُمید رکھیں ، آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور ملک میں اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو قائم و نافذ کریں۔
اللہ تعالیٰ حکمرانوں، مقتدر حلقوں اور عوام ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!