(کارِ ترقیاتی) تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو..... - عامرہ احسان

9 /

تھرتھراتا ہے جہانِ چار سو.....


عامرہ احسان

ہر ملک کے عوام میں شعور کی بیداری ہویدا ہے۔ واقعات پر اب خاموش ہو ر ہنے کا دور لد گیا۔ عوامی ردِعمل صرف مقامی نہیں رہتا، فوراً بین الاقوامی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ گلوبل ویلج بن جانا حکمرانوں کے لیے بلا بن گیا ہے۔ سرحدیں بے معنی ہوگئیں۔ صرف وبائیں کو وڈ کی طرح ملکوں ملکوں نہیں پھیلتیں۔رویے،اخلاقیات،اظہارِ رائے، نظریات سبھی کچھ یکا یک زبان زدِ خاص و عام ہو جاتے ہیں۔ عرب بہار میں ایک ریڑھی بان کی ریڑھی پر پولیس نے جابرانہ قبضہ کیا،( 25 جنوری 2011ء) 28 دن میں 54 سالہ آمریتوں کی حکومت الٹ گئی۔ پھر یہ انقلاب یوں وائرل ہوا کہ 18 دن کی ایسی ہی تحریک نے مصر میں حسنی مبارک کے آمرانہ 30 سال (قبل از یں انور السادات اور جمال عبد الناصر کی دم پخت حکمرانی، 37 سالہ!) یک لخت ختم کر دئیے۔ یوں 67 سالہ آمرانہ شکنجوں سے مصر آزاد ہوا۔ یمن میں اسی انقلابی وائرس سے یمنی جابر علی عبداللہ صالح( 33 سالہ حکمرانی) عرب بہار کی لپیٹ میں آکر 2012 ء میں مرگیا۔ لیبیا کا کرنل قذافی 42 سال حکومت کرکے قتل ہوا عوامی ریلے میں۔( اکتوبر 2011ء) شام میں حافظ الاسد، بشار الاسد (باپ، بیٹا) کی پے در پے حکمرانی 53 سال پر محیط تھی۔ 2011 ء میں عرب بہار کے مظاہرے، سکول کی دیوار پر حکومت مخالف نعرے لکھنے پر قتل کیے جانے والے لڑکوں پر احتجاج سے شروع ہوئے۔ وحشیانہ تشدد، عوام پر بمباریاں کر کے شام کو عین غزہ کی طرح تباہ کر ڈالا بشار الاسد نے۔ آدھی سے زیادہ آبادی آپریشنوں کے نتیجے میں مہاجر ہو گئی۔( 70 لاکھ بیرونی، 68 لاکھ اندرونی بے دخلی) 96 ہزار افراد لاپتہ کیے گئے۔ اپنے ہی عوام پر 82 ہزار بیرل بم برسائے اور خوفناک 217 کیمیائی حملے کیے۔ بیرونی ممالک کو بھی اپنے عوام بھوننے کی اجازت دے دی، امریکہ، روس، ایران، لبنان بھی مسلم عوام کے خلاف جنگ میں آن کو دے۔ شام معاشی طور پر مکمل کھو کھلا اور قبرستان بن چکا تھا جب 8 دسمبر 2024 ء کو احمد الشرع جولانی کے باغی گروہ نے بشار کو نکل بھاگنے پر مجبور کیا۔

 مشرقِ وسطیٰ کی یہ جزوی کہانی، آمرانہ بدعنوان حکومتوں،کچلے دبے پسے عوام کی داستان پر ایک طائرانہ نگاہ ہے۔ جس کا سبق بہر حال یہی ہے کہ عوام جب قربانیاں دینے پر تل جائیں، تنگ آمد، بجنگ آمد کیفیت میں اقتدار ،18 دن، 28 دن یا 13 سال میں چھن ہی جایا کرتا ہے! پھر ابھی لا منتہا اور خوفناک احتساب برزخ (قبر) اور آخرت کا تو باقی رہتا ہی ہے۔ رہے نام اللہ کا! جہاں لمحہ لمحہ (سچی ) سکرینوں پر سامنے آجائے گا۔ یوم تبلی السرائر! سبھی رازوں سے پردہ اٹھ؍ کھل جانے کا دن۔ لاکھ انسان انکاری ہو! سیکولر بنے، کافر ہو، یا منافق! مسلمان پر تولرزا طاری کرنے والے حقائق ہیں ہی یہ!
بین الاقوامی منظر نامے پر یہ پے در پے واقعات ایک دوسرے سے حوصلہ پاکر ہوتے چلے گئے۔ 2021 ء میں تقریباً نہتی قوم کا عالمی طاقتوں کو بے بس کر کے نکل جانے پر مجبور کردینا! افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد اس سے بھی بڑا واقعہ سرنگوں والے مجاہدوں کا تھا جنھوں نے اچانک نکل کر آئرن ڈوم والے اسرائیل پر ابابیلی حملے سے دنیا ہلا ڈالی۔ 7اکتوبر 2023 ء سے ہمت پا کر   بنگلہ دیش کے دبلے پتلے طلبہ نے ملک پر بھارتی قوت کے بل بوتے پر حکمران حسینہ واجد کو دیکھتے ہی دیکھتے نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا، جولائی 2024 ء میں۔ یہ پیش خیمہ تھا ایک مکمل انقلاب کا، جو اب عثمان ہادی کی شہادت پر مزید حوصلوں جذبوں کو قوی تر کر گیا۔ جانیں لڑا کر، پاکستان سے محبت اور بھارت کی مرغی کی گردن پر اٹکی سات ریاستوں کے خلاف خونخوار جذبات کے اظہار تک جاپہنچے۔ بے مثل جنازہ شہید ہادی کا پڑھا گیا۔
 بہار (بھارت) میں وزیر اعلیٰ نے نجانے کس لہر میں آکر مسلمان لیڈی ڈاکٹر کا نقاب تمسخرانہ انداز میں نوچ ڈالا۔ اس کے خلاف بلا تفریق ہندو مسلم طوفان کھڑا ہو گیا۔ وقت تیزی سے بدل رہا ہے! مفروضے، نفرت کے بیانیے دم توڑ رہے، حقائق کھل رہے ہیں۔ پرانی لہر میں ہندو لڑکے نے قطر میں ڈٹ کر کہہ ڈالا: ’ہم مسجد میں لڑکیاں نچوائیں گے!‘ (سعودی عرب میں جاری میوزیکل شوز سے سے حوصلہ پاکر )مگر یہ قطر تھا۔ فوری 53 ہزار ریال اور 10 سال قید کی سزا ہو گئی۔ حکمران جو سیانے ہیں، وہ بدلتے موسموں سے آگاہ ہیں۔ مسلم عوام کے سینوں میں اٹھتے جوار بھاٹے سے واقف ہیں۔ کوئی غلطی، غزہ کے غموں سے چھلنی دلوں پر کسی نئی عرب و عجم بہار کو اٹھا کھڑاسکتی ہے۔ اب جبکہ لندن ،مانچسٹرآتی کرسمس کے بیچوں بیچ غزہ کے لیے دیوانہ وار مظاہرے اس ہفتے بھی پورے درد سے کر چکے۔ آگے رمضان کی آمد ہے۔ اسرائیلیوں کا شیخ نجدی(ابلیس) قید میں جانے کو ہے تو احتیاط لازم ہے!
اسرائیل کے ہاتھوں امریکہ معاشی طور پر کھو کھلا ہوتا جارہا ہے۔ عوام پر راز (سبھی مغربی ممالک میں) کھلتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی گلوبل چوہدراہٹ دم توڑ رہی ہے۔ غبارے سے ہوا نکل رہی ہے۔ایک پروگرام میں امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے سامنے فلسطینیوں کی چشم دید   حالت ِزار اور امریکہ، اسرائیل کے خوراک فراہمی کے فراڈ پر مبنی اہتمام کا کچا چٹھا کھولنے پر امریکی لیفٹیننٹ کرنل (بحوالہ گزشتہ کالم) کو سپیشل فورسز پیراشوٹ ٹیم سے نکال دیا گیا۔ جرم، اسرائیل کے خلاف گفتگو ٹھہری۔ جس پر وہ چلا اٹھا برملا: میں نے امریکی آئین پر حلف لیا تھا کسی غیر ملکی حکومت یا فوج کے لیے نہیں۔ پر اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ مجھے سچ بولنے پر ڈرا دھمکا سکتا ہے تو دفع دور ہو جاؤ۔ سچ اہم تر ہے! ( کیا ہمارے لیے بھی؟!)
اسرائیل آپے سے باہر ہے۔ جنگ بندی کے باوجود لمحہ بھر کو اپنی کرتوتوں سے پیچھے نہیں ہٹا۔ نہ ہی ٹرمپ کی پشت پناہی اور اسلحہ پیسے کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔  صہیونی منصوبوں پر مسلسل عمل درآمد کے لیے ایک یہودی میری ایم ایڈلسن بر ملابتاتی ہے کہ میں نے انتخابی مہم پر 250 ملین ڈالر ٹرمپ کو دیئے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے وہ سب کچھ کر گزرے جو اس نے کیا بھی۔ اب میں مزید اتنی ہی رقم دوں گی تا کہ وہ 4 سال مزید یہی سب کرے۔   کِم آئیو رسن شو کی میزبان، امریکی صحافی یہ سب دکھا کر سیخ پاہو کر کہتی ہے کہ امریکی صدر غیر ملکی حکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسرائیل کے ہاتھ بک چکا ہے اور یہ غداری ہے۔ ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ گریٹ بنانے کا نعرہ لگاتا رہا۔ مگر وہ سبھی کچھ اسرائیل کی بڑائی کے لیے کر رہا ہے۔ یہ آوازیں اب ہر طرف سے اُٹھ رہی ہیں کہ عوام کے ٹیکسوں (خون پسینے کی کمائی) کو وہ ایک دوسرے ملک پر خرچ کر رہا ہے۔ ٹکر کارلسن، امریکی معروف تبصرہ نگار، ناقد ہے کہ: ’جس ملک سے ہم سب سے زیادہ نتھی ہیں، اس کے کوئی وسائل نہیں۔ وہ صرف 90 لاکھ آبادی ہے۔ نہایت غیر اہم ملک۔ اسرائیل! ہم اس پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ اور دنیا میں اپنا مقام کھو رہے(چکے!) ہیں۔ اسرائیل میں کوئی امریکی مفاد نہیں۔ ہم صرف پیسہ گنوا رہے ہیں۔ بچے قتل کرنا ہمارے مفاد میں کیوں ہے؟ یہ نیتن یا ہو کے مفاد میں ہے، ہوگا۔ وہ تو صرف ہمارے منہ پر پستول رکھ کر کہتا ہے۔ ’شٹ اپ‘ تو ہم کہہ اٹھتے ہیں، ہاں یہ ہمارے لیے اچھا ہے!‘ 
ٹرمپ کی عزت امریکیوں، یورپیوں کے بیچ بھی دوٹکے کی نہیں رہی۔ صہیونیوں نے بھی مفیدِ مطلب نہ پایا تو نیا صدر کرائے پر لے لیں گے۔ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔ 10 اکتوبر سے اب تک اسرائیل کے غزہ پر 800 حملے، 400 شہادتیں، ہزاروں زخمی اسرائیل، ٹرمپ؍ امریکہ کی ملی بھگت ہے۔ ایسے میں غزہ کے لئے ISF میں شمولیت، فلسطینیوں یا قدس سے    بے وفائی سمجھی جائے گی۔ نہ عوام اس پر رضامند ہیں نہ پاکستان اس کا متحمل ہو سکے گا۔ اسرائیل مسلسل مغربی کنارے پر قبضے بڑھا رہا ہے۔ مزید 19 بستیوں کی یہودی آباد کاروں کے لیے منظوری اور غزہ میں شادی پر بمباری کی وحشت۔ اس پروگرام کے ذریعے اسرائیل کی آباد کاریوں اور مظلوم ترین فلسطینیوں پر مسلط یہود کے تحفظ کے لیے بھی مسلم ممالک گریزاں ہیں۔ یہ خوفناک منصوبہ ہے۔ رک جائیے! (حماس، غزہ کی محافظ قوت UN کے علاوہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کو سرحدی نگرانی کے لیے قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہے۔)
 
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھر تھراتا ہے جہانِ چار سو و رنگ و بو