درِ توبہ کھلاہے…
عامرہ احسان
امریکی سیکرٹری سٹیٹ کونڈولیزا رائس نے 2006 ء میں لبنان اور اسرائیل ما بین بڑھتی ہوئی جھڑپوں کو ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی پیدائش کے لیے دردِ زہ سے تشبیہہ دی تھی۔ کہا کہ امریکہ کے مفادات اسرائیل کی حمایت سے وابستہ ہیں۔ نیز عرب ممالک سے امریکی اتحاد، مثلاً سعودی عرب، مصر، اور اردن کے ساتھ، بالآخر اسلامی جہادی تنظیموں مثلاً حزب اللہ اور حماس کے خاتمے کے لیے اہم ہیں۔ اس وقت یہ بیان دنیا بھر میں تشویش سے پڑھا گیا، جس میں گریٹر اسرائیل بھی مضمر تھا۔
آج ہم وہ سارے مناظر اپنے سامنے 2026 ء میں دیکھ رہے ہیں۔ بیس سالوں میں مسلمانوں کا بے پناہ خون پلوں کے نیچے سے بہہ چکا۔ مشرقِ وسطیٰ تا افریقہ مسلمان ممالک چھلنی ہو گئے۔ امریکہ بے آبرو ہو کر افغانستان سے نکل گیا۔ ان بیس سالوں میں کئی مسلم ممالک ما بین الجھائو اور فساد کے بیج بوئے گئے جو آج بھی جاری ہے۔ نہ صرف یمن، لیبیا، سوڈان، بلکہ الجیریا اور مراکش میں سرحدی تنازعہ ۔ اور ادھر ہم پڑوسی!شام ٹکڑوں میں بٹ گیا، اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ عرب ممالک ما بین نہ صرف تناؤ ابھرتا، ڈوبتا رہا بلکہ پوری ہیئت بالخصوص سعودی عرب اور امارات کی بدل گئی۔ مشرق وسطیٰ اسی دوران غزہ میں ڈھائی سالہ انسانی تاریخ کے ہولناک قتل ِعام اور نسل کشی، اسرائیل کے ہاتھوں دم بخود بلا امداد دیکھتا رہا۔ امریکہ، یورپ، اسرائیل کا بھر پور اسلحہ، غزہ کو کھنڈرات اور ملبوں میں دبی لاشوں میں بدلتا رہا۔ پوری ایک خوبصورت انسانی تہذیب، معصوم بچوں، عورتوں سمیت قبرستانوں میں ڈھل گئی۔ ظلم کے ہاتھ کوئی نہ توڑ سکا۔ کاغذی کارروائیاں جنگی جرائم کے تحت مجرم نامزد کرتی رہ گئیں۔ بین الاقوامی قوانین، حقوق انسانی کی تنظیمیں، جنیوا کنونشنز سبھی غیر مؤثر تماش بین ثابت ہوئے۔
امریکہ، ٹرمپ جیسے صدر کو دوبارہ منتخب کر کے تاریخِ عالم میں ریکارڈ توڑ جرائم، انسانیت سے کھیلنے کو لے آیا۔ ہر نیا دن ایک نئی جنگ کی خبر سناتا ہے۔ پس پردہ ہاتھ اسی ٹرمپ کے ہوتے ہیں جو اپنے مؤقف بدلنے میں ادنیٰ ترین تأمل نہیں کرتا۔ ’دوسرے ممالک کی جنگیں نہیں لڑوں گا۔ ان میں نہیں الجھوں گا‘۔ ’حکومتیں بدلنے کی پالیسی اب نہ ہوگی‘۔ اور پھر عین یہی دونوں کام پوری تن دہی سے سرانجام دیئے۔ غزہ کے بعد اب ایران میں خامنہ ای حکومت ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے بیچوں بیچ جنگ چھیڑ دی۔ سینئر اسرائیلی دفاعی اہلکار نے رائٹر کو بتایا کہ ان حملوں کا پلان کئی ماہ سے ہو رہا تھا۔ تاریخ بھی طے ہو چکی تھی۔ مقصد حکومت بدلنا تھا، کہ ’بہا در‘ ایرانی عوام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ یواین میں امریکی سفیر نے کہا کہ اپنے اتحادیوں کو بچانے کے لیے ایران پر حملہ ضروری تھا۔ (اصلاً تو یہ صرف اسرائیلی اتحادی ہے جس کی خاطر مشرقِ وسطیٰ کی زمین اسلحے سے مسلسل چھلنی کی گئی ہے۔ امریکی ڈالر ان جنگوں میں بہا کر امریکی عوام کے معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔) یادر ہے کہ اسرائیل کے تحفظ ہی کے لیے بار بار عراق جنگوں میں روندا گیا۔
امریکہ کا اعتبار تو پہلے بھی نہ تھا اب اس کی سفارت کاری بے وقعت ہو گئی، کہ دونوں مرتبہ مذاکرات کے بیچ جنگ ایران سے چھیڑ دی۔ غزہ پر بھی امریکی، اسرائیلی جنگ بندی کے وعدے ہوا ہو گئے۔ نیز کانگریس سے اجازت اور اس کی تائید کے بغیر یہ جنگ چھیڑی۔ جس پر ڈیمو کریٹ اور MAGA ’امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘ تحریک کے حمایتیوں کی مخالفت کا بھی سامنا ہوگا۔ رہا نیا مشرقِ وسطیٰ تو صورت حال یہ ہے کہ ایرانی حکومت بدلنے کو اسرائیل نے امریکہ کی پشت پنا ہی سے بے دریغ بھرپور میزائل ایران بھر میں داغے۔ حسب روایت یہاں بھی بچے مارنا نہ بھولا۔ سکول میںحملہ کر کے165 بچیاں نشانہ بنا ڈالیں۔ جواباً ایران نے اسرائیل پر پے در پے ایئربیس ، کمانڈ ہیڈ کوارٹر، دفاعی صنعتی کمپلیکس پر بھر پور حملے کئے۔ 27 امریکی فوجی اڈے مشرقِ وسطیٰ میں چونکہ موجو دہیں لہٰذاعرب ممالک سبھی نشان زد رہے۔ ایران کے قطر میں 114 جگہ حملوں کے شار پنل گرنے سے 16 افراد زخمی ہوئے۔ 166 ایرانی میزائل داغے گئے، کویت، امارات، بحرین، اردن، سعودی عرب، سب دھماکوں، میزائلوں کی زد میں رہے۔
جنگ ایران، اسرائیل، امریکہ کی ہے۔ حال، حلیہ، ناک نقشہ خلیجی ممالک، مشرقِ وسطیٰ کا بدل رہا ہے۔ سو واضح اسباق ٹرمپی سیاست، ٹرمپی دوستی اور بیانات، چالبازیوں کے ہیں کہ وہ جو کہتا ہے عین اس کے مخالف کرتا ہے۔ ’ جنگیں نہیں لڑوں گا‘۔ ڈٹ کر غزہ پر اسلحہ برسایا، لمحہ لمحہ پلاننگ میں ہمراہ رہا۔ موت برسانے، قبرستان اجاڑنے، سے لے کر بھوک ننگ، فاقہ کشی مسلط کرنے تک۔ ہمارے لیے جو خوشامد، تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے۔ پہلے 7 جہاز گرائے پاکستان کے بہادروں نے، اب تعداد بڑھاتے 11 جہازوں تک لے آیا ہے۔یہ بلا سبب نہیں!
انھیں ایران کا نیوکلیئر پروگرام قبول نہ تھا۔ ہمارا تو پوری صہیونی مغربی دنیا کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ کیا ہم امریکہ کے محبوب دوست عرب ممالک پر اسرائیلی جنگ کے ہاتھوں، ایرانی میزائل گرتے دیکھ رہے ہیں؟ کل کلاں ہمارے ساتھ کیا نہیں ہو سکتا؟ ہم جنت الحمقاء سے جتنی جلد نکل آئیں اتنا بہتر! اس وقت پوری مسلم دنیا اچانک ہی جنگ میں جھونک دی گئی ہے اور ہم امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے! پناہ بخدا! امارات میں 137 میزائل، 209 ڈرون پھینکے گئے۔ ایک ہلاکت 7 زخمی ہوئے۔ امریکی اڈے ان امریکہ، اسرائیل کے مدد گار دوست ممالک میں کیا میزائل کھانے کوہیں؟ امریکہ محفوظ بیٹھا ہے سمندر پار! غزہ کو مدد کا لقمہ تک نہ دیا ڈھائی سال ان کی محبت میں؟ ابراہیمی معاہدوں کے بدلے عربوں کی جان شکنجے میں؟ سعودی عرب، قطر کے اربوں، کھربوں کے تحائف، نذرا نے کیا اس دن کے لیے تھے؟
اپنی فکر کریں! پالیسیاں پاکستان کے مفادات اور اخوتِ اسلامی کے تابع رہ کر بنائیں۔ صرف ایک نظر ہنود، یہود، صہیونی گٹھ جوڑ دیکھ لیں۔ مودی دو دن کے دورے پر تل ابیب گیا۔ نیتن یاہو غزہ کا ICC,ICJکی جانب سے جنگی مجرم ہے۔ مودی کشمیر اور گجرات پر بد نام زمانہ ہے انسانی حقوق پر تو، ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل! مودی نے غزہ قتل عام پر مکمل خاموشی رکھی۔ نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسے اسرائیل کے لیے دوست سے بھی بڑھ کر بھائی گردانا (بچھڑا بدل بھائی! بنی اسرائیل کابَچھڑااور ادھر گئو ماتا کابِچھڑا)مودی نے پارلیمنٹ (کنسیٹ) میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ اور بھارت کو ’مدر لینڈ‘ قرار دیا۔ خوب تالیاں بجیں ممبران کی طرف سے نیا رشتہ طے ہونے پر! مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز،’ میڈل آف آنر‘ دیا گیا۔ دو بچھڑے اوربِچھڑے بھائیوں کے ملاپ پر ایجنڈہ کیا تھا؟ (دیگر)ہم خیال ممالک کے ساتھ ایک مکمل نیا نظام، وسیع تر اتحاد، راسخ العقیدہ مسلمانوں کے خلاف۔ معاشی، سفارتی، سیکورٹی تعلقات پر مبنی تعاون و اتحاد ہوگا۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ یو این کو پرے دھکیل کر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس اور نتین یا ہو، مودی کا یہ اتحاد سامنے لایا جانے کو ہے۔ ہماری سینیٹ نے بجا طور پر اسے علاقائی اور بین الاقوامی خطرے کا باعث قرار دیتے ہوئے آواز اس کے خلاف اٹھائی تھی۔ مسلمانوں کو ،بالخصوص پاکستان کو خطے میں جاری امریکی، اسرائیلی یلغار کی روشنی میں سوچنا ہوگا؟ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے! اب سبھی کچھ عیاں ہے۔ گزشتہ 26 سالوں میں کیا کچھ نہ ہو گیا؟یہ ہماری اسلام سے دوری کے سارے شاخسانے ہیں۔ آپ انھیں سیکولر فدوی بن بن دکھا رہے ہیں، اور وہ آپ کو بہر طور دشمن اور غلام گردانتے ہیں۔ پاکستان سے شدید خائف اور اس کی جان کے لاگو ہیں۔ رمضان میں توبۃ النصوح کر کے رب کی طرف پلٹیے۔ آنے والے مشکل ترین دجالی ادوار کے لیے قرآن اٹھائیے، اسباق پکے کیجیے۔ درِ تو بہ کھلا ہے!