تشنگیٔ عدل
عامرہ احسان
خرید و فروخت کے چلتے پھرتے بازار آبادیوں کو گھر بیٹھے بہت سی سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ بچپن سے ایک آواز ’ردی اخبار بیچ‘ کی بھی رہی۔ ایسی ہی ایک آواز اب اکثر سنی، بیچ دو بیچ دو! اور پھر وہ تسلسل سے بہت سی چیزوں کے درپے ہو کر بیچ دو کا پہاڑا پڑھتا جاتا ہے۔ پرانا لوہا، پرانا کمپیوٹر، اے سی، ردی اخبار، رسالے ،کتابیں (جو کالی سکر ینیںنگل گئیں!) سب ردی بیچ دو۔ یہ آئے روز کی پکار اب آئی ایم ایف کے پھیری والوں نے لگانی شروع کردی۔ ہمارا سارا پرانا لوہا، ریلوے کی پٹڑیاں، ڈبے، غرض، عوامی سہولت کامحکمے کا محکمہ ہی تقریباً بک گیا! سفری سستی سواری کی جگہ مہنگی کو چز کے سیاست دانوں کے کاروبار چل پڑے۔ اب دو دہائیوں سے پی آئی اے کو ’پرانا لوہا‘ قرار دے کر بیچ دو بیچ دو کا نعرہ لگ رہا تھا۔ اس پھیری کو ’پرائیوٹائزیشن‘ کا خوبصورت نام دیا جاتا ہے، یہ کہہ کر کہ اس سے ملک اور اس کے عوام سے بھاری بھر کم بوجھ اُتر جائے گا۔ ابھی تو یہ فہرست طویل ہے۔
بہر طور قومی فضائی کمپنی جس کا کبھی بہت شہرہ رہا، حسب ِروایت طرح طرح کی کرپشن، نااہلیوں، سیاست بازیوں کی بھینٹ چڑھتی رہی۔ پچاس جہازوں اور چالیس بین الاقوامی ایئر پورٹوں پر چڑھتی اُترتی سرسبز و شاداب پھلتی پھولتی 18 جہازوں تک گر گئی۔ برطانیہ اور یورپ کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہوئی۔ اور پھر اس حال کو پہنچا دی گئی کہ ’بخشوبی پی آئی اے پاکستان بلا پرواز ہی بھلا‘۔ اب جو جیسے تیسے بیچا گیا تو سمجھیٔے کہ کیک کے ٹکڑے ہو کر سیٹھ عارف حبیب کی سرکردگی میں کئی حصہ داروں کو شاد کام کر گئے۔
ساری ڈیل پر اعتراضات اور سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ اِس فروخت پر خوشی سے بڑھ کر اظہارِ تاسف ہے۔ فوجی فرٹیلائزربھی حصہ دار ہوگیا۔ تاہم اس مقام پر سبھی کے پر جلتے ہیں، سو مجالِ سوال کسے! رموزِ خسروان، بادشاہوں کے راز(ہم کم فہم کیا جانیں!)کھسر پھسر سے طے ہو جایا کرتے ہیں۔ حکومت بھی ہائبرڈ ہو اور ’شہباز کرے پرواز ‘ کا نعرہ بھی تا دیر ملک میں پہلے گو نجتا رہا!بظاہر 135 ارب کی شفاف بولی، ٹی وی پر قبول ہو گئی۔ لیکن حکومت صرف 10 ارب روپے لے گی۔ حکومت نے پی آئی اے کا خسارہ 654 ارب کا ایک نئی سرکاری کمپنی بنا کر اس میں، یعنی عوام کے سر ڈال دیا۔ جو ہماری پھٹی ٹیکسوں کی ماری جیبوں سے جاتا رہے گا۔ باقی بولی کے 125 ارب بھی خریدار، حصہ دار پی آئی اے کو مضبوط کرنے پر لگا دیں گے!
بے شمار سوالات میں گھری یہ ڈیل ہے جس میں شکنجہ عوام کی گردن میں اور ان کے لیے ڈھیل ہی ڈھیل!سبھی سفید ہاتھیوںکی زد میں عوام ہی آتے ہیں۔ ( اب آگئے سٹیل ملز کی طرح آئی ایم ایف کے مزید25 مطلوبہ ادارے بھی اسی لائن میں لگے ہیں۔) ٹیکسوں کی صورت عوام پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ اہم سہولتیں عنقا ہو رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی حالت زار نہ پوچھئے۔ غزہ کے ہسپتالوں (اصل حالت میں) کی سہولیات، اجلاپن، انتظامات دیکھ کر ہم حیران رہ گئے تآنکہ اسرائیل نے انھیں ہمارے ہسپتالوں کا سا کر دیا۔ اب بھی ترجیحاً حماس حکومت نے پہلے انہی پر توجہ دے کر بحال کیا۔ شہروں میں چلتی ویگنیں، سوزوکیاں، بسیں (چند چمکتی دمکتی چھوڑ کر) عوام کے لیے مہنگی اور نا گفتہ بہ، حال میں ہیں۔ عوام آدھا راستہ پیدل ہی چل لیتے ہیں۔حکمران، سیاست دان جہازوں میں اڑے اڑے ہمہ وقت دنیا بھر میں (globetrotting) گھومتے ہیں، عوام کے لیے قریب کے شہروں تک جانے کے لیے بھی جیب اجازت نہیں دیتی!
کمال تو یہ ہے کہ تعلیم کا اہم ترین شعبہ قومی مستقبل کے حوالے سے، بے حد درجے یتیم ویسیر ہو کر پرائیوٹائزیشن کی بھینٹ یوں چڑھا کہ پناہ بخدا! پرائیوٹ سکول بھی معیاری تعلیم دینے سے قاصر، قومی زبان، اقدار، اخلاق و روایات سے بغاوت پروان چڑھا رہے ہیں قوم کی جیبیں خالی کروا کر۔ہمارے سکولوں میں فلسطین؍ غزہ کا نام ، جھنڈا، کفیہ، تذکرہ ممنوع ہے! قائداعظم اور لیاقت علی کے دو ٹوک (اسرائیل کے خلاف) موقف کے باوجود۔ مگر آئرلینڈ میں 6،7سال کی بچیاں فلسطینی مصعب ابو طہ کی شاعری فخریہ (توتلی سی) پڑھ کر زبردست شاباش سامعین سے وصولتی ہیں، فلسطینی جھنڈے کے رنگوں والے لباس میں! اب آپ کے قومی اثاثے (پی آئی اے) کے کیک کا ایک ٹکڑا خریدنے میں ایک پرائیویٹ سکول سسٹم بھی شامل ہے! عوام کے لیے یہ خوشخبری ضرور رہی کہ ہمسایہ ملک سے لڑبھڑ کر سرحدیں بند کرنے سے ہماری برآمدات گلنے سڑنے لگیں تو (تاجروں، حکومتی خزانے کے لیے تو اربوں کا خسارہ بنا) عوام اب مزے سے آلو، ٹماٹر، کینو، شیور کی (زندہ) مرغی کی کم قیمت لگژری سے فیض یاب ہوں!
بنگلہ دیش انتخابات کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ غیر معمولی طور پر بھارت دشمنی بہت بڑھ گئی۔ آئے روز کے سازشی واقعات اور حسینہ واجد کو پناہ دینے کے تناظر میں۔ ایک غیر متوقع معاملہ اسلام پسند امیدواروں، جماعتوں کی مقبولیت کا رہا جس نے دنیا کو متوحش کر دیا بھارت اور مغرب بالخصوص ۔بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک اور جماعت اسلامی نے حالات کے تناظر میں اتحاد کر لیا ہے۔ سوبی این پی جو ایک سیکولر جماعت جس پر کرپشن کے الزامات رہے، اس کو نہایت دھوم دھام سے اقتدار میں لابٹھا نے کے لیے نادیدہ ہاتھ کار فرما ہیں۔ طارق رحمن، خالدہ ضیاء کا 60سالہ بٹیا، بڑے اہتمام سے برطانیہ میں خود ساختہ17 سالہ جلاوطنی سے لوٹ آیا ہے۔ ناہد اسلام طلبہ تحریک کی قیادت کے نامور نوجوان نے جماعت اسلامی سے اتحاد پر کہا:’ تسلط پسند قوتیں انتخابات کو سبوتاژ اور جولائی انقلاب کے ہیروز کا صفایا کرانا چاہتی ہیں۔ ہم مل کر ان قوتوں کو شکست دیں گے۔‘ اس اتحاد کی کامیابی پاکستان سے مضبوط تعلقات کا پیش خیمہ اور بھارت کے لیے اذیت دہ ہو گی!
2025ء کا اختتام یوں ہوا کہ اس ایک سال میں اسرائیل نے جنگجوئی کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ غزہ، مغربی کنارے پر 8332 حملے، لبنان پر 1635، ایران پر 379، شام پر 207،یمن پر 48 ،قطر پر ایک۔ مزید تیونس، مالٹیز، یونانی سمندروں میں فلوٹیلا پر چار حملے۔ ہمہ نوع ہر طرف زمینی، آسمانی، ڈرون، شیلنگ، میزائل، کچھ نہ چھوڑا۔ روکنے والا کوئی نہیں!( ACLED، تنازع مانیٹر کرنے والے ادارے کی رپورٹ) مغربی کنارے پر بالخصوص شرمناک حملے روزانہ کا معمول ہیں۔ سڑک کے کنارے نماز پڑھنے والے پر آباد کار کا گاڑی چڑھا دینا۔ ایسا کیے جانے پر بھی شکایت ممکن نہیں کیونکہ نتیجہ بچ جانے والے نمازی کی جیل یا موت کی صورت ہوگی۔ گھروں کو مسمار کر نا،رات کے حملے بھی معمول ہے۔
اس وقت غزہ میں بارشوں کا تیسرا سلسلہ چل رہا ہے۔ غزہ میں زیادہ تر ٹینٹ تیز ہواؤں، بارشوں سے یا اُڑ چکے یا تباہ ہو چکے ہیں۔ ہر بچہ بارش میں بھیگے کپڑے پہننے پر مجبور ہے۔ سنگدلی، بے رحمی، بے اعتنائی کی سب حدیں ٹوٹ چکی ہیں۔ کون سا امن پلان؟ دوسرا مرحلہ؟ (موت، اسرائیلی حملوں اور ٹھٹھرتی بیماریوں کا؟ امیر ممالک اور کھربوں کے مالک مسلمانوں / انسانوں کے بیچوں بیچ؟) مسلم ممالک کب اور کیسے غزہ جائیں گے؟ کیا کرنے جائیں گے؟ ملبوں میں دبے قدسی صفت شہداء کی سرزمین پر اسرائیل اور امریکہ کی سرکردگی میں۔ کمبل، کپڑے مضبوط ٹینٹ 2 ارب امت اور 7 ارب انسانیت لاکھوں مظلوم ترین انسانوں کو فراہم نہ کر سکی۔ انہی کے غم میں برطانوی فلسطین ایکشن کے کارکن جیلوں میں، بھوک ہڑتال میں نازک طبی صور تحال میں پڑے ہیں۔ اسرائیل نے ایک دن بھی عالمی رائے عامہ کا لحاظ نہ کیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ لگائی۔ اسی پر مغربی عوام کا رد عمل بہر طور شدید ہے۔ کٹر عیسائیوں پر حضرت عیسیٰ dبارے مسلمانوں کے شفاف، محبت و احترام بھرے عقیدے کا انکشاف ہو رہا ہے۔ (اسرائیل کے عین بر عکس!) سواب اسرائیل سے ان کی ہمہ گیر نفرت کی وجوہات بڑھ رہی ہیں۔
برطانوی ممبر پار لیمنٹ مارک پریچرڈ جذباتی تقریر کر رہا ہے کہ :’میں نے 20 سال اسرائیل کی حمایت کی، جو ایک غلطی تھی۔ میں اسرائیل کی مذمت کرتا ہوں جو کچھ وہ غزہ اور ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔ میں اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کرتا ہوں۔ ٹھیک ہے کہ اسرائیل کو امن سے رہنے کا حق ہے۔ وجود کا حق ہے۔ مگر یہی حق فلسطین کا ہے۔ فلسطینی بچے کی زندگی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی یہودی بچے کی۔ ہم نےبحیثیت ملک بالکل غلط کیا۔ کیا ہم انسانیت کے لیے ایک مضبوط موقف لے سکتے ہیں؟ تاکہ تاریخ میں درست مقام پاسکیں۔ اخلاقی جرات رکھنے کے اعتبار سے ہم قیادت کریں نہ کہ صرف امریکہ کے پیچھے پیچھے چلتے رہنے کے! اسی فرق کو لانے کے لیے ہم منتخب ہوئے ہیں۔ زندگی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ تمام بچوں کے لیے کھڑے ہوں۔ صرف یہودی بچوں کے لیے نہیں ۔کیا ہماری اپنی پار لیمنٹ نے زندگی کا ثبوت دیا؟ اسلام پر تو ہم گھگھیا تے شرماتے ہیں۔ کیا انسانیت کے نام پر بھی جمہوریت کوئی سبق نہیں پڑھاتی؟
ہائے یہ تشنگیٔ عدل کی ماری دنیا
امن کو محفلِ تہذیب ترستی دیکھو
اپنے عشرت کدۂ شب سے نکل کر باہر
اپنے ہی گھر پہ ذرا آگ برستی دیکھو