اداریہ
رضاء الحق
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر!
سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 28 اپریل 2022ء بمطابق 26 رمضان المبارک 1443ھ کو جاری کیا گیا تھا۔ شمسی سالِ نو کا پہلا شمارہ جب قارئین تک پہنچے گا تو اُس معرکۃ الآرا فیصلہ کو آئےہوئے1350 دن یعنی ساڑھے تین برس سےزائد کا عرصہ گزر چکا ہو گا۔ اس دوران کئی حکومتی ، نجی بنکوں اور افراد نے اِس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ انتہائی دکھ اور المیہ کی بات ہے کہ کسی دوسری عدالت کا فیصلہ جب اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو حکمِ امتناعی (Stay Order) لینے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد حکم امتناعی جاری ہوتا ہے لیکن آئین و قانون کی موشگافیوں نے فیڈرل شریعت کورٹ کو ایسا یتیم وبےکس بنا دیا ہے کہ اُس کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی لینے کے لیے محض سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا کافی ہے۔ نہ کسی حکم نامہ کی حاجت اور نہ عدالتی کارروائی کی ضرورت۔حقیقت یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فاضل جج صاحبان کی وقعت ہر لحاظ سے ہائی کورٹ کے ججوں سے بھی کم تر ہے۔ 27ویں ترمیم کے تحت آئینی عدالت قائم کرنی تھی تو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت ہی نظر آئی۔ کیا اسلام آباد میں جگہ اور عمارتوں کی کمی تھی؟ ہم جنس پرستی اور جنسی بےراہ روی کا راستہ کھولنے والے ٹرانس جینڈر قانون کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک جاری ہے ۔
پھر یہ کہ صوبہ سندھ میں تو 2013ء سے ہی قانون سازی کی جا چکی تھی کہ 18 سال سے کم عمر کے مرد و زن کو نکاح کی اجازت نہیں، وفاقی دارالحکومت میں 2025ء میں اِسی نوعیت کا قانون نافذ العمل کر دیا گیا اور پھر 2025ء میں ہی بلوچستان اسمبلی نے بھی اِس متنازع بلکہ غیر شرعی قانون کو صوبے میں نافذ کر دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ بعض مقدمات میں بلوغت کی عمر 18 برس قرار دے چکی ہیں! اِس غیر فطری قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں، جن میں دولہا، دلہن، اُن کے والدین، نکاح خواں اور نکاح رجسٹرار سمیت اِس پاکیزہ محفل میں موجود سب ہی افراد کو سزا، جرمانہ یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گویا گناہ کے تمام ذرائع کھولنے کی سرکاری سطح پر بھرپور کوشش جاری ہے۔ دینی مدارس پر طرح طرح کی قدغنیں لگا کر اُن کی جڑیں کمزور کرنے کی کوشش جاری ہے۔ حافظِ قرآن اعلیٰ ترین عسکری عہدےدار کا معاملے میں دلچسپی لینا اور مدارس کو مطعون کرنا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ سوشل میڈیا پر بدترین توہینِ رسالت و توہینِ دینی مقدسات کے مجرموں کے خلاف ناقابل تردید شواہد کی موجودگی کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کا راولپنڈی بینچ ملعونوں کو ’باعزت بری‘ کر دیتا ہے۔ گویا ان مجرموں کی بریت نے باقی 400 سے زائد ملزموں کو ایسے مقدموں سے ’’خلاصی‘‘ کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ آسیہ مسیح اور بابا شکورا قادیانی کے کیس سب کے سامنے ہیں، لہٰذا دیوار پر لکھے کو ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔
ہائبرڈ نظام میں گویا اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت میں شرعی تقاضوں کے مطابق قانون سازی کرنا شاید ہدف ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اُڑا کر آئےدن نت نئے قانون بنائے جا رہے ہیں۔ پھر یہ کہ جب ایسے غیر اسلامی قوانین کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے کہ انہیں کالعدم قرار دیا جائے تو نہ صرف ریاستی مشینری اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اُس کے مدعین کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اُن کا میڈیا ٹرائل بھی کیا جاتا ہے، بلکہ آئین و قانون میں موجود چوردروازوں (Loop Holes) کو استعمال کرتے ہوئے معاملہ کو سالوں تک لٹکا دیا جاتا ہے۔ گویا اس فرسودہ نظام کو جب تک تلپٹ کرکے ایک متبادل نظام رائج نہیں کیا جاتا، کسی خیر کی توقع کرنا دیوانے کا خواب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان نے دوسرے جانداروں کی طرح صرف اپنے جسم کو محفوظ ہی نہیں رکھنا ہوتا بلکہ اُس کے نفس کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ اِس کا بناؤ سنگھار بھی کرو، اِسے ہر ممکن طریقے سے آرام اور آسائش پہنچاؤ، اِسے نہ صرف موسم کی شدت سے بچاؤ بلکہ موسم ہی کو اُلٹ پُلٹ کر دو۔ گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاؤ اور سردیوں میں ماحول ہی گرم کر دو، سفر کو حضربنا دو، رفتار ایسی تیز ہو جیسے وہ ہواؤں کے دوش ہو اور ایسا آرام دہ ہو جیسے گھر کا بیڈ روم ۔علیٰ ہٰذا الْقِیاس۔ لہٰذا انسانوں کی عظیم اکثریت کا فوکس تن آسانی اور عیش و عشرت پر ہوتا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ دو متضاد تقاضوں کو پورا کیا جاسکے، لہٰذا اِن تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ،پھر انسانوں میں اس اکثریت کا وہی حال ہوتا ہے جسے ہم ضمیر کا مرنا قرار دیتے ہیں اور جسم کے تقاضے ایسے غالب آتے ہیں کہ انسان کی روح دب جاتی ہے اور زندگی محض متاعِ دنیا کی اسیر بن کر رہ جاتی ہے جس کے پاس جتنے زیادہ وسائل ہوں گے وہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ رنگین اور پُرتعیش بنا سکے گا لیکن دولت کے بڑے انبار اور بیش بہا وسائل جائز پر اکتفا کر کے عدل و قسط پر مبنی قواعد و ضوابط کی پابندی سے اور دوسرے انسانوں کے حقوق پر ہاتھ صاف کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا انسان نے غور و فکر سے منافع کمانے کا محفوظ ترین طریقہ یہ ڈھونڈا کہ زر سے زر کمایا جائے اِس لیے کہ تجارت میں بہرحال نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ پھر یہ کہ کسی قسم کی محنت اور مشقت کی ضرورت نہیں رہتی، گھر بیٹھے سرمائے میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے اِسے ربا یا سود قرار دیا ہے،جو شریعت موسوی میں بھی ناجائز اور حرام تھا اور شریعت عیسوی میں بھی۔ اسلام میں عقائد کے حوالے سے جہاں شرک بدترین گناہ ہے وہاں سود خوری عملی طو رپربدترین گناہ ہے۔ طلوعِ اسلام نے جب سرزمینِ عرب کو روشن کیا تو سودی لین دین عام تھا یہاں تک کہ بڑے نامور اور شریف گھرانے بھی اِس میں ملوث تھے۔ حضورﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں اپنے چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کے سود کے بقیہ کی معافی کا اعلان کیا۔ پھر آخری حکم کے طور پر سورۃ البقرۃ کی آیت278،279 میں سودی لین دین کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا۔ بھلا اِس جنگ میں بھی کبھی فرد، معاشرہ یا قوم کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اللہ رب العزت وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس تنزیل الرحمٰن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اُن کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے 14نومبر1991ء کو ایک مقدس تاریخی فیصلہ دیا جس میں اُنہوں نے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دیا۔ اس فیصلے میں بینک انٹرسٹ اور ربا کو ایک ہی شے قرار دینے کے اتنے قوی دلائل تھے کہ آج تک کوئی ’’دانشور‘‘ اُن کی تردید نہیں کرسکا۔
بہرحال 1447ھ کے آغاز سے ہی مسلم دنیا کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس وقت امت ِمسلمہ (جو بالفعل محض مسلم اکثریت والے ممالک کی حیثیت رکھتی ہے) بدترین ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔ کم ہمتی اور پستی کی یہ حالت اِس قدر واضح اور ظاہر و باہر ہے کہ کسی مفصل خطبہ کی ضرورت نہیں۔ اشارتاً عرض کیے دیتے ہیں کہ غزہ مسلمانوں کو صہیونیوں کے ہاتھوں نسل کُشی، سوڈان میں خانہ جنگی، صومالی لینڈ کا معاملہ، یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا آمنے سامنے آجانا، کشمیر اور روہنگیا مسلمانوں کی حالتِ زار۔بقول علامہ اقبال: ع
’’برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر!‘‘
مملکت ِخداداد پاکستان کی بات کریں تو نظریۂ اسلام پر قائم ہونے والی مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ، جو پون صدی سے اشرافیہ کے قبضہ میں ہے، اپنی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمارے نزدیک ملک کی سمت درست کرنے اور اُسے صحیح رُخ پر ڈالنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کی اصل کی طرف لوٹا جائے۔ یہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کی بقاء اور سلامتی بھی اسلام کو قائم اور نافذ کرکے ملک کو صحیح معنی میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں مضمر ہے۔ ہمارے نزدیک علماء کرام کو حقیقی لیڈر شپ کا کردار ادا کرنا ہوگا کہ وہ عوام کو ساتھ ملا کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اور ملک میں شریعت محمدی ﷺ کے قیام اور نفاذ کے لیے ایک بھرپور تحریک برپا کریں۔
یاد رہے کہ جب 1974ء میں علماء کرام کی رہنمائی میں عوام نے قادیانیوں کے خلاف بھرپور تحریک چلائی تھی تو پارلیمان اُنہیں غیر مسلم قرار دینے پر مجبور ہوگئی تھی۔ حال ہی میں مبارک ثانی قادیانی کیس میں علماء کرام، دینی جماعتوں، وکلاء برادری اور عوام الناس کے دباؤ سے خوف زدہ ہو کر قاضی صاحب اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوگئے اور چند روز قبل ایڈیشنل سیشن جج لالیاں محترمہ عدیلہ الطاف علیانہ صاحبہ نے میرٹ کی بنیاد پر ملعون مبارک ثانی کو 27 سال قید کی سزا سنائی۔ ملک میں اسلامی نظام کے قیام و نفاذ کے لیے بھی ایسی ہی بھرپور تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ملک و ملت کو صحیح راستے پر گامزن کر سکیں۔ بیرونی دشمنوں کو پاش پاش کرنے، دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی عملی مدد کرنے حرمین شریفین اور الاقصیٰ کی حفاظت اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے۔ ایسا کریں گے تو دنیا میں بھی امن و خوشحالی حاصل ہوگی اور آخرت میں اللہ کے حضور کامیاب و کامران ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026