(اداریہ) بس بہت ہوگیا! - رضا ء الحق

10 /

ادایہ
رضاء الحقبس بہت ہوگیا!

دنیا بھر کے اخبارات اور روایتی میڈیا میں خبریں کچھ یوں تھیں…آسڑیلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی کے ساحل پر ایک ہزار کے قریب یہودی اپنا مذہبی تہوار حنوکاہ منا رہے تھے کہ 50 سالہ ساجداکرم اور اُس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم نے اُن پر فائر کھول دیا۔ 15 یہودی ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوگئے۔ دنیا میں گویا آگ لگ گئی۔ نتن یاہو نے فوری پریس کانفرنس کی اور ’دہشت گردی‘ کے اِس واقع کو آسٹریلوی حکومت کی ذِمّہ داری قرار دیا کہ اُس کی ’اسرائیل مخالف‘ پالیسیوں کے باعث دنیا بھر کے یہود کی جان خطرہ میں پڑ چکی ہے۔ عبرانی زبان میں کی گئی اِس پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم بلکہ غزہ کا قصاب یہ تک کہہ بیٹھا کہ اگر ایک بہادر یہودی حملہ آوروں سے بندوق نہ چھینتا تو نہ جانے کتنی قیمتی یہودی جانیں مزید ضائع ہو جاتیں۔ مغربی میڈیا بھی فوراً حرکت میں آگیا۔ اخبارات نے افسانے تراشنے شروع کر دیئے۔ ٹی وی چینلز پر یہودیوں کے انٹرویوز کی بھرمار ہوگئی۔ سوال کیا جاتا ہے کہ بونڈائی ساحل پر یہود مخالف دہشت گردی کے واقعہ پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ روایتی مسلم دہشت گردی نہیں؟ جواب میں یہودی مرد و عورتیں ٹسوے بہاتے ہوئے کہتے کہ جی ہاں! اگر دنیا بھر میں فلسطینیوں کے نام نہاد حقوق اور اسرائیل کے حق ِدفاع کی پالیسی کی مخالفت کی اجازت نہ دی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا! سب مجرم ہیں اور یہود دشمن (antisemites) ہیں۔ دنیا بھر میں ’دہشت گردی‘ کے اِس واقعہ کی کُھل کر مذمت کی گئی۔ امریکہ، مغربی یورپ، ایشیائی ممالک، مسلم و غیر مسلم سب نے مذمت کی۔ ’دہشت گردوں‘ کو ہٹلر کی اولاد اور یہود دشمن قرار دینے میں ایک سے بڑھ کر ایک بیان دیا گیا۔ یہودیوں اور اسرائیل کی حفاظت کے ازسرنو وعدے کیے گئے۔ (واقعہ سڈنی میں اور حفاظت اسرائیل کی!) بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’دہشت گردی‘ کے اِس واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا۔ نتن یاہو کے وزیر و مشیر ہر فورم پر یہ کہتے دکھائی دیئے کہ ثابت ہوگیا کہ یہود کے لیے محفوظ صرف اسرائیل کی سرزمین ہے۔ گویا گریٹر اسرائیل کے قیام اور دنیا بھر کے یہود کی مشرقِ وسطیٰ میں آباد کاری کا راستہ دینے کی ایک نئی کوشش کا آغاز کر دیا گیا۔
لیکن یہ کیا… سوشل میڈیا پر حق سچ کے متوالوں نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اسرائیل سے تعلق رکھنے والا آرسن اسٹروسکی نامی صہیونی اداکار یہاں بھی زخمی ہے۔ اُس کی زخموں سے چور رینگتے ہوئے تصویر (وہ بھی سیلفی) دکھائی جا رہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کو یہی شخص اسرائیل میں بھی زخمی ہوا۔ اِس سے قبل، یمن میں اِس کی لاش بھی دکھائی جاچکی ہے۔(Hasbara, Talmud) ’’By way of deception thou shalt do war‘‘
ذرا مزید گہرائی میں اُترتے ہیں۔ ’دہشت گرد‘ کے باپ کو تو پولیس نے موقع پر ہی مار دیا۔ اُس کا بیٹا نوید اکرم گرفتار کر لیا گیا۔ کیا سڈنی واقعہ میں ملوث نوید اکرم بھارتی شہری ہے، جس کا آبائی شہر بھارتی حیدرآباد ہے؟ 6بار بھارت کا دورہ کر چکا ہے اور بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی؟ بھارتی حکام تو اقرار کر چکے کہ وہ اور اُس کا باپ بھارتی شہری ہی تھے اور اُن کا آبائی وطن بھارت ہی ہے۔ کہیں ’دہشت گردی‘ کے اِس واقعہ کا ایک اور ہدف دیگر غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا تو نہیں؟ بھارتی مسلمانوں پر بھی ’دہشت گردی‘ کا لیبل لگا کر اُنہیں نشانہ بنانا تو نہیں؟ لیکن نوید اکرم کی کئی تصاویر تو غزہ میں اسرائیلی فوج (IDF) کے سپاہی کے طور پر بھی موجود ہیں! آخر حقیقت کیا ہے؟
’دہشت گردوں‘ سے بے خوفی سے بندوق چھیننے والا نتن یاہو کی پہلی پریس کانفرنس کے برعکس یہودی نہیں بلکہ شام سے تعلق رکھنے والا 43 سالہ آسٹریلوی مسلمان احمد الاحد ہے۔ اُس نے تو قرآن و سنت کے حکم کے عین مطابق ’نہتے یہودیوں‘ پر گولیاں چلانے والوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر دبوچ کر روک دیا۔ کیا کسی نے اُس سے غزہ کے مسلمانوں کی حالتِ زار اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی بدمعاشیوں سے متعلق بھی پوچھا؟ یقیناً جرأت اور شجاعت کی داستان رقم کرنے والا احمد الاحمد ’Person of the Year ‘ قرار دئیے جانے کے ہی قابل ہے۔ ایسے ہی غزہ کے شہداء اور غازی بھی گزشتہ 3 سالوں کے ’ People of the Year‘ ہیں۔ آسٹریلیا واقعہ کے شوروغوغہ میں کوئی اُنہیں نہ بھولے۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے جنگی مجرموں کو بھی کوئی نہ بھولے۔
واقعہ 14 دسمبر 2025ء کو آسٹریلیا کے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 47 منٹ پر پیش آیا۔ گوگل کے اپنے شماریات کے مطابق اِس میں ملوث نوید احمد کے نام (جو آسٹریلوی پولیس کے مطابق اب کومے میں ہے اور شاید جلد جاں بحق ہو جائے) کو اسرائیل اور ایران میں صبح 5 بجے، پھر 7 بجے اور پھر صبح 9بجے، 100سے زائد مرتبہ گوگل پر تلاش کیا گیا۔ سڈنی اور اسرائیل کے مابین وقت کے فرق کو سامنے رکھیں تو سڈنی میں اُس وقت شام کے ابھی صرف 00:6 بجے تھے۔ کیا اسرائیل کو صبح 9 بجے ’’دہشت گردی‘‘ سے قبل ہی معلوم تھا کہ 47 منٹ بعد نوید احمد نامی شخص بونڈائی ساحل پر حنوکاہ مناتے یہودیوں پر فائرنگ کرے گا؟ فائرنگ کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی۔ نام نہاد باپ، بیٹا بولٹ ایکشن (Bolt-action) رائفلز کو کسی اناڑی نہیں، برسوں سے تربیت یافتہ فوجیوں کی طرح استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا کوئی ایرا غیرا ’انتہا پسند‘ بھی اتنی عسکری مہارت رکھتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ثبوتوں کے ساتھ حقائق کے انبار لگ چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک 14 دسمبر 2025ء کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی کے ساحل پر حنوکاہ مناتے یہودیوں پر دہشت گردی ایک ’’فالس فلیگ‘‘ حملہ تھا، جس میں یقیناً اسرائیل اور ممکن ہے کہ آسٹریلیا کی حکومتیں شامل ہوں۔ اِس سے اسرائیل کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، اظہر من الشمس ہے۔ غزہ میں سیلاب اور سردی میں ٹھٹھرتے بچوں، عورتوں،بوڑھوں سے توجہ ہٹانا، گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا، مغربی ممالک کو مزید دباؤ میں لانا اور وہاں پر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندیاں لگانا۔ پھر یہ کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو عمومی طور پر دہشت گرد ثابت کرنے کی ایک نئی لہر کا آغاز کرنا۔ (کرسمس سے قبل جرمنی، پولینڈ، فرانس اور کئی دیگر مغربی ممالک میں کرسمس مارکیٹوں پر مسلمانوں کے حملوں کی خبریں!) اور بین الاقوامی سطح پر گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے راستہ میں رکاوٹ بننے کے قابل مسلم ممالک کو یا تو مطعون قرار دینا (افغانستان کے حوالے سے ایران میں ’علاقائی‘ اجلاس اور خود افغان حکومت کی کم عقلی کہ بھارت جیسے مسلم دشمن سے تعلقات بڑھا رہی ہے) یا وہاں افراتفری پیدا کر دینا (پاکستان میں دہشت گردی، آئی ایم ایف کی رپورٹ اور مزید کڑی شرائط، جنرل فیض حمید وغیرہ)۔
اسرائیل اور اُس کے حامی و معاون ممالک کی شاطرانہ چالیں تو جاری رہیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام قرآن و سنت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر دھوکا ہی کھاتا رہے گا؟ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اہلِ غزہ کی جوانمردی اور اہلِ مغرب میں عوام کے جذبات نے اسرائیل کو دنیا بھر میں نفرت کا استعارہ بنا دیا ہے۔ کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ اُمتِ مسلمہ معذرت خواہانہ رویہ ترک کرکے جذبۂ ایمانی سے اپنے دشمنوں کو یک زبان ہوکر کہے… بس بہت ہوگیا۔