(منبرو محراب) رزق میں اضافے کا دروازہ :سچی توبہ - ابو ابراہیم

10 /

رزق میں اضافے کا دروازہ :سچی توبہ


(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

 

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظہ اللہ کے12دسمبر2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج کی نشست میں قرآن و احادیث کی روشنی میں رزق کےحوالے سے کچھ باتوں کی یاددہانی مقصود ہے ۔ عام طور پر رزق سے مرادمال ، آمدن ، کمائی ، منافع وغیرہ لیا جاتاہے لیکن یہ تصور بڑا محدود ہے۔ اس کے برعکس قرآن و احادیث میں  رزق کا جو تصور بیان ہوا ہے وہ بہت وسیع ہے ۔ اصل میں جو بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے وہ رزق ہے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انسانی ذہن اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ جیسا کہ خود قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(13)}(الرحمٰن)’’تو تم دونوں (گروہ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کروگے؟‘‘
 ایک اور مقام پر فرمایا :{وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَاط} (النحل:18) ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو اُن کا احاطہ نہیں کر سکو گے۔‘‘
اللہ نے کائنات بنائی ، زمین و آسمان بنائے ، انسانوں سمیت ہر مخلوق کو پیدا کیا ، ہر مخلوق کو بے شمار نعمتیں عطا کیں ، انہی نعمتوں میںسے ایک بڑی نعمت زندگی،پھر  ضروریات ِ زندگی کو پورا کرنے والی تمام نعمتیں ، مال ، اولاد،  دیکھنے سننے سمیت تمام صلاحیتیں،وجود اور اس کے اعضاء اور بے شمار ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کو ہم استعمال تو کرتے ہیں مگر ان کا شعور نہیں رکھتے ۔ ان میں کچھ ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی کا تسلسل برقرار ہے ۔ یہ تمام کی تمام نعمتیں رزق ہیں ۔ یہاں تک کہ زوجین کے تعلق موقع پر جو دعائیں احادیث میں سکھائی گئی ہیں ان میں بھی لفظ رزق کا استعمال ہوتاہے :((اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا)) اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے بچا، اور جورزق (اولاد) تو ہم کو دے اس سے (بھی) شیطان کو دور رکھ۔
یہاں رزق سے مراداولاد ہے ۔ معلوم ہوا کہ رزق سے مراد صرف مال و دولت یا کھانے پینے کی چیزیںہی نہیں ہیں بلکہ ہر وہ چیز جو اللہ کی عطا ہے ، اصل میں رزق ہے ۔ اگر انسان اللہ کی عطا کو دیکھے تو اُسے اپنی اوقات کا پتا چل جائے اور اللہ کی عظمتوں کا ادراک بھی حاصل ہو جائے ۔ اپنی محتاجی اور اللہ کی عطا کو مدنظر رکھتے ہوئے بندہ اگر اللہ سے مانگے اور اُس کے سامنے عاجزی اختیار کرے تو اللہ کی عطا مزید بڑھ جائے گی کیونکہ رزق دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ آج ایک غلط تصور پروان چڑھایا جارہا ہے کہ بندے کی تعلیم،ذہانت ، مہارت، صلاحیت، تجربے وغیرہ کی بنیاد پر اُس کو رزق ملتا ہے ۔   اس چیز کو دماغ سے نکال دینا چاہیے کیونکہ رزق کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ فرمایا :
{اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ(58)} ( الذاریات) ’’یقیناً اللہ ہی سب کو رزق دینے والا‘ قوت والا‘ زبردست ہے۔‘‘
الرزاق اللہ کا صفاتی نام ہے ۔ رزق عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
اسی طرح سورۃ ہود میں فرمایا :{وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا }(ہود:6) ’’اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر ‘ مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘‘
انسان جب دنیا میں آتاہے تو اس کا رزق اُس کی پیدائش سے بھی پہلے طے کر دیا جاتاہے ۔ مشہور حدیث کا مفہوم ہے کہ جب بچہ ماں کے بطن میں چار مہینے کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ بھیجا جاتا ہے، اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور اس کی زندگی بھر کا رزق بھی طے کر دیا جاتاہے ۔ لہٰذا رزق کا معاملہ اللہ کے ذِمّہ ہے ، محنت اور کوشش کرنا ہمارے ذِمّہ ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ  نے فرمایا : ’’اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو اللہ ایسے تمہیں رزق عطا فرمائے گا جیسے وہ پرندوں کو عطا فرماتا ہے۔‘‘ وہ صبح اپنے آشیانوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں،جب شام کو واپس آتے ہیں تو پیٹ بھرے ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس سٹور کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی ، پھر بھی اللہ انہیں رزق دیتاہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ توکل ہمیں بھی عطا فرمائے ۔ آج بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اللہ پر توکل نہیں رہا ۔ آج عہدے ، پروفیشن ، تجربے، ادارے ، گورنمنٹ پر تو بھروسا ہے لیکن اللہ پر بھروسا نہیں ہے ۔ تاہم توکل کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بندہ محنت اور کوشش ہی نہ کرے ۔ آخر پرندے بھی رزق کے لیے نکلتے ہیں تو آشیانہ چھوڑنا پڑتا ہے ، محنت کرنی پڑتی ہے۔ بندہ اپنی طرف سے کوشش اور محنت کرتاہے باقی نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتاہے ۔ جیسے مشہور حدیث میں رسول اللہ ﷺنے ہمیں سمجھا دیا کہ توکل کیا ہے؟ فرمایا : پہلے اونٹ کو باندھو پھر اللہ پر توکل کرو ۔ اگر حکم ہوگا تو بندھا ہوا اونٹ بھی چلا جائے گا لیکن بندہ کوشش کرنے کا مکلف ہے، نتائج کا اختیار اللہ کے پاس ہے ۔ پھر   قرآن پاک ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہےکہ سب لوگوں کو اللہ تعالیٰ  نے برابر نہیں دیا اور اس میں بھی اللہ کی حکمت ہے۔ سب لوگ امیر ہو جائیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھر ے بیٹھے رہیں تو دنیا کا نظام کیسے چلے گا ، محنت اور کوشش کون کرے گا ؟اسی طرح سب لوگ غریب ہو جائیں تو بھی دنیا کا نظام نہیں چل سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم میں بھی حکمت ہے۔ فرمایا:{فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ج} (النحل :71) ’’ تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔‘‘ 
اللہ نے کسی کو زیادہ دیا اور کسی کو کم دیا تاکہ اس طرح لوگوں کو آزمایا جا سکے کہ کون شکر کرتاہے اور کون صبر کرتاہے ۔ فرمایا:
{فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ لا فَـیَـقُوْلُ رَبِّیْٓ اَکْرَمَنِ(15) وَاَمَّــآ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ لا فَـیَـقُوْلُ رَبِّیْٓ اَہَانَنِ(16)}(الفجر)  ’’انسان کا معاملہ یہ ہے کہ جب اس کا ربّ اسے آزماتا ہے پھر اسے عزت دیتا ہے اور نعمتیں عطا کرتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی!اور جب وہ اُسے آزماتا ہے پھر اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہےتو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا!‘‘
دونوں صورتوں میں انسان کی آزمائش ہو رہی ہے کیونکہ اس دنیا کی زندگی کا مقصد ہی امتحان ہے ۔ فرمایا :
 
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط}’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔‘‘
جب زیادہ عطا ہو تو امتحان بھی زیادہ اور بڑا ہوگا ۔ اسی لیے اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا کہ میری اُمت کے امراء میر ی اُمت کے فقراء سے 5 سو برس بعد جنت میں داخل ہوں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امراء میں  نیک لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن جتنا زیادہ مال ہوگا اُتنا ہی حساب بھی زیادہ ہوگا ۔ اگر مال حرام جمع کیا ہوگا تو وہ اُلٹا عذاب کا ہی باعث بنے گا لیکن رزقِ حلال کا بھی بہرحال حساب ہونا ہے ۔ لہٰذا کسی کے پاس زیادہ مال دیکھ کر حسد نہیں کرنا چاہیے ۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور رزقِ حلال کے لیے محنت اور کوشش کرنی چاہیے ۔ بہرحال انسان کی ضروریات ہیں ، گھر کا نظام چلانا ، اولاد کی پرورش ، دیگر کئی معاملات میں مال کی ضرورت ہوتی ہے ، پھر یہ کہ آج اکثریت معاشی جبر اور مسائل کا شکار ہے ، عام آدمی جتنی بھی محنت اور کوشش کرتاہے لیکن اس جبر کے نظام کی وجہ سے اُس کو اُتنا صلہ نہیں مل رہا ، زیادہ تر غریب کی محنت کا ثمر اشرافیہ ہڑپ کر رہی ہے ، ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ اِس حوالے سے بھی ہمیں رہنمائی قرآن و سنت سے لینا ہوگی ۔ معروف حدیث ہے :(( طلبُ الحلالِ فَريضَةٌ بَعدَ الفَريضة ))حلال رزق کے لیے کوشش کرنا فرض ہے مگر دیگر فرائض کے بعد ۔
بدقسمتی سے آج رزق حلال کمانے کو ہی فرض سمجھ لیا گیا ہے ،ساری بھاگ دوڑ دولت کمانے کے لیے ہورہی ہے جبکہ حدیث کے باقی الفاظ پر غور نہیں کیا جارہا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ کسب ِحلال کی کوشش کرنا بھی فرض ہے اور اس کی فضیلت بھی ہے لیکن حدیث کے الفاظ واضح ہیں کہ اس سے پہلے دیگر دینی فرائض کو بجالانے   کی کوشش کرنا بھی فرض ہے۔ اِن دینی فرائض میں    دعوت ِ دین کا کام اور اقامت ِ دین کی جدوجہد بھی شامل ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کے اُمتی ہونے کے ناطے دعوت ِ دین اوراقامت ِدین کی جدوجہد ہر مسلمان پر لازم ہے اور ختم نبوت کے بعد یہ اہم ترین فریضہ اس اُمت کے کندھوں پر ہے۔ صحابۂ کرام؇ کی زندگیوں سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے ۔ بے شک اُنہوں نے تجارت بھی کی ہے ، رزقِ حلال کی کوشش بھی کی ہے لیکن اللہ کے دین کو قائم کرنا ان کی پہلی ترجیح تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ جب اللہ کا دین سرزمین عرب پر قائم ہوا تو کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔ آج اگر ہم صرف دولت کمانے کے پیچھے ہی بھاگتے رہیں گے اور اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش نہیں  کریں گے تو اس جبر کے نظام سے نجات کیسے ملے گی؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(7)}(ابراہیم) ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کردیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تومیں تمہیں اور زیادہ دوں گااور اگر تم کفر کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔‘‘
عام طور پر ایک تصور یہ رہتا ہے کہ بھئی میں تو بڑا مسکین ہوں ، بڑا محتاج ہوں ، بڑے مسائل ہیں ، میرا تو گزارا نہیں ہوتا ۔ اکثر ایسی باتیں وہ لوگ کر رہے ہوتے ہیں جن کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہوتاہے لیکن وہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں کہ فلاں کے پاس اتنا مہنگا گھر ہے ، گاڑی ہے ، فلاں ہے میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ حالانکہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ دنیا کے معاملے میں بندے کو ہمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنا چاہیے اور دین کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھنا چاہیے ۔ دنیا کے معاملے میں اگر بندہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھے گا تو اللہ کا شکر ادا کرے گا اور دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھے گا تو دین کے کاموں میں مزید  محنت اور کوشش کرے گا ۔ دونوں صورتوں میں اس کو بہتر صلہ ملے گا ۔ کراچی میں ایک دولت مند انسان کو ہم نے دیکھا ، اپنے بیٹے کو کچرے کے اُس ڈھیر کے قریب لے جاتا جہاں غریب بچے کچرے میں کھانے کی چیزیں تلا ش کررہے ہوتے ۔ وہ کہتا :د یکھو بیٹا ! یہ بھی انسان ہیں ۔   دو وقت کے کھانے کو ترس رہے ہیں جبکہ ہمیں اللہ نے کتنا نوازا ہے ، اس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس عام طور پر بچوں کی شروع سے ہی یہ ذہن سازی کی جاتی ہے کہ تم بڑے ہو کر فلاں بنو تاکہ فلاں سے آگے نکل جاؤ ، فلاں کے پاس اتنی زیادہ دولت ہے ، اتنی جائیداد ہے ، ہمارے پاس اتنی کم ہے ۔آج دنیا کی اسی دوڑ کی وجہ سے ہر آدمی پریشان ہے اور ناشکری کر رہا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو عذاب بھی اتنا ہی سخت ہو تا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن میں غور کی توفیق عطافرمائے ۔ اسی طرح سورۃ الطلاق میں فرمایا :
{وَمَنْ یَّــتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا(2) وَّیَرْزُقْـہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ  ط} (الطلاق:3،4)’’اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔اور اُسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہو گا۔‘‘
تقویٰ کا مطلب ہے اپنے آپ کو گناہوں، حرام کاموں سے بچانا ۔ آج لاکھوں روپے دے کر ماہرین کو تربیت اور تقریروں کے لیے بلایا جاتاہے کہ وہ معاشی ترقی کے گُر سکھائیں لیکن وہ فطری راز نہیں بتا سکتے جو اللہ کا قرآن بتا رہا ہے ۔ گناہ ،رزق کے حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ گناہوں سے بچنا رزق کے دروازے کھول دیتا ہے ۔  قرآن مجید رزق میں برکت کا ایک اور راز بھی بتا رہا ہے کہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ استغفار کرو ، نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگوتو اللہ معاف کردے گا اور تمہارا رزق بحال کر دے گا ۔ حضرت نوحd نے اپنی قوم کو اللہ کا یہی وعدہ سنایا تھا ۔ فرمایا :
’’ تم اپنے رب سے استغفار کرو۔یقیناً وہ بہت بخشنے والا ہے۔وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گااور وہ بڑھا دے گا تمہیں مال اور بیٹوں سے ‘اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے (چشمے اور) نہریں رواں کر دے گا ۔‘‘(نوح:10تا12)
جس ماحول میں قرآن پاک نازل ہو رہا تھا، لوگ انہی باتوں سے زیادہ واقف تھے، آج کے دور میں جن نعمتوں کی انسان کو ضرورت ہے ، وہ بھی اللہ عطا کرے گا لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں اور اللہ کے فرمانبردار بندے بن جائیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جوکثرت سے استغفار کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا ۔ جس کے ساتھ اللہ ہو جائے اُسے کس چیز کی کمی رہے گی؟ اللہ ہمیں یقین عطا کرے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ استغفار تب کی جاتی ہے جب انسان سے گناہ سرزد ہو جائے حالانکہ اللہ کے پیغمبر ﷺ ہر نماز کے بعد سلام پھیرتے تو سب سے پہلے استغفار کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ خطاؤں سے پاک تھے ۔ اگر آپ ﷺ اِس قدر استغفار کیا کرتے تھے تو آج ہمیں استغفار کی کتنی ضرورت ہوگی؟ لہٰذا انسان کو کثرت سے استغفار کرتے رہنا چاہیے ۔ حدیث میں بھی ہے کہ کثرتِ استغفار کو اپنے لیے لازم کر لو، اللہ تعالیٰ  تمہارے لیے رزق کے دروازے کھول دے گا۔ اسی طرح اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا : جو چاہتا ہے کہ اس کی عمر اور رزق میںبرکت ہو ، اُسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے ۔ آج کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ بھائی بھائی سے ناراض ہے ، قریبی رشتہ دارکئی کئی سال تک ایک دوسرے کے منہ نہیںلگتے اور اکثر تو فخر سے اس کا اظہار بھی کیا جاتاہے ۔ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے خفا رہے ۔اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کیونکہ جو صلہ رحمی کا مظاہرہ کرتاہے ، اللہ تعالیٰ اس کی عمر اور رزق میں برکت عطافرماتے ہیں۔ اسی طرح  حدیث میں ہے کہ جو چاشت کی نماز پڑھتا ہے اس    کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا ۔ یعنی اللہ کی نصرت اُسے حاصل ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ نماز سے بھی رزق میں اضافہ ہوتاہے ۔ لیکن آج نوافل تو دور کی بات ،لوگ فرض نمازوں میں بھی ڈنڈی مارتے ہیں ، الا ماشاء اللہ ۔ اسی طرح اللہ کے نبیﷺ نے رزق میں اضافے کے لیے نکاح کی ترغیب دلائی کہ جو نکاح کرتا ہے ، اس کے رزق میں اللہ برکت فرمادیتاہے۔ سورہ نور میں اللہ تعالیٰ  بیواؤں کے نکاح اور غلاموں کے نکاح کی ترغیب دلاتاہے اور ساتھ فرماتاہے کہ اگر تم تنگ دست ہوگے تو اللہ تمہیں غنی کر دے گا ۔ لیکن آج نکاح کے تصور کو بھی فضول رسموں کے ذریعے اتنا بڑا بوجھ بنا دیا گیا ہے کہ اُسے اُٹھانا عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی۔ آج ساری جمع پونجی شادی بیاہ کی رسموں پر لگا دی جاتی ہے اور عظیم اکثریت کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیاجاتاہے۔یہ ہمارا اپنا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے ۔ وہ نکاح جو سنت کی تعلیم کے مطابق ہوگا ، اس کی برکت سے اللہ محتاجوں کو غنی کر دے گا ۔ اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ  بندے کو غنی کرتا ہے۔
رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے صبح کے اوقات میں برکت رکھی ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میری اُمت کے صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما دے ۔ فجر کی نماز ادا کرکے جو رزق کے لیے نکلے گا اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں اضافہ فرمائے گا ۔ لیکن آج فجر کے وقت صفیں خالی ہوتی ہیں ۔ بڑے شہروں میں تو لوگ ناشتہ بھی 12 بجے کر رہے ہوتے ہیں اور مارکیٹیں 2 بجے تک کھلتی ہیں ۔ برکت کہاں سے آئے گی ؟آج یہ بے برکتی سنت سے دوری والے طرزِزندگی کی وجہ سے ہی ہے ۔ 
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:ہر دن دو فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ایک دعا کرتا ہے :یارب ! جو تیری راہ میں خرچ کر رہا ہے اُس کو مزید عطا فرما ۔ دوسرا بددعا دیتا ہے : یارب ! جو تیری راہ میں خرچ کرنے سے روک رہا ہے تو بھی اُس کا رزق روک دے ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے لاکھوں روپے ہونے ضروری نہیں ہیں ۔ خلوص کے ساتھ اور حلال کمائی سے خرچ کیا گیا ایک روپیہ بھی بہت بڑے اجر کا باعث بن سکتاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : اگر کھجور کا ایک دانہ بھی دے کر خود کو جہنم کی آگ سے بچا سکتے ہو تو بچا لو ۔ اسی طرح احادیث میں اور بھی بہت سی دعاؤں کا ذکر ہے جن کے مانگنے سے اللہ رزق میں برکت عطا فرماتاہے ۔ مثلاً وضو کرتے وقت یہ دعا پڑھنا:
(( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ))’’ اے اللہ !میرے گناہ بخش دیجیے، اور میرے گھر میں وسعت اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔‘‘
مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھنا :
((اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ))’’اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے فضل میں سے زیادہ فضل کا۔‘‘
اسی طرح یہ دعا پڑھنا :
((اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ))’’اے اللہ! تو مجھے اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام (کردہ) چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘
اسی طرح اور بھی بہت سی دعائیں جو سنت سے ثابت ہیں ۔ سنت کےہر کام میں انسان کے لیے خیر ہی خیر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یقین اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ 
اسی طرح اجتماعی سطح پر معاشی ترقی کے لیے بھی قرآن نے رہنمائی دی ہے ۔ فرمایا :
اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔(الاعراف :96)
وہ قومیں جو اپنے گناہوں اور سرکشیوں کے باعث تباہ ہو گئیں ،اُن میں سے بعض صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں ، اُن کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس مقام پر فرما رہا ہے کہ اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے زمین و آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتا ۔ معلوم ہوا کہ اجتماعی سطح پر قوموں کی سرکشی اور اللہ سے بغاوت بھی رزق میں کمی کا باعث ہوتے ہیں۔ آج ہمارے حکمران اور مقتدر اشرافیہ اللہ کی نافرمانیوں میں حد سے گزر رہی ہے ، خلافِ شریعت قانون سازی ہورہی ہے، اللہ کے احکامات کو سرعام پامال کیا جارہا ہے ۔ معاشی بحران نہیں آئے گا تو کیا ہوگا ؟ اسی طرح سورۃ المائدہ میں سابقہ اُمت مسلمہ کے متعلق فرمایا:
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے اور اس کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے تووہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔(المائدہ :66)
یعنی اگر اللہ کے دین کو قائم کرتے تو آسمان سے بھی برکتیں نازل ہوتیں اور زمین سے بھی خوشحالی آتی ۔ لیکن  بنی اسرائیل نے دین سے سرکشی کی اور اللہ نے اُن سے وہ ذِمّہ داری واپس لے کر موجودہ مسلمان اُمت کو سونپ دی۔ اگر موجودہ اُمّت بھی اللہ کے دین کو قائم کرے گی تو آسمان و زمین سے اس کے لیے برکتیں نازل ہوں گی لیکن اِس کے برعکس آج ہم سود ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اس جنگ کا نتیجہ ہے کہ آج ملک معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔ جون 2025 ءکی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک پر 80 کھرب روپے کا سودی قرضہ ہے ۔ جس میں سے 53 کھرب روپے صرف اندرونی قرضہ ہے جو سود پر لیا گیا ہے اور یہی اس قوم کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ کم ازکم حکومت اندرونی سود کو تو ختم کرے تاکہ ملک اور قوم دیوالیہ پن سے بچ سکے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ سود کا انجام لازمی طور پر مفلسی اور بربادی ہوا کرتاہے اور آج یہ بات پاکستان میں 100 فیصد سچ ثابت ہورہی ہے ۔ اگر اس  تباہی اور غربت سے بچنا ہے تو انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی اللہ سے سرکشی اور بغاوت کا راستہ سچے دل سے ترک کرنا ہوگا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی ۔ تب ہی اللہ کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی اور ملک ترقی کرے گا ۔ بصورت دیگر ہمارے ملک کے حالات کبھی نہیں سدھر سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سچی توبہ کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین یا رب العالمین!