عرش کے فرشتے دعاگوہیں :مگر کن کے لیے ؟
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے19دسمبر2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
خطبۂ مسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ المومن کی آیات 7 تا 9 کا مطالعہ کریں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے عرش کو تھامنے والے عظیم اور بلند مرتبہ فرشتوں کی اُن دعاؤں کا ذکر ہے جو وہ اُن اہل ایمان کے لیے کرتے ہیںجو کہ معرکۂ حق و باطل میں حق کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اس راستے پر ڈٹ جاتے ہیں۔ حق کے راستے میں بہرحال بہت بڑی آزمائشوں ، تکالیف اور مصائب کا سامنا انسان کو کرنا پڑتاہے۔ خود نبی مکرم ﷺ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے، طرح طرح سے آپ ﷺ کو ستایا گیا ۔ آپ ﷺ کے گھر والوں کو ستایا گیا ، آپﷺ کے صحابہ کرام ؇پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے ، وہ غلام اور کنیزیں جو اسلام لے آئے تھے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ حضرت یاسر اور حضرت سمیہ i کو شہید کیا گیا ۔ سیدنا بلال، حضرت خباب بن الارت اور حضرت یاسر بن عمار ؇پر کس قدر تشدد کیا گیا۔حق کے راستے پر چلنے والوں کے لیے آزمائشیں ہر دور میں آتی رہی ہیں اور آج بھی آسکتی ہیں ۔ ان حالات میں کبھی کبھی بندہ پریشان اور مایوس بھی ہو سکتاہے کہ اللہ کے راستے میں قربانیاں دینے کے باوجود اللہ کی مدد کیوں نہیں آرہی؟ ایسے حالات میں ایمان والوں کی دل جوئی ، تسلی اور سہارا دینے کے لیے اور انہیں مشقتیں جھیلنے کے قابل بنانے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مختلف پیرایوں میں رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ انہی میں سے ایک یہ مقام بھی ہے۔ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جب مکہ مکرمہ میں حق و باطل کے درمیان کشا کش جاری تھی،اہلِ ایمان کو ہر طرح کے مظالم ، مصائب اور مشقتوں کا سامنا تھا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اعزاز اور اکرام کا ذکر فرما رہے ہیں کہ تم زمین پر مجھ پر ایمان رکھو، تم زمین پرمیرے دین (نظام )کے قیام کے لیے جدوجہد کرو ، قربانیاں دو ، مشقتیں جھیلو میں آسمانوں پرتمہارا ذکر کروں گا، عرش کو تھامنے والے فرشتوں کی دعاؤں میں تمہارا حصّہ شامل کر دوں گا۔مولانا مودودیؒ نے بہت ہی پیار اجملہ لکھا کہ ایمان وہ شے ہے جو فرش والوں کو عرش والوں سے ملادیتی ہے ۔زیر مطالعہ آیت میں فرمایا :
{اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ}(المومن:7) ’’وہ (فرشتے) جو عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیں‘‘
عرش کو اُٹھانے والے فرشتے کوئی عام فرشتے ہرگز نہیں ہیں ۔ وہ بہت ہی عالی اور خدا کے مقرب فرشتے ہیں ۔
{یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ} (المومن:7) ’’وہ سب تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیں‘‘
اللہ کی تسبیح کرنا فرشتوں کا مستقل وظیفہ ہے ۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف تسبیح کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا ۔ اگر انسان کی پیدائش کا مقصد صرف تسبیح کرنا ہوتا تو اس کے لیے فرشتے کافی تھے ۔ یہی بات فرشتوں نے بھی کہی تھی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکو پیدا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا :
{وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط} (البقرہ:30) ’’اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘
لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا:
{اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(30)}(البقرہ:30)’’میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔‘‘
یقیناً تسبیح و حمد نمازوں میں بھی مطلوب ہے ، دعاؤںاور اذکار میں بھی مطلوب ہے ، مگر اللہ نے انسان کو صرف اسی لیے پیدا نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس سے بلند تر مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اقبال نے کہا تھا ؎
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خدا گاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا و جمادات و نباتات
انسان کو اللہ تعالیٰ نےتسبیح اور تکبیرِ رب کی پوری شان بیان کرنے کے ساتھ اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے ،یعنی رب کی بڑائی پر مشتمل پورے نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے پیدا کیا ۔ اس لیے اللہ نے انسان کو خلافت ارضی کی ذِمّہ داری دے کر زمین پر بھیجا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط} (آیت:44)’’اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اُس کی حمد کے ساتھ ‘لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔‘‘
کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے ، انسان کو بھی کرنی چاہیے مگر انسان کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے ۔ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ اسے اللہ نے خلافتِ ارضی دے کر زمین پر بھیجا ہے ۔ اس کا کام یہ ہے کہ طاغوت اور باطل کے خلاف جہاد کرے ، برائی کے خلاف ڈٹ جائے اور اللہ کے نظام کو ہرسطح پر قائم کرنے کی جدوجہد کرے تاکہ اللہ کی تکبیر کو عملی طور پر منوایا جا سکے ۔ یہ بہت بڑا مشن ہے جس کے لیے کم وبیش1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کو زمین پر بھیجا گیا اورختم نبوت کے بعد یہ اہم ذِمّہ داری اُمتِ مسلمہ کے کندھوں پر ہے ۔ آگے فرمایا :
{وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج}’’اور اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔‘‘(المومن:7)
یہ کتنا بڑا اعزاز ہے ۔ آج ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ فلاں کو آسکر ایوارڈ مل گیا ، فلاں کو نوبیل انعام مل گیا ، فلاں کو فلاں پرائز مل گیا ۔ مگر دنیا کا بڑے سے بڑا اعزاز بھی صرف چند روزہ دنیا تک محدود ہے ۔ انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی اور سب سے بڑا ایوارڈ یہ ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی میں اُسے کوئی کامیابی مل جائے اوران سے بڑھ کر خوش قسمت لوگ کون ہوں گے یا اس سے بڑا ایوارڈ کیا ہوگا کہ اللہ کے عرش کو تھامنے والے انتہائی معزز فرشتے اُن کے لیے بخشش کی دعا مانگ رہے ہوں ۔ لیکن آج مادہ پرستی کے دور میں انسان اس حقیقت کو بھول رہا ہے اور عارضی فائدے کو ہی اصل کامیابی سمجھ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کلام ظاہر کے اِن پردوں کو چاک کر کے آخرت کو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔اس آیت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ایمان کتنی بڑی دولت ہے ۔ آج ماں کی گود میں کلمہ مفت میں مل گیا ، مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوگئے ، مسلمانوں جیسا نام رکھ لیا ، اس لیے ہمیں قدر نہیں ہے ۔ سکول میں بچے کے نمبر کم آجائیں تو پریشانی ہوتی ہے لیکن ایمان چلا جائے تو کوئی فکر نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی ایمان عطافرمائے ۔ آ مین!
اہلِ ایمان کے لیے اللہ کے عرش کو تھامنے والے فرشتے بھی استغفار کرتے ہیں تو ہمیں خود استغفار کا کس قدر اہتمام کرنا چاہیے ؟ یہ تصور غلط ہے کہ استغفار صرف گناہوں پر کرنا چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے بڑھ کو کون متقی ہوگا اور پھر آپ ﷺ معصوم عن الخطا بھی تھے مگر آپ ﷺ ہر نماز کے بعد استغفار کا ورد کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح سنتِ رسول ؐ سے صبح شام کے اذکار میں 100 مرتبہ استغفار ثابت ہے ، کیا آج ہم بھی استغفار کا اہتمام کرتے ہیں ؟ تنہائی میں بیٹھ کر سوچنا چاہیے ۔ آگے فرمایا :
{رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا} (المومن:7)
’’اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
چونکہ یہاں اللہ کی عطا کا ذکر چل رہا ہےلہٰذا رحمت کا ذکر پہلے آیا اورعلم کا ذکر بعد میں آیا ۔ دوسری بات یہ بیان ہوئی کہ اللہ کا علم کامل ہے ۔ فرشتے اہل ایمان کی بخشش کے لیے دعائیں تو مانگ رہے ہیں مگر کون اس رحمت کا مستحق ہے ، کون سچا پکا ایمان والا ہے اور کون جھوٹا دعوے دار ہے ،یہ بات صرف اللہ ہی جانتاہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان کا طالب بنائے۔ آمین ۔ آگے فرمایا :
{فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ} (المومن:7)
’’پس بخش دے تُو اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی‘‘
استغفاراور توبہ کے الفاظ عام طور پر ساتھ ساتھ ہی آتے ہیں لیکن ان میں ایک بنیادی فرق بھی ہے ۔ جیسے سورۃ ہود میں فرمایا :
{وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ ط اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ(90)} (ہود) ’’اور استغفار کرو اپنے رب سے ‘پھر اُس کی طرف رجوع کرو۔‘‘
معلوم ہوا کہ استغفار پچھلے گناہوں کی معافی کے لیے ہے اور توبہ آئندہ گناہوں سے بچنے کے عزم ِ مصمم کا نام ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی اِن الفاظ کو اسی مفہوم میں استعمال کیا کیا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
((استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ)) ’’ میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں۔ ‘‘
توبہ کا اصل ترجمہ ہے پلٹ آنا ۔ یعنی اللہ کی نافرمانی کے راستے کو ترک کرکے فرمانبرداری کے راستے پر آجانا اور آئندہ کے لیے عہد کرنا کہ اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔ یہ نہیں ہے کہ صرف 27ویں رمضان کو یا حج و عمرے کے موقع پررو رو کر دعائیں مانگ لیںتو بس بخشش ہو جائے گی بلکہ بخشش کے لیے لازم ہے کہ انسان فرمانبرداری کے راستے پر قائم رہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَاِنِّـىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُـمَّ اهْتَدٰى}(طٰہٰ:82)’’اور بے شک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا : جب بندہ گناہ کرتا ہےتو ایمان دل سے نکل جاتا ہے اور ایک پرندے کی طرح اس کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے ، توبہ کرلے تو ایمان دل میں لوٹ آتاہے ورنہ انسان گناہ کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ دل سیاہ ہو جاتاہے ۔ جیسا کہ سورہ مطففین میں فرمایا :
{کَلَّا بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ(14)} ’’ہرگزنہیں! بلکہ (اصل صورتِ حال یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر زنگ آ گیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے ۔‘‘
جس قدر گناہوں میں انسان ڈوبتا چلا جاتاہے ، اُتنا ہی اللہ سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتاہے ۔ لیکن جب وہ توبہ کرتاہے تو اللہ سے اُس کا تعلق دوبارہ جڑ جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی بات کی اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی اپنے بندے کے توبہ کرنے پر ہوتی ہے ۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر، جب وہ (بندہ) اس کی طرف توبہ کرتا ہے، تم میں سے کسی ایسے شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں اپنی سواری پر (سفر کر رہا) تھا تو وہ اس کے ہاتھ سے نکل (کر گم ہو) گئی، اس کا کھانا اور پانی اسی (سواری) پر ہے۔ وہ اس (کے ملنے) سے مایوس ہو گیا تو ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ وہ اپنی سواری (ملنے) سے ناامید ہو چکا تھا۔ وہ اسی عالم میں ہے کہ اچانک وہ وہ (اونٹنی) اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے اس کو نکیل کی رسی سے پکڑ لیا، پھر بے پناہ خوشی کی شدت میں کہہ بیٹھا: (اللہم انت عبدی وانا ربک( اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے غلطی کر گیا۔“اللہ تعالیٰ کو اِس سے بڑھ کر خوشی ہوتی ہے جب اُس کا بندہ توبہ کرتا ہے۔ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر محبت ہے اس کا اندازہ بخاری شریف کی اس روایت سے ہوتاہے۔فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ میرا بندہ مجھے دل میں یاد کرتا ہےتو میں بھی اُ سے دل میں یاد کرتا ہوں، وہ کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں (فرشتوں کے ہاں) اس کو یاد کرتا ہوں،وہ ایک بالشت میری طرف آئے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف جاتا ہوں ، وہ ایک ہاتھ بھر میری طرف آئے تومیں دو ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں ، وہ چل کر میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں ۔‘‘
اٹلی کی ایک تازہ مثال ہمارے سامنے ہے ۔ وہاں جرائم پیشہ افراد کا ایک بہت بڑا گینگ تھا اور اس کے سرغنہ نے بہت بڑے بڑے جرم کیے تھے لیکن جب اسلام کی دعوت اُس تک پہنچی تو اس کی زندگی بدل گئی ، اس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا ۔ اس کے بعد اس کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا ۔ ایسی اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ۔ آگے فرمایا :
{وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ (7)}(المومن)
’’اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‘‘
وہ لوگ جو توبہ کریں اور ایمان لے آئیںان کی معافی ، جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کے لیے اللہ کے عرش کو اُٹھانے والے فرشتے بھی دعاکرتے ہیں ۔ آگے فرمایا :
{رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ} (المومن:8)’’ پروردگار! اور انہیں داخل فرما نااُن رہنے والے باغات میں جن کا ُتو نے ان سے وعدہ کیاہے‘‘
اللہ کا وعدہ ہمارے حکمرانوں کی طرح ہرگز نہیں ہے ۔ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد اکثر وہ وعدے اور دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ دغا ، جھوٹ ، فریب اور گالم گلوچ آج ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے ۔جو جتنے بڑے عہدے پر فائز ہے، وہ اُتنا ہی بڑا جھوٹا ہے ، الا ماشاء اللہ ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ایسا نہیں ہے کہ کبھی پورا نہ ہو ۔ سورۃ النساء میں دو مرتبہ فرمایا :
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیْلًا (122)} ’’ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہو سکتا ہے؟‘‘
جو بھی سچی توبہ کرے اور ایمان لے آئے اللہ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں ضرور داخل کرے گا ۔ آج ہمیں اس بات پر کتنا یقین ہے ؟اس وعدے کی بنیاد پر اللہ کے دین کے لیے کتنی جدوجہد کر رہے ہیں ؟اس کے برعکس دنیا کے وعددوں پر کتنا انحصار کر رہے ہیں ؟دنیا کے وعدوں پر اپنا مال ، بزنس ، بچوں کا مستقبل تک داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ ایک ملازم کو یقین ہوتاہے کہ پہلی کو تنخواہ ملے گی ، اس بنیاد پر وہ پورا مہینہ محنت کرتاہے ۔ اللہ کا وعدہ سب سے سچا وعدہ ہے ، اس پر ہم کتنی محنت کر رہے ہیں ۔ آگے فرمایا :
{وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ ط} (المومن:8) ’’اور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔‘‘
آج اگر گھر سے فون آجائے کہ فلاں مسئلہ ہوگیا ہے تو شاید ہم جمعہ کی نماز چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے ، فلائٹ پکڑ کر یورپ اور امریکہ سے پہنچ جائیں گے ۔ لیکن اپنے انہی پیاروں کے لیے کیا ہم مغفرت کی دعا کرتے ہیں ؟قرآن کے اس مقام پر فرشتوں کی دعاؤں کے ذریعے تعلیم دی جارہی ہے کہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے گھر والوں کی بخشش کے لیے بھی دعا کرنی ہے۔ سورہ طور کی آیت 21 میں فرمایا:
{وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَاتَّبَعَتْهُـمْ ذُرِّيَّتُهُـمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِـهِـمْ ذُرِّيَّتَـهُـمْ وَمَآ اَلَتْنَاهُـمْ مِّنْ عَمَلِهِـمْ مِّنْ شَىْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌo} ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی (جنت) میں ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔‘‘
پورا پیکج ذہن میں رہے۔ جو ایماندار ہوں اور نیک اعمال کرنے والے ہوں اُن سب کواُن کے اہل خانہ سے جنت میں ملا دیا جائے گا ۔ کسی کے درجات میں کمی نہیں ہوگی ، بلکہ جس کا درجہ کم ہوگا تو اللہ اپنے فضل سے اس کا درجہ بلند کرکے بلند درجے والے اہل خانہ سے ملا دے گا ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ مگر آج ہم میں سے کون اپنے اہلِ خانہ کے لیے اِس قدر فکر مند ہے ؟دنیا میں تو ان کے لیے گھر خریدنے اور ہر آسائش مہیا کرنے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں لیکن ان کی آخرت کی ہمیں کتنی فکر ہے ؟اللہ کی جنت سستی نہیں ہے۔ اس کے لیے محنت اور کوشش کرنا پڑے گی ۔ گھر میں سے اللہ کی نافرمانیوں کو ختم کرنا پڑے گا ، ہر وہ کام جو اللہ کے غضب کو دعوت دینے والا ہے، اُسے گھر میںبرداشت نہیں کیا جائے گا ۔ کیا ہم اس کا اہتما م کر رہے ہیں ؟ خودتو مسجد میں جاکر نماز پڑھتے ہیں ، کیا گھر والوں کو بھی نماز کی پابندی کرواتے ہیں ؟اگرہم یہ نہیں کر رہے تو پھر سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے گھر والوں سے کتنا مخلص ہیں ؟اللہ ہمیں اصلاح اور عمل کی توفیق دے۔ آمین! آگے فرمایا :
{اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (8)}(المومن)
’’تو ُیقیناً زبردست ہے‘ کمالِ حکمت والا ہے۔‘‘
اللہ سے بڑھ کر کون طاقتور اور غالب ہے اور اس سے بڑھ کر حکمت والا فیصلہ کس کا ہو سکتاہے ۔ مکہ مکرمہ میں اہلِ ایمان مغلوب ہو چکے تھے ،بظاہر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتاتھا کہ اچانک اللہ کی مدد آئے گی اورصرف چند سالوں میں اسلام پورے عرب پر غالب ہو جائے گا ۔ لیکن اللہ زبردست اور حکمت والا ہے ۔ آگے فرمایا :
{وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِ ط }(المومن:9)
’’اور انہیں بچا لے برائیوں سے ۔‘‘
برائیوں میں اخلاقی برائی بھی شامل ہے ، کردار اور اعمال کی برائیاں بھی شامل ہیں ، شر کی وجہ سے بھی برائیاں ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان برائیوں کی وجہ سے بندہ اللہ کی پکڑ میں آجاتاہے ، مصائب نازل ہوتے ہیں ، سخت امتحانات آجاتے ہیں ۔ پھر برے اعمال کا نتیجہ کبھی دنیا میں بھی بُرا نکلتا ہے اور آخرت کا نقصان بھی ہو سکتاہے۔ سب سے بڑھ کر روز محشر اگر کوئی برائی بندے کو ذلیل کر دے اور اللہ اس کی وجہ سے جہنم میں ڈال دے تو اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی ۔ لہٰذا ہم سب کو بھی یہی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں برائیوں سے بچائے۔یہ معاملہ اتنا حساس ہے کہ اللہ کے عرش کو تھامنے والے فرشتے بھی اہل ایمان کے حق میں یہی دعا کرتے ہیں ۔ آگے فرمایا :
{وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ ط}(المومن) ’’ اور جسے تونے اس دن برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا۔‘‘
اصل ناکامی ، اصل بربادی اور اصل تباہی آخرت کی تباہی ہے ، جس کو اللہ نے اس سے بچا لیا اُس پر اللہ نے بہت بڑا رحم کیا ۔ آگے فرمایا :
{وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(9)}(المومن)
’’اور یقیناً یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اس دنیا میں اللہ کے دین کے لیے مشقتیں اُٹھانا ، تکالیف اور مصائب اُٹھانا ہر اُمتی کی ذِمّہ داریوں میں شامل ہے۔ اُمتی ہونے کے ناطے یہ ہمارا فریضہ ہے ۔ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات اور آزمائشیں آئیں گی ، جان و مال کا نقصان بھی ہوگا ، ظالموں اور جابروں کی طرف سے سختیوں کو بھی جھیلنا پڑے گا ۔ یہ سب مصائب و آلام آخرت کی زندگی کے مقابلے میں کچھ معنی نہیں رکھتے ۔ یہ عارضی ہیں جبکہ آخرت دائمی ہے ۔ لہٰذا جو آخرت میں کامیاب ہوگیا وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہوا ۔ یہی بات عرش کو تھامنے والے فرشتے بھی کہہ رہے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اس کی دعا بھی کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اِس قابل بننے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !