(منبرو محراب) سات خوش قسمت ترین انسان - ابو ابراہیم

11 /

سات خوش قسمت ترین انسان

جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوں گے ۔

 

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے5دسمبر2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاءاللہ ایک معروف حدیث کا مطالعہ کریں گے جو بخاری شریف سمیت حدیث کی کئی کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ اس حدیث میں 7 قسم کے افراد کا ذکر ہوا ہے جو کہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں  ہوںگے جبکہ اُس دن سوائے اللہ کے عرش کے کوئی اور سایہ نہ ہوگا(بعض شارحین ِ حدیث نے ترجمہ اللہ کا سایہ بھی کیا ہے )۔یہ 7 خوش قسمت انسان اس قدر اہم کیوں ہوں گے ؟ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے ، اس کے حصول کے لیے انتہائی صبر آزما اور مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے ۔لہٰذا روزِ محشر جب اور کوئی سایہ نہ ہوگا اُس وقت جو 7 افراد اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوں گے ، اُنہوں نے بہت ہی کمال کے اعمال کیے ہوں گے ۔ وہ کونسے اعمال ہوں گے ؟آئیے حدیث مبارکہ کے ذریعے جانتے ہیں:
’’حضرت ابوہریرہ ؄سے روایت ہے کہ   نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سات قسم کے آدمیوں کو    اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (1)انصاف کرنے والا حاکم، (2) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ، (3) وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے ،(4) دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں ،اسی پر وہ جمع ہوتے اور اسی پر جدا ہوتے ہیں ،(5) ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اورشرف والی عورت نے برائی کی طرف بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں(یعنی بدکاری سے انکار کر دیا)،(6)وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور(7) وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔‘‘
قیامت تو برپا ہو کر رہنی ہے ۔ ہر ایک نے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم اقرار بھی کرتے ہیں: { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo}
غور طلب بات یہ ہے کہ نماز کے بعد بھی ہمیں یاد رہتا ہے کہ اللہ بدلے کے دن کا مالک ہے؟ہم نے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے ؟کیا اُس دن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں ؟اگر اس دن پر ایمان ہوگا ، یقین ہوگا تو اس کا اثر ہمارے اعمال میں بھی نظر آئے گا ۔ جس انسان کے دل میں آخرت پر جس قدر پُختہ ایمان ہوگا ، اس کے اعمال اسی قدر عظیم ہوں گے ، ایسے ہی سات افراد کا ذکر اس حدیث میں بھی آرہا ہے ۔ 
امام عادل
عام طور پرعدل کے حوالے سے ہماری گفتگو اور ہماری سوچ کادائرہ فوراً حکمرانوں تک جاتاہے کہ عدل کو قائم کرنا حکمرانوں کا کام ہے ۔ حالانکہ عدل ذاتی زندگی میں بھی مطلوب ہے ، گھر میں بھی مطلوب ہے، اداروں میں بھی ، عدالتوں میں بھی اور ریاست کی سطح پر بھی مطلو ب ہے ۔مشہور حدیث ہے : 
((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ))”ہر آدمی اپنے دائرہ کار میں حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ ‘‘
مرد اپنے گھر کے معاملات کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر(یعنی اُس کی اولاد ، مال ، عزت و آبرووغیرہ) کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ کسی ادارے کا مالک اُس ادارے کا حاکم ہے اور ادارے میں کام کرنے والے تمام انسانوں کے بارے میں جوابدہ ہوگا ۔ اسی طرح ادارے کے ملازمین اپنے اپنے دائرہ اختیار میں جواب دہ ہوں گے ۔ لہٰذا عدل کا تقاضا سب سے پہلے اپنی ذات سے شروع ہوگا اور اس کا دائرہ بڑھتے بڑھتے ریاست تک جائے گا ۔ جس کے پاس جس قدر بڑا عہدہ ہوگا وہ اُسی قدر زیادہ جوابدہ ہوگا اور اس کا حساب اتنا ہی زیادہ مشکل ہوگا ۔جیسا کہ ڈاکٹر اسراراحمدؒ پولیٹیکل سائنس کا ایک جملہ نقل کیا کرتے تھے :
"All power tends to corrupt,and absolute power corrupts absolutely."
گویا جس کے پاس جتنازیادہ اختیار ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ سخت امتحان سے گزرے گاکیونکہ انسان بہرحال انسان ہے ، ہزار کمزوریاں انسان میں ہوسکتی ہیں ، کمزوریوں  سے پاک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، جس کے پاس پوری کائنات کا اختیار ہے لیکن وہ اپنی ہر مخلوق کے ساتھ عدل کررہا ہے۔اللہ العادل ہے لیکن بشر کے ساتھ کمزوریاں ہیں لہٰذا اس کے لیے عدل کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ بادشاہ یا حکمران چونکہ پوری ریاست کا حکمران ہوتا ہے لہٰذا اس کے لیے عدل کرنا اتناہی مشکل اور صبرآزما ہوگا۔ لیکن اگر اس کا یقین آخرت پر پختہ ہوگا تو اس کے لیے عدل کرنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا اور آخرت کی دائمی زندگی میں اس کے لیے اتنا ہی زیادہ بڑا اجر ہوگا ۔ 
آج اس دنیا کی عارضی زندگی کے لیے ، اس کی چند حقیر آسائشوں کے لیے آخرت کا سودا کرلیا جاتا ہے ۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں جو جس قدر بڑے عہدے پر ہے، وہ اسی قدر کرپشن اور لوٹ مار میں ڈوبا ہوا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے: اللہ کے رسول ﷺ نے کعبہ کو مخاطب کرکے فرمایا : اے کعبہ ! تو کس قدر عظمت والا ہے ، کس قدر عزت اور بلند مقام والا ہے لیکن اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، ایک مسلمان کی جان اللہ کی نگاہ میں تجھ سے بڑھ کر ہے ۔ لیکن آج ہمارے شہروں میں ایک موبائل کے لیے بندے کو گولی مار دی جاتی ہے ، اشرافیہ لوٹ ماراور عیاشیوں میں لگی ہے اور عوام غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں ، دہشت گردی کے حملوں میں معصوم شہریوں کی لاشیں بچھا دی جاتی ہیں ، حکمرانوں نے جواب تو بہرحال دینا ہے ۔ 
حکمران اپنے مفادات کے لیے ، عہدوں اور اختیارات کے لیے آئین میں ترامیم بھی کرتے ہیں ، انتخابات میں نتائج کو بھی بدل دیا جاتاہے ، عہدوں کی   بندر بانٹ ، اپنے مفادات کے لیے تحفظ اور اختیارات کے تحفظ کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا جا تا ہے لیکن آخرت میں اس سب کا حساب دینا ہوگا ۔ جس نےجتنا ظلم کیا ہوگا اُسی قدر سخت عذاب کا بھی سامنا کرنا ہوگا اور جس شخص نے اپنے منصب اور عہدے و اختیار کا ناجائز استعمال کرنے سے گریز کیا ہوگا اُس کو دنیا میں تو شاید مشکل حالات کا سامنا کرنے پڑے لیکن آخرت میں اس کا درجہ و انعام بہت بلند ہوگا ۔ یہ عہدے اور اختیارات ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں اور عارضی ہیں ، جلد ہم سے واپس لے لیے جائیں گے اور پھر ہم سے حساب بھی لیا جائے گا لہٰذا حکمت بھی اسی میں ہے کہ ان کا صرف جائز استعمال کیا جائے ۔ خاص طور پر حکمران اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اگر اللہ کے دین کو قائم و نافذ کریں گے تو عدل کا ایک نظام قائم ہوگا ، ظلم اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور عوام کی دعائیں حکمرانوں کو ملیں گی اور آخرت میں وہ اعلیٰ مقام پائیں گے ۔ اس کے برعکس اگر انہوں نےظلم کا راستہ اختیار کیا تو عوام کی بددعائیں لے کر جائیں گے اور آخرت میں اللہ کے شدید غضب کا شکار ہوں گے ۔ فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے ۔ 
عبادت گزار نوجوان 
دوسرا شخص جو روز محشر اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوگا ، وہ ہوگا جو نوجوانی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے والا ہوگا ۔ یہ کام بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا حکمران کے لیے عدل کرنا مشکل ہے کیونکہ اس عمر میں بہکنے ، اللہ کی یاد سے غافل ہونے اور حرام چیزوں میں پڑنے کے مواقع اکثر ہوتے ہیںجن سے دامن کو بچانا انتہائی مشکل ہوتاہے ۔ لیکن اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے ، صرف مسلمان کے گھر میں پیدا ہو جانا اور محض کلمے کے دعوے کر لینا کافی نہیں ہے۔جنت کے حصول کے لیے محنت ، مشقت اور صبرآزما مراحل سے گزرنا ہوگا ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اللہ کی جنت کو مشقتوں ، مصائب اور تکالیف نے گھیر رکھا ہے اور جہنم کو لذتوں ، آسائشوں اور آسانیوں نے گھیر رکھا ہے ۔کسی نے پہاڑ کی چوٹی سر کرنی ہے تو پہاڑ پر چڑھنے کے لیے مشقت اُٹھانی پڑے گی لیکن پہاڑ سے گرنے کے لیے کوئی محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔ جنت میں درجات حاصل کرنے کے لیے محنت چاہیے لیکن جہنم میں جانے کے لیےکوئی محنت نہیں ہے ۔ نماز فرض ہے ، فجر کی نماز پڑھنے کے لیے گرم بستر کو چھوڑنا پڑےگا ، اسی طرح اقامت دین کی جدوجد ہر مسلمان کا فریضہ ہے ، اس کے لیے اپنی جان اور مال کو کھپانا پڑے گا۔ بڑھاپے میں تو سب کو اللہ یاد آتا ہےلیکن وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی اللہ کی فرمانبرداری میں گزاری ہو ، روزمحشر اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کے ایمان کی اور ان کی حیاء کی حفاظت فرمائے۔
تعلق مع المساجد
 
تیسرا وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے، روز محشر اللہ تعالیٰ کے سائے میں ہوگا ۔ یہاں ایک مراد تو یہ لی جاتی ہے کہ ایک نماز باجماعت ادا کرلی تو اس کے بعد دوسری نماز کا بے چینی سے انتظار ہے ۔ ظاہر ہے اس قدر اگر انتظار اور اشتیاق ہو گا تو نماز میں خضوع و خشوع بھی اُتنا ہی ہوگا اور پہلی صف میں اورتکبیر اولیٰ کے ساتھ جماعت میں شمولیت کی کوشش ہوگی ۔ بدقسمتی سے آج بھاگتے ہوئے آنااور آخری رکعتوں میں شامل ہونا اور پھر تیزی سے نماز ادا کرکےبھاگ جانا عام سی بات ہے ۔ اسی طرح جمعہ کی نماز میں بھی جب خطیب عربی خطبہ پڑھ رہا ہوتا ، اس وقت دوڑتے ہوئے شامل ہونا اور پھر جمعہ کی   دو رکعت ادا کرکے فوراً چلے جانا جمعہ کی نماز کی ادائیگی سمجھ لیا گیا ہے ۔ حالانکہ ظہر کی نماز کے چار فرائض ہوتے ہیں ، جمعہ میں دو فرائض کم کرکے دو خطبے رکھےگئے ہیں جن کو سننا مسلمان کے لیے لازم ہوتا ہے ۔ ان خطبوں کا مقصد تذکیر بالقرآن ہوتاہے ۔عرب علاقوں میں خطبے آج بھی عربی میں ہوتے ہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں عربی سمجھنے والے آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں لہٰذا دونوں عربی خطبوں کو تو برقرار رکھا گیا ہے لیکن آغاز میں تیس چالیس منٹ اُردومیں تقریر کی جاتی ہے ۔ لہٰذا لوگوں کی تذکیر کے لیے مقامی زبان میں قرآن و سنت کی تشریح بیان کی جاتی ہے تاکہ عوام کو    پتا چلے کہ دین کے کیا تقاضے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے ، ہماری دینی ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ لیکن ہمارے پاس نہ خطبے سننے لیے وقت ہوتا ہے اور نہ تقریر سننے کا ،        الا ماشاء اللہ ۔اتنا سا تعلق رہ گیا ہے ہمارا مسجد کے ساتھ ۔ حالانکہ فرائض کے علاوہ بھی بندہ مسجد میں وقت گزارنے کی کوشش کرے ، سنتوں اور نوافل کی ادائیگی اور تلاوت قرآن کرے ۔ حدیث میں ہے کہ فرائض کی ادائیگی میں جو  کمی بیشی رہ جائے وہ نوافل کی ادائیگی سے دور ہو جاتی ہے۔ 
اللہ کی خاطر محبت 
وہ دو افراد کہ جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں،اللہ کی محبت کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اللہ کی محبت کی خاطر جدا ہوتے ہیں ، روزِمحشر اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے ۔ یعنی وہ لوگ جو کسی سے محبت کرتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے اور نفرت کرتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے ، اللہ کی محبت سے بڑھ کر اُن کا کوئی مفاد نہیں ہوتا ۔ آج تو جب تک بندہ کسی عہدے پر ہوتا ہے ، لوگ اس کی عزت بھی کرتے ہیں ، تحفے تحائف بھی دیتے ہیں لیکن جب ریٹائر ہو جائے تو کوئی تیمارداری کے لیے بھی نہیں آتا ۔ جبکہ مومن کی محبت صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے ۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ اس شوہر پر رحمت نازل کرے جو اپنی بیوی کے چہرے پر پانی کےچند قطرے ڈال کرجگائے اور نماز کے لیے کھڑا کرے ، اسی طرح اس بیوی پر بھی رحمت نازل کرے جو اپنے شوہر کو نماز کے لیے جگائے ۔ یہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے تعاون ہے ۔آج عشق و محبت کا جو ٹرینڈ معاشرے میں چل رہا ہے وہ غیر فطری اور گمراہ کن تصور ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے ۔ اسلام بغیر نکاح کے ایسے تعلق کو حرام قرار دیتاہے ۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان محبت ایک فطری عمل ہے لیکن یہ محبت اگر صرف اللہ کے لیے ہوتو زیادہ پائیدار اور اجر و ثواب کا باعث ہو گی۔دنیا بھر میں عشق و محبت کی داستانیں لکھنے اور کہنے والے کبھی اس طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ مجھے تم سے محبت ہے اور بیوی شوہر سےیہی بات کہے ۔ یہی وہ محبت ہے جو اسلام کو مطلوب ہے ۔  موطا ٔ امام مالک میں حدیث قدسی ہے۔ جس کا مفہوم ہے کہ اللہ فرماتا ہےکہ ان کے لیے میری محبت واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کریں، میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کریں، میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں ۔ یعنی جو اللہ کی خاطر کسی سے محبت کرتا ہے، اللہ سے بھی اس سے محبت کرتاہے ۔ 
اللہ کا خوف
پانچواں وہ شخص جسے ایک خوبصورت اور مقام مرتبہ و شرف والی عورت گناہ کی دعوت دے لیکن وہ اس دعوت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔ یہ وہی بندہ کر سکتاہے جس کے دل میں پُختہ ایمان ہو ، آخرت کا یقین ہو اور اللہ کے سامنے جواب دینے سے ڈرتا ہو ۔ ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ تین مسافر ایک غار میں پھنس گئے ۔ انہوں نے اپنے نیک اعمال کو یاد کرکے دعا کرنا شروع کی تو غار کا دہانہ کھلنا شروع ہوگیا ۔ ان میںایک شخص وہ بھی تھا جس کو ایک حسین و جمیل عورت کے ساتھ گناہ کرنے کا موقع میسر تھا لیکن اُس نے محض اللہ کے ڈر کی وجہ سے وہ گناہ نہ کیا ۔ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا وہ سات پردوں میں بھی ہوگا تو گناہ کرنے سے پرہیز کرے گا کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ اللہ دیکھ رہا ہے اور   روزِ محشر اس کا جواب دینا ہوگا ۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتاہے :
{وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌط  اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا}(البقرہ:186)’’اور (اے نبیﷺ!) جب میرے بندے آپؐ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں۔میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا : 
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ ج}(قٓ:16)’’اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اُس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے ۔‘‘
یہ چیز مد ِنظر رہے گی تو انسان گناہوں سے بچا رہے گا ۔ جو اس احساس کے ساتھ گناہوں سے بچا رہا ، اللہ تعالیٰ  اُسے آخرت میں اُن نعمتوں اور اعزازت سے نوازیں گے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوں گے ۔ان میں سے ایک اعزاز یہ بھی ہوگا کہ وہ اللہ کے عرش کے سائے میںہوگا ۔ 
اللہ کی راہ میں صدقہ دینا
وہ شخص جس نے دائیں ہاتھ سے صدقہ دیا لیکن بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی ، یعنی دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کیا وہ بھی روزِ محشر اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوگا ۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ خیر اور نیکی کا کوئی بھی کام ہو وہ دائیں ہاتھ سے کیا جائے ۔ آج کے دور میں لوگ صدقے سے زیادہ دکھاوا کر رہے ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ۔  جب تک سوشل میڈیا پر تصویر اپ لوڈ نہ ہو تسلیم     نہیں ہوتا ۔ صدقے میں اگر دکھاوے کا عنصر شامل ہو جائے تو وہ شرک بن جاتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے : 
((من تصدق یرایٔی فقد اشرک ))جس نے دکھاوے کا صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔ اس صورت میں  بجائے اجر کے اُلٹا عذاب کا مستحق بن جاتاہے کیونکہ شرک وہ گناہ ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہ کرے گا ۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ہمارے اساتذہ نے یہ بھی سمجھایا کہ بیٹا بہت سی نیکیاں ظاہر ہو ہی جاتی ہیں، کوشش کرو کچھ نیکیاں سنبھال کر رکھو جن کا صرف تمہیں اور تمہارے رب کو علم ہو۔ ان پوشیدہ نیکیوں کی بہرحال اللہ کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے۔ صدقے کا لفظ صرف مال کے خرچ کے لیے  نہیں آتا، بلکہ یہ تمام نیکیوں کے اعتبار سے بھی آتا ہے۔ جیسے احادیث میں ہےکہ سبحان اللہ، الحمدللہ پڑھنا بھی صدقہ ہے ، اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے، اچھی بات کی تعلیم دینا بھی صدقہ ہے۔ جو مالی صدقہ بھی ہم دیتے ہیں اس کے حوالے سے ذہن یکسو رہنا چاہیے کہ اس میں تعداد کی نہیں بلکہ خلوص کی اہمیت ہوتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : کھجور کا ایک دانابھی اللہ کی راہ میں دے کر تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کر سکتے ہو تو کر ڈالو ۔ غزوہ تبوک کے موقع پر   صحابہ کرام ؓ نے ڈھیروں مال صدقہ کیا ، ایک صحابیؓ ساری رات ایک یہودی کے باغ میں مزدوری کرتے رہے اور صبح اُجرت میں کچھ کھجوریں ملیں ، اُن میں کچھ گھر والوں کو دیں اور باقی لا کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیں ۔ آپ ﷺ نے وہ کھجوریں پورے مال کے اوپر بکھیر دیں اور فرمایا کہ یہ چند کھجوریں اس پورے مال سے زیادہ وزنی ہیں ۔ صدقہ میں جتنا انسان کا خلوص شامل ہوگا اُتنا ہی اس کا اجر زیادہ ہوگا ۔ 
 اللہ کا ذکر  
ساتواں وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ جائیں، روزِ محشر اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوگا۔ مجمعے میں رونا تو خطیب کو بھی آجاتا ہے ، کیمرے کے سامنے کیفیت طاری ہو سکتی ہے لیکن تنہائی میں اللہ کو یاد کرکے رونا کچھ اور معنی رکھتا ہے۔آج کے دور میں یہ شرف اور سعادت صرف اُسے ہی حاصل ہوگی جو اللہ کا خاص متقی بندہ ہوگا ورنہ سوشل میڈیا پر اور عام معاشرے میں جو بدنظری پھیلی ہوئی ہے ، اس کی ایک نقد سزا یہ بھی ہے کہ اللہ کی یاد دلوں سے نکل جاتی ہے اور عبادت کی لذت چھن جاتی ہے ۔     بے حیائی، فحاشی اور عریانی وہ چیزیں جو براہ راست ایمان پر حملہ کرتی ہیں ۔ جب حیا اور ایمان ہی نہ رہے تو اللہ کا ذکر کیسے ہوگا اور اس کی خشیت میں آنکھوں سے آنسو کیسے جاری ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ 
ایک ضمنی بات یہ ہے کہ زیر مطالعہ حدیث میں  اگرچہ ان سات بندوں کے لیے لفظ رجل استعمال ہوا ہے جس کے معنی ’’مرد‘‘ ہیں لیکن عام مفہوم میں خطاب خواتین کے لیے بھی ہے ۔ بہت سارے اعمال ایسے ہیں جو خواتین کو بھی وہی مرتبہ دلا سکتے ہیں کہ وہ روز محشرِ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اعمال کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !