(زمانہ گواہ ہے) ’’آسٹریلیا میں یہودی تہوار پر حملہ ‘‘ - محمد رفیق چودھری

10 /

ابتدائی شواہد سے ثابت ہوتا ہےکہ نائن الیون کی طرح سڈنی

دہشت گرد حملہ بھی فالس فلیگ تھا :رضاء الحق

سڈنی واقعہ پر دنیا کا معیار دہرا ہے ،اہل ِ غزہ کے قتل عام پر

عالمی میڈیا اور حکومتیں خاموش رہیں لیکن چند یہودیوں کے قتل

پر سب نے شور مچانا شروع کردیا : ڈاکٹر محمد عارف صدیقی

ہمارا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے ،جتنا جلدی اس کو دفنا دیا جائے

اُتنا ہی پاکستان کے لیے اچھا ہوگا : عبداللہ گل

’’آسٹریلیا میں یہودی تہوار پر حملہ ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال

مرتب : محمد رفیق چودھری

میز بان : وسیم احمد

سوال:سڈنی میں یہودی تہوار حنوکا میں فائرنگ کا جو  واقعہ پیش آیا ، کیا یہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا شاخسانہ ہے یا اس کی کچھ اور وجوہات ہیں ؟
رضاء الحق:ہمارا دین تو یہی سکھاتاہے کہ کہیں بھی اگر  معصوم لوگوں کا خون بہایا جائے تو وہ ناجائز ہے ، اس کی مذمت کی جانی چاہیے ۔اسرائیل جو کچھ غزہ میں کر رہا ہے، وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ پہلےاڑھائی سال تو اس نے بمباری کرکے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اوراس بمباری میں 70 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہوئے ہیں ، اب وہ بھوک کو نسل کشی کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ حالیہ بارشوں کی وجہ سے اہلِ غزہ کو مزید مسائل کا سامنا ہے، ان کے 45 ہزار ٹینٹ جوپہلے ہی خستہ ہو چکے تھے ان بارشوں میں بہہ گئے ہیں اور شدید سردی کی وجہ سے مزید شہادتیں ہورہی ہیں ۔ اسرائیل معاہدے کے باوجود غذائی امداد اورنئے ٹینٹ اہل غزہ تک نہیں پہنچنے دے رہا ۔  دوسری طرف غزہ پر قبضہ کرکے وہاں یہودی بستیاں بھی آباد کر رہا ہے ۔14دسمبر 2025ء کوآسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودی تہوار میں فائرنگ کا جوواقعہ ہوا ہے اگر اس میں واقعتاً معصوم یہودیوں کو قتل کیا گیا ہے تو قابل مذمت ہے ۔ تاہم کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ یہ حملہ فالس فلیگ بھی ہوسکتاہے ۔ حملہ شام 6 بج کر 47 منٹ پر ہوتاہے اور اس سے پونا گھنٹہ قبل اسرائیل اور تہران میں نوید اکرم نامی شخص کو گوگل پر سرچ کیا جارہا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ پونا گھنٹہ پہلے اسرائیل اور تہران میںملزم کو 100 مرتبہ کیوں سرچ کیا گیا جبکہ حملہ سے قبل اس بندے کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اور تہران میں کچھ لوگوں کو اس سازش کا علم تھا۔ قرآن بھی ہمیں یہی سکھاتاہے کہ یہود کی عیاری اور مکاری سے ہوشیار رہو کیونکہ یہ سازشیں کرنے سے باز نہیں رہیں گے ۔ حملہ کے فوراً بعد ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے عبرانی زبان میں تقریر کی جس میں مسلمانوں کو ظالم اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ ملزم سے گن چھیننے والا ایک مسلمان ہی تھا جس نے اپنی جان پر کھیل کر یہودیوں کی جانیں  بچائیں اور اس کوشش میں وہ زخمی بھی ہوا ۔ انڈین میڈیا نے بھی واقعہ کے فوراً بعد حملے کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی اور یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ملزم نوید احمد کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ لیکن اب خود انڈین میڈیا بھی تسلیم کر رہا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق انڈیا سے ہے اور ملزم 6 مرتبہ انڈین ویزے پر فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کرنے گیا۔ نوید اکرم کی کچھ ایسی تصویریں بھی سامنے آئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ CIDF(اسرائیلی ڈیفنس فورس) میں شامل رہا ہے جس نے غزہ میں مسلمانوں پر ستم ڈھائے ہیں ۔پھر یہ کہ حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے ایک ارسن اسٹروسکی نام کا بندہ بھی ہے جواسرائیل میں ہیومن رائٹس کے نام سے اپنا ادارہ چلاتاہے اور صہیونیت کو پروموٹ کرتاہے ، اس کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بھی صہیونیت نوازی کھل کر سامنے آتی ہے جس میں وہ ظاہر کرتاہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023ء کے طوفان الاقصیٰ آپریشن میں زخمی ہونے والوں میں بھی شامل تھا ۔صرف یہی نہیں بلکہ اس سے تین سال قبل یمن میں اُس کے قتل ہونے کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی  جبکہ 2025ء کے حالیہ حملے میں وہی شخص اپنی تصویر  سوشل میڈیا پر شیئر کرتا ہے جس میں وہ خود کو زخمی ظاہر کرتا  ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ شخص ایک اداکار بھی ہے ۔
درحقیقت غزہ پر حملے کے بعد اسرائیل اور یہودیوں  کے خلاف پوری دنیا میں نفرت بڑھی ہے ، آسٹریلیا ، یورپ اور امریکہ میں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ اس نفرت کو کم کرنے اور خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے لیے اب یہ ایک نئی صہیونی سازش ہو سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ CNN، فوکس نیوز ، برطانوی اور آسٹریلوی میڈیا پر یہودی انٹرویوز کے دوران یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر اسرائیل اور یہودیوں  کی حفاظت نہ کی گئی اور ان کے خلاف جاری مظاہروں کو نہ روکا گیا تو پھر یہی ہوگا ۔ وہ اس کوantisemitism کا نام دیتے ہیں ۔ اب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلمانوں کو نکال دیا جائے ۔ یہ ساری چیزیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے یہ فالس فلیگ ڈراما رچایاہے تاکہ  بہانہ بنا کر وہ صہیونی عزائم کی تکمیل میں مزید آگے بڑھ سکے۔ 
سوال:سڈنی حملہ پر اسرائیلی وزیراعظم نےردِ عمل دیتے ہوئے آسٹریلوی حکومت کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اُس نے یہود مخالف جذبات کو روکنے کی کوشش نہیں کی ، اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ، نفرت کو ہوا دی گئی اور آسٹریلوی حکومت خاموش رہی ۔ آپ کے خیال میں اسرائیلی وزیراعظم کا یہ شکوہ جائز ہے؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:ناحق قتل مسلمان کا ہو یا یہودی کا قابل ِمذمت ہے مگر سڈنی واقعہ سے دنیا کا دہرا معیار سامنے آگیا ہے ۔ اس واقعہ میں چند یہودی مارے گئے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ یہودی تھے یا صہیونی تھے لیکن پوری دنیا کی حکومتیں ، دانشور اور پوری دنیا کا میڈیا یک زبان ہوکر مذمتیں کر رہے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف غزہ میں تین سال سے زائد عرصہ میں مظلوم فلسطینیوں کا جتنا لہو بہایا گیا ہے ، اس پر دنیا کی حکومتیں اور میڈیا خاموش ہیں ۔ یہ دنیا کا دہرا معیار ہے ۔ سڈنی واقعہ پر وہ مسلم حکمران بھی آج کھل کر مذمت کر رہے ہیں جو  اہل غزہ کی نسل کشی پر خاموش تھے ۔ جہاں تک اسرائیلی وزیراعظم کے شکوہ کی بات ہے تو جب اسرائیل کا وجود ہی ناجائز ہے، اس کا ہر عمل ہی ناجائز ہے تو اس کا شکوہ کیسے جائز ہو سکتاہے ۔ لہٰذا اسرائیل سے کسی جائز عمل کی ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیے ۔ اصل معاملہ یہ ہےکہ آسٹریلیا نے  21 ستمبر 2025ء کو فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا تھا ۔  یہ اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا ، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی بھی مغربی ملک اسرائیل سے بغاوت کرے گا ۔ اس کے بعد آسٹریلیا میں اسرائیلی مظالم کے خلاف لاکھوں افراد جمع ہو کر مظاہرے کرتے رہے اور آسٹریلوی حکومت نے انہیں نہیں روکا ۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم رائے عامہ پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اس حملے کے بعداسرائیلی وزیراعظم نے آسٹریلیا پر یہی الزامات لگائے ہیں کہ اُس نےاسرائیل مخالف جذبات اور مظاہروں کو نہیں روکا ، اپنے میڈیا کو سچ کہنے سے نہیں روکا ۔ نیتن یاہو کا بیانیہ یہ ہے کہ جو ممالک بھی چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہوں ، اسرائیل کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے تو وہ حق پر نہیں ہیں ۔ 
سوال:جیسے ہی آسٹریلیا میں یہ واقعہ ہوا تو انڈین میڈیا نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان اور مسلمانوں پر الزامات لگانے شروع کردئیے اور سرتوڑ کوشش کی کہ اس دہشت گرد حملے کا تعلق کسی طرح پاکستان سے ثابت ہو جائے لیکن جلد ہی سچ سامنے آگیا کہ دہشت گردوں کا تعلق انڈیا سے ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے ؟
رضاء الحق:بھارتی حکومت بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ  دہشت گردوں کا تعلق حیدرآباد انڈیا سے تھا ۔ وہ انڈین ویزہ پر دہشت گردی کی تربیت لینے جاتے رہے ۔ درحقیقت اسرائیل اور انڈیا فطری اتحادی ہیں اور یہ بات قرآن پاک میں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی گئی :
{لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج }(المائدہ :82)
’’تم لازماًپائو گے اہل ِایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘
اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود و ہنود ہیں اور ان کا آپس میں گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آرہا ہے ۔ 
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: انڈیا شروع سے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا آیا ہے اور ہمیشہ عالمی میڈیا نے اس مہم میں انڈیا کا ساتھ دیا ہے ۔ 1965ء کی جنگ میں عالمی میڈیا نے انڈین میڈیا کے ساتھ مل کر جھوٹ پھیلایا کہ انڈیا نے لاہور پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا، لہٰذا کچھ لوگوں نے اس وقت بھی ان پر یقین کر لیا تھا ۔ مئی 2025ء کے پاک بھارت معرکہ میں بھی انڈین میڈیا نے کراچی اور لاہور فتح کر لیا تھا ، فیصل آباد میں بندرگاہ اور سمندری میں سمندر بھی تلاش کرلیا ۔  چند سال قبل EUڈس انفو لیب کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا اور انڈین کرونیکلز کے نام سے بہت بڑا سیکنڈل بے نقاب ہوا تھا جس میں 80 کے قریب ویب سائٹس پاکستان  کے خلاف جھوٹ پھیلا رہی تھیں اور یہ ایسے لوگوں کے نام پر بھی چل رہی تھیں جو کئی سال پہلےمرچکے تھے ۔ اس سارے کھیل کا مقصد پاکستان کی ساکھ کو برباد کرنا تھا ۔ اسی چیز کو اسرائیلی اکابرین نے ہولوکاسٹ کے ذریعے استعمال کیا۔ یورپین ممالک میں اس کے اوپر بات کرنے پر بھی پابندی ہے۔اگر کوئی ہولو کاسٹ پر سوال اُٹھاتاہے تو اس کو سزادی جاتی ہے ، بندے مروا دئیے جاتے ہیں ۔ یعنی وہ اپنے بنائے بیانیہ سے ہٹ کر کسی بھی قسم کی بات سننے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کو باقاعدہ اس جنگ میں شامل کیا ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انڈین فلم انڈسٹری شاید انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہے حالانکہ حقیقت میں وہ انڈیا کی فوجی دفاعی انڈسٹری ہے جس کے ذریعے وہ باقاعدہ جنگ لڑتے ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں بھی ان کی ایک فلم آئی ہے جس میں لیاری گینگ کراچی کو موضوع بنایا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے انہوں نے یہ ذہن سازی کرنے کی کوشش کی ہے کہ سب مسلمان خدا نخواستہ دہشت گرد ہوتے ہیں ۔ ممبئی حملوں کے بعد بھی انہوں نے یہی کیاتھا ۔    نائن الیون کے بعد بھی عالمی میڈیا نے یہی بیانیہ دنیا میں پھیلایا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں ۔ حالانکہ بعد میں ثابت بھی ہوگیا کہ نائن الیون بھی ایک فالس فلیگ ڈراما تھا ۔  ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور آس پاس کی عمارتوں کے سریے تک پگھل گئے تھے لیکن دہشت گردوں کے پاسپورٹس سلامت رہ گئےتاکہ دنیا کو ثبوت دکھایا جاسکے کہ حملہ آور مسلمان تھے ۔ اب چونکہ مسلم دنیا میں تحقیق اور تجزیہ کا رجحان نہیں ہے اس لیے عالمی میڈیا جو بھی جھوٹ پھیلاتا ہے، اس کو سچ سمجھ لیا جاتاہے ۔ ہم میڈیا کو خبر کا ذریعہ سمجھتے ہیںجبکہ دشمن اس کو جنگ کے ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ 
رضاء الحق: سرد جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ روس کےخلاف فلم انڈسٹری کو باقاعدہ استعمال کیا گیا۔ ویتنام کی جنگ کے دوران بھی یہی ہوا ۔ نائن الیون کے بعد ایسی فلموں کو باقاعدہ ایوارڈ دئیے گئے جن میں  مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اسی طرح مغربی بیانیہ کی مخالفت میں اگر کوئی چینل یا میڈیا کام کرتا ہے تو اس کو بند کر دیا جاتاہے ، سوشل میڈیا سے پوسٹیں غائب ہو جاتی ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے چینل کو کئی مرتبہ بند کیا گیا ، دوبارہ شروع کیا گیا ، پھر بند کر دیا گیا۔ حالیہ دنوں میں ہی چیٹ GPTاور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہGPT اسرائیلی اور صہیونی بیانیہ کو پروموٹ کرے گا۔مخالف بیانیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اسرائیلی چینلز اور اخبارات یہ خبریں شائع کر رہے ہیں کہ اسرائیل نے1لاکھ عیسائیوں   کو سفیر کے طور پر بھرتی کیا ہے جو پوری دنیا میں اسرائیل کے بیانیہ کو پروموٹ کریں گے اور اسرائیل کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کریں گے ۔ یہ مغرب کا پرانا ہتھکنڈا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے اتحادیوں  کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی تھی جس کا نام ہی منسٹری آف پروپیگنڈا تھااور گوئبلز ان کا وزیر جھوٹ تھا جس کا مشہور قول ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ وہ سچ لگنے لگے ۔ اب اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف جنگ میں بھی یہی حربے استعمال کیے جارہے ہیں ۔ عالم اسلام کو چاہیے کہ اس سازش کو کاؤنٹر کرنے کے لیے خود بھی کوئی اقدامات کرے ۔ 
سوال:جنرل فیض حمیدکے کورٹ مارشل کے بعد جو سزا سنائی گئی ہے ، کیا یہ انصاف ہے یا انتقام ؟ یا پھر یہ فیض حمید کی سیاسی انجینئرنگ کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے دور میں کرتے رہے؟
عبداللہ گل:جنرل فیض حمید کو 4 جرائم پر سزا سنائی گئی ہے ۔ ان میں سیاسی انجینئرنگ بھی شامل ہے ، کرپشن بھی ہے ، اختیارات سے تجاوز بھی ہے اور سول معاملات میں مداخلت بھی شامل ہے ۔ عام طور پر کورٹ مارشل جب ہوتا ہے تو 3 ماہ کے اندر سزا سنائی جاتی ہے لیکن اس کیس میں  15 ماہ لگے کیونکہ یہ حساس معاملہ تھا ، جنرل فیض حمیدڈی جی ISIسمیت بہت سے اہم عہدوں پر رہے ہیں ۔ پھر یہ کہ سیاسی انجینئرنگ قانونی لحاظ سے ایک ٹیکنیکل نکتہ ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں خود ISIکا ایک سیاسی سیل قائم کیا تھا جو آج بھی قائم ہے اور ایک میجر جنرل اس کو ہیڈ کر رہے ہیں جس کو DGCیا DGIWکہا جاتا ہے۔یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کیونکہ1971ء میں  جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تھا تو اس وقت یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ دشمن سیاستدانوں کے ذریعے بھی اثر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں  نے بھی ISIکے اس سیل کو ختم نہیں کیااور یہ آج بھی قائم ہے۔ چونکہ ISIکا باس آرمی چیف نہیں بلکہ وزیراعظم ہوتاہے اور جنرل فیض حمید کے باس عمران خان تھے ، ان کے خلاف اسی وجہ سے تحقیقات کی گئی ہیں کہ شاید انہوں نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے یا کچھ کام ماورائے آئین و قانون کیے ۔ 
سوال:اس ڈرٹی گیم میں اور بھی بہت سے لوگ ملوث تھے ۔ کیا آنے والے دنوں میں ان سب کے خلاف بھی ایسے ہی فیصلے متوقع ہیں ؟
عبداللہ گل:ظاہر ہے اس قسم کی انجینئرنگ اکیلا آدمی تو نہیں کر رہا تھا، اس میں دیگر لوگ بھی شامل ہوتے ہیں ، ایک پورا ونگ ہوتاہے ۔ پورے پاکستان میں اس ونگ کے دفاتر ہیں جہاں سیکٹر کمانڈرز بیٹھتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مزید کن کن لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔ ماضی میں بھی اس طرح کے جرائم میں ملوث لوگوں کو سزائیں دی جا چکی ہیں ۔ ایڈمرل منصور الحق جو نیوی کے سربراہ تھے ان کو ہتھکڑی لگا کر پاکستان لایا گیا۔ جنرل کیانی کے دور میں متعدد آفیسرز کو گھر بھیجا گیا ۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں 6 جنرل آفیسرز کوسزائیں دی گئیں ۔ جنرل باجوہ کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو عمر قید کی سزا ملی اور بریگیڈیر رضوان راجہ کو سزائے موت ملی۔ پھر 9 مئی   کے واقعہ میں ایک لیفٹیننٹ جنرل، تین میجر جنرل اور سات بریگیڈیئر زسمیت 17 آفیسرز کو گھر بھیجا گیا ۔ 
سوال:جنرل فیض حمید کے خلاف فیصلے کو کیا آپ سول بالا دستی کی طرف ایک قدم کہہ سکتے ہیں؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملٹری قیادت نے اس فیصلے کے ذریعے سول قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ استثناء یعنی ایگزیمپشن کسی کے لیے نہیں ہے؟
عبداللہ گل:سول بالادستی سیاستدانوں کی اپنی ڈومین ہے ۔اگرحکومت میں احتساب کا نظام موثر ہو تو سول بالادستی قائم ہو سکتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس آپ دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی سیاستدانوں کو کرپشن اور مختلف جرائم کی وجہ سے سزائیں ہوتی ہیں ، لیکن کچھ عرصہ بعد وہ رہاہو کر پھر وزیراعظم اور صدر بن جاتے ہیںجیسے دودھ سے دھلے ہوں ۔IMFنے 300 ارب روپے کی کرپشن کی رپورٹ شائع کی ہے لیکن کسی مجرم کو نہیں پکڑا گیا ۔ اس کے برعکس ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے کہ استثناء کسی کے لیے نہیں ہے ، چاہے کوئی بڑے سے بڑا آرمی آفیسر ہو ، اس کو سزا ملتی ہے اور آئندہ بھی ملیں گی۔ آرمی کے اندر اپنا میرٹ سسٹم ہے ، عام سپاہی  کا بیٹا جنرل بن جاتا ہے ، جبکہ جنرل عہدوں سے ہٹا دیے جاتے ہیں ۔  سول بالادستی تو قانون کی بالادستی سے قائم ہوتی ہے۔ اصل میں تو احکامات الٰہی کی پابندی ہونی چاہیے، قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی ہونی چاہیے تب جاکر سول بالادستی قائم ہو گی ۔ہم نے آئینی طور پر قبول کیا کہ یہاں  حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی ۔ لیکن عملاً اس کے برعکس سب کچھ ہورہا ہے ،تو سول بالادستی کیسے قائم ہوگی ۔ اصل میں یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے ، ناانصافی اور لوٹ مار کی وجہ سے 37 فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ لہٰذا جتنی جلدی اس نظام کو دفنا دیا جائے ، اتنا ہی پاکستان کے لیےا چھا ہوگا ۔ 
سوال: چند دن پہلے تہران میں افغانستان کے حوالے سے ایک علاقائی کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان ، چین ، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں نے شرکت کی لیکن افغانستان نے شرکت نہیں کی ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟
رضاء الحق:میرے خیال میں افغانستان کی موجودہ حکومت کا جھکاؤ بھارت کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی چل رہی ہے ۔ دوسرا یہ کہ افغان حکومت جانتی تھی کہ اس کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا یہی ہوگا کہ افغانستان دہشت گردی کو ختم کرے اور افغان سرزمین کو دیگر ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے ۔ موجودہ افغان حکومت کو قائم ہوئے صرف چار سال ہوئے ہیں ۔ ابھی ان کا نظام اور ان کے ادارے اس قابل نہیں ہوئے کہ اس مطالبے کو پورا کر سکیں ۔ اپنی طرف سے وہ کوشش کر رہے ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں ہی 1 ہزار افغان علماء نے مشترکہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ افغان جہاد افغانستان کے اندر تھا ، افغانستان سے باہر اس کا استعمال جائز نہیں بلکہ حرام ہے ۔ یہی شرط دوحہ معاہدے میں بھی شامل تھی اور امارت اسلامیہ افغانستان کے عہدیداروں نے بھی اس کو دہرایا ہے ۔ 
سوال: اگر افغانستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کرتا تو پوری دنیا میں طالبان حکومت کا امیج کیا متاثر نہیں ہوگا ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:تہران میں جو کانفرنس ہوئی ہے اس کے نکات میں یہ بھی شامل تھا کہ امریکہ سمیت وہ ممالک جو افغانستان کی مدد کر رہے تھے وہ اپنی امداد مت روکیں اور افغانستان کے منجمد کیے ہوئے اثاثے اسے واپس لوٹائے جائیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم سب کے سب مل کے برادر ملک کے لیے بہتری چاہتے ہیں ۔ اگر افغان حکومت دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے تو اس میں بھی ہم اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔اس کے باوجود بھی اگر افغان طالبان دہشت گردی کو کنٹرول نہیں کرتے تو پھر ان کی خطے میں وہ عزت نہیں رہے گی جو پہلے تھی ۔ افغان جہاد میں پاکستان سمیت پورے عالم اسلام نے ان کی مدد کی تھی اور ان کو عالم اسلام کا ہیرو بنایا تھا اور پاکستانیوں کے دل ان کے ساتھ دھڑکتے تھے ۔ انہیں اسلام کا نمائندہ سمجھا گیا ۔ اب اگر یہ انڈیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو ان کی وہ عزت نہیں رہے گی۔ انہیں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور وقار کو بحال کرنے کے لیے ملا عمرؒ کے دور کی حکمت ِعملی کو اپنانا ہوگا اور وحدت اُمت کے تصور کو لے کر چلنا ہوگا ۔
سوال: جب بھی کوئی بڑی کانفرنس ہوتی ہے تو اس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتاہے ، تہران کانفرنس کے بعد ایسا کیوں نہیں کیا گیا ۔ اس کی کیا وجوہات تھیں ؟
رضاء الحق: مشترکہ اعلامیہ صرف اُس وقت آتا ہے جب امریکہ یا دیگر عالمی طاقتوں کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے ۔ جیساکہ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولا کے حوالے سے جو کانفرنس ہوئی اس میں پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہوئے اور اس کے بعد امریکہ کی مرضی کا ہی اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ ایران نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے معاملات مل کر حل کرنے چاہئیں۔ یعنی کہ اُ س نے بات کو اپنے سر سے اُتار کر ان کے سر پر ڈال دیا ۔ سچی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک خود ہی متحد نہیں ہو پارہے اور نہ ہی ان میں اتفاق ہے ۔ اتفاق ہوگا تو مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا بلکہ دشمن کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی ہوگی ۔