(ماہِ صیام) اعتکاف کی اہمیت، فضیلت، مقاصد - عبدالمجید ندیم

8 /

 

اعتکاف کی اہمیت، فضیلت، مقاصد

عبد المجید ندیم

عربی زبان میں اعتکاف کا مطلب رکنا اور تھم جانا ہے اور اصطلاحِ شرعی میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کسی مرد یا عورت کا اپنے معتکف میں قیام پذیر ہوجانا اعتکاف کہلاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک کر ادب و احترام سے بیٹھ رہنے کا نام اعتکاف ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر216میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے :’’ اور ہم نے ابراہیمؑ و اسماعیلؑ سے عہد و پیمان لیا کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ،اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف کر دیں۔‘‘
آیتِ مبارکہ کے مندرجات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ گھر بیت اللہ شریف کے طواف اور رکوع و سجود کے ساتھ ساتھ اعتکاف کو بھی قربِ الٰہی کا ذریعہ بتایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اولعزم پیغمبروں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلe کو حکم دیا کہ وہ معتکفین کے لیے انتظام و انصرام کریں۔ اس سے اعتکاف  کے قدیم ہونے اور انسانی شخصیت کی تعمیر میں روحانی اثرات مرتب کرنے کا پتہ چلتا ہے۔سورۃ البقرہ ہی کی آیت نمبر187میں احکامات کا تذکرہ کرتے ہو ئے  
{و انتم عا کفون فی المساجد}  کے الفاظ آئے ہیں جواعتکاف کی مشروعیت کے ساتھ ساتھ اس کے احکامات کا پتہ بھی دے رہے ہیں۔ اعتکاف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ ہر سال اعتکاف کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ k روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ ہر سال رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواجِ مطہرات بھی آپؐ کی سنت کی پیروی میں اعتکاف فرماتی تھیں۔‘‘(بخاری ،کتاب الاعتکاف)
اعتکاف کے فوائد: (1) اعتکاف کرنے والا گویا اپنے تمام بدن اور تمام وقت کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے  وقف کردیتا ہے، (2) دنیا کے جھگڑوں سے محفوظ رہتا ہے، (3) اعتکاف کی حالت میں اسے ہر وقت نماز کا ثواب ملتا ہے کیونکہ اعتکاف معتکف ہر وقت نماز اور جماعت کے انتظار اور اشتیاق میں بیٹھا رہتا ہے، (4) اعتکاف کی حالت میں معتکف فرشتوں کی مشابہت پیدا کرتا ہے کہ ان کی طرح ہر وقت عبادت اور تسبیح و تقدیس میں رہتا ہے، (5) مسجد چونکہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اس لیے حالت اعتکاف میں معتکف اللہ تعالیٰ کا پڑوسی بلکہ اس کے گھرکا مہمان ہوتا ہے۔
اعتکاف کرنے والا اتنا پاکیزہ و برگزیدہ ہوجاتا ہے کہ رسالت ِمآب ﷺ نے فرمایا: ’’ جس نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیاتو اسے دوحج اور دوعمرے ادا کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔‘‘ (بیہقی فی شعب الایمان)
حقیقت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والے کی مثال احرام باندھنے والے کی ہے جو اللہ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہونے کے لیے دنیا کے تمام علائق اور ضرورتوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔اسی طرح اعتکاف کرنے والا رمضان کے آخری عشرے میں تمام تعلقات کو خیر باد کہہ کر مسجد کے کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ کے در کا فقیر بن جاتاہے۔ اس کی یہ درویشی اور فقیری اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند آتی ہے۔ اس کی یہ عاجزانہ شان دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس پر بہت زیادہ مہربان ہو جاتے ہیں اور اسے جہنم کی آگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا عطا کرنے کے ساتھ ساتھ جنت کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اعتکاف کرنے والوں کے لیے اس قدر جوش میں ہوتی ہے کہ اگر کو ئی شخص ایک دن کا بھی اعتکاف کرے تو اس کےلیے اعلان کیا جاتا ہے جو شخص رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان ایسی تین خندقیں بنا دے گا جن کے درمیان آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ان دو خندقوں کے درمیان مشرق و مغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا (درِ منثور)۔
اس روایت میں دو باتیں قابلِ غور ہیں ایک تو یہ کہ اعتکاف کی ساری عظمت کا تعلق انسان کی نیت کے خلوص کے ساتھ ہے۔ اگر یہ نیت اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی ہو گی تو اس کا اجر و ثواب جہنم کی آگ سے آزادی کی صورت میں آئے گا۔ ظاہر ہے کہ ایک صاحبِ ایمان کے لیے اس سے بڑی کامیابی کیا ہو سکتی ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے :’’ پس جو شخص جہنم کی آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کر لیا گیا تو وہ حقیقت میں کامیاب ہو گیا ۔‘‘(آلِ عمران :185)۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دن کے اعتکاف کی برکات اتنی زیادہ ہیں تو پورے عشرے کے اعتکاف پر اللہ تعالیٰ کی داد و دہش کتنی زیا دہ ہوں گی۔
اعتکاف کی شرائط:
       اعتکاف کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جن کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں ہو گا۔ علامہ علاؤالدین کاسانی  ؒ لکھتے ہیں کہ: (1) مسلمان ہونا، (2) عقلمند ہونا(دیوانہ شخص احکامِ اسلام کامکلف نہیں ہوتا)، (3)جنابت،  حیض و نفاس سے پاک ہونا، (4) اعتکاف کی نیت کرے اس کے لیے کہ بغیر نیت کے عبادت صحیح نہیں ہوتی، (5)سنت اعتکاف کے لیے معتکف کا روزہ دار ہونا شرط ہے، (6)مرد معتکف کے لیے اعتکاف کے لیے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین اپنے گھر میں اعتکاف کریں گی، مسجد میں اعتکاف نہیں کریں گی۔ اپنے گھر میں عورت کا اعتکاف محلہ کی مسجدمیں اعتکاف کرنے سے افضل ہے۔ اور اپنے محلہ کی مسجد میں اعتکاف بڑی مسجد میں اعتکاف کرنے سے افضل ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، ج2، ص 108)
اعتکاف کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ معتکف 20 رمضان کی شام غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر پہنچ جائے۔
علامہ ابو الحسنm لکھتے ہیں: ’’نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اوّل وقت جس میں معتکف اعتکاف گاہ میں داخل ہوتا ہے وہ سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر قبل ہے اور اسی بات پر آئمہ اربعہ اور اہل علم کے ایک طبقہ کا اتفاق ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرامj کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے تھے اور دس کا شمار راتوں کی گنتی کے اعتبار سے کیا ہے۔ پس اس میں (عشرہ اخیرہ کی) پہلی رات بھی شامل ہے ورنہ یہ عدد بالکل پورا ہی نہیں ہوتا۔ (سنن النسائی)
اعتکاف کی اقسام:
  فقہی اعتبار سے اعتکاف کی تین اقسام ہیں۔
واجب ،منت کااعتکاف،: اعتکاف کی نذر مانی یعنی زبان سے کہا میرا فلاں کام ہو گا تو میں اللہ کے لیے فلاں دن یا اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا، تو ایسی صورت میں کام ہو جانے پر مقررہ دنوں کا اعتکاف واجب ہو گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ اپنی نذروں کو پورا کیا کرو ۔‘‘(الحج:29)۔حضرت عمرh سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیاکہ میں نے نذر مانی تھی کہ ایک رات میں مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اپنی نذرپوری کرو۔‘‘(صحیح بخاری)۔ منت کے اعتکاف میں روزہ شرط ہے، یہاں تک کہ اگر ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی اور یہ کہا کہ روزہ نہ رکھے گا جب بھی روزہ رکھنا واجب ہے۔ اور اگر رات کے اعتکاف کی منت مانی تویہ منت صحیح نہیں کہ رات میں روزہ نہیں ہوسکتا اوراگریوں کہاکہ ایک دن رات کا مجھ پراعتکاف ہے تومنت صحیح ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصوم، ج3، ص 496)
سنت اعتکاف:
  رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت ہے۔ حضورﷺ ہمیشہ مدینہ منورہ میں ہر سال رمضان المبارک میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ اسے فقہی اعتبار سے سنت مؤکدہ علی الکفایہ کہا جاتا ہے۔ یعنی پورے شہر میں کسی ایک نے کر لیا تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی گناہ گار ہوں گے۔ ان دنوں کا روزہ رکھنا بھی معتکف کے لیے شرط ہے۔ اگر کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا تو روزے کے علاوہ اعتکاف کی بھی قضاء لازم ہو گی۔ (الدرالمختار، کتاب الصوم،ج3، ص494)
مستحب/نفلی اعتکاف: 
نذر واجب اور سنت مؤکدہ کی شرائط سے ہٹ کر جو اعتکاف کیا جائے وہ نفلی اعتکاف کہلاتا ہے۔ اس کے لیے روزہ کی شرط اور وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں اعتکاف کی نیت کر لیجئے، اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الصوم، ج1، ص211)
اعتکاف کوتوڑنے والے امور:  
(1) معتکف کا شرعی و طبعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا (شرعی عذر سے مراد غسلِ واجب یا وضو کے لیے مسجد سے نکلنا اور طبعی عذر سے مراد قضائے حاجت کے لیے مسجد سے نکلنا)۔(2) حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔ (3) عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔ (4) اگر مسجد میں جمعہ نہیں ہوتا تو جمعہ پڑھنے کے لیے دوسری مسجد میں جانا عذرِ شرعی ہے، اس کے لیے اذان جمعہ کے بعد نکلے۔ (5) کسی وقت کوئی حادثہ ہو جائے تو جان و مال بچانے کے لیے مسجد سے نکلنا جائز ہے۔ (6) مریض کی عیادت اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے اگر مسجد سے باہر گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ (7) معتکف کوبے ہوشی یا جنون طاری ہوا اور اتنا طول پکڑ گیا کہ روزہ نہ ہو سکے تو اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے اور قضا واجب ہے۔ (8) مرض کے علاج کے لیے مسجد سے نکلے تو اعتکاف فاسد ہو گیا۔ (9) اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، اس لیے روزہ توڑنے سے اعتکاف بھی ٹوٹ جاتا ہے خواہ یہ روزہ کسی عذر سے توڑا ہو یا بلا عُذر، جان بوجھ کر توڑا ہو یا غلطی سے ٹوٹا ہو، ہر صورت میں اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ (10) اعتکاف  واجب میں معتکف کو مسجد سے بغیر عذر کے نکلنا حرام ہے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ بھول کر ہی نکلا ہو (فتاویٰ ہندیہ، ج1، ص211)، (11) معتکف نے حرام مال یا نشہ کی چیز رات میں کھائی تو اعتکاف فاسد نہیں ہو گا۔ (فتاویٰ ہندیہ، ج1، ص213) مگر اس حرام کام کاگناہ ہوا توبہ کرے۔ (12) معتکف نے دن میں بھول کر کھا لیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوا، گالی گلوچ یا جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مگر بے نور و بے برکت ہوتا ہے (فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصوم، ج1، ص213)، (13) اعتکاف بیٹھنے کے لیے خواتین شرعی عذر (حیض) روکنے کے لیے ٹیبلٹ یا انجکشن استعمال کرنا چاہیں تو غروبِ آفتاب سے لے کر اذانِ فجر سے قبل تک ٹیبلٹ لے سکتی یا انجکشن لگوا سکتی ہیں۔ لیکن اگر انجکشن لگوانے یا گولیاں کھانے کے باوجود کسی وقت عذرِ شرعی لاحق ہوجائے ، چاہے وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی ہو، تو مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ (15) رمضان المبارک میں معتکف یا معتکفہ (مرد یا عورت) کا کسی عذر کی وجہ سے مسنون اعتکاف ٹوٹ جائے، مثلًا ضرورت سے زائد اعتکاف گاہ سے باہر رہے یا معتکفہ (عورت) کو حیض آ جائے یا نفاس (بچے کی پیدائش) ہو جائے یا کوئی اور بیماری یا تکلیف لاحق ہو جائے تو جتنے دن کا اعتکاف رہ جائے، اور رمضان المبارک کے روزے بھی اتنے ہی ہوں تو عید کے بعد جب رمضان کے روزوں کی قضا کرے تو اعتکاف کی بھی قضا کر لے۔ 
اعتکاف کے مکروہات:
 (1) بالکل خاموشی اختیار کرنا کہ ذکر و نعت اور دعوت و تبلیغ کی بجائے خاموش رہنے کو عبادت سمجھا تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔ اگر بری باتوں سے خاموش رہا تو وہ اعلیٰ درجے کی چیز ہے۔ (2) مال و اسباب مسجد میں لا کر بغرضِ تجارت بیچنا یا خریدنا۔ (3) لڑائی جھگڑا یا بیہودہ باتیں کرنا۔
اعتکاف کامقصد:
شیخ ابن رجبؒ لکھتے ہیں: ’’معتکف اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے ذکر و یاد کے لیے پابند کر لیتا ہے اپنی ذات کو ہر اس عمل سے الگ کر لیتا ہے جو اسے    اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے سے مشغول کر دے، وہ دل اور جسم دونوں کواپنے رب تعالیٰ کے قرب کے ذرائع کے لیے اس طرح پابندکرلیتاہے کہ اب اس کا مقصود و منزل اللہ اور اس کی رضا کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔‘‘ 
معتکف پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں وہ اعتکاف کے دوران کی جانے والی نیکیوں کا اجر و ثواب سمیٹتا ہے وہیں پر اسے ان تمام نیک اعمال کا ثواب بھی ملے گا جو اعتکاف سے باہر ہونے کی صورت میں سرانجام دیئے جا سکتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر وہ ان دنوں میں کسی بیمار کی عیادت کا پروگرام رکھتا تھا یا اپنے والدین کی خدمت کا معمول تھا جسے وہ اعتکاف کی وجہ سے پورا نہیں کر سکا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمتِ کاملہ سے یہ اور اس طرح کے دوسرے نیک اعمال کا ثواب عطا فرمائے گا۔ حدیث کے الفاظ ہیں : ’’ اعتکا ف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اوراس کے لیے ان ساری نیکیوں کا ثواب بھی جاری کر دیا جا تاہے جو اس طرح کے وہ لوگ بجا لاتے ہیں جو اعتکاف میں نہیں ہیں۔‘‘(ابن ِ ما جہ ،کتاب الا عتکا ف)
اعتکاف کرنے والے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے لیے لیلۃ القدر کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جو شخص اعتکاف کرتا ہے اس کے زیادہ تر لمحات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرتے ہیں ۔ اس کے لیے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کا تلاش کرنا نسبتا ً آسان ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کو اعتکاف کے ساتھ ساتھ لیلۃ القدر بھی نصیب ہو جائے اس کی قسمت کا کیا ہی کہنا ! ایک طرف تو اسے اعتکاف کا ثواب مل رہا ہے اور دوسری طرف اسے ایک ایسی رات مل گئی ہے جس کی عبادت و ریاضت ہزار مہینے کی عبادت سے کہیں زیادہ افضل ہے اور صرف یہی نہیں اسے حضرت جبریلِ امینؑ اور ان کے ساتھ اترنے والے بے شمار فرشتوں کی جانب سے ان تمام برکات سے وافر حصہ بھی مل چکا ہے جو انہی خوش نصیبوں کو ملتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنا برگزیدہ و چنیدہ ہو نے کا شرف عطا فرما تے ہیں۔ان تمام فضائل کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اعتکاف کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور رضا حاصل کر لے۔ ایک عشرے کے لیے اپنے خاندان، دوست و احباب اور کاروبار سے الگ تھلگ ہونے کا مقصد  اس احساس کو تازہ کرنا ہے کہ ایک صاحبِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی معیت ہی سب سے بڑا اعزاز ہے۔ وہ وصالِ رب کی لذت سے آشنا ہونے کے لیے خلوت کے لمحات کو ترجیح دیتا ہے تا کہ وہ پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ اپنے خالق و مالک کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔ یوں تو اس کی یہ وابستگی ظاہری طور پر نو یا دس دن ہوتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں اس کا اپنے رب کے ساتھ اس قدر مضبوط رشتہ استوار ہو جاتا ہے کہ زمانے کی کوئی گردش اسے کمزور نہیں کر سکتی۔ اعتکاف کا ایک مقصد اس احساس کو بھی تازہ کرتا ہے کہ ایک بندہ اللہ تعالیٰ کا مہمان بن کر اس کے آستانے پر آ گیا ہے لہٰذا اس کی حیثیت ایک فقیرکی سی ہے اور وہ جن کا مہمان بن کر آیا ہے وہ اس کائنات کے سب سے زیادہ داد و دہش کرنے والے ہیں۔ اس کا یہ احساس اسے ان تمام خزانوں سے مالا مال کروا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں۔ پھر یہ بات بھی سو فی صد سچ ہے کہ اگر ہم کسی دنیوی طور پر با اثر اور امیر شخص کے مہمان بنیں تو وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنے مہمان کی عزت افزائی کرتا ہے تو تصور کیجیے کہ ربِ ذوالجلال جو سارے خزانوں کے مالک و مختار ہیں ان کی فیاضی کا کیا عالم ہو گا۔یاد رکھیے اعتکاف اسی وقت ایک عظیم الشان عبادت بن سکتا ہے جب معتکفین اسے اُس کی روح کے مطابق سرانجام دیں۔