(سیمینار) امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر - ادارہ

9 /

امتِ مسلمہ کی زبوں حالی اور پاکستان کے مسائل کی اصل

وجہ دین کو ترجیح نہ دینا ہے، جبکہ پاکستان کی بقا اور وحدت

صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ (شجاع الدین شیخ)

پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں تاخیر کی اصل وجہ

اجتماعی اور انفرادی سطح پر دین سے غفلت ہے، جس کا آغاز

ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار سے کرنا ہوگا۔ (مفتی محمد زبیر )

غزہ کے بعد دنیا بدل چکی ہے اور اب یہ صدی دین کے غلبے

کی صدی بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم نظریۂ پاکستان کو عملی شکل

دینے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کریں۔(ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی)

امتِ مسلمہ کی آزمائش کے باوجود اسلام عالمگیر سطح پر پھیل

رہا ہے،اور اگر ہم قرآن و سنت کو حقیقی رہنما بنا لیں تو اللہ کی

مدد یقینی ہے۔ (ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی )

’’ امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر ‘‘ (تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار)


تنظیمِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر‘‘کے عنوان سے 25دسمبر 2025ء کو راشد منہاس روڈ، فٹبال گراؤنڈ، فیڈرل بی ایریا، کراچی میں ایک عظیم الشان اور پروقار سیمینار منعقد ہوا، جس میں تقریباً دو ہزار حضرات و خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کے لیے باپردہ شرکت کا اہتمام تھا۔ سیمینار سے مفتی محمد زبیر ، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی اور امیر تنظیمِ اسلامی پاکستان شجاع الدین شیخ نے خطاب کیا، جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر انوار علی ابرار نے انجام دئیے۔ سیمینار کا باقاعدہ آغاز سورۃالانفال کی آیات 24 تا 29 سے ہوا، جس کے بعد حافظ محمدایاز نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ افتتاحی کلمات میں امیر تنظیمِ اسلامی کی جانب سے معزز مقررین کا شکریہ ادا کیا گیا۔
شجاع الدین شیخ کا صدارتی خطاب: اپنے صدارتی خطبہ میں امیر تنظیمِ اسلامی پاکستان شجاع الدین شیخ نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی زبوں حالی اور پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ دین کو اجتماعی ترجیح نہ دینا ہے، جبکہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف اسلام میں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیمینار کا موضوع دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہے۔امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور نظریۂ پاکستان کی عملی تعبیر۔انہوں نے غزہ، فلسطین، کشمیر، روہنگیا اور سوڈان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات کے ذمہ دار صرف حکمران نہیں بلکہ ہم سب ہیں، کیونکہ ہم اُمت ہونے کا عملی نمونہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہم اجتماعی سطح پر اسرائیلی مصنوعات کا مؤثر بائیکاٹ تک نہیں کر پا رہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات میں دین شامل نہیں رہا۔انہوں نے زور دیا کہ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا اور دین کے نفاذ کے لیے پرامن، منظم اور غیر مسلح جدوجہد ضروری ہے۔
مفتی محمد زبیر کا خطاب:سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسلامی نظریاتی کونسل و نائب مہتمم جامعہ الصفہ مفتی محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں تاخیر کی بنیادی وجہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر دین سے غفلت ہے، اور اصلاح کا آغاز ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار سے کرنا ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ قیامِ پاکستان کے بعد یہ جائزہ لینا ناگزیر ہے کہ دین کے نفاذ کے لیے کیا قانون سازی کی گئی اور آیا آئین کے مطابق دینی احکامات پر عمل کو آسان بنایا گیا یا اس کے برعکس تنزلی واقع ہوئی۔انہوں نے غیر اسلامی ٹرانسجینڈر ایکٹ، کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین اور سودی نظام کو آئینی تقاضوں کے برخلاف اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دینی نظام کے نفاذ میں سنگین کوتاہی کا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام اور کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا اور قائداعظمؒ کے مطابق اسے اسلام کا عملی نمونہ بننا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنے گھروں، کاروبار اور اداروں میں بھی دین کے نفاذ کا جائزہ لینا ہوگا۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا خطاب: سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر رہنما جماعتِ اسلامی پاکستان ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ نظریۂ پاکستان پر حقیقی عمل ہی امتِ مسلمہ کی بیداری کا راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر ہونے والے مظالم کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ یہ صدی دین کے غلبے کی صدی بن سکتی ہے، بشرطیکہ ہم سنجیدہ، منظم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی کا خطاب: سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے کہا کہ اسلام کمزور نہیں ہوا، کمزوری ہمارے عمل میں ہے، اور اسی حقیقت کو سمجھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، تاہم دنیا بھر میں اسلاموفوبیا میں کمی اور اسلام کو سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔انہوں نے قائداعظمؒ کے اسٹیٹ بینک کے افتتاحی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہوگا اور اس کے اصول قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں گے۔ 1973ء کا آئینِ پاکستان انہی اصولوں کی ترجمانی کرتا ہے۔
آخر میں امیر تنظیم اسلامی نے سیمینار کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور دعا کروائی۔ (جاری کردہ: مرکزی شعبہ نشرواشاعت، تنظیم اسلامی، پاکستان)