(دعوت و تحریک) ساری دنیا کے انسانو: آؤ اسلام کی طرف - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

8 /

 

ساری دنیا کے انسانو: آؤ اسلام کی طرف

ڈاکٹر ضمیر اخترخان

 

امریکہ کے ایران پرحالیہ حملے کے تناظر میں اس امرکی اشد ضرورت ہے کہ دنیاکو اسلام کے عادلانہ نظام  کی طرف دعوت دی جائے تاکہ عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیرہو سکے۔ یہ موقع ہے کہ ہم اس مؤثرترین ہتھیار کو استعمال کریں۔ اگرچہ عالم اسلام کی حالت زار ’’اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں‘‘ کے مصداق ہے مگر ’’مجھے ہے حکم اذاں لاالٰہ الا اللہ‘‘۔ وما توفیقی الاباللہ۔  
دنیا اس وقت جنگوں، ظلم، معاشی ناانصافی، اخلاقی انحطاط اور روحانی بے چینی کا شکار ہے۔ طاقت کی سیاست نے کمزور اقوام کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے اور  عالمی امن ایک نایاب شے بنتا جا رہا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانیت اس سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کرے جو خالقِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسلام وہ جامع اور کامل دین ہے جو تمام انبیائے کرام ؓ کی مشترکہ دعوت رہا اور جس کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر فرما دی۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے:’’ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔‘‘ (آل عمران: 19)
      اور ایک اور مقام پر فرمایا:’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘(المائدہ: 3)
یہ دین کسی ایک قوم یا خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ ؐکو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘ (الانبیا ء: 107)
اسلام کا بنیادی ستون عدل ہے۔ قرآن حکم دیتا ہے: ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ۔‘‘ (النحل: 90)
مزید فرمایا:’’ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے، عدل کرو یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ ‘‘(المائدہ: 8)
یہ وہ اصول ہے جو بین الاقوامی تعلقات میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر طاقتور اقوام اپنے مفادات کے بجائے انصاف کو بنیاد بنائیں تو جنگوں کا دروازہ بند ہو سکتا ہے۔ اسلام انسان کی جان، مال اور عزت کو مقدس قرار دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
’’تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اسلام جبر کا دین نہیں بلکہ دعوت و حکمت کا دین ہے۔ قرآن کہتا ہے: دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرہ: 256) اور فرمایا:’’ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔‘‘(النحل: 125)
اسی بنیاد پر ہم امریکہ کو بالخصوص اور دنیا کے تمام ممالک کو بالعموم یہ پُرامن دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلام کے عادلانہ خدائی نظام کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کریں۔ یہ نظام حکمران کو جواب دہ بناتا ہے، سودی استحصال کو روکتا ہے، دولت کی منصفانہ تقسیم کی تعلیم دیتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور طاقت کے استعمال کو اخلاقی حدود میں مقید کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری)
یہ تصورِ جواب دہی عالمی قیادتوں کے لیے ایک بنیادی اصول فراہم کرتا ہے کہ اقتدار امانت ہے، ذاتی یا قومی مفاد کا ذریعہ نہیں۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب اس کے اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل کیا گیا تو مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ ایک عادلانہ معاشرے میں امن کے ساتھ رہے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ایک عام شہری بھی خلیفہ کے سامنے اپنے حق کے لیے کھڑا ہو سکتا تھا،یہی وہ عدل ہے جس کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔
یہ اپیل کسی جبر یا تصادم کی دعوت نہیں بلکہ فکری و اخلاقی بیداری کی دعوت ہے۔ ہم تمام اقوام سے کہتے ہیں کہ وہ طاقت کے بجائے انصاف، تعصب کے بجائے رحم، اور مفاد کے بجائے حق کو معیار بنائیں۔ اسلام کا پیغام انسان کو اس کے رب سے جوڑتا ہے اور اسی تعلق کے ذریعے اسے ظلم سے روکتا ہے۔
آؤ! ہم سب مل کر اس راستے کی طرف قدم بڑھائیں جو انبیائے کرام ؓ کی مشترکہ تعلیمات سے روشن ہے۔ اگر دنیا واقعی امن، انصاف اور انسانی وقار چاہتی ہے تو اسے اس الٰہی ہدایت کی طرف سنجیدگی سے رجوع کرنا ہوگا جو خالقِ انسانیت نے انسانیت ہی کی فلاح کے لیے نازل فرمائی ہے۔
عالمی امن کا ضامن اسلام ہے جو تمام نبیوں کی مشترک میراث ہے اور اس کی تکمیل محمدﷺپرہوئی ہے۔ امریکہ کوبالخصوص اورتمام ممالک کو بالعموم اسلام کے عادلانہ خدائی نظام کو اختیار کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ سارےانسانوں کو دنیاوآخرت کے ہولناک نقصانات سے بچایا جا سکے۔ اس سے پہلے کہ دنیا تباہی سے دوچارہو مسلم ممالک بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کو عالمی رہنماؤں کو اسلام کے عادلانہ ومنصفانہ اورشرف انسانیت کے حامل نظام کو قبول کرنے کی دعوت دینی چاہیے۔
دنیا اس وقت بے چینی، جنگوں، معاشی عدم توازن اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے۔ طاقت کی کشمکش نے انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے اور عالمی امن ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ وہ کون سا نظام ہے جو واقعی عدل، مساوات اور دائمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اسلام وہ الٰہی نظام ہے جو تمام انبیائے کرام ؓ کی مشترک دعوت کا تسلسل ہے اور جس کی تکمیل حضرت  محمد مصطفیٰ ﷺ پر ہوئی۔
اسلام کسی خاص نسل، قوم یا خطے تک محدود پیغام نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قبائل اور قوموں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتائیں۔ اس تعلیم کی بنیاد عدل، رحم، امانت اور انسانی حرمت پر ہے۔ اسلام کا عادلانہ نظام اس بات پر زور دیتا ہے کہ طاقت قانون کے تابع ہو، کمزور کا حق محفوظ ہو اور حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھے۔
آج امریکہ سمیت دنیا کی تمام طاقتیں اگر اپنی پالیسیاں طاقت کے توازن اور مفادات کے بجائے عدل اور اخلاق کے اصولوں پر استوار کریں تو عالمی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ اسلام کا تصورِ عدل یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹنے دے۔ یہ تعلیم بین الاقوامی تعلقات میں بھی اسی قدر مؤثر ہو سکتی ہے جتنی انفرادی زندگی میں۔ اگر ریاستیں خود کو جواب دہ سمجھیں، ظلم اور استحصال سے اجتناب کریں، اور انسان کی جان و مال کو مقدس تصور کریں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ کلام : ہم امریکہ کو بالخصوص اور دنیا کے تمام ممالک کو بالعموم یہ پُرامن دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلام کے عادلانہ خدائی نظام کا مطالعہ کریں، اس کی اصل تعلیمات کو تعصب سے بالاتر ہو کر سمجھیں، اور ان اصولوں کو اختیار کرنے پر غور کریں جو انسانیت کی فلاح کے ضامن ہیں۔ یہ دعوت کسی جبر یا سیاسی غلبے کی نہیں بلکہ فکری و اخلاقی غور و فکر کی دعوت ہے۔ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ جب اس کے اصولوں پر حقیقی معنوں میں عمل کیا گیا تو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک ہی معاشرے میں امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہوئے۔
عالمی امن صرف معاہدوں اور ہتھیاروں کے توازن سے قائم نہیں رہتا بلکہ اخلاقی بنیادوں سے مضبوط ہوتا ہے۔ اسلام توحید کے ذریعے انسان کو ایک خدا کے سامنے جواب دہ بناتا ہے، اور یہی احساسِ جواب دہی اسے ظلم سے روکتا ہے۔ اگر عالمی قیادتیں اس شعور کو اپنالیں کہ اقتدار ایک امانت ہے اور ہر فیصلہ خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو پالیسیاں زیادہ منصفانہ اور انسان دوست ہو سکتی ہیں۔
یہ ایک اپیل ہےجو سوچنے کی، سمجھنے کی، اور اس راستے کی طرف قدم بڑھانے کی جو انبیائے کرامf کی مشترکہ تعلیمات سے روشن ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک، خواہ وہ کسی بھی طاقت یا نظریے کے حامل ہوں، انصاف، رحم اور خدائی ہدایت پر مبنی نظام کی طرف متوجہ ہوں تاکہ انسانیت ایک حقیقی اور پائیدار امن کی منزل پا سکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام اقوام کو حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ دنیا حقیقی امن اور آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہو۔ آمین!