خدا کا وجود
ابو موسیٰ
منکرین خدا یعنی ملحدین اور خالق ِکائنات پر کسی نہ کسی انداز اور صورت میں یقین رکھنے والوں کے مابین تنازعہ نیا نہیں ہے۔ پرانے زمانے کی ایک کہانی ہے کہ ایک ملحد نے بادشاہ کے دربار میں دعویٰ کیا کہ کوئی بڑے سے بڑا عالمِ دین میرے سامنے آئے اور خدا کے وجود کو ثابت کرے۔ بادشاہ نے ایک بڑے عالمِ دین کو دربار میں طلب کر لیا جو شہر میں بہتی ہوئی ندی کے پار رہتا تھا۔ عالمِ دین نے پہنچنے میں کچھ تاخیر کر دی تو ملحد نے مذاق اُڑانا شروع کر دیا کہ وہ مجھ سے شکست کے خوف سے نہیں آ رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد عالمِ دین دربار میں پہنچ گئے تو بادشاہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو عالمِ دین نے کہا کہ ندی عبور کرنے کے لیے کوئی کشتی دستیاب نہیں تھی اِس لیے مجھے دیر ہوگئی وہ تو یوں ہوا کہ چند بہتی ہوئی لکڑیاں خود بخود جُڑ گئیں اور ایک کشتی بن گئی جس پر سوار ہو کر میں ندی کراس کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ملحد بولا کتنا جھوٹا ہے تمہارا یہ عالمِ دین کیا یہ ممکن ہے کہ ندی میں بہتی لکڑیاں خود بخود جُڑ جائیں اور ایک کشی بن جائے اِس پر عالمِ دین گرج کر بولا تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات خودبخود بن جائے جبکہ ایک کشتی خود نہیں بن سکتی ملحد دم بخود رہ گیا۔
اِس کہانی کے حقیقی یا فرضی ہونے کا تو راقم کو علم نہیں لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پرانے زمانے کی بات ہے جب انسان کے سامنے وہ دنیا تھی جس کے راز سائنس نے ابھی نہیں کھولے تھے جو آج کے انسان کے سامنے آچکے ہیں اور سائنس تسلیم کرتی ہے کہ ابھی بہت کچھ سامنے آنے کو ہے یعنی دنیا کے بہت سے راز ابھی کُھلنے کو ہیں گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اِس کائنات میں بہت سی کائناتیں ہیں جنہیں ابھی دریافت ہونا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ایسی ایسی گلیکسیاں اور بلیک ہولز دریافت ہو رہے ہیں جن میں ہمیں نظر آنے والے سورج جیسے کئی سورج ہیں وغیرہ وغیرہ۔
عرض کرنے کا مطلب ہے کہ انسان کی مت ماری جائے تو بات دوسری ہے وگرنہ پرانے زمانے کے ملحدین کو تو کچھ نہ کچھ رعایت دی جا سکتی ہے کہ دنیا بڑی چھوٹی تھی اور بے چاروں کے سامنے معاملات انتہائی محدود تھے۔ آج کے دور میں اگر کوئی کہتا ہے کہ سب کچھ خود بخود تخلیق ہوگیا اور سب کچھ یونہی رواں دواں ہے، بغیر خالق کے بغیر مالک اور منتظم کے تو یہ ڈھٹائی اور بے شرمی کے سوا کچھ نہیں۔
راقم نے اِس مضمون پر قلم کشی کرنے کی جرأت اِس لیے کی ہے کہ حال ہی میں بھارت کے شہری جاوید اختر اور شمائل احمد ندوی کے درمیان ایک مناظرہ ہوا۔ جاوید اختر صاحب سرکاری اور شماری طور پر مسلمان ہیں لیکن خود کو بڑے فخر سے منکرِ خدا یعنی ملحد قرار دیتے ہیں اور شمائل احمد ندوی اگرچہ مفتی ہیں، ماشاءاللہ جدید علوم سے بھی نہ صرف خود آشنا ہیں بلکہ آراستہ و پیراستہ ہیں۔ جاوید اختر کے بارے میں حیرت ناک بلکہ افسوس ناک انکشاف یہ ہے کہ موصوف، مولانا فضل حق خیر آبادی جو اُنیسویں صدی میں ہندوستان کے مشہور و معروف اور اعلیٰ پایہ کے عالم دین سے صُلبی تعلق رکھتے ہیں، وہ مولانا فضل حق خیر آبادی کے نواسے کے پوتے ہیں۔ راقم نے اِسے افسوسناک اِس لیے قرار دیا ہے کہ مذہبی نسب سے تعلق رکھنے والے جاوید اختر کا ملحد ہونا یہ آسمان سے پتال میں گرنے والی بات ہے۔ مفتی شمائل احمد ندوی نوجوان ہیں بھارت کے شہر کلکتہ سے اُن کا تعلق ہے۔
راقم کے سائنس کے ساتھ نہ کبھی تعلقات اچھے تھے نہ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سائنسی علوم کا حصول محض زندگی بسر کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اِسے عملی طور پر آسان اور قابلِ فہم بنانے میں بھی انتہائی ممد اور معاون ہوتا ہے۔ لہٰذا راقم بات کو آگے بڑھانے سے پہلے کائنات کے حوالے سے چند بنیادی اصولوں کو جو سائنس کی ترقی، ہمارے سامنے لائی ہیں اُنہیں روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے مضمون سے ایک اقتباس کو اپنی اس تحریر میں شامل کررہا ہے کہ اِس حوالے سے سائنس کیا رہنمائی کرتی ہے اور کہاں سائنس خاموش یا لاجواب ہو جاتی ہے۔(اقتباس) ’’یقیناً سائنس نے انسان کو ستاروں تک پہنچادیا ہے ،مگر اس تمام ترپیش رفت کے باوجود کچھ سوال ایسے ہیں جو آج بھی اس کے ہاتھ سے پھسلے ہوئے ہیں۔ سوال جو ضد نہیں کرتے ، مگر پیچھا نہیں چھوڑ تے ، سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، مگر یہ نہیں جانتی کہ اس سے پہلے کیا تھا۔ وہ دماغ کے خلیوں کو گِن لیتی ہے،ان کے درمیان برقی سگنلز کا نقشہ بنا لیتی ہے، مگر نہیں بتا سکتی کہ سوچ کہاں سے جنم لیتی ہے، شعور کیسے بیدار ہوتا ہے ،اور ’میں ہوں ‘ کا احساس آخر کس دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے۔ وہ مادّے کو اس کی آخری اکائیوں تک توڑ دیتی ہے، مگر یہ سمجھ نہیں پاتی کہ زندگی پہلی بار بےجان مادّے میں کیسے جاگی۔ وقت، کائنات، وجود اور زندگی، یہ سب آج بھی ایسے دریچے ہیں جہاں سائنس ٹھہر کر خاموش ہو جاتی ہے، اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ جان لینے کے باوجود، بہت کچھ ایسا ہے جو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
پھر کوانٹم تھیوری ہے، جدید سائنس کی سب سے پُراسرار اور سب سے بے چین کرنے والی شاخ۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ذرّات بیک وقت کئی حالتوں میں ہو سکتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتی کہ انہیں دیکھتے ہی ایک ہی حالت کیوں اختیار کرنی پڑتی ہے۔ یہ کہتی ہے کہ دو ذرّات ایک بار جڑ جائیں تو فاصلہ ان کے تعلق کو ختم نہیں کرتا، چاہے وہ ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور کیوں نہ ہوں۔ اگر ایک ذرّے پر کوئی عمل کیا جائے تو دوسرا فوراً اس کے مطابق ردِعمل دیتا ہے، جیسے وہ دونوں ایک ہی وجود کے دو حصے ہوں۔ سائنس اس مظہر کو ’’دور سے عجیب اثر‘‘ کہتی ہے، مگر اس کے پاس یہ بتانے کے لیے الفاظ نہیں کہ یہ ربط روشنی یا کسی طاقت کے سفر کے بغیر کیسے قائم رہتا ہے۔ شاید اسی حیرانی نے کچھ سائنس دانوں کو اسے گاڈ پارٹیکل جیسے استعاروں تک لے جانے پر مجبور کیا۔ کائنات کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے ہم نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ چھو سکتے ہیں۔ سائنس دان اسے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کہتے ہیں۔ یہی وہ غیر مرئی قوتیں ہیں جو کہکشاؤں کو بکھرنے سے روکتی ہیں، ستاروں کو ان کی جگہ تھامے رکھتی ہیں، جیسے پانی کے نیچے کی دھارا پتّوں کو بہار ہی ہو مگر آنکھ کو صرف سطح دکھائی دیتی ہو۔ سائنس جانتی ہے کہ یہ قوتیں موجود ہیں، مگر یہ نہیں جانتی کہ وہ اصل میں ہیں کیا اور کہاں سے آتی ہیں۔ یہی لاعلمی اس علم کی سب سے بڑی سچائی ہے۔
دماغ کے نیورون، ان کی ساخت، ان کے درمیان پیغام رسانی، یہ سب سائنس کی گرفت میں ہے۔ مگر خوشی، غم، خوف، محبت اور خودی کا احساس کہاں سے آتا ہے؟ یہ سوال آج بھی سائنس کے لیے ایک بند دروازہ ہے۔ وہ یہ بتا سکتی ہے کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ اندر سے ہمیں زندگی کیوں محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم اپنی حد کو پہچانتا ہے اور عاجزی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح سائنس زندگی کے عمل کو تو سمجھا سکتی ہے، ڈی این اے، پروٹین، خلیوں کی تقسیم، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ پہلا زندہ خلیہ کہاں سے آیا۔ غیر زندہ مادّہ کیسے اچانک زندہ ہوگیا؟ یہ سوال آج بھی ایک معمہ ہے، اور شاید یہی معمہ سائنس کو مسلسل متحرک رکھتا ہے۔سائنس یہ دعویٰ تو کرتی ہے کہ کائنات تقریباً تیرہ ارب اسی کروڑ سال پہلے بگ بینگ سے شروع ہوئی، مگر یہ نہیں بتاتی کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، یا وقت خود کہاں سے آیا۔ یعنی وقت کے آغاز پر سائنس خاموش ہو جاتی ہے، اور یہی خاموشی انسان کو سوچنے پرمجبور کرتی ہے۔ کائنات کے قوانین اس قدر درست اور متوازن ہیں کہ زندگی ممکن ہو سکی۔ کچھ لوگ اسے محض اتفاق کہتے ہیں، اور کچھ اسے کسی تخلیق کار کی نشانی سمجھتے ہیں۔ ‘‘
گویا سائنسی ذرائع سے انسان پر کائنات کے بہت سے راز منکشف ہوئے ہیں لیکن اِن انکشافات نے جہاں انسان کے علم میں بہت اضافہ کیا ہے وہاں نہ صرف معلومات کے خلا کو ظاہر کیا بلکہ الٹے نئے سوال بھی کھڑے کر دیئے ہیں جن کے جوابات دینے سے سائنس مکمل طور پر قاصر نظر آتی ہے مثلاً میڈیکل سائنس میں فزیشن اور سرجن انسان کے جسم کے اندرونی حصوں سے ہمیں بہت کچھ بتا سکتا ہے لیکن یہ آج تک نہیں بتایا جا سکا کہ انسانی جسم میں کون سا عمل ہوتا ہے جس سے مستند طور پر کہا جا سکے کہ اِس عمل نے انسان کو موت سے ہمکنار کر دیا۔ کبھی سنا کرتے تھے کہ دل کی دھڑکن بند ہو جائے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن اب یہ ہزاروں بار غلط ثابت ہو چکا دل کی دھڑکن مکمل طور پر بند ہوگئی لیکن موت واقع نہیں ہوئی۔ دماغ کے بارے میں تو حتمی طور اب کہا جاتا ہے کہ وہ جسم کی موت کے بعد کافی دیر کام کرتا رہتا ہے۔ سائنس اِس بات کا جواب نہیں دے سکی کہ بالآخر انسانی جسم میں کیا تبدیلی ہوتی ہے کہ ہم کہیں کہ فلاں شخص مر گیا ہے گویا یہ معمہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا کہ موت کا وقوع پذیر ہونا اصلاً کس عمل کا نام ہے۔
یہ بھی ابھی تک ناقابل فہم مسئلہ ہے کہ ہم کسی شے کو ’’میں‘‘ یا ’’میرا‘‘ کہتے ہیں۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شے میری ہے تو گویا ہم کسی چیز کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہ کتاب میری ہے۔ یہ ہاتھ بازو یا ٹانگ میری ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ میرے سر میں درد ہے۔ میرے بازو میں درد ہے تو گویا ہم سر کو یا بازو کو اپنی طرف منسوب کر رہے ہیں اور اِس کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ میرا سارا جسم درد کر رہا ہے تو اب سارے جسم کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا وہ ’’میرا‘‘ کون ہے جس کا جسم درد ہو رہا ہے۔ یہ بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب سائنس دینے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کائنات ایک طے شدہ نظام کے تحت رواں دواں ہے اِس روانی کو یقیناً سائنس نے پا لیا ہے۔ لیکن استثنات کا سائنس کے پاس کوئی جواب نہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جب سائنس کچھ آگے بڑھتی ہے تو استثنات کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی عقل کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا: ع
’’عقل ہے محو تماشائے کے لبِ بام ابھی۔‘‘ گویا اِس حقیقت کا انکار کرنا ناممکن ہے کہ کوئی خالق، مالک اور منتظم ہے جو اِس نظام کو اگرچہ عمومی طور پر تو طے شدہ طریقے سے چلا رہا ہے لیکن جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اِس طے شدہ نظام میں اِس طرح تبدیلی لاتا ہے کہ سائنس کے طبیعاتی اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں لیکن انسان کے پاس اِس کے سوا کوئی آپشن نہیں کہ وہ مانے کہ یقیناً کوئی خالق ِ حقیقی ہے جو دنیوی اصولوں کا محتاج نہیں لیکن اگر کوئی اس سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کا انکار کرے یا کم سمجھیں تو وہ بھی جہالت ہے۔ حقیقت میں علوم بھی خداداد ہیں، اِن سے فائدہ اُٹھائیں لیکن حتمیت کے قائل نہ ہوں۔ یہ سب علوم ہیں جنہیں سیکھنے میں مذہب یا خالق ِکائنات رکاوٹ نہیں۔ اصل مسئلہ ہر شے کو اُس کی جگہ پر رکھنا لازم ہے۔ بندہ بندہ ہے چاہے جتنا بھی اوپر چلا جائے اور خدا خدا ہے جتنا بھی نزول کر لے خالق کائنات کو تسلیم نہ کرنا اور خود بخود کی رٹ لگانا جہالت عظمیٰ ہے۔ جبکہ تمام علوم خداداد ہیں جن کا حصول انسان کے لیے یقیناً مفید ہے۔ منطق کا تقاضاً تو یہ ہے کہ یہ علوم ہمیں خالق ِکائنات کے قریب سے قریب تر کردیں۔
ہم نے انبیاء کرامf کے معجزات یا خرقِ عادت کا قطعی طور پر کوئی ذکر یا حوالہ نہیں دیا اِس لیے کہ ملحد تو مذہب اور خالق ِ کائنات کا مکمل طور پر انکاری ہے لیکن نظر آنے والی اِس دنیا کو تو دیانت داری سے اور اپنے دماغ پر مسلط شدہ تعصبات دور کر کے کھلی آنکھوں سے دیکھے تو رب کعبہ کی قسم وہ خداکو جان بھی لے گا اور پہچان بھی لے گا اور پھر یہ کہ وہ وقت بھی آ سکتا ہے کہ اگر معرفت کے درجات طے کر لے تو ربِ کائنات اُس کے دل(وہ دل جسے قرآنِ پاک دل کہتا ہے) کا مکین بن جائے گا۔اِسی میں اے انسان تیری فوزوفلاح اور حقیقی کامیابی کا راز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطانی حربوں سے محفوظ کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن کرے۔ آمین یا رب العالمین!