حلقہ خیبرپختونخوا جنوبی کے زیر اہتمام توسیع دعوت پروگرام
یونیورسٹی آف لکی مروت کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر کفایت اللہ ، حلقہ خیبرپختونخوا جنوبی کے منفرد مبتدی رفیق نے یونیورسٹی کے نئے طلبہ کے لیے 10دسمبر،2025ء کو صبح دس بجے ایک پروگرام ترتیب دیا۔ اس پروگرام میں انہوں کی دعوت پر حلقہ اور زون کی سطح پر محترم محمد شمیم خٹک ، نائب ناظم اعلیٰ خیبرپختونخوا زون، مقامی امیر مردان محترم ڈاکٹر حافظ محمد مقصود اور ناظم تربیت حلقہ محترم فضل ِ باسط پر مشتمل ایک وفد نے شرکت کا اہتمام فرمایا۔لکی مروت پہنچنے پر محترم ڈاکٹر کفایت اللہ اور ان کی فکلیٹی کے ممبران نے اُن کا استقبال کیا۔
پروگرام کے پہلے مقرر محترم ڈاکٹر حافظ محمد مقصود کے خطاب کا عنوان ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ ، مولانا رومی ؒ اور ہمارا نوجوان ‘‘تھا ۔ انہوں نےکہا کہ نوجوانوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرانا چاہیے اور انہیں ان کے دینی فرائض ادا کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ قرآن و سنت کا پیغام انسانیت کے نام وہ بے مثال سرمایہ ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اُمت کو منتقل فرمایا۔ پھر صحابہ کرامj نے اس پیغام کو لے کر اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصے تک اپنے اقوال و افعال کے ذریعے پہنچایا۔ صحابہ کرامj کے بعد امت کے بہت سے سنجیدہ و فہمیدہ افراد نے اس سلسلہ کو آگے بڑھایا ۔ اس مبارک و مسعود کام میں بہت سے اہل ِقلم نے بھی حصہ لیا۔ بعض نے نثر کے ذریعے ابلاغ کا کام کیا جبکہ بعض دوسروں نے نظم کے ذریعے بے قرار دلوں کو گرمایا۔ نظم کے ذریعے قرآن و سنت کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے میں مولانا رومیؒ اور علامہ اقبالؒ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں ہر نوجوان کی آرزو اور تمنا ایک کامیاب اور کامران زندگی کا حصول ہے۔ مگر کامیابی اور کامرانی کس چیز کا نام ہے؟ اس کے تعین میں انسانوں نے مختلف راہیں اختیار کی ہیں۔ کسی نے اپنی ہر خواہش اور آرزو کی تکمیل اور تسکین کو کامیابی قرار دیا، کسی نے مال و دولت کے حصول کو کامرانی سمجھا، کسی نے شہرت اور اقتدار کو کامیابی کا قبلہ و کعبہ بنایا اور کسی نے اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کو کامیابی اور کامرانی کا زینہ سمجھا۔ مولانا رومیؒ اور علامہ اقبالؒ کا تعلق آخرالذکر گروہ سے ہے جنہوں نے اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کو عظیم کامیابی سمجھا اور نوجوانوں کو یہ حقیقت سمجھانے میں اپنی پوری زندگی گزاردی۔ گویا کامیابی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے سامنے ایک عظیم مقصد ہو اور اس مقصد کے عشق اور لگن سے اُس کا دل معمور و آباد ہو۔ رومیؒ اور اقبالؒ کے نزدیک یہ عظیم مقصد رضائے الٰہی اور فلاح اُخروی ہے۔ بقول مولانا رومیؒ ؎
خود بِدانی قدرِ تن اَز جان بود
قدرِ جان از پر تِو جانان بود
اور علامہ اقبال ؒکے الفاظ میں؎
در دشت جنونِ مَن جبریل زبون صیدی
یزدان بہ کمند آور ای ہمت ِ مردانہ
دوسری چیز جس کی حقیقت سے ایک سنجیدہ انسان انکار نہیں کر سکتا وہ یہ ہے کہ انسان نے جس مقصد کو اختیار کیا ہے وہ محنت و مشقت اور جُہد ِمسلسل کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ گویا کامیاب زندگی اب دو چیزوں کا مجموعہ بن گئی۔
نمبر 1 ایک برتر و اعلیٰ مقصد اور نمبر 2 ایک مسلسل جدوجہد۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری میں یہ تصور تانے بانے کی طرح بُنا ہوا ہے۔
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر ِخاکی میں جاں پیدا کرے
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر اُستوار
لا کہیں سے ڈھونڈھ کر اسلاف کا قلب و جگر
یہاں برتر اعلیٰ مقصد سے مراد ایمانی حقائق کا حصول اور بازیافت ہے۔ اور جدوجہد یا جہاد سے مراد وہ دوڑ دھوپ ہے جو ایک نوجوان اس مقصد اعلیٰ کے حصول کے لیے کررہا ہے۔ جس میں انفرادی سطح پر اپنے آپ کو اللہ کے مطیع و فرمانبردار بنانا ہے۔ جس کا نام عبادت اور بندگی ہے۔ پھر اس ایمان (مقصد اعلیٰ) اور عبادت کے وسیع تر مفہوم کی دعوت اور تبلیغ و اشاعت ہے اور تیسرے نمبر پر قرآن و سنت کا وہ نظامِ عدل ہے جس کو خدا کی زمین پر جاری و ساری کرنے کی سرتوڑ جدوجہد ہے۔ جیسے قرآن و حدیث میں اقامت ِدین، اظہار ِدین، اعلائے کلمۃ اللہ اور تکبیر رب کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔
محترم ڈاکٹر حافظ محمد مقصود کے خطاب کے بعد محترم فضلِ باسط صاحب کو دعوت ِکلام دیا گیا، اُن کا موضوع ’’اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)، دجال اور ہمارا مستقبل‘‘تھا۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو دجالی فتنے سے بچنے کے لیے طریقہ کار بتایا اور سمجھایا کہ ہم نے دجال کے فتنے سے کیسے بچنا ہے؟
اس پروگرام میں یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے علاوہ فکلیٹی و دیگر عملہ کے تقریباً 250افراد شریک تھے۔ (رپورٹ: سعید اللہ شاہ،معتمد حلقہ خیبرپختونخوا جنوبی)