(کارِ ترقیاتی) کردار کی پستی دیکھو! - عامرہ احسان

10 /

کردار کی پستی دیکھو!

عامرہ احسان

دنیا حسب ِسابق چلتی رہتی ہے پھر اچانک کوئی واقعہ دہلا کر از سر ِنو ایک پوری تاریخ زندہ کر دیتا ہے۔ ہم سبھی غزہ پر ٹوٹتی بلاؤں کے عادی ہو گئے تھے۔ طوفانی بارش کا ایک سلسلہ وسط نومبر میںخستہ حال ٹینٹوں میں بھرے بچے بوڑھے، کم لباس، بھو کے اہل غزہ کو ڈبو گیا۔ یو این ادارہ UNRWA مضبوط ٹینٹ خوراک، کمبل، ضروریاتِ زندگی لیے موجود تھا، اجازت طلب تھا! اسرائیل کی اجازت نہ تھی۔ امریکہ، ذمہ داریاں سنبھالنے کو تیار کیے گئے 8 مسلم ممالک کے پاس دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ غزہ سے احمد عاشور نے لکھا: ہم مٹھائیوں، عیاشی کے  طلب گار نہیں۔ صرف جینے کا حق مانگتے ہیں۔ موبائل گھر  (یا مضبوط ٹینٹ) دو تا کہ ہم سڑکوں پر نہ رُلیں۔ موٹے بھاری کمبل، (خشک گرم کپڑے )جو ہمیں سردی سے بچا سکیں۔  زندگی کے سب دروازے ہم پر بند کر کے اسرائیل نے معمولی، غیر اہم چیزیں ہمارے منہ پر دے ماری تھیں۔ (اب فلسطینی گیلے چیتھڑوں، پھٹے ڈوبے ٹینٹوں میں پڑے تھے!) ہمیں عزت کے ساتھ ضروریاتِ زندگی فراہم کرو۔ ان حالات سے جیسے تیسے سنبھلے اور 11 تا 13 دسمبر شدید ترین طوفان اور بارش کے نئے ریلے آن اترے۔ غزہ پہلے خون میں بھیگا، اب پانی میں ڈوبا تھا ۔(53 ہزار خیمے برباد ہو گئے۔ اسرائیل نے میسر 3 لاکھ خیموں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے!)اور اس سے بڑھ کر  اذیت زدہ وہ مسلم امت کی خاموشی کا اتھاہ سمندر جس پر ہو کا عالم طاری تھا مجبور و مقہور غزہ کے حوالے سے! ڈاکٹر عدنان البروش کے مطابق: طوفانوں سے تباہ حال مگر فلسطین پہاڑ کی طرح اٹل سر اٹھائے کھڑا ہے۔ جنھوں نے درد کے سمندر میں تیرنا سیکھ لیا ہو، کوئی بارش انھیں ڈبو نہیں سکتی۔ غزہ کو معجزوںکا انتظار نہیں، اس ضمیر کا انتظار ہے جو تنہا ہو مگر دنیا بھر کو کہہ سکے، بہت ہو چکی!
  ہم دم بخود غزہ کو ہر غم، دکھ، المیوں کے ذائقے چکھتے دیکھ رہے تھے کہ اچانک 14 دسمبر کو پوری دنیا دہل گئی۔ تابڑ توڑ خبریں امڈ نے، ابلنے لگیں۔ دہشت گردی کا ـــ ـــ سنگین واقعہ آسٹریلیا میں ہو گیا! سڈنی میں بونڈائی کے ساحل پر، جہاں یہودی مذہبی تہوار منانے کو ایک ہزار کے لگ بھگ موجود تھے، ایک 50 سالہ مرد اور 24 سالہ اسی کے بیٹے نے گولیاں چلا ڈالیں۔ 15 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہو گئے۔ شہ سرخی تو یہ ہے کہ ہزار کے مجمعے، پولیس کی موجودگی میں، بندوق بردار کو قابو کر کے سینکڑوں مزید یہودیوں کی جانیں بچانے والا ایک نہتا مسلمان تھا! بے خوفی سے لپک کر اُس نے بندوق چھینی اور اُسے گرا دیا۔ خود بھی زخمی ہو گیا۔43سالہ احمد الاحمد!یہ اپنی جگہ ایک زبردست معرکہ ہے جرأت و استقلال کا، کردار کا۔ جو بحمد اللہ اسلامی تربیت کا سنہرا نقش ہے۔ ہم ان کے عورتوں، بوڑھوں، بچوں کو تحفظ دیتے ہیں خواہ وہ دو سال سے غزہ کے بچوں کے سروں کے نشانے لیتے، حاملہ عورتوں کو چن چن کر مارتے، روئے زمین کا ہر ظلم اس مقبوضہ سرزمین پر آزماتے ہی کیوں نہ رہے ہوں۔
ہمیں تاریخ سے مکمل لا علم رکھا گیا ہے۔ حالانکہ  ہم نے یہودیوں کو پوری انسانی تاریخ میں جابجابچایا،  پناہ دی۔ سپین سے پوری یہودی آبادی کو نکل جانے کا الحمرا فرمان (عیسائیوں کا) جاری ہوا تو خلافتِ عثمانیہ سے سلطان بایزید دوئم نے بحری جہاز بھیج کر محفوظ انخلا کر وایا۔ ڈیڑھ لاکھ یہودی، استنبول، از میر، سالونیکا میں شہریت اور مذہبی آزادی سے آبادکیے گئے۔ ہو لوکاسٹ میں مسلمان البانیہ، پورے یورپ کی واحد قوم تھی جس نے عہد کی پاسداری (قرآنی حکم) کے تحت بڑے بڑے یہودی خاندانوں، مہاجرین کو اپنے گھروں میں پناہ دی۔ پیرس کی جامع مسجد کے امام نے مسجد کے تہہ خانے میں یہودیوں کی جان بچانے کے لیے انھیں مسلم ظاہر کر کے کم و بیش 500 کوجگہ دی۔ مراکش نے ڈھائی لاکھ یہودیوں کو تحفظ دیا۔ یہ لامنتہا،انصاف، انسانی ہمدردی، رحمدلی کی کہانیاں تاریخ میں ثبت ہیں۔ اور سب سے حیران کن، پریشان کن تو یہود کا فلسطین میں آ بسنے کا قصہ ہے! یہ کہانی سناتے ہیں ڈاکٹر رائے کا ساگر انڈا، اینا کیسپریان، سوسن ابو الہوا اور کینیڈس اوونز۔ علی الترتیب، امریکی تاریخ دان، امریکی صحافی، فلسطینی امریکی مصنفہ اور امریکی تجزیہ نگار۔ المختصر، جب فلسطینی مسلمانوں نے آرمینی مہاجروں (عیسائی)، ظلم سے بچ نکل کر آنے والے یہودی مہاجروں کو اپنی سر زمین بلکہ عین اپنے گھروں میں فراخدلانہ پناہ دی۔ بحری جہازوں میں لد کر آنے والوں (تصاویر، کتبے اٹھائے جنگ عظیم دوئم کے مہاجروں کی!) نے اپنی بپتا سنا کر ہمدردی وصول کی۔ اور پھر کس طرح وہ جنھیں ان ممالک نے انھیں قتل کرنا چاہا دھتکارا، مسلمانوں نے فلسطین میں انھیں کپڑے، کھانا، ٹھکانا، زمین فراہم کی ۔مگر ایک دن ایسا بھی آیاکہ فلسطینی گھر لوٹے تو یہ یورپی یہودی ان   کے گھروں کے تالے بدل چکے تھے اور فلسطینی اپنے ہی گھروں میں داخل ہونے سے قاصر تھے۔ بند دروازوں کے باہر یہودی (غنڈے) بندوقیں اٹھائے دھمکا ر ہے تھے ، یہاں سے چلے جاؤ ورنہ مار ڈالے جاؤ گے۔ سوسن: پھر تم نے ہمیں ہمارے گھروں اور وطن سے نکالا، قتل کیا، لوٹا، جلایا، ہماری زندگیاں لٹ گئیں۔ اور آج یہ اسرائیل کی کہانی پوری دنیا کے سامنے ہے۔ 
مسلم اخبارات احمد الاحمد پر فخر کر رہے ہیں کہ نہتے مسلمان نے (ہمارے خون پسینے کی کمائیاں لوٹ کر صیہونی ارب کھرب پتی بننے والے) یہودیوں کو بچایا۔( ہاں بالکل درست کیا، یہی ہم ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں)۔ مگر تاریخ نہ بھولو۔ معذرت خواہانہ رویے اختیار نہ کرو۔     اہل ِغزہ کو بچانے کی بجائے قیامتوں میں سبھی مسلمانوںنے انھیں یکہ و تنہا چھوڑا۔ اب ہم پھر اسرائیل کو بچانے اس سرزمین پر بڑے اور امیر مسلم ممالک کی مسلم افواج بھیجنے چلے ہیں۔ جانے سے پہلے حقیقی تاریخی، قرآن سے یہود ؍ بنی اسرائیل کا کردار، سیرت سے نبی ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اُن کی سازشیں پڑھیے۔ اللہ آج ہر قدم دنیا کی تمام اقوام کے بیچ انھیں بے نقاب کر رہا ہے۔ مگر مسلم دنیا درہم و دنیار، پاؤنڈ، یورو، ڈالروں کی اسیر، کردار میں حقیر وپُر تقصیر ہوش و خرد کھو چکی ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ لبنان میں ایک ماہ میں 3 مرتبہ اسرائیل نے یو این کی امن فوج پر حملے کیے ہیں۔ فلسطینیوں کی حالت ِزار بدلنے کی نہ ہم میں طاقت ہے نہ خواہش۔ جنگ بندی کے ان 65 دنوں میں اسرائیل 800 حملے غزہ پر کرکے اس کی خلاف ورزی   کر چکا ہے۔ 400 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی،   ہوائی جہاز، ڈرون، ٹینک، سبھی چلے۔ آپ زد میں تو آسکتے ہیں اسے روکنا؟ ہماری اوقات کہاں!
آسٹریلیا میں واقعے پر وقتی طور پر سبھی مغربی ؍ عالمی حکومتوں نے تعزیت کی ہے۔ مگر نیتن یاہو کے متکبرانہ بیان اور آسٹریلیا پر تنقید کو برداشت نہیں کیا گیا۔ یو این مندوب (آسٹریلوی پروفیسر) اور وزیر اعظم آسٹریلیا نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کو تکلیف ہے کہ آسٹریلیا کے عوام نے 2 سال لگاتار غزہ کی زبردست حمایت کی ہے! اب یکا یک دہشت گردی کا پہاڑا پڑھا جا رہا ہے۔کیا دو سال سے اسرائیل پھول برساتا، گل و گلزار کھلاتا رہا؟ دنیا کو مسلسل احمق بنا نا ممکن نہیں۔ حیران کن استقامت سے مغربی دنیا آج بھی اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم اور غزہ کے لیے گریہ کناں ہے۔ کھیل کے میدان، آرٹ اور فلم کی دنیا، سڑکوں پر مظاہرین! اسرائیل دنیا کو مسلمان کر کے چھوڑے گا! اس کی نفرت لوگوں کے رگ و پے میں اتر چکی۔ آخر وہ دن آئے گا جب درخت اور پتھر بھی چیخ اٹھیں گے۔ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے! برسلز میں ’زندگی کے حق کو عزت دو، ورنہ مزاحمت کی توقع رکھو‘ کا بینز اور اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کے لیے بھرپور مظاہرہ فلسطینی جھنڈوں بیچ۔   دنیا بھر کو حماسی مزاحمتی بنا رہا ہے۔ اٹلی میںزبردست مظاہرے، سویڈن، مغربی یورپی ممالک ہر جا’ ویک اینڈ غزہ‘ کے نام کرتے ہیں۔ فرانسیکا البنیز(خاتون) مندوب یو این پر(نیتن یاہو کے تقاضے پر) پابندیاں عائد کر کے زندگی تنگ کر دی گئی۔ حد درجے بزدلی اور کمزوری کا اظہار ہے۔ دواسلحے سے لدی قوتیں عورت پر سفری، مالی پا بندیاں لگا کرزچ کریں!وہ و صولیابی یا ادائیگی نہیں کر سکتی۔ صحت کی انشورنس معطل، ہوٹل کی بکنگ منسوخ کردی۔ اثاثے، اکائونٹ سبھی پرتا لے! فرد، فرد سے جنگ! 
نشہ اترے تو یہ کردار کی پستی دیکھو!