الہدیٰ
شرک کی نہ کوئی دلیل ہے، نہ صداقت وشہادت!
آیت 35{اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ(35)} ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند اتاری ہے جو انہیں ان چیزوں کے متعلق بتا رہی ہے جن کو یہ شریک ٹھہرا رہے ہیں!‘‘
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے بارے میں کیا ان لوگوں کے پاس کسی آسمانی کتاب میں کوئی دلیل موجو دہے جو اس شرک کی صداقت پر شہادت دیتی ہو جو یہ کر رہے ہیں؟ کیا ان پر ایسی کوئی ہدایت نازل ہوئی ہے کہ فلاں شخصیت بھی اللہ کے برابر ہو سکتی ہے اور فلاں ہستی بھی اس کے اختیارات میں حصہ دار بن سکتی ہے؟ یہاں پر آسمانی سند یعنی الہامی کتاب کے بارے میں لفظ یَتَکَلَّم آیا ہے ‘یعنی کیا اللہ کی نازل کردہ کتاب ان سے اس بارے میں گفتگو کرتی ہے؟ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں قرآن کے لیے جو لفظ ’’گویا‘‘ (گفتگو کرنے والا) استعمال کیا ہے شاید اس کا تصور انہوں نے یہیں سے لیا ہو: ؎
مثل حق پنہاں وہم پیدا ست ایں
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!
یعنی حق تعالیٰ کی مانند یہ کلام پوشیدہ بھی ہے‘ظاہر بھی ہے اور زندہ و پائندہ بھی۔ دوسری بہت سی صفات کے علاوہ اِس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کے ساتھ ہم کلام ہوتی ہے اور اُس سے گفتگو کرتی ہے۔
درس حدیث
دنیا کا غم
عَنْ اَنَسِ بِنْ مَالِکِ ؓ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ :((مَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃُ ھَمَّہٗ جَعَلَ اللہُ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہِ وَجَمَعَ لَہُ شَمْلَہُ وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ھَمَّہٗ جَعَلَ اللہُ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَفَرَّقَ عَلَیْہِ شَمْلَہٗ وَلَمْ یَأْتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَاقُدِّرَلَہٗ))(رواہ الترمذی)
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جسے سب سے زیادہ فکر آخرت کی ہو اللہ تعالیٰ اُس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور اُس کے اُلجھے ہوئے کاموں کو سُلجھا کر اُس کے دل کو تسکین دیتا ہے اور دنیا اُس کے پاس ذلیل و خوار ہو کر آتی ہے (یعنی دنیا کا مال و متاع جو اُس کی قسمت میں لکھا ہے بغیر کسی شدید مشقت کے آسانی سے اُس کے پاس پہنچ جاتا ہے )۔اور جو شخص دنیا کے عیش پر مرمٹنے کا فیصلہ کر چکا ہو ، اللہ تعالیٰ اُس پر محتاجی کو مسلط کر دیتا ہے (یعنی وہ محسوس کرتا ہے کہ میں لوگوں کا محتاج ہوں) اور اللہ تعالیٰ اُس کے سلجھے ہوئے معاملات کو پراگندہ کر کے اُلجھا دیتا ہے( اِس لیے وہ سکونِ قلب کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے) اور دُنیا کا رزق (زیادہ نہیں بلکہ) اُسے صرف اتنا ہی ملتا ہے، جتنا اُس کے مقدر میں ہوتا ہے۔ ‘‘