جھوٹ کی تین قسمیں
مولانا محمد اسلم
عربی زبان میں دو لفظ استعمال ہوتے ہیں: ایک کذب، دوسرا تکذیب۔ کذب کا معنی جھوٹ بولنا اور تکذیب کا معنی ہے جھٹلانا یا دوسرے کو جھوٹا بتانا۔ قرآن کریم میں کذب کے مقابلے میں تکذیب کا ذکر زیادہ ہے، کفار اور مشرکین میں تکذیب کی بیماری پائی جاتی تھی۔ وہ جھٹلاتے تھے اللہ تعالیٰ کے کلام کو، اللہ کے نبیوں کو، قیامت کے دن کو، حقیقت اور سچائی کو۔ اس امر میں کسی مومن کو شک ہی کیسے ہو سکتا ہے کہ تکذیب اور کذب دونوں بد ترین جرم ہیں۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تکذیب تو بلاتا خیر کفر ہے البتہ کذب کی ہر صورت کو کفر نہیں کہا جا سکتا۔ اہل ِ علم نے کذب کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
(1) پہلی قسم ہے: کذب علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ بولنا، مشرکین اور یہود و نصاریٰ کے متعدد ایسے نظریات اور اقوال پیش کیے جا سکتے ہیں جن کی بنیاد’’کذب علی اللہ‘‘ پر تھی یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کر دیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد نہیں فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر یہود کو جب ایمان قبول کرنے کی دعوت دی جاتی تو وہ یہ کہتے کہ’’ہم سے اللہ نے یہ عہد لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ایسی نذر ہمارے سامنے پیش نہ کر دے جسے آسمانی آگ کھا جائے۔‘‘(سورۃ آل عمران:182)
ظاہر ہے یہ محض کٹ حجتی اور اللہ تعالیٰ پر بہتان تراشی تھی۔ ان میں اس قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا تھا چنانچہ ان سے الزامی طور پر سوال کیا گیا کہ مجھ سے پہلے کئی رسول واضح دلائل کے ساتھ اور تمہارے مطلوبہ معجزہ کے ساتھ آچکے ہیں۔ آخر تم ان پر ایمان کیوں نہیں لائے، اگر تمہارے ایمان لانے میں بڑی رکاوٹ ایسی نذر اور قربانی کا پیش نہ کرنا ہے جسے خلافِ عادت آسمان سے اترنے والی آگ کھا جائے تو پھر ان انبیاء پر تمہیں ضرور ایمان لاناچاہیے تھا جنہوں نے یہ معجزہ تمہیں دکھایا تھا۔ اسی طرح سورہ آل عمران کی آیت75 کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اہل ِ کتاب، عربوں کا پیسہ نا جائز طریقے سے ہڑپ کر جاتے تھے، جب ان سے کہا جاتا کہ اس طرح کیوں کرتے ہو تو وہ جواب میں کہتے کہ ان پڑھ لوگوں کا مال دبالینے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا گویا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’وہ جانتے بوجھتے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘(آل عمران:75)
(2) جھوٹ کی دوسری قسم ہے:’’کذب علی الرسول‘‘ یعنی اللہ کے رسول پر جھوٹ بولنا، کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی اور آج بھی اس قسم کے لوگ بے شمار ہیں جو اپنے ذاتی خیالات و نظریات یا اِدھر اُدھر سے سنی ہوئی باتوں کی نسبت حضور اکرم ﷺ کی طرف بلاجھجک کر دیتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ بعض واعظ اور خطیب حضرات برسرمنبر اس قسم کی غلط بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ بزرگوں کے اقوال اور افواہوں کو احادیث کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔بلاشبہ ان میں سے بعض اقوال بڑے عبرت افروز اور نصیحت آموز ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی قول یا عمل کو خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، نبی کریم ﷺ کی حدیث یا سنت قرار دینا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والے کو دوزخ کی وعید سنائی گئی ہے۔ ترمذی میں حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اِسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔‘‘ (بخاری:1291)
(3) جھوٹ کی تیسری قسم: انسانوں کا آپس میں جھوٹ بولنا، اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ عمل میں جھوٹ، یعنی انسان کا عمل اس کے قول کی تصدیق نہ کرے۔ وہ زبان سے کچھ کہے جب کہ اس کا عمل کسی اور بات کی چغلی کھاتا ہو۔ اسی طرح اس کا باطن بھی ظاہر کے مطابق نہ ہو۔ منافقت اسی کو کہتے ہیں، سورۃ ا لمنافقون میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’منافق جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
ظاہر ہے منافقوں کا یہ کہنا حقیقت اور واقعے کے مطابق تھا، لیکن چونکہ ان کا یہ اقرار نہ تو قلبی نظریات کے مطابق تھا اور نہ ہی ان کا عمل ان کی اقرار کی گواہی دیتا تھا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکن ساتھ ہی اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘( آیت:1)
آپس میں جھوٹ بولنے کی دوسری قسم قول میں جھوٹ بولنا جو کہ مسلمان کی شان سے بہت بعید ہے۔ ہمارے آقاﷺ نے جھوٹ بولنے کو منافق کی نشانی بتایا ہے۔ جھوٹ اور جھوٹے کی مذمت کے بارے میں آپ نے جو کچھ فرمایا ہے، اس میں سے چند ارشادات درجِ ذیل ہیں:
٭ ابودائود میں حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:’’میں اس شخص کو جنت کے وسط میں جنت کی ضمانت دیتا ہوں جو کسی صورت بھی جھوٹ نہیں بولتا ،خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (ابودائود:4800)
٭ صحیح بخاری میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’تم پر لازم ہے کہ سچ بولو کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت تک پہنچا دیتی ہے۔ انسان سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں ’’صدیق‘‘لکھ دیا جاتا ہے اور تم پر لازم ہے کہ جھوٹ سے بچ کر رہو کیونکہ جھوٹ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور فجور تک لے جاتا ہے۔ اور فجور دوزخ میں پہنچا دیتا ہے، انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے ’’کذاب‘‘ لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘(مسلم:2607)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے(رحمت کا) فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔‘‘(ترمذی)
٭بعض لوگ ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے ابودائود کی حدیث میں تین بار فرمایا گیا ہے: ’’ویل لہ ویل لہ ویل لہ‘‘(ان کے لیے خرابی ہے، خرابی ہے، خرابی ہے)
نبی کریم ﷺ کے ان ارشادات اور وعیدوں کے باوجود مسلمانوں کی زندگی میں جھوٹ عام ہو چکا ہے۔ تجارت ہو کہ سیاست، صحافت ہو کہ عدالت ہر جگہ جھوٹ کا چلن ہے۔ بعض لوگوں کا طرزِ زندگی دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کے بغیر زندگی گزارنا محال ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی برکت اور راحت سچائی میں رکھی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!