(منبرو محراب) مجلس اتحادِ اُمّت کا اعلامیہ اور نفاذِ اسلام کی تحریک - ابو ابراہیم

10 /

مجلس اتحادِ اُمّت کا اعلامیہ اور نفاذِ اسلام کی تحریک


(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم ِاسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ کے26دسمبر2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

 

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
22دسمبر 2025ء کومجلس اتحادِ اُمت پاکستان کے زیر اہتمام علماء کا ایک مشترکہ مشاورتی علمی اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس کے بعد ملکی مسائل ، حکومتی پالیسیوں اور آئینی معاملات کے حوالے سے پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں اور ان کے علماء کرام کے مشترکہ موقف پر مشتمل ایک 10 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اجلاس میں اس بات کی بھی ترغیب دلائی گئی کہ ملک بھر میں جمعہ کے خطابات میں اس اعلامیہ کے حوالے سے گفتگو کی جائے تاکہ عوام کے سامنے بھی بات آجائے ۔ اسی طرح 23 دسمبر 2025ء کو لاہور میں بھی علماء کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میںسوشل میڈیا پر فحش نوعیت کی بدترین توہین ِرسالت و مقدسات جیسے حساس مسئلے پر گفتگو کی گئی اور ترغیب دلائی گئی کہ جمعہ کے خطابات میں ان مسائل پر عوام کو آگاہی فراہم کی جائے۔ ان دونوں اجلاسوں میں  تنظیم اسلامی کی نمائندگی بھی رہی۔ کراچی والے اجلاس میں ، میں نے خود شرکت کی اور تنظیم اسلامی کی جانب سے ان تمام مسائل پر کچھ گزارشات پیش کیں ۔ 
مجلس اتحاد اُمت کا اعلامیہ 
مجلس اتحادِاُمّت کوئی الگ سیاسی یا دینی جماعت  نہیں ہےبلکہ دینی جماعتوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد ملکی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی امور کے متعلق دینی جماعتوں کے مشترکہ موقف کو عوام کے سامنے لانا ہے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ آج دینی جماعتیں  ایک مشترکہ فورم کی ضرورت و اہمیت کو شدت سے محسوس کر رہی ہیں ۔ آخر کب تک دینی طبقہ تقسیم در تقسیم کا شکار رہے گا؟ تنظیم اسلامی کےمختلف فورمز سے بارہا دینی طبقہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی گئی اور جہاں بھی کسی ایسے مشترکہ فورم پر ہمیں دعوت دی گئی ہم نے وہاں شمولیت بھی اختیار کی ۔ بہرحال حالیہ مشا ورتی علمی اجتماع میں تمام دینی جماعتوں کی اعلیٰ قیادتوں نے شرکت کی اور آخر میں 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا۔اعلامیہ کا پہلا نکتہ نفاذِ شریعت کے حوالے سے ہے ، یہی تنظیم اسلامی کا اولین موقف ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور اس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔آئین میں بھی طے ہے کہ یہاں حاکمیت اعلیٰ  صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف  کوئی قانون سازی نہیں ہوگی۔ مشاورتی اجتماع میں بھی اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ مملکتِخداداد پاکستان میں آئین کی رو سے شریعت ِاسلامیہ کے فوری نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ملک کے حکمرانوں کا فرض ہے کہ اللہ کی شریعت کو اس مملکتِ خداداد میں نافذ کریں۔اسلام ہی وہ واحد چیز ہے جس نے ہمیں جوڑ کر ایک قوم بنایا تھا اور اسلام ہی ہمیں جوڑ کر رکھ سکتاہے ۔ ورنہ ہماری زبانیں ، رنگ، نسل، خطے، برادریاں ،قبیلے سب الگ الگ ہیں ۔ چنانچہ اس ملک کی سالمیت اور استحکام اگر ہمارے حکمرانوں کو مطلوب  ہے تو ان کا اولین کام یہی ہونا چاہیے کہ اسلام کو انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر ملک میں نافذ کریں ۔ دوسرا نکتہ اسی تسلسل میں ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک ریاستی ادارہ ہے اور اس نے نفاذِ شریعت کے حوالے سے اپنا تحقیقی کام مکمل کیا ہوا ہے ۔ آئین اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ اس ادارے کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائے اور آئین اور دستور میں جو شقیں اسلام کے خلاف ہیں انہیں ختم کیا جائے اور نئے قوانین بنائے جائیں جو اسلامی اصولوں  سے مطابقت رکھتے ہوں ۔ یہ وہ مطالبات ہیں جو تنظیم اسلامی شروع دن سے پیش کرتی آئی ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں جب کوئی بل پیش کیا جاتاہے تو ممبرانِ اسمبلی بغیر پڑھے ، سمجھے صرف پارٹی قیادت، حکومت یا کسی’’ تیسری قوت‘‘ کی ہدایت پر ووٹ دیتے ہیں ۔ کبھی ایک سانس میں 33 بل پاس ہو جاتے ہیں ، کبھی اس سے زیادہ بھی ہو جاتے ہیں ، کون پڑھے اور کون دیکھے کہ بل میں لکھا کیا گیاہے ۔ یہ آئین کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے اور بعض اوقات غیر شرعی قوانین پاس کرکے شریعت کے ساتھ بھی کھلواڑ کیا جاتاہے ۔ بہرحال علماء کے 10 نکاتی اعلامیہ کے دوسرے نکتہ میں یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور علماء سے بھی مشاورت کی جائے ۔ اسی کے ذیل میں یہ بات بھی آئی کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ میں مستند علماء کرام کا تقرر عمل میں لایا جائے ۔ وفاقی شرعی عدالت میں کم ازکم تین علماء کا تقرر ہونا چاہیے۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کو فعال کیا جائے اور جو کیسز لٹکے ہوئے ہیں ان پر سماعت شروع کی جائے۔ جیساکہ سود کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 2022ء سے لٹکا ہوا ہے ۔ 
تیسرا نکتہ سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے ہے ۔ 26ویں آئینی ترمیم کے مطابق طے شدہ مدت کے اندر (31دسمبر2027ء تک)ملک سے سودی نظام کے مکمل خاتمے کو یقینی بناناحکومت کی ذِمّہ داری ہے ۔ اس حوالے سے جتنی بھی غیر اسلامی شقیں آئین اور قانون میں موجود ہیں انہیں ختم کیا جائے ۔ مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ۔ اِس کے برعکس اکثر بینکوں کو استثناء دیا جا رہا ہے اور اس کے لیے غیر ملکی شیئر ہولڈنگ کو بہانہ بنایا جارہا ہے ۔ قرآن مجید پر اس طرزعمل پر سخت گرفت کی گئی ہے ۔ فرمایا : {اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج} (البقرۃ:85)
’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟‘‘ 
اللہ تعالیٰ نے جب سود کو حرام قراردے دیا ہے تو پھر بہانے بناکر دین کے ساتھ کھلواڑ کرنا انتہائی افسوسناک ہے ۔ اصل مسئلہ نیت کا فتور ہے ۔ 1991ء میں وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس (مرحوم)ڈاکٹر تنزیل الرحمان نے فیصلہ دیا تھا کہ بینک انٹرسٹ سود ہے ۔ اُن سے پوچھا گیا کہ پاکستان سے سودکا دھندہ ختم ہو سکتاہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا اگر حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہو تو ختم ہو سکتا ہے۔ 
چوتھا نکتہ یہ تھا کہ صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت کسی کو بھی آئینی استثناء حاصل نہیں ہونا چاہیے ۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت صدر مملکت اور آرمی چیف کو جو تاحیات استثناء دیا گیا ہے اُس کو ختم کیا جائے ۔ ہمارے دین میں استثناء کا   کوئی تصور نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اکرم ﷺنے اپنی حیات ِطیبہ کے آخری ایام میں اپنے آپ کو پیش کیا کہ اگر میں نے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو تو مجھ سے بدلہ لے لیں۔ اِسی طرح خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر ؓ جمعہ کے خطبہ کے دوران سوال کیا گیا کہ جو لباس آپ نے پہنا ہے ، یہ کہاں سے آیا ؟ آپ ؄ نے خطبہ روک کر پہلے حساب دیا ۔ خلیفۂ چہارم سیدنا علی ؓ دالت میں پیش ہوئے اور قاضی کے سامنے کھڑے رہے ۔ اُن کے بیٹے اور غلام کی گواہی قبول نہ کی گئی اور فیصلہ اُن کےحریف جو کہ ایک یہودی تھا، کے حق میں آیا ۔ آپؓ نے عدالت کے فیصلے کو قبول کیا ۔ جب اللہ کے رسول ﷺ اور خلفائے راشدین کے لیے استثناء نہیں تھا تو صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل کی کیا حیثیت ہے ؟ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے ۔ کسی بھی شخص کو قانونی استثناء دینا قرآن و سنت کے منافی ہے ۔ 
علماء کے مشترکہ اعلامیہ میں پانچواں نکتہ یہ تھا کہ 18سال سے کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر پابندی کا جو قانون بنایا گیا ہے ، یہ غیر شرعی ہے ، اس کو ختم کیا جائے ۔ اس غیر شرعی قانون میںایک طرف 18 سال سے کم عمر کی شادی کو ناجائز کہا گیا ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں اگر بچہ پیدا ہو جائے تو اس کی کفالت کی ذمہ داری مرد پر ہوگی ۔ یعنی مسئلہ صرف نکاح سے ہے ۔ اس طرح کے غیر شرعی قوانین بنا کر دین اسلام کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ اس قانون کے خلاف عدالتی کارروائی بھی چل رہی ہے ۔ 
اعلامیہ کا چھٹا نکتہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے ہے۔ 2018ءمیںساری سیاسی جماعتوں نے اس کو پاس کر دیا تھا۔صرف جماعت اسلامی اور جمعیت علماء  اسلام کی جانب سے چند آوازیں اس کے خلاف اُٹھی تھیں ۔ بعد میں دیگر سیاسی جماعتوں کے کچھ لوگوں کو احساس ہوا کہ بہت بڑا بلنڈر ہو گیا ہے ۔ قانون یہ تھا کہ اگر کوئی مرد کہے کہ میں مرد نہیں بلکہ عورت ہوں تو اس کو قانونی طور پر عورت ہی قرار دیا جائے گا اور کوئی عورت کہے کہ میں عورت نہیں بلکہ مرد ہوں تو اُس کو مرد قرار دیا جائے ۔ اس طرح ہم جنس پرستی کے شیطانی ایجنڈے کو پروموٹ کیا گیا ۔ اس پر بعد میں دینی جماعتوں نے بھی آواز اُٹھائی کہ اگر کوئی پیدائشی طور پر خنثیٰ ہے تو اس کو حقوق ملنے چاہئیں لیکن ہم جنس پرستی کا راستہ کھولنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مجلس اتحاد اُمت کے اعلامیہ میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس قانون کو ختم کیا جائے ۔ 
ساتواں نکتہ دہشت گردی کے حوالے سے ہے ۔   اس میں یہنکتہ بھی بیان ہوا کہ ایک ملک جو خود کو اسلامی جمہوریہ قرارد یتا ہے وہاں معاشرے کی اصلاح کے لیے یا حکومت سے کوئی مطالبہ منوانے کے لیے اگر کوئی اسلحہ اُٹھالے تو یہ شرعاً درست نہیں ہے۔
آٹھواں نکتہ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ہے ۔ لکھا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خطرات کوختم کرنے کے لیے مذاکرات ہونے چاہئیں ۔ غلطیاں  دونوں طرف سے ہو سکتی ہیں مگر ان کو دہرانا عقل مندی نہیں ہے ۔ حکمت اسی میں ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر افہام اور تفہیم کا راستہ اختیا رکیا جائے ۔ اعلامیہ میں یہ بات بھی کی گئی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے ۔ افغانستان کے ایک ہزار علماء بھی یہی بات کہہ چکے ہیں ۔ حکومت ِپاکستان بھی امریکہ کی غلام نہ بنے بلکہ برادر اسلامی ملک کی حیثیت سے اپنے تعلقات ہمسایہ مسلم ممالک سے قائم کرے ۔ کچھ عرصہ پہلے پشاور میں بھی تمام مکاتب فکر کے علماء اور دینی و سیاسی جماعتوں کا ایک مشترکہ اجتماع ہوا تھا ، اس میں بھی یہی طے ہوا تھا کہ پاک افغان تعلقات کو مذاکرات کے ذریعے بحال کرنا چاہیے ۔ فوج کے ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداران کا بھی یہی موقف ہے ۔ تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ یہ یاددہانی کروائی گئی ہے کہ احادیث میں جس خراسان کا ذکر ہے وہ افغانستان اور شمالی پاکستان کا علاقہ ہے ، یہاں سے اسلامی لشکر حضرت مہدیؒ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی نصرت کے لیے جائے گا۔لہٰذا اس علاقے میں بجائے اس کے کہ مسلمان مسلمان کا خون بہائے ، سب متحد ہو کر مستقبل کی تیاری کریں ۔
  9واں نکتہ مدارس کے حوالے سے ہے ۔ لکھا ہے کہ آج کا یہ تمام مکاتبِ فکر کا نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس و جامعات کے ساتھ کیے گئے میثاق اور اس کی بنیاد پر نافذ ہونے والے قانون پر لفظاً و معناً عمل کیا جائے اور اس میں نت نئی رکاوٹیں نہ پیدا کی جائیں۔ مدارس کا اپنا نصاب ہے لیکن حکومت اس کو قبول نہیں کرنا چاہتی ۔ مدارس اپنے اکاؤنٹس کھولنا چاہتے ہیں وہاں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں ۔ حکومتی اداروں کے اپنے بعض اعداد و شمار کے مطابق تقریباً تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر بیٹھے ہیں، ریاست و حکومت ان کی تعلیم کا انتظام کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں دینی مدارس و جامعات کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ یہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ کفالت کا بھی انتظام کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ان اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ ادارے انہی علاقوں سے، جہاں آج شورش ہے، قوم کے بچوں کو لا کر پاکستان کے محبِ وطن شہری اور اچھے مسلمان بناتے ہیں، شرحِ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں یہ کہا گیا کہ  مدارس کی رجسٹریشن کو آسان بنایا جائے۔
اعلامیہ کا آخری اور دسواں نکتہ یہ تھا کہ حماس کو  غیر مسلح کرنے کے لیے پاکستانی فوج کو ہرگز نہ بھیجا جائے ۔ امریکہ کی طرف سے حماس سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک سے افواج بھیجنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔یہ اسرائیل کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہو گا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ مسلم ممالک کی افواج کو فلسطین کی آزادی ، مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے لڑنا چاہیے نہ کہ اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے ۔ لہٰذا پاکستان کو کسی بھی ایسے عمل میں حصہ نہیں لینا چاہیے جس سے اسرائیل کو تقویت ملتی ہو ۔ 
اسی طرح 23دسمبر کو لاہور میں تمام مکاتب فکر کے علماء کا ایک مشترکہ اجتماع ہوا ۔ اس میں بھی کئی نوعیت کے معاشرتی مسائل پر گفتگو کی گئی ۔ ان میں سے ایک نہایت ہی سنگین مسئلہ پورنو گرافک بلاس فیمی کا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جو بے حیائی اور فحاشی پھیل رہی ہے اس کو اب توہین مذہب ، توہین رسالت اور توہین صحابہ و صحابیات ؓ کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہ شیطانی کھیل جہاں ہماری نسلوں کے ایمان اور روح کو برباد کر رہا ہے وہیں ا س نے معاشرے کو بھی تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ حکومت اور ریاستی اداروں کو اِس حوالے سے اپنا ذِمّہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔ آج اگر کسی جرنیل یا سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے خلاف کوئی گستاخی کر دے تو راتوں رات اُ س کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو جاتاہے ، اگر اللہ تعالیٰ ، اللہ کے رسول ﷺ ،  اللہ کی کتاب ، صحابہ کرام اور اُمہات المومنینؓ کے خلاف اِس قدر سنگین گستاخیاں ہو رہی ہوں تو کیا گستاخوں کو سزا نہیں ملنی چاہیے ؟ ریاستی اداروں نے ایسے کئی گستاخوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ، سارے ثبوت موجود ہیں جن کو دیکھتے ہوئے ، ججز اور وکلاء کی بھی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ یہ کس قسم کے شیطانی کام ہمارے ملک میں ہور ہے ہیں ۔ لیکن لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ایسےپانچ سنگین مجرموں کو رہا کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کسی ملعون کو پاکستان سے بھگانا ہو تو راتوں رات سپریم کورٹ اور ہماری حکومت حرکت میں آ جاتی ہے،کیا قرآن پاک کی کوئی عزت ہمارے دلوں میں نہیں رہ گئی ؟پیغمبر ﷺکا کوئی تقدس ہمارے دلوں میں نہیں رہ گیا؟کیا ہماری غیرت مرچکی ہے؟ایسے حالات میں جبکہ قرآن پاک کی بے حرمتی کی جارہی ہو تو حکمرانوں کو نیند کیسے آجاتی ہے؟ روزِ محشر اللہ کو کیا جواب دیں گے ؟ اللہ کے رسول ﷺ سے کس منہ سے شفاعت کے طلب گار ہوں گے ؟ اس ضمن میں والدین سے بھی خصوصی اپیل کی گئی کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کس طور پر کر رہے ہیں ۔ 
اِس آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ کہا گیا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون 295 سی کے دفاع میں مضبوط تحریک شروع کی جائے گی ۔ توہین مذہب اور توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔ اِس کے علاوہ خطبات جمعہ میں بھی عوام کو اِس مسئلہ کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے گا ۔ اعلامیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان لوگوں کی تحسین کی گئی جنہوں نے گستاخوں کو پکڑا ، سارے شواہد اور ثبوت اکٹھے کیے ۔ لیکن عدالتوں نے ایسے مجرموں کو رہا کر کے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ صدر مملکت ، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جو حافظ قرآن بھی ہیں ، کیا اس معاملے پرنوٹس نہیں لیں گے ؟اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ کس قسم کے کام ہو رہے ہیں ؟
آخر میں ہم یہ کہیں گے کہ مجلس اتحادِ اُمّت کے عنوان سے کراچی میں علماء کا جو فورم قائم ہوا اور اسی طرح لاہور میں جو اجتماع ہوا ہے ، ان کوششوں کو جاری رہنا چاہیے ۔ ایسے فورمز ہوں گے تو امت کی رہنمائی بھی ہوگی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد کو بھی تقویت ملے گی ، خطبات جمعہ کے ذریعے لوگوں کو اہم دینی ، سیاسی اور ملکی امور کے متعلق آگاہی بھی ملتی رہے گی ۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا شریعت اپیلٹ بنچ فعال نہیں ہورہا ، علماء کے مشترکہ فورم کو اس حوالے سے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے ، وفاقی شرعی عدالت میں علماء کے تقرر کے لیے بھی کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔  جہاں تک دہشت گردی اور مسلح گروہوں کا تعلق ہے کہ اس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ منہج انقلاب نبوی ﷺ کی روشنی میں برسوں  سے یہ نکتہ بیان کرتے رہے کہ جہاں مسلمانوں کا معاشرہ ہو وہاں نفاذِ دین کے لیے اسلحہ اُٹھانا جائز نہیں ہے ۔ علماء بھی جانتے ہیں کہ خروج کی اپنی شرائط ہوتی ہیں اور وہ شرائط ہمارے معاشرے میں پوری نہیں ہوتیں ۔ لہٰذا کسی بھی قسم کی مسلح جدوجہد حرام ہوگی ۔ 
دوسری طرف ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی حکومت کو حقیقی معنوں   میں اسلامی حکومت بنانے کی کوشش کریں ۔ حکمران خود بھی غور کریں اور مفتیان کرام بھی حکومت کو بتائیں کہ اسلامی حکومت کیا ہوتی ہے ۔ کیا کسی اسلامی حکومت میں سود کا دھندہ سر ِعام چل سکتاہے ؟ بے حیائی کا لائسنس ملتا ہے؟ شراب کے لائسنس مل سکتے ہیں؟ وہاں شریعت کے خلاف قانون سازی ہوتی ہے؟ عدل کے تقاضوں کو پامال کیا جاتا ہے؟ وہاں مسلمانوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کو زیادہ حقوق دیئے جاتے ہیں؟اِن سب چیزوں کو مدنظر رکھیں تو پتا چلے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔لہٰذا اگر پاکستان میں اسلامی حکومت نہیں ہے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اسلامی حکومت کے قیام کے لیےپُرامن جدوجہد کریں۔
ہم دوبارہ اِس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ مسلح جدوجہد کی گنجائش ہرگز نہیں اور ایسا کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ یہ دہشت گردی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے ۔  ڈاکٹراسراراحمدؒ  یہ کہتے کہتے دنیا سے چلے گئے ۔ اُن کا کہنا تھا نفاذ اسلام کے لیے پُرامن ، منظم اور غیر مسلح تحریک چلنی چاہیے ۔ الحمدللہ آج علماء بھی یہی بات کہہ رہے ہیں ۔ مجلس اتحادِ اُمّت کے پلیٹ فارم سے بھی علماء نے یہی مطالبہ کیا ۔ 14 اپریل 2010ء کوجب ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا انتقال ہوا تو اس دوران لاہور میں مکتبہ دیوبند کے250 علماء کا  ایک اجلاس منعقد ہوا اور اس میں بھی یہی کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کا اصل حل یہ ہے کہ پُرامن اور غیر مسلح تحریک کے ذریعے نفاذ اسلام کی جدوجہد کی جائے ۔  یہ اصل میں ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی محنت کی قبولیت تھی ۔ یہی بات 2018ء میں مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی کی کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے پُرامن تحریک چلائی جانی چاہیے۔ یہی تنظیم اسلامی کا موقف ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام دینی جماعتوں کو عملی طور پر نفاذِ اسلام کے لیے پُرامن اور منظم تحریک کا حصہ بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !