(اظہارِ خیال) افغان پالیسی کے مشرفی اثرات ،اقبال اور منوجی کا فلسفہ - محمد رفیق چودھری

8 /


افغان پالیسی کے مشرفی اثرات ،اقبال اور منوجی کا فلسفہ

رفیق چودھری

یہ کالم 2013ء میں ندائے خلافت کے شمارہ نمبر 42 میں شائع ہوا تھا ۔ اس وقت تک پرویز مشرف کی افغان پالیسی کے اثرات کھل کر سامنے آنا شروع ہو چکے تھے ، دوسری طرف انڈیا اور امریکہ کے عزائم بھی واضح تھےکہ وہ خطے کے مسلمانوں کو آپس میں لڑا کرانہیں کمزور کرنا اور پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتے تھے ۔ جنرل حمید گل تک خود یہ تسلیم کر رہے تھے کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان اصل نشانہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب جانتے ہوئےبھی ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے دشمنوں کے عزائم کو کیوں پورا کیا ؟ 2013ء میں لکھا گیا یہ کالم دشمنانِ اسلام کےانہی عزائم اور اپنوں کا دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہونا واضح کر رہا ہے ۔قارئین کی دلچسپی کے لیے قند مکرر کے طور پر پیش خدمت ہے

پاکستانی میڈیا آج بڑے کرب کے ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ افعانستان کی سرزمین سے پاکستان پر بار بار حملے ہو رہے ہیں ،جبکہ یہی پاکستانی میڈیا تھا جو پرویزی نعرہ ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ کاراگ الاپنے میں پرویز مشرف سے بھی دو قدم آگے تھا۔ تب’’نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامو ر ریاست کے اس اہم ستون‘‘ کو ملک کی ان نظریاتی سرحدوں کا تعین بھی کیوں  یا د نہ رہا جو مملکت خداداد پاکستان کے بانیان نے پیش کیا تھا اور جس نظریہ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا گیا ۔ اقبال نے تو کہا تھا ؎
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی ، نہ افعانی
یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افعانی ،وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بیکراں ہوجا
غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغِ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
اقبال کے نزدیک جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اہم ہماری نظریاتی سرحدیں تھیں، جن پر ہماری اصل قوت اور سلامتی کا انحصار تھا۔
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفویؐ ہے
اقبال کا ایمان تھا کہ ہندو اکثریت کی اجارہ داری اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے ا گرچہ الگ وطن ضروری ہے، لیکن جہاںاسلام اورامت مسلمہ کی بات آجائے تو وہاں وحدت ِاُمت کے سامنے وطنیت کی جغرافیائی سرحدیںکوئی معنی نہیں رکھتیں  ؎
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفویؐ خاک میں اس بت کو ملا دے!
     اقبال کے ان نظریات کی صداقت کا ثبوت اس سے بڑھ کرکیا ہو کہ ڈکٹیٹر ہی سہی لیکن جب اللہ کے ایک بندے نے سب سے پہلے پاکستان کی بجائے ’’سب سے پہلے اسلام‘‘ کا نعرہ لگایا تھا اور کہاتھا کہ’’ افغان ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ان کی مدد ہم پر فرض ہے چاہے اس کی ہمیں کتنی بھی قیمت ادا کیوں نہ کرنی پڑے ‘‘ تو چشمِ فلک نے دیکھا تھا کہ اس جذبۂ اتحادِ اُمت کی برکت سے نہ صرف یہ کہ مشترکہ دشمن سوویت یونین کو بہت بڑی شکست ہوئی بلکہ اس کا شیرازہ بھی بکھر گیا اور نتیجتاًمزید چھ اسلامی ریاستیں دنیا کے نقشے پر اُبھر کر سامنے آگئیںاور اس کے ساتھ ہی افغانستان بھی پاکستان کا دایاں بازو بن گیا کہ جس کی موجودگی میں پاکستان کی مغربی سرحدبالکل محفوظ تھی اور طالبان ایسے بے لوث اتحادی تھے کہ جن کی موجودگی میں کوئی پاکستان و اسلام دشمن ایجنٹ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرسکتاتھا ۔ پاکستان کے مغربی حصوں میں کسی قسم کی یورش، دراندازی، دہشت گردی کا احتمال ہرگز نہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا دیرینہ بھارتی منصوبہ جوایک طرح سے اس کے دھرم یعنی منوجی کے فلسفہ میں شامل ہے، بھی طالبان کی موجودگی میں مٹی میں مل چکاتھا اور اس طرح پاکستان ایک انتہائی محفوظ و مضبوط پوزیشن میں آچکا تھا، جس کو اب صرف کشمیر پر فوکس کرنا تھا۔ جبکہ پاکستان کی یہی پوزیشن اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔خاص طور پر بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ جس کے ہاتھ سے ایک طرف افغانستان کا اہم محاذ نکل چکا تھا تو دوسری طرف کشمیر میں جاری تحریک اس کے لیے  نزع کا عالم تھی۔ ان حالات میں جبکہ امریکہ کو اپنے صہیونی وصلیبی مقاصدکے تحت اسلام اور جہادی تحریک کا راستہ روکنا تھااوربھارت بھی کشمیر کی تحریک آزادی کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑ کر اسے کمزور کرنا چاہتا تھا، لہٰذاافغانستان میں دوبارہ محاذ کھولنے کے لیے را، موساد اور CIAگٹھ جوڑنے 9/11کا طے شدہ ڈراما رچایا اور پاکستان میںپرویزمشرف کی صورت میں انہیں ایک ایسا اتحادی مل گیا جو عوام کی سامنے تو مکے لہراتا ،غراتا تھا لیکن دشمنِ ملت کی ایک فون کا ل پر ڈھیر ہوجاتا تھا ۔ اس نے  اپنے آقاؤں کے پلید منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے دائیں بازو اور مسلمان بھائیوں کے خلاف دشمنوں کا اتحادی بن کر وحدت اُمت اور مسلمان اتحاد کو پارہ پارہ کردیا اوراپنی اس ناپاک جسارت کو جواز فراہم کرنے کے لیے ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ گھڑ لیا۔
یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ ہر ایک قوم کا غدار اور  کٹھ پتلی حکمران اپنے بیرونی آقاؤں کے مقاصد ِ رزیلہ کو ایسے ہی جُز وقتی نعروں کی آڑ میں پورا کیا کرتاہے جو کہ محض اپنی رعایا کو بے وقوف بنانے لیے تراش لیے جاتے ہیں ۔ لیکن افسو س پاکستانی میڈیا پرجواس انتہائی بے پایاں، بے وقعت ،اسلام اور نظریہ ٔ پاکستان سے متصادم اور آمادۂ سرکشی پرویزی نعرہ کو فروغ دینے میں شاہ سے بھی زیادہ شاہ کا وفادار نکلا۔ حتیٰ کہ اس وفاداری میںان قومی نظریات کو بھی بالائے طاق رکھ دیا گیا جو مملکت پاکستان کے وجود کی بنیاد تھے۔ بقول اقبال ؎
جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر!
نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اُڑ گیا تو دنیا سے مانند خاکِ  راہ گزر
 صرف ایک امید سے وابستہ تھا ہمارا مستقبل ع  ’’ پیوستہ رہ  شجر سے امید بہار رکھ‘‘  اور یہ بھی کہ ع  ’’  موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں‘‘اقبال نےیہ بھی واضح کردیا تھا کہ وحدت اُمت کو توڑنے اور شجرِ ملت سے الگ ہونے کا انجام بالآخر کیا ہوتاہے  ؎
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کوکر دیتا ہے گاز
’’ملک ہاتھوں سے گیا ‘ملت کی آنکھیںکھل گئیں‘‘
حق ترا چشمے عطا کر دست غافل در نگر!
    مغرب کی حکمت کا محور و مرکز ہمیشہ وحدت اُمت کو توڑنا رہاہے ۔ خلافت عثمانیہ سے لے کر سقوطِ ڈھاکہ  تک مغرب کی سازشیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔نائن الیون سازش کے پس پردہ بھی احیائے اسلام کی تحریکوں کو کچلنا اور وحدت اُمت کو پارہ پارہ کرنا شامل تھا۔سوویت یونین کے خلاف متحدہ جدوجہد کے بعد افغان طالبان پاکستان کےصرف وفادار اور جاںنثار سپاہی نہیں بلکہ پاکستان کی قوت ِ بازو بھی بن چکے تھے ۔ امریکہ اور بھارت کو یہ ہرگز گوارا نہ تھا ، سو انہوں نے مشرف کے ذریعےاپنا مقصد  حاصل کرلیا۔ ایک بھائی، ایک بازو، ایک ملک ہم سے جدا ہوگیا۔ وحدت سے جوقوت ہمیں نصیب ہوئی تھی، چھین لی گئی، لیکن ملت کی آنکھیں کھل کربھی نہ کھلیں ۔ پرویز کے جانشین آج بھی اس کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ انہی ملک دشمن پالیسیوں کی بدولت آج انہوں نے ایک طرف افغانوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے اور دوسری طرف اپنے ازلی دشمن کو فیورٹ نیشن قرار دے کراسے ملکی سا لمیت اور قومی سلامتی سے کھلواڑ کا موقع فراہم کررکھا ہے ۔
آج ہمار ا دانشور طبقہ اور آزادمیڈیا ’’ امن کی آشا‘‘ کا راگ الاپتے نہیں تھکتا ۔ جبکہ یہی ’’دانا‘‘ میڈیا اور دفاعی وزارتیں ایک طرف افغانستان میں بھارت کی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں اوردراندازی کا رونا روتی ہیں اور دوسری طرف بلوچستان میں بھی بھارتی مداخلت کو ثابت کیا جا تاہے ۔سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود انڈیا کو فیورٹ قرار دے کر بالآخر ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ ہمارا مادر پدر آزاد میڈیانظریۂ پاکستان کو پس پشت ڈال کر  صبح و شام جس ’’ امن کی آشا‘‘کی ’’مالا جپ رہا ہے‘‘، بھارتی خفیہ ذہن اس ’’آشا‘‘ کوکس نظر سے دیکھ رہا ہے؟  دیکھئے 2فروری 2010ء کو ایک انگریزی روزنامہ کی شائع شدہ رپورٹ ، جس میں واضح طور پر لکھاہے کہ ’’بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی ایک دستاویز کے انکشافات کے مطابق بھارت نے را کی زیرنگرانی ایک سپیشل کائونٹر انٹیلی جنس تنظیم ’’ CITX‘ قائم کی ہے جس کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا ٹاسک دیاگیا ہے ۔ اس دوران نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں سرگرمی دکھائی جائے گی اور پاکستان کو مسلسل مذاکرات کے عمل میں اُلجھایا جائے گا۔‘‘
       چلیے ! یہ تو 2010ء کے شروع کی رپورٹ تھی ۔ پرانی بات سہی ۔ اس کے بعد سے صبح وشام ’’ امن کی آشا‘‘ کا ورد کرتا ہوا پاکستانی میڈیا اور موسٹ فیورٹ انڈیا کا’’وظیفہ کرتا‘‘ ہواحکمران طبقہ بتا دے کہ اس ’’وِرد‘‘کے ردعمل میں بھارتی ذہنیت اپنے قدیم منو جی کے فلسفے سے کتنا پیچھے ہٹ پائی ہے ؟
  ’’ ہمیشہ حملے کی تیاری رکھ ، اپنی طاقت کی نمائش کرتا رہ ، اپنے راز چھپائے رکھ اور دشمن کی کمزوری کا کھوج لگا ، بگلے کی طرح یکسوئی سے شکار کو تاڑ ، شیر کی طرح وار کر ، بھیڑیے کی طرح نوچ ڈال اور فرار کے وقت خرگوش کی طرح بھاگ ۔ اپنے ہمسائے راجہ کو دشمن اور دشمن کا ساتھی سمجھ ، ہمسائے کے ہمسائے کو دوست رکھ ، جو راجہ ان دونوں کے پرے ہو اس کے ساتھ غیر جانبدار رہ ۔ جب امکان آئندہ غالب آنے کا اور حال میں کچھ نقصان ہونے کا ہو تو امن کا چرچا کرتا رہ ۔ اگر خوشحال ہو تو فوراً جنگ کر ۔ جب تیرے رتھ ،جانور اور فوجیں کم ہوں تو احتیاط سے خاموش بیٹھ اور رفتہ رفتہ دشمنوںسے صلح اور آشتی کی گفتگو کرتا رہ ۔ بیوی کو بچانے کے لیے دولت دے ڈال لیکن اپنی ذات کو محفوظ کرنے کے لیے بیوی اور دولت دونوں دے ڈال ۔‘‘
      ہمیں تسلیم ہے کہ اگر منوجی کے اس فلسفے کے برعکس بھارت اسلحہ کی نمائش نہیں کررہا ، جنگی ساز و سامان بھاری مقدار میں جمع نہیں ہورہا ، ہمسائے یعنی پاکستان کو دشمن سمجھنا چھوڑ دیاہے ، حالیہ برسات میں پاکستانی دریاؤں پر بنائے گئے ڈیموں میں پانی کی مقدار کے صحیح اعداوشمار ظاہر کردیئے ہیں ،’’ صلح و آشتی کی گفتگو‘‘ کسی نتیجے پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے تو انڈیا فیورٹ ہی نہیں موسٹ فیورٹ اور ’’امن کی آشا‘‘زندہ باد ہی نہیں پائندہ باد بھی ۔ لیکن اگر انڈیا اسلحہ کی نمائش اور تیاری میںبھی سرکش ہے ، پاکستان کے دشمنوں سے معاہدے بھی برابر جاری ہیں ، کشمیر سمیت اہم مسائل پرآنا ہی نہیں چاہتا، ’’ہمسائے کے ہمسائے‘‘یعنی افغانستان کے کندھے سے وارپروار بھی کررہا ہے ، وہاں سفارتی جال پھیلاکر پاکستان میں مداخلت سے بھی باز نہیں آرہا ۔ نسلی ، لسانی ،علاقائی تعصبات کو ہوا دینا برابر جاری ہے تو پھرکبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے فیورٹ فیورٹ کی رٹ لگانے والے حکومتی کارپردازوں کو دماغ کی سرجری کرانا چاہیے اورنظریۂ پاکستان  سے بغاوت کرنے والے پاکستانی میڈیاکو بھی نظریاتی سرحدوں کی پامالی سے توبہ تائب ہوکر سچے دل سے قومی نظریات پر سختی سے پہرہ دیناچاہیے کہ جب ملک کا پانچواں ستون اپنا اصل منصب سنبھال لے گا تو پھر کوئی ’’ مشرف‘‘ قومی نظریات کے خلاف پالیسیاں ترتیب نہیںدے سکے گا اور ہر مسئلے کا حل بھی اپنی بنیاد میں مل جائے گا ۔ 
ربط وضبطِ ملتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے  سے اب تک بے خبر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر!
پاک ہے گردوطن سے سرِ داماں تیرا
تو وہ یوسفؑ ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا
قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا
غیر یک بانگِ درا کچھ نہیں ساماں تیرا