(منبرو محراب) امانت و عہد کس قدر اہم ؟ - ابو ابراہیم

8 /

امانت و عہد کس قدر اہم ؟


(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے27فروری 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اُمت پر یہ کیسا وقت آن پڑا ہے کہ رمضان کا مہینہ جو کہ رحمتوں اوربرکتوں کا مہینہ ہے ، اس دوران افغانستان اور پاکستان دو برادر مسلم ممالک میں جنگ شروع ہے اور دونوں طرف مسلمانوں کی لاشیں گر رہی ہیں۔آج کی نشست میں تذکیر بالقرآن کے بعد اس موضوع پر بھی کلام ہوگا ۔ آج تذکیر بالقرآن کا موضوع ہے : امانت اور ایفائے عہد ۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخیوں کا معاملہ انتہا کو پہنچا ہوا ہے ۔ عدالتوں میں کیسز بھی چل رہے ہیں اور ایک کارروائی کے حوالے سے ریاستی اداروں نے قرآن مجید کے کچھ نسخوں کو اکٹھا کیا ہے جن کو غسل دینا شرعی تقاضا ہے کیونکہ اُن کی بے حرمتی کی گئی تھی ۔ اس حوالے سے بھی اپنا دردِ دل اُمت کے سامنے رکھنا مقصود ہے ۔ 
امانت کی پاسداری 
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا خیانت کی مذمت کی ہے اور امانت کی پاسداری ، وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنے کی تاکید کی ہے ۔اس حوالے سے  قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ نے  کم و بیش45 مرتبہ سے زیادہ مختلف پیرائیوں میں رہنمائی عطا فرمائی ہے۔جیسا کہ سورۃ المومنوں کے آغاز میں ان مومنین کی صفات کو بیان کیا گیا جو کامیاب ہوں گے یعنی جنت میں جائیں گے ۔ اِن صفات میں جہاں نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا کرنے، بے ہودہ باتوں سے بچنے ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور گناہوں سے بچنے کا بیان ہے وہاں یہ صفت بھی بیان ہوئی:
{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ(8)} (المومنون :) ’’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
ہمارے دین میں انسانوں کے معاملات کی درستگی اور اصلاح پر بھی بہت زور دیا گیا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ میرا اور آپ کا امتحان عبادات میں کم ہے، جبکہ معاملات اور اخلاقیات میں زیادہ ہے۔ یعنی نماز‘ زکوٰۃ‘ روزہ ‘ حج ‘ قربانی‘ عمرے‘ اعتکاف وغیرہ میںمشقت ہے لیکن امتحان کم ہے۔ مثلاً نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ  نے فرمایا :
{اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِط} (العنکبوت:45)’’یقیناً نماز روکتی ہے بے حیائی سے اور بُرے کاموں سے۔‘‘
اگر ایک بندہ نماز تو پڑھتا ہے لیکن برائی اور    بے حیائی سے نہیں بچتا تو گویا وہ معاملات کے لحاظ سے امتحان میں ناکام ہے ۔ لیکن اگر میرا ایمان مضبوط ہوگا تو میں  سات پردوں میں بھی برائی سے بچوں گا ۔ ایمان کے بغیر عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں مگرایمان اور عقیدے سے آگے بڑھ کر اعمال صالحہ کا بھی تقاضا ہے۔ اعمال اور معاملات سے پتہ چلتا ہے کہ بندے کا ایمان کتنا مضبوط ہے ۔ نماز میں ہم اقرار کرتے ہیں :
{ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ3} لیکن باہر آکر معاملات میں پتہ چلے گا کہ روز ِ حساب پر ہمارا یقین ہے کہ نہیں ۔ ایک بندہ زکوٰۃ ادا کرتاہے لیکن اس کے بعد معاملات سے پتہ چلے گا کہ دل کا تزکیہ ہوا یا نہیں ۔معاملات سے پتہ چلے گا کہ روزہ رکھ کر تقویٰ پیدا ہوا یا نہیں ۔ اسی طرح امانت اور عہد کی پاسداری سے پتہ چلے گاکہ بندے کے دل میں ایمان اور آخرت کا خوف ہے یا نہیں ۔جتنی بھی فقہی کتب مرتب کی گئی ہیں ان کا تقریباً 25 سے 30فیصد حصّہ ایمانیات اور عبادات کے بیان پر مشتملہوتا ہے جبکہ عموماً 70 سے75 فیصد معاملات کے بیان پر مشتمل ہوتاہے۔ معاملات میں نکاح بھی آتاہے ، خوشی غمی اور گھر گھرہستی کے معاملات بھی آتے ہیں،حقوق العباداور معاشی معاملات بھی آتے ہیں ، حلال و حرام سمیت زندگی کے بیشتر مسائل اور معاملات کا بیان ہوتاہے ۔ان معاملات میں ہی انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے ۔ ایک بندہ مسجد میں تو بڑا مومن بنا ہوا ہے لیکن باہر آتے ہی ڈیل کررہا ہے کہ میرا کمیشن کتنا ہوگا ، جھوٹ بولتا ہے ، دھوکہ دیتا ہے ، امانت میں خیانت کرتاہے تویہ بندگی نہیں ہے ۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے :
{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(البقرۃ:208) ’’ اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ 
 {وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(102)}(آل عمران) ’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
{وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ(99)} (الحجر) ’’اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہو جائے۔‘‘
{وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط }(الحدید:4)  ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
  اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ 18} (قٓ)’’وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اُس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔‘‘
{اِنَّہٗ عَلِیْمٌم  بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(38)} (فاطر)’’یقیناً وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے۔‘‘
{وَاِنْ تُـبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْـکُمْ بِہِ اللہُ ط} (البقرۃ:284) ’’اورجو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو خواہ چھپائو اللہ تم سے اس کا محاسبہ کر لے گا۔‘‘ 
 ’’توجس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہو گی وہ اُسے دیکھ لے گا ۔’’اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہو گی، وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔‘‘( الزلزال7،8)
بہرحال مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ امانت اور عہد کی پاسداری کرتاہے ، وعدوں کو پورا کرتاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ جب خطبہ ٔ جمعہ ارشاد فرماتے تو اس میں یہ جملہ بھی شامل ہوتا :((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَ مَانَةَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)) اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت کی پاسداری نہ کرے اور اس کا کوئی دین نہیں جو وعدے کو پورا نہ کرے۔یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے امانت کو ایمان سے جوڑا اور وعدے کو دین سے جوڑا۔ اگربندہ واقعتاً ایمان والا ہوگا تو امانت کی پاسداری کرے گا اور واقعتاً دین پر عمل پیرا ہوگا تو وعدہ پورا کرے گا ۔ 
امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ صرف مال و دولت کسی کے پاس رکھوا دینا ہی امانت نہیںہے بلکہ قرض بھی امانت ہے ، وعدے کے مطابق وقت پر لوٹانا ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
((اَلْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃِ))مجلس کے راز بھی امانت ہیں۔ کسی اجلاس کی کارروائی کی رپورٹ بھی امانت ہے ۔ کسی عالم سے کوئی فرد کسی ذاتی مسئلے پر رائے پوچھتا ہے تو وہ بھی امانت ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُــؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَالا}(النساء:58) ’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو۔‘‘ 
عام طور پریہ آیت الیکشن کے موقع پر بیان کی جاتی ہے کہ جناب ووٹ ایک مقدس امانت ہے ۔ لیکن اس امانت کا  فارم 45اور 47 کے ذریعے کیا حشر کیا جاتا ہے ، سب کو معلوم ہے ۔ تاہم اللہ کا حکم یہ ہے کہ مناصب اور عہدے اہل لوگوں کے حوالے کرو۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ والدین کے حقوق ، زوجین کے حقوق ، اولاد کے حقوق سمیت تمام  حقوق العباد بھی امانت ہیں ۔ ان حقوق کو ادا کرنا بندے پر فرض ہے ۔ اسی طرح اپنے وجود کا بھی حق ہے کیونکہ اس میں میرا کچھ نہیں ہے ۔ میری آنکھ ،کان ، ناک ، تمام اعضاء ، تمام صلاحیتیں ، تمام نعمتیں امانت ہیں اور ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ جیسا کہ فرمایا :{ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ }(التکاثر ) ’’پھر اُس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔‘‘
جو بھی نعمتیں ہمیں حاصل ہیں وہ اللہ کی امانت ہیں ، اُن کے بارے میں ہم نے جواب دینا ہے کہ ان کا صحیح استعمال کیا یا نہیں۔ اگر اللہ کی دی گئی تعلیمات کے مطابق اُن کا استعمال کر رہا ہوں تو یہ امانت کی پاسداری ہے ، ورنہ خیانت ہے ۔ اسی طرح روح بھی اللہ کی امانت ہے ۔ اس کے بھی حقوق ہیں ۔ گناہوں سے روح آلودہ ہو جاتی ہے ۔ اُس کو پاک کرنے کے لیے توبہ ضروری ہے اور پھر وحی کی تعلیم کے ذریعے اس کی نشو نما کرنا اور تقویٰ اختیار کرنا روح کے حقوق کا ادا کرنا ہے ۔ یہ قرآن بھی ہمارے پاس امانت ہے ۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے ہمارے حوالے کیا اور فرمایا :
((تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ ))’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، الله تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی اکرم (ﷺ) کی سنت۔‘‘
اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتاہے :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا }( آل عمران : 103 ) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر۔‘‘ 
بہرحال قرآن ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے اور رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے ، یعنی قرآن سے تعلق کو جوڑنے کا مہینہ ہے ۔ ایک بہترین موقع تنظیم اسلامی اور انجمن ہائے خدام القرآن کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے کہ ملک بھر میں کم و بیش150مقامات پر نمازتراویح  کےساتھ دورۂ ترجمہ قرآن اور بعض مقامات پر خلاصۂ مضامین قرآن کروایا جارہا ہے۔ یہ قرآن مجید کے حقوق ادا کرنے کا سنہری موقع ہے ، اسے سنیے ، سمجھیے ، پڑھیے اور پھر اس کی تعلیمات کے مطابق عمل کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْـنَـکُمْ}(المائدۃ:3) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے۔‘‘
  اللہ کے نبی ﷺپورا دین ہمیں دے کر گئے اور قائم کرکے ایک نمونہ بھی اُمت کے سامنے پیش فرما دیا۔  ختم نبوت کے بعد اس دین کے قیام کی ذمہ داری اس امت کو سونپی گئی ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا :
(( فلیبلغ الشاہد الغائب )) تم میں سے جو یہاں موجود ہیں اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں پر موجود نہیں۔ لیکن ہم نے آپ ﷺ کی اس امانت کے ساتھ کیا کیا ۔ بقول حالی ؎
وہ دین جو بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں آج غریب الغربا ہے
 امانت کی پاسداری کا تصور بہت وسیع ہے ، زندگی کا کوئی حصّہ اس سے باہر نہیں ہے ۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر حصہ میں امانت کی پاسداری کی جائے ۔ 
ایفائے عہد
زیر مطالعہ آیت میں آگے فرمایا :{ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ(8)} ’’اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
 حدیث میں ہے :
(( لا دین لمن لاعہدلہ)) اس کا کوئی دین نہیں جو وعدے کو پورا نہ کرے۔ 
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِط}(المائدہ :1)’’اے    اہل ِایمان! اپنے عہد و پیمان (قول و قرار )کو پورا کیا کرو۔‘‘
اے ایمان والو اپنے وعدوں کو اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔
وعدہ یکطرفہ ہوتاہے اور معاہدہ دوطرفہ ہوتاہے لیکن دونوں کو پورا کرنا لازم ہے۔ معاہدے کو ہم عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں لیکن وعدے کو چیلنج نہیں کرسکتے۔ البتہ وعدے کو توڑنا کبیرہ گناہ ہے جس کی سخت سزا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا(34)}(بنی اسرائیل)
 ’’یقیناً عہد کے بارے میںباز پُرس ہو گی۔‘‘
قرض کا لین دین بھی ایک معاہدہ ہے اس کو پورا کرنا لازم ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کی طویل ترین آیت (البقرہ :282) میں ہدایات دی گئی ہیں ۔اسی طرح احادیث میں بھی قرض کی ادائیگی کے بارے میں  بہت تلقین کی گئی ۔ یہاں تک کہ اللہ کے نبی ﷺ نےفرمایا :  شہید کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’بالفرض ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل یعنی شہید ہو، پھر زندہ ہو، پھر شہید ہو ، پھر زندہ ہو ، پھر شہید ہو تب بھی قرض معاف نہیں ہوگا ۔ ‘‘آپ ﷺ کے سامنے جب بھی جنازہ لایا گیا ، آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے لازماً پوچھا : اِس کے ذِمّہ قرض ہے ؟ اگر اُس کے ذِمّہ قرض ہوتا اور پیچھے اتنا ترکہ چھوڑگیا ہوتا کہ قرض ادا ہو جائے یا کوئی دوسرا اس کا قرض چکانے کا ذمہ لیتا تو آپ ﷺ جنازہ پڑھاتے ورنہ نہیں ۔ یعنی معاہدے کی پاسداری کی دین میں اِس قدر اہمیت ہے۔ اسی طرح وعدے کی پاسداری  بھی بہت اہم ہے ۔ وعدے کی تین قسمیں ہیں : ایک وعدہ وہ ہے جو بندہ اپنے آپ سے کرتاہے ۔ جیسا کہ رمضان میں جب امام صاحب دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ تو ہمیں رمضان کے بعد بھی نماز اور قرآن پڑھنے کی توفیق عطا فرماتو ہم سب زور سے آمین کہتے ہیں ۔ یہ آمین بھی ایک وعدہ ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی نماز اور قرآن پڑھیں  گے ، اسی طرح خواتین اپنے آپ سے وعدہ کرتی ہیں کہ ہم شرعی پردہ کریں گی ، بچوں کی دینی تعلیم و تربیت پر فوکس کریں گی وغیرہ ۔ اسی طرح کچھ وعدے ہم دوسروں سے کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ لکھے جاتے ہیں جو معاہدہ کہلاتے ہیں اور کچھ نہیں لکھے جاتے ،جیسے سوسائٹی کے رولز کو ہم تسلیم کرتے ہیں اور پھر ان کو فالو کرنا ہماری ذِمّہ داری ہوتی ہے ۔ مثلاً پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا وغیرہ ۔ اللہ کے دین میں یہ بندوں کے حقوق کہلاتے ہیں اور ان کو ادا کرنا فرض ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے اللہ سے ہمارا وعدہ ہوتاہے ۔ اسی طرح اللہ سے ایک اور وعدہ بھی ہم نے کیا ہوا ہے جس کو عہد الست کہا جاتاہے :{اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَاج}( الاعراف:172 ) ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا :کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔‘‘
اللہ سے یہ عہد ہم عالم ارواح میں کرکے آئے ہیں اور سب نے اس عہد کی پاسداری کا وعدہ کیا ہے ۔ دنیا میں آکر اگر کوئی بندہ اس عہد کو بھول جاتاہے تو رب نے یاددہانی کے لیے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کو بھیجا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کے آغاز میں ہی یہ یاددہانی موجود ہے : 
{اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ0 } پھر شعوراً کوئی بندہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو یہ عہد کرتا ہے :
اشھد ان لا الٰہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ 
 اسی طرح ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم اس عہد کو تازہ کرتے ہیں : {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ0}
یہ پوری زندگی کا وعدہ ہے ۔جیسا کہ شروع میں  عرض کیا ہمارا امتحان عبادات میں کم ہے اور معاملات میں زیادہ ہے ۔ وعدے ہمارے ممبران اسمبلی بھی کرتے ہیں ، ججز بھی کرتے ہیں ، حکمران بھی کرتے ہیں ، ہر عہدے کا حلف اُٹھاتے وقت ایک عہد کیا جاتاہے اور عہدے امانت ہیں ۔ جو امانت اور عہد کی پاسداری کرے گا وہ جنت میں جائے گا ۔ اس کے برعکس منافق کی چار نشانیاں بیان ہوئیں : جب بات کرے، جھوٹ بولے ، جب وعدے کرے تو اُس کی خلاف ورزی کرے ، جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے اور جب جھگڑاہو تو گالم گلوچ کرے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس میں یہ  ساری صفات ہوں وہ پکا منافق ہے ۔ 
ماہ رمضان اور حرمت قرآن
رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ ہم نے اپنے خطابات جمعہ میں بھی اور دیگر فورمز پر بھی اس بات کو اُٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ عرصہ سے توہین مقدسات کا سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ دیگر دینی اور ذمہ دارحلقوں نے بھی اس حوالے سے آواز اُٹھائی ہے ۔ گستاخیاں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ ذِمّہ داران بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ریاستی اداروں نے ایک میسج بھی ریکارڈ کرکے شہریوں میں عام کیا کہ اپنے بچوں کو ان فتنوں سے بچائیں اور ان کی حفاظت کریں۔ ریاستی اداروں نےقرآن مجید کے کم و بیش  39نسخوں کو جمع کیا ہے جن کے ساتھ ظالم گستاخوں نے بے حرمتی کا بد ترین معاملہ کیا تھا ۔ ان نسخوں کو غسل دینے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے بھی اور کچھ دیگر دینی حلقوں نے بھی ریاستی اداروں سے درخواست کی تھی کہ آپ ان نسخوں کو قانونی ثبوت کے طور پر اپنے پاس ضرور رکھیں مگرشرعی تقاضا یہ ہے کہ ان نسخوں کو غسل دیا جائے ۔ ہم تمام علماء اور دینی حلقوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے آواز اُٹھائیں ۔ یہ قرآن پاک کی حرمت اور عظمت کا مسئلہ  ہے ۔ ہم روزے رکھ کر تقویٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس تقویٰ کا ایک تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ کی نشانیوں کی عظمت کا اقرار بھی کریں اور احترام بھی کریں ۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی ہے۔ حکومت چاہے تو ایک دن میں کئی قانون پاس کر لیتی ہے ، ایک قانون اس حوالے سے بھی بنا دیا جائے تاکہ قرآن کے ان نسخوں کو پاک کیا جاسکے ۔ ہم ریاستی اداروں اور حکومتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والے مجرموں کو قرارواقعی سزا دی جائے تاکہ سب کے لیے عبرت کا سامان ہو ۔حکومت اور اداروں کے پاس جو طاقت اور اختیار ہے وہ کہاں کہاں  استعمال نہیں ہورہا ،کیا اس معاملے میں طاقت اور اختیار کا استعمال نہیں ہو سکتا ؟ ہم سب محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی ہیں، روزِ قیامت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کیا جواب دیں گے ؟
پاک افغان جنگ 
 
بدقسمتی سے جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا ، پاک افغان جنگ شروع ہوگئی اور دونوں طرف مسلمانوں کی لاشیں گر رہی ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کا مقصد پورا ہو رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک امت بنایا ہے ۔ قرآن میں فرمایا :{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ }(الحجرات:10) ’’یقیناً تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
رمضان کا مہینہ اگرچہ حرمت والے مہینوں میں شمار نہیں ہوتا  لیکن اس کے باوجود اس مہینہ کا تقدس اور احترام ہے ۔ اس مقدس ماہ میں ایک مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا خون بہہ رہا ہے ۔ یہ ہمارے پالیسی سازوں اور حکمرانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے دونوں طرف سے اشتعال انگیز بیانات داغے جارہے ہیں ، پریس کانفرنسیں ہو رہی ہیں کہ ہم نے اتنے مار دیئے ، اتنے ماردیئے وغیرہ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں طرف سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں ، مگر ان غلطیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا خون بہانا کونسی عقلمندی ہے اور اس کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ابلیسی اتحاد ثلاثہ (امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا )  اسلام دشمنی میں باہم متحد ہو چکے ہیں ۔ ان کو معلوم ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے ۔ ابلیسی اتحاد ثلاثہ ایک طرف انڈیا کو جنگ کے لیے اُکسا رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان کی سرزمین کو بھی ہمارے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ تیسری طرف ایران کے خلاف بھی امریکہ اور اسرائیل نے جنگ شروع کر دی ہے۔ خدانخواستہ  ایران کو شکست ہو جاتی ہے تو اس کے بعد وہ پاکستان کی سرحدوں  تک پہنچ جائیں گے ۔ ہمارا گمان ہے کہ ہمارے بڑوں کو اتنی سمجھ ضرور ہوگی کہ وہ حالات کا اندازہ کر سکیں ۔ جنگ کے برعکس مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں اور دہشت گردی کے خلاف دونوں ملک مل کر حکمت عملی بنائیں ۔ مستقل کے منظر نامے کو مدنظر رکھ کر پالیسی بنائیں کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جسے احادیث میں خراسان کہا گیا ہے اور احادیث کے مطابق یہاں سے اسلامی لشکر حضرت مہدی کی نصرت کے لیے جائیں گے ۔ یہود کو یہ سب معلوم ہے ، اسی لیے وہ اس خطے کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپس میں ہی لڑتے رہیں اورمستقبل کے لیے کوئی تیاری نہ کر سکیں ۔ اللہ تعالیٰ دونوں طرف کے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے ، عام مسلمانوں کے دلوںسے بھی ایک دوسرے کی نفرت کو دور کردے اور ایمان کے رشتے کو مضبوط کردے ۔ آمین !