(دعوت و تحریک) پاک افواج کا نظریاتی تشخص - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

9 /

پاک افواج کا نظریاتی تشخص

ڈاکٹر ضمیراختر خان

پاکستان ایک غیر معمولی نظریے کے تحت قائم   ہونے والی ریاست ہے۔ اس کی بنیاد نہ مشترکہ نسل ہے، نہ زبان، نہ جغرافیائی وحدت اور نہ ہی کسی قدیم سلطنت کا تسلسل، بلکہ اس کی واحد اور اصل بنیاد ’’اسلام‘‘ ہے۔ یہی حقیقت پاکستان کو دیگر ریاستوں سے ممتاز بناتی ہے اور اسی حقیقت کے باعث پاکستان کے تمام قومی اداروں، خصوصاً افواجِ پاکستان کی ذِمّہ داری محض پیشہ ورانہ یا انتظامی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔حالیہ دنوں افواجِ پاکستان کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ مسلح افواج کسی خاص علاقے، زبان، مسلک، مذہبی جھکاؤ یا سیاسی جماعت کی نمائندہ نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندہ ہیں۔ اس بات سے اصولی اختلاف نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ افواجِ پاکستان واقعی ہر صوبے، ہر طبقے اور ہر مکتبِ فکر کے افراد پر مشتمل ہیں۔ ایک قومی فوج کا کسی محدود شناخت میں قید ہونا اس کے کردار کے خلاف ہے۔ تاہم اس بیان میں استعمال ہونے والا لفظ ’’مذہبی جھکاؤ‘‘ایک سنجیدہ فکری سوال کو جنم دیتا ہے۔ اگر اس سے مراد مسلکی وابستگی ہے تو یہ بات بجا ہے کہ افواجِ پاکستان کسی ایک مسلک کی نمائندہ نہیں۔ لیکن اگر اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ   افواجِ پاکستان کا دینِ اسلام سے بطور نظریہ کوئی تعلق نہیں، تو یہ بات نہ صرف محلِ نظر ہے بلکہ پاکستان کے قیام کے بنیادی فلسفے سے بھی متصادم ہے۔ افواجِ پاکستان صرف جغرافیائی سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ اس ریاست کے نظریاتی تشخص کی بھی پاسبان ہیں۔
یہ حقیقت ہماری تاریخ میں پہلے بھی واضح رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاک فوج کا ماٹو ’’ایمان، تقویٰ،’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ اسی نظریاتی شناخت کا اظہار تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت تھا کہ پاکستان کی فوج اپنے کردار کو اسلامی تصورِ حیات سے جدا نہیں سمجھتی۔ یہ ماٹو فوجی اداروں، چھاؤنیوں اور عوامی شعور کا حصہ بن چکا تھا۔ بعد کے ادوار میں اگرچہ یہ پس منظر میں چلا گیا، مگر اس کے فکری اثرات آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
موجودہ حالات میں یہ موضوع اس لیے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ افواجِ پاکستان کی اعلیٰ قیادت میں    دینی شعور اور قرآنی فہم رکھنے والی شخصیت موجود ہے۔  حافظِ قرآن آرمی چیف کا ہونا محض ایک ذاتی فضیلت نہیں بلکہ ایک قومی موقع ہے۔ اس سے یہ امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ افواجِ پاکستان اپنی نظریاتی بنیادوں پر دوبارہ غور کریں اور اپنی شناخت کو واضح فکری سمت دیں۔
ایک اسلامی ریاست کی فوج دنیا کی دیگر افواج کی طرح محض دفاعی ادارہ نہیں ہوتی۔ وہ اسلامی آئین، اسلامی قانون اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی محافظ بھی ہوتی ہے۔ پاکستان کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کی ’’ولدیت‘‘  صرف اسلام ہے۔ اس کے قیام کے پیچھے نہ کوئی مضبوط قوم پرستانہ جذبہ تھا، نہ تاریخی تقدس اور نہ ہی فطری جغرافیائی تحفظ۔ اگر کوئی قوت پاکستان کو قائم رکھ سکتی ہے تو وہ صرف مذہبی جذبہ ہے۔ تاہم یہ مذہبی جذبہ کسی رسمی مذہبیت یا محض نعرہ بازی سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ 
      آج پاکستان جن داخلی مسائل سے دوچار ہے، ان میں لسانی تقسیم، علاقائی تعصبات، طبقاتی خلیج اور شدید سیاسی محاذ آرائی نمایاں ہیں۔ ایسے حالات میں محض مسلم قومیت یا جدید قوم پرستانہ تصورات قوم کو متحد نہیں کر سکتے۔ اگر پاکستانی مسلمان ایک ’’بنیانِ مرصوص ‘‘بن سکتے ہیں تو وہ صرف حقیقی، عملی اور زندہ مذہبی جذبے کے ذریعے۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ایسا جذبہ اسلام کی کسی نئی   یا جدید دانشورانہ تعبیر کے ذریعے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ جدید تعبیرات زیادہ سے زیادہ ایک محدود فکری طبقے کو متاثر کرتی ہیں، مگر عوامی سطح پر وہ حرارت اور توانائی پیدا نہیں کر سکتیں جو قربانی، ایثار اور مسلسل جدوجہد کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی سطح پر مؤثر مذہبی تحریکیں ہمیشہ اسی اسلام سے اٹھی ہیں جو صدیوں سے مسلمانوں کے اجتماعی شعور میں رچا بسا ہو۔برصغیر کی اسلامی تاریخ اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ مسلمانوں پر سیاسی اقتدار مختلف ادوار میں بادشاہوں اور حکمرانوں کے پاس رہا، مگر عوام کے دلوں اور ذہنوں پر اصل اثر علماء اور صوفیاء کا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا مسلمان، خواہ خود پوری طرح عمل نہ بھی کرتا ہو، دل سے اسی اسلام کا قائل رہا ہے جسے علماء کرام نے پیش کیا۔ پاکستان کی تاریخ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جب بھی پاکستان میں اسلامی تشخص کو چیلنج کیا گیا، علماء کرام نے مسلکی اختلافات کے باوجود مشترکہ موقف اختیار کیا۔ دستور سازی کے دوران پیش کیا جانے والا 22 نکاتی فارمولا، تحریک ختمِ نبوت، فتنۂ انکارِ حدیث کے خلاف اجتماعی ردِعمل، اور     قانونِ قصاص و دیت جیسے معاملات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر علماء متحد رہے ہیں۔ یہی اتحاد عوام کے اجتماعی شعور کی اصل ترجمانی کرتا ہے۔یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام محض مذہب نہیں بلکہ مکمل دین ہے۔ یہ صرف عقائد، عبادات یا چند سماجی رسومات تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو معاشرت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر   شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ حکیم کے مطابق نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی دینِ حق کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کرنا تھا۔ اسی تصور کو علامہ اقبال نے ’’یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم ‘‘کے الفاظ میں سمیٹا، اور یہی تصور قائداعظم محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان کی بنیاد بھی تھا۔ قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ پاکستان اسلام کے اصولِ حریت، اخوت اور مساواتِ انسانی کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے حاصل کیا گیا ہے، اور یہ کہ مسلمانوں کا دستور قرآنِ حکیم کی صورت میں پہلے ہی موجود ہے۔
چنانچہ پاکستان کی بقا، ترقی اور استحکام کی واحد مضبوط بنیاد وہ مذہبی جذبہ ہے جو حقیقی، عملی اور مستند اسلامی تصور پر قائم ہو۔ یہ جذبہ نہ جامد مذہبیت کا نام ہے اور نہ کسی غیرضروری تجدد کا، بلکہ اسلام کی اصل روح کی تجدید ہے۔ افواجِ پاکستان اگر اپنی شناخت کو واضح طور پر اسلامی فوج کے طور پر تسلیم کریں اور اپنے تاریخی ماٹو ’’ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کو محض نعرے کے بجائےلائحہ عمل بنائیں تو وہ نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کی محافظ رہیں گی بلکہ اس کے نظریے کی بھی حقیقی پاسبان ثابت ہوں گی۔ یہی راستہ پاکستان کو ایک مضبوط، متحد اور ناقابلِ تسخیر ریاست بنا سکتا ہے۔ان شاء اللہ!