الہدیٰ
فرقہ پرستی دینِ فطرت کے بھی خلاف ہے
آیت 31 {مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(31)} ’’رجوع کرتے ہوئے اُسی کی
طرف‘اور اُسی سے ڈرو‘اورنماز قائم کرو اور مشرکین میں سے مت ہونا۔‘‘
آیت 32 {مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًاط} ’’(یعنی )ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور
وہ مختلف گروہ بن گئے۔‘‘
فَرَقَ کے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا‘توڑ دینا اور ٹکڑ ے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔
اس اعتبار سے دین کو پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے نام لیوائوں نے اپنی اطاعت کو اِس طرح منتشر کر دیا کہ زندگی کے ایک حصے میں تو اللہ کی اطاعت کر تے رہے‘جبکہ کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی بات مانتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا نظام ِزندگی منتشر ہو کر رہ گیا ۔ ہاں اللہ کی اطاعت کے تابع رہ کر کسی اور کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً والدین کی اطاعت کرنا ‘اساتذہ کا کہنا ماننا اور ُحکام ّکا فرمانبردار بن کر رہنا ضروری ہے ‘مگر اُس وقت تک جب تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے۔
{کُلُّ حِزْبٍم بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ(32)}’’ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘
ایک گروہ دین کے ایک حصے پر عمل کر رہا ہے‘دوسرے گروہ نے اپنی پسند کے کچھ اور احکام کو اپنی پیروی کے لیے منتخب کر لیا ہے اور تیسرے نے کوئی اور راستہ نکال لیا ہے۔ غرض مختلف گروہوں نے دین کے مختلف حصوں کو آپس میں بانٹ لیا ہے اور ہر گروہ اپنے طریقے میں مگن ہے اور اس پر اِترا رہا ہے‘حالانکہ ان میں سے کوئی گروہ بھی پورے دین پر عمل پیرا نہیں ہے۔
درس حدیث
کون سا صدقہ ثواب میں بڑھ کر ہے؟
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَجُلٌ ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ا ! أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْراً؟ قَالَ: ((أَنْ تَصَدَّقَ وَأَ:نْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ ، تَخْشَیِ الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنٰی، وَلَا تُمْھِلَ، حَتّٰی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ)) قُلْتَ: ((لِفُلَانٍ کَذَا ، وَلِفُلَانٍ کَذَا ، وَقَدْ کَان لِفُلَانٍ)) (رواہ ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ ثواب میں زیادہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست اور مال کو جمع رکھنے کا خواہش مند ہو، تجھے محتاجی سے ڈر لگتا ہو اور تو اَمیری کا آرزو مند ہو۔ نیز صدقہ دینے میں دیر نہ کر، یہاں تک کہ جب (روح) حلق کے قریب پہنچ جائے تب تو وصیت کرے کہ فلاں کے لیے اتنا مال ہے اور فلاں کے لیے اتنا ہے، جب کہ مال فلاں کا ہوچکا ہے۔‘‘