اسرائیل ناجائز صہیونی ریاست ہے اور ٹرمپ صہیونیوں کا غلام ہے ۔
لہٰذا ان کے کسی معاہدے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا :رضاء الحق
کسی پاکستانی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے لڑے، لہٰذا
پاکستان کو غزہ میں اپنی فوج نہیں بھیجنی چاہیے : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
حماس اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہی ہے جبکہ اسرائیل اور اس کے
اتحادی دنیا کے امن کے لیے اصل خطرہ ہیں : ڈاکٹر محمد عارف صدیقی
’’عالم اسلام کے خلاف کفار کی یلغاراور اس کا حل ‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
سوال:فلوریڈا میںڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی دھمکی دی گئی ہے لیکن جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے 400سے زائد فلسطینی مسلمانوں کی شہادت ، جن میں ابو عبیدہ بھی شامل ہیں ،پر ایک جملہ بھی نہیں بولا گیا۔ کیا ایسے طرزعمل سے خطے میں امن قائم ہو سکے گا ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: ٹرمپ اور نیتن یاہو میں کوئی فرق نہیں ہے ، وہ بس ایک دوسرے کے ترجمان ہیں ۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو کلین چٹ دے رکھی ہے کہ وہ معاہدے پر 100 فیصد عمل درآمد کر رہا ہے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ معاہدے کے باجود اسرائیل نے 414 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اہل ِغزہ پر بمباری نہیں ہوتی ۔ یہاں تک کہ غزہ کے جو لوگ قطاروں میں لگ کر خوراک حاصل کرتے ہیں ان پر بھی گولیاں برسائی جاتی ہیں ، رہائشی خیموں پر بمباری کرکے نہتے مسلمان بچوں اور عورتوں کوشہید کیا جاتاہے ۔ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ اسرائیل خوراک اورامدادی سامان کو نہیں روکے گا لیکن اسرائیل نے تمام راستے بند کرکے قحط جیسی صورت حال پیدا کردی ہے اور غذائی قلت کی وجہ سے روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں ۔ شدید سردی اور بارش کی وجہ سے یہ شہادتیں مزید بڑھ رہی ہیں ۔ اس وحشیانہ انسانی المیہ پر نہ تو اقوام متحدہ کے ادارے کچھ کہہ رہے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کی کوئی تنظیم آواز اُٹھا رہی ہے ۔ ٹرمپ روز بیان دے رہا ہوتاہے کہ میںنے 8 جنگیں رکوادیں اورہمارے حکمران بھی اُس کو نوبل انعام دلوانے کے لیے بے تاب تھے لیکن عملی طور پر صورت حال یہ ہےکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاہونا تھا جو ابھی تک نہیں ہوا ۔ فلسطین کی ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہونی تھی لیکن ابھی تک نہیں ہوئی ،فلسطینی ریاست کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس کی طرف ایک قدم آگے نہیں بڑھا ۔ رفع بارڈر ابھی تک نہیں کھولا گیا۔ یہ سب چیزیں معاہدے میں شامل تھیں ۔ ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا ۔ صرف حماس کو غیر مسلح کرنے پر زور دیا جارہا ہے ۔ یعنی ٹرمپ کچھ نہیں کر رہا سوائے اس کے کہ اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ حالانکہ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر کے دنیا کو بتادیا کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں ۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ایک مفروضہ قائم کر لیا ہے کہ حماس دہشت گرد ہے اور وہ حکومت نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ حماس نے 2007ء میں عوام سے ووٹ لے کر ثابت کردیا کہ وہ حکومت کر سکتے ہیں۔ عوام اب بھی اُن کے ساتھ ہیں ، اس قدر اسرائیلی مظالم کے باوجود بھی عوام نے حماس کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ دنیا بھر میں حماس کی حمایت میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔جبکہ اسرائیل کے خلاف نفرت پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں اسرائیل کے خلاف پروگرامز ہو رہے ہیں ۔ اس سب کے باجود ٹرمپ ڈھٹائی کے ساتھ نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ اصل المیہ تو مسلم حکمرانوں کا ہے ۔ اگر مسلم حکمران یہ سمجھتے کہ مسجد ِاقصیٰ اور فلسطین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے اہل ِغزہ نے اس قدر عظیم قربانیاں دی ہیں تو امریکہ یا یورپی ممالک کے لیے بیچ میں آنے کی گنجائش ہی پیدا نہ ہوتی ۔ لیکن مسلم حکمرانوں نے امریکہ اور اسرائیل سے خوفزدہ ہوکر مختلف موقف اپنایا اور اس وجہ سےصورت حال مختلف ہوگئی ۔
رضاء الحق:اسرائیل نا جائز صہیونی ریاست ہے اور ٹرمپ صہیونیوں کا غلام ہے ۔ لہٰذا ان کے کسی معاہدے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی یاد رہے کہ دینی تعلیمات کی روشنی میں اور قائداعظم کے پالیسی بیان کے مطابق ریاست صرف ایک ہو گی اور وہ فلسطین کے مسلمانوں کی ہو گی۔ آپ دیکھئے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود انہوں نے القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کو شہید کردیا ، رفع بریگیڈ کے کئی اہم عہدیداروں کو بھی شہید کردیا ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو اہل ِغزہ کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے اور دوسری طرف وہ مسلم ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے ۔ کونسل آف فارن ریلیشنزکا ایک تحقیقی ادارہ پی پی ایس ہے ، اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2026ء جنگوں کا سال ہوگا اور مشرق وسطیٰ میں علاقائی جنگیں ختم نہیں ہوں گی ۔ یعنی ایک طرف وہ جنگوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور دوسری طرف حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں ۔
سوال:ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایران کو بھی دھمکی دی گئی ہےکہ اگر اس نے جوہری اور میزائل پروگرام کو جاری رکھا تو ہم کارروائی کرنے کے لیے بی ٹو بمبار طیارے استعمال کریں گے ۔ کیا اس دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں اسرائیل اور امریکہ کی ساکھ بہت متاثر ہورہی ہے ، حتیٰ کہ اسرائیل اپنی سپورٹس ٹیمیں بھی یورپ اور امریکہ میں نہیں بھیج سکتا ۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں ان کی جو ساکھ بنی ہوئی تھی کہ وہ سپریم پاور ہیں وغیرہ وغیرہ اُس کو حماس نے خاک میں ملا دیا ہے ۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے لیےاپنی ساکھ کو بچانا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ اس لیے اب ان کا طرزعمل کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسا بن گیا ہے کہ کبھی ایران کو دھمکی دیتے ہیں ، کبھی قطر پر حملہ کرتے ہیں اور کبھی کچھ کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کی ساکھ بچ جائے ۔ امریکہ کے نزدیک اسرائیلی ریاست کا قیام ہر حال میں قائم رکھنا، ان کی بالا دستی کو عرب خطے میں برقرار رکھنا اور اسرائیل کے لیے سپورٹ مہیا کرناہی امن ہے۔اس کے برعکس فلسطینیوں کا اپنے حقوق اور آزادی کے لیے لڑنا، اسرائیل کے قیام کو چیلنج کرنا دہشت گردی ہے ۔ اپنے اسی تصور کی بنیاد پر وہ حماس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ایران کو بھی سزا دینا چاہتے ہیں ۔ دراصل طاقت کا کوئی قانون نہیں ہوتا ۔ تمام تر اخلاقی ضابطے طاقت کے آگے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر اخلاقی ضابطوں کے مطابق دیکھا جائے تو دنیا کے امن کے لیے اصل خطرہ اسرائیل ہے ۔ اسرائیلی ہی ہے جو امریکہ کو بھی انگلیوں پر نچا رہا ہے اور دنیا بھر میں جنگوں میں جھونک رہا ہے ۔ اسرائیل نے خود کسی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کر رکھےاور وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی دے چکا ہے ، اس پر پوری دنیا کے ممالک خاموش ہیں ۔ ایران اگر اپنے دفاع کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے یا میزائل بنا رہا ہے ، اس پر امریکہ اور یورپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے ؟اگر عالم اسلام مغرب کے اس دہرے معیار کو پہچان لے اور امریکہ اور اسرائیل کو اپنا ملجااور ماویٰ ماننا چھوڑ دے تو شاید صورت حال بدل سکتی ہے ۔
سوال: ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے کے تحت کہا جارہا ہے کہ فلسطین میں استحکام فورس قائم کی جائے گی جس میں شمولیت کے لیے پاکستان نے بھی حامی بھری ہے ۔ اب پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لیے جائیں گے ۔ پاکستان کے حالیہ موقف سے کیا تاثر ملتاہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: پاکستا نی وزیر خارجہ نے ٹھیک کہا ہے ۔ ہمیں حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل میں حصّہ نہیں لینا چاہیے ۔ اب تو خود اسرائیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ترکی کی افواج کو غزہ میں قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہیں معلوم ہے کہ ترک اور پاکستانی افواج کسی صورت اسرائیل کا ساتھ نہیں دیں گی بلکہ وہ فلسطینیوں کی حفاظت کریں گی ۔ میں چاہتا ہوں کہ پاکستانی افواج وہاں جائیں ، کیونکہ وہاں جاکر آپ وہ کچھ کر سکتے ہیں جو یہاں بیٹھ کر نہیں کر سکے ۔ نائن الیون کے بعد بظاہر سب کو ایسا لگتا تھا کہ پاک فوج نے امریکہ کا ساتھ دیا ہے لیکن اصل حقیقت امریکی بھی جانتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے جاتے وقت امریکہ نے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا کہ اس کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی ہے ۔
رضاء الحق:پاکستان کو کسی پیس کیپنگ فورس کا حصّہ نہیں بننا چاہیے ۔ایک اصولی وجہ تو یہ ہے کہ اِسی ٹاسک فورس کا مینڈیٹ ابھی تک طے نہیں ہوا۔ کیا پاکستان فوج اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کو برداشت کرے گی یاٹاسک فورس کا حصّہ ہوتے ہوئے جوابی کارروائی بھی کرے گی؟ لبنان میں بھی پیس کیپنگ فورس بنائی گئی لیکن آج تک جب بھی اسرائیل لبنان پر بمباری کرتاہے تو پیس کیپنگ فورس کچھ بھی نہیں کر پاتی ۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیل اب تک بمباری کررہا ہے ، لوگوں کو شہید کر رہا ہے ، نسل کشی کر رہا ہے۔ کیا کوئی پیس کیپنگ فورس اسرائیل کو روک پائے گی ؟پاکستان اور ترکی کی افواج کو اسرائیل شاید اسی لیے قبول نہیں کر رہا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو برداشت نہ کریں ۔
سوال:سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو کشیدگی پائی جاتی تھی، اب وہ باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اصل محرکات کیا ہیں ؟
رضاء الحق: بدقسمتی سے ایک ایسے وقت میں جب مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیے تھا ، وہ آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ یمن میں خانہ جنگی 2015ء میں شروع ہوئی تھی ۔ حوثی باغیوں کو ایران سپورٹ کر رہا تھا جبکہ ان کے مخالف گروہوں کو سعودی عرب کی سرکردگی میں جی سی سی ممالک کی مدد حاصل تھی ۔ متحدہ عرب امارات بھی سعودی عرب کا اتحادی تھا ۔ شنید ہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے دو جہاز یمن کی طرف اسلحہ لے کر جارہے تھے کہ سعودی عرب نے ان پر بمباری کر دی ۔ یہاں سے کشیدگی مزید بڑھ گئی اور اب متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ اتحاد سے علیحدگی اختیار کرے گا۔ اس وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات بھی بگڑ رہے ہیں ۔ جب تک اسی طرح کی پراکسی وارز ختم نہیں ہوں گی مسلم ممالک کے مابین اتحاد قائم ہونا ناممکن دکھائی دیتاہے ۔
سوال: پراکسی وارز کا جب تک خاتمہ نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔جس طرح سعودی عرب اور ایران یمن میں اپنی اپنی پراکسیز کو سپورٹ کر رہے ہیں ، اسی طرح اسرائیل بھی شام میں ایک گروہ کی مدد کررہا ہے ۔ ان حالات میں آپ کیا اقدامات تجویز کرتے ہیں کہ مسلم ممالک مل بیٹھ کر مسائل حل کریں اور اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہو جائیں ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:یہ کسی ایک خطے کی بات نہیں ہے بلکہ پورے عالم اسلام کو آپس میں متحد ہونا چاہیے ۔ بدقسمتی سے عملی طور پر اس کے برعکس ہو رہا ہےاور وہ بدقسمتی یہ ہے جو اقبال نے بیان فرمائی ؎
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں ، خدا سے نو امیدی
مجھے بتا تو سہی، اور کافری کیا ہے
ہم خدا پر بھروسا کرنے ، خدا کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنانے کی بجائے اغیار کے بنائے ہوئے منصوبوں اور پالیسیوں پر بھروسا کرتے ہیں ۔ اس وقت جو صورت حال ہے ،ا س کو دیکھتے ہوئے تمام مسلم ممالک کو فلسطین کو اپنا مشترکہ دارالحکومت قرار دینا چاہیے۔ ہر مسلم ملک کی پارلیمنٹ ، کابینہ یہ فیصلہ دے کہ بیت المقدس ، مسجد اقصیٰ ہمارا قومی اور ملی اثاثہ ہیں اور ہم ان کی حفاظت کریں گے۔فلسطین مسلم ریاست ہے تو اس کا دفاع کرنا، غزہ کے زخمیوں کا علاج کرنا ، خوراک مہیا کرنا ، بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیا ت مہیا کرنا مسلمانوں کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے ؟کیوں اغیار پر بھروسا کرتے ہیں ؟کیوں اغیار کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں ؟ اس بنیادی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم ممالک آپس میںمشترکہ دفاعی ، تعلیمی اور معاشی معاہدے کریں ۔ غیر مسلم ممالک پر انحصار کرنے کی بجائے آپس میں روابط اور تجارت بڑھائیں ، ایک مشترکہ معاشی منڈی بنائی جائے اور اسرائیل کا بائیکاٹ مسلسل جاری رکھا جائے ۔ ون کرنسی اور ون ویزا کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے ۔ اگر یہ اقدامات ہوں گے تو عالم اسلام دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو سکے گا ۔
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:جب رابطہ عالم اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس وقت مولانا مودودیؒ نے یہی تجویز دی تھی کہ مسلم ممالک کا اپنا مشترکہ عسکری اور معاشی فورم ہونا چاہیے ۔
سوال:پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے ۔ اگر صورت حال جنگ کی طرف بڑھتی ہے تو کیا پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا ؟
رضاء الحق: یہ معاہدہ بائنڈنگ نہیں ہے ۔طے یہ ہوا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا ۔ مگر اس نے ابھی Pactکی شکل اختیار نہیں کی ۔ لہٰذا ضروری نہیں ہے کہ جنگ کی صورت میں وہ ایک دوسرے کو سپورٹ کریں ۔ بہرحال ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ معاہدے کی شکل اختیار کرے اور دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوں ۔ تاہم متحدہ عرب امارات کے حوالے سے کافی تحفظات ہیں ، اس کے بہت سے ایسے اقدامات ہیں جو عالم اسلام کے اجتماعی مفاد کے خلاف ہیں اوراسرائیل کے ساتھ اُس کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
سوال: اسرائیل نے خطے میں ایک بدمعاشی یہ کی ہے کہ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو الگ ریاست تسلیم کرلیا ہے ۔ اس کا یہ اقدام کیا معنی رکھتا ہے اور اس اقدام کی وجہ سے کیا عالمی امن خطرے میں نہیں پڑے گا ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:قدر مشترک تو یہ ہے کہ اسرائیل بھی ناجائز ریاست ہے اورصومالی لینڈ بھی ایک ناجائز ریاست ہے۔ کیونکہ جس طرح اسرائیل نے ناجائز طور پر فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کیا ہے ، اسی طرح صومالیہ کے ایک گروہ نے صومالی عوام کی مرضی کے خلاف ان کی سرزمین پر قبضہ کرلیا جسے اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ، کسی بھی دوسرے ملک نے تسلیم نہیں کیا لیکن اسرائیل نے تسلیم کرلیا ہے ۔ حالانکہ صومالی لینڈ کے عوام اس قبضے کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔ دراصل اسرائیل فلسطینیوں کو صومالی لینڈ بھیجنا چاہتاہے ، اس منصوبے کے تحت ہی یہ سب کر رہا ہے۔ صومالیہ میں 60 فیصد آبادی سنی مسلمانوں کی ہے ۔ لہٰذا اسرائیل کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان کو تقسیم کرکے یمن کے حوثیوں کے خلاف استعمال کیا جائے کیونکہ حوثی اسرائیلی بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں ۔ لیکن کسی بھی مسلم ملک نے ابھی تک اس اقدام کی حمایت نہیں کی ہے ۔
رضاء الحق:صومالیہ میں تقریباً 30 سال پراناتنازعہ چل رہا ہے ۔ خاص طور پر صومالی بحری قذاقوں پر مشتمل ایک گروہ ہے جو اکثر حوثیوں کے خلاف بھی برسرپیکار نظر آتا ہے ۔ اسی وجہ سے اسرائیل انہیں حوثیوں کے خلاف بھی استعمال کرنا چاہتاہے۔ پھر یہ کہ وہاں پر بہت قیمتی معدنیات ہیں ۔ اس خانہ جنگی کی آڑ میں ان معدنیا ت کو حاصل کرنا بھی ایک مقصد ہے ۔
سوال:گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے صدر پہلے سرکاری دورے پر پاکستان آئے ۔اس دوران پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات کے منفی کردار کو اجاگر کیا کہ وہ گوادر پورٹ کو برداشت نہیں کررہا اور بلوچستان کا امن خراب کرنے میں اس کا ہاتھ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ان سب باتوں میں کتنی سچائی ہے ؟
رضاء الحق:UAE کے اسرائیل کے ساتھ بڑے قریبی تعلقات ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم UAEکے ساتھ بحیثیت مسلم ملک تعلقات قائم نہیں کر سکتے ۔ اس وقت ہم معاشی بحران کا شکار ہیں اور بہت سے پاکستانی اداروں کو پرائیویٹائز کر رہے ہیں ۔ بہت سی سرکاری کمپنیاں نقصان میں جارہی ہیں ۔ سٹیل مل ، پی آئی اے، اور فوجی فرٹیلائزر کے حوالے سے بھی بات سامنے آرہی ہے کہ UAEکو حصّہ دار بنایا جاسکتاہے ۔ بہرحال اگر ایسا ہوتاہے تو پاکستان کو اپنا ملکی مفاد مقدم رکھنا چاہیے اور زیادہ شیئر پاکستان کا ہی ہونا چاہیے ۔
سوال: 2025ء کے دوران دنیا بھر میں خونریزی بڑھی ہے ۔ خاص طورپر فلسطینیوں کی نسل کشی کرکے اسرائیل نے اپنے ہدف کی جانب پیش رفت کی ہے ۔ آپ کے خیال میں مسلم ممالک کو کیا اقدامات کرنے ہوں گے کہ مسلم ممالک کو جو خطرات لاحق ہیں وہ دور ہو سکیں ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ:2025ء میں نقصان صرف مسلمانوں کا نہیں ہوا بلکہ اسرائیل کا بھی بہت نقصان ہوا ہے ۔ اسرائیل کی معیشت تباہ و برباد ہو گئی ۔ دنیا میں اس کی ساکھ تباہ ہو گئی ۔ اس کا موقف شکست کھا گیا ۔ 20 ہزار اسرائیلی فوجی شدید زخمی اور اپائج ہو چکے ہیں ۔ اس کے برعکس حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دنیا میں حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ حماس کی فتح سے مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے اور آنے والے وقت میں ان شاء اللہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم نسلیں بھی اسرائیل کے خلاف کھڑی ہوں گی کیونکہ انہوں نے اسرائیل کا اصل چہرہ دیکھ لیا ۔ اسی طرح پاکستان کو 2025ء میں بھارت پر عسکری برتری حاصل ہوئی ہے ۔ اس سرمائے کو بچا کر ہمیں مستقبل کے لیے ٹھوس پالیسی بنانی چاہیے ۔
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: اسرائیل اور اس کےتمام اتحادی چاہے ان میں مسلم ممالک بھی شامل ہوں وہ دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں ۔ دوسرا ڈیجیٹل اکانومی ایک بہت بڑا خطرہ بننے جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈیجیٹل اکانومی آسانی پیدا کرے گی لیکن اصل میں یہ مکمل کنٹرولڈ ہو گی ۔ تیسرا بڑا خطرہ سائبر کنٹرول ہے جسے لوگ پینڈیمک کہتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ 2026ء میں بہت بڑا سائبر شٹ ڈاؤن ہو جائے ۔ اگر ایسا ہوا تو تمام بینکنگ کے معاملات ، پروازوں کے معاملات اور ملٹری ٹیکنالوجی سیز ہو جائیں گے ۔ اگلا بڑا خطرہ حکمرانوں کی منڈی لگناہے ۔ کس ملک کے کس حکمران کی کیا بولی لگے گی ، کس پلڑے میں اسے ڈالا جائے گا اس کا فیصلہ عالمی طاقتیں کریں گی ۔
رضاء الحق: مسلم ممالک کو بہرحال کوئی نہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا پڑے گا کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکیں اور متحد ہو ں، ورنہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اپنے اہداف میں آگے بڑھتے جائیں گے ۔ اگر گریٹر اسرائیل کا منصوبہ آگے بڑھا تو عرب ممالک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ لہٰذا اگر ابھی سے عرب ممالک جاگ جائیں اور متحد ہو جائیں تو ان کے فائدے میں ہوگا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ پر انحصار کم کریں اور آپس میں تعلقات بڑھائیں ۔ چین کے بلاک سے قریبی تعلقات قائم کرنابھی ایک آپشن ہو سکتاہے ۔ بصورت دیگر جنگ کے بادل بھی منڈلاتے رہیں گے ،معاشی بحران بھی بڑھے گا،LGBTQ+ جیسے شیطانی اور دجالی ایجنڈے بھی آگے بڑھیں گے اور کوشش کی جائے گی کہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ غیر مستحکم کیا جائے ۔ کیونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان ہے ، اس کا اظہار اسرائیلی وزرائے اعظم سمیت کئی اسرائیلی عہدیدار کر چکے ہیں ۔ پھر یہ کہ احادیث مبارکہ میں جس خراسان کا ذکر ہے کہ وہاں سے اسلامی فوجیں یروشلم جائیں گی اور دجال کے خلاف لڑیں گی ، اُس میں افغانستان اور شمالی پاکستان بھی شامل ہیں ۔ اس لیے بھی دشمن اس خطے میں خانہ جنگی چاہتا ہے ۔ ہمارے پاس اصل حل یہی ہے کہ ہم اسلام کو ملک میں نافذ اور قائم کریں ، کیونکہ اسی مقصد کے لیے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگرہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر توبہ کر کے اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کو نافذ کریں گے تو ملک میں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی استحکام آئے گا ۔ ہمارا تعلیمی اور عدلیہ کا نظام بھی بہتر ہوگا اور ہماری خارجہ پالیسیاں بھی اسلام سے ہم آہنگ ہوں گی ۔ ان شاء اللہ !
tanzeemdigitallibrary.com © 2026