اداریہ
رضاء الحق
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے……
دنیا میں اَمن قائم کرنے کے دعوے دار امریکی صدر کے بارے میں اب یہ شبہ تو رہ نہیں گیا کہ وہ ایک جنگی جنونی شخصیت کا حامل ہے۔گزشتہ ایک سال میں جب سے امریکی صدر کے عہدے پر متمکن ہے شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ امن قائم کرنے کے نام پر کسی نہ کسی ملک پر حملہ نہ کیا ہو۔حال ہی میں یہ اعترافِ جرم کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں پہل کی ہے۔ اس سے پہلے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای مجھے قتل کرنے کی کوشش کراتے، میں نے اُنہیں ’قتل‘ کر دیا، میں اُن سے بازی لے گیا۔اِس میں شک نہیں ہے کہ امریکی صدر کو ہر حال میں بازی جیتنے کا جتنا زیادہ شوق ہے ،اس کی مثال ماضی میں بھی کم ہی ملتی ہے۔ جس میں ایپسٹین فائلز نے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر کے اس شوق کی قیمت پوری دنیا کو ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق صدر دیمتری میدیدیف کا کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کی کوشش ترک نہ کی تو یقینی طور پر تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔ اس کے عالمی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایران تو امریکا اور اسرائیل کے حملے جھیل لے گا، لیکن حملہ کرکے امریکہ نے ایرانی قوم کو متحد کردیا ہے، امریکہ اور اسرائیل نے اِس جنگ کے ذریعےاپنے شہریوں کو بھی زیادہ خطرے سے دوچارکردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ امریکہ کی نہیں اسرائیل کی جنگ ہے جسے امریکہ لڑ رہا ہے تاکہ اسرائیل کو خطے اور پھر دنیا میں غلبہ حاصل ہو جائے۔ امریکہ جانتا ہے کہ روس سے نیوکلیئر تنازع کی قیمت کیا ادا کرنا پڑے گی، نیوکلیئر تنازع ہوا تو ہیروشیما اور ناگاسا کی پر نیوکلیئر بم حملے بچوں کا کھیل نظر آئیں گے،جبکہ امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیاہے کہ ایران میں رجیم چینج موجودہ امریکی فوجی آپریشن کا باضابطہ ہدف نہیں ہے۔ امریکہ کی مکمل توجہ ایران کے میزائل پروگرام، ان کی تیاری کی صلاحیت اور بحری طاقت کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ اگر ایرانی عوام خود موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیں تو امریکہ اِسے ’خوش آئند‘ سمجھے گا تاہم یہ موجودہ جنگ کے ’مقاصد‘ میں شامل نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خیال ہے کہ وہ ایران میں بغاوت پیدا کروا سکتا ہے۔
ہم ایک عرصہ سے مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کو مذہبی قرار دیتے رہے ہیں لیکن جس انداز میں اسرائیل اور امریکہ کی اعلیٰ قیادتیں اب کُھل کر اِسی ’سازشی تھیوری‘ کو بیان کر رہی ہیں، اُس نے ہمیں بھی حیران کر دیا ہے، گویا اب اُنہیں نتائج کی کوئی فکر نہیں۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ مذہبی جرم ہے جس کے نتائج سنگین ہوں گے، علاقائی ممالک کے ساتھ ایران کی کوئی جنگ نہیں اس لیے، ایران پر حملے سے متعلق علاقائی ممالک کو امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ امریکہ نے مذاکرات کے بیچ ایران پر حملہ کرکے سفارت کاری کے راستے کو بند کر دیا ہے کہ دھوکہ باز کی کسی بات پر یقین ممکن نہیں۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران نے لمبی جنگ کی تیاری کر رکھی ہے، ہم اپنی 6 ہزار سالہ تہذیب کا دفاع کریں گے،اِس کے لیے قیمت خواہ کچھ بھی ہو، دشمن کو اندازے لگانے کی غلطی پرپچھتانا ہوگا۔
عرب ممالک میں امریکی اڈے ایران کے براہِ راست نشانے پر ہیں اور وہ انہیں پوری شدت سے نقصان بھی پہنچا رہا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور اس کے حمایتی اِن حملوں کو عرب ممالک پر حملے قرار دے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ٹھکانوں پر حملے کررہا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ختم نہیں کی جائے گی اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کو تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی اور اِس گزرگاہ سے عرب ممالک کو نوے فیصد خوراک کی ترسیل بھی ہوتی تھی، جو اب بند ہے۔
جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے افغانستان، پاکستان اور دیگر برادر ممالک سے ملحقہ تمام سرحدیں مکمل طورپربند کر دی ہیں۔پاکستان کے تفتان بارڈر سمیت کیچ سے ملحقہ بارڈر بند کرکے تجارتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں ۔ ایران کی جانب سے اشیائے خوردونوش اور ادویات کی تجارت رُک گئی ہے جس سے سرحدی تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان، چین اور ایران کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی اِس جنگ کا بڑا معاشی دھچکا پہنچ رہا ہے۔
روس اور شمالی کوریا کی جانب سے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کے اعلانات نے صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ممکنہ بلاکس میں بٹ جانے سے کسی بھی علاقائی تصادم کا دائرہ کار لمحوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں چین، پاکستان اور ترکیہ کی محتاط سفارت کاری یقیناً اس منظرنامے میں اہمیت کی حامل ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ایران کو حالیہ جنگ یا گزشتہ برس ہونے والی جنگ میں بہت بڑا نقصان ملک کے اندر موجود امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں نے پہنچایا ہے۔اُن کے تعاون کے بغیر ایران کو اتنا بڑا نقصان پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔سڑکوں پر لگے سیکورٹی کیمرے ہیک کرلئے گئے اور وہ تمام معلومات حاصل کرلی گئیں جو ایرانی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ میں ممدو معاون ہوسکتی تھیں۔ شنید ہے کہ اسلام آباد کے سیف سٹی کیمروں میں بھی یہی اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال ہوتا ہے۔ واللہ اعلم!
عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں نے اُنہیں بھی جنگ میں حصّہ دار اور ٹارگٹ توبنا ہی دیا ہے اور یہ ممالک اس بات پر بھی ’’پریشان‘‘ ہیں کہ جنگ تو ایران اور امریکہ، اسرائیل کی تھی، ایران نے اُن پر کیوں حملہ کردیا۔عرب ممالک کے اِن ’’معصوم‘‘ سوالات نےجنگی ماحول میں کامیڈی کی صورت حال پیدا کردی ہے۔جبکہ ایران نے واضح جواب دیا ہے کہ حملے صرف امریکی اور اسرائیلی اڈوں پر کئے گئے ہیں ۔
ایران پر ان حملوں کے بعد اسرائیل براہِ راست پاکستان تک پہنچ چکا ہے،نیتن یاہو تو کئی سال پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ وہ پہلے ایران کو ختم کرے گا پھرپاکستان کی طرف آئے گا،اس وقت خدانخواستہ یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے کہ ابلیسی اتحادِ ثلاثہ کا اگلا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے۔نائب وزیراعظم محمداسحاق ڈار کا سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ ڈپلومیسی ہی مسئلے کا حل ہے۔ ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا راستہ نکل آئے گا۔ ہم دل و جان سے ایران کے ساتھ ہیں، معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ، صورت حال نازک ہوئی تو اِس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہوں گے۔نائب وزیراعظم صاحب کو یہ بات نجانے کیوں یاد نہیں رہی کہ امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو اِن کے مذاکرات چل رہے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کی زبان سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ طاقت سے ہر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیںاور نائب وزیر اعظم صاحب کو یہ بات بھی اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ اصل سپر پاور امریکہ نہیں اللہ کی ذات ہے ،اِس لیے صرف اُس کی خوشنودی کے لیے ہی تمام تر اقدامات کیےجائیں۔ پاکستان کو اِس خطرناک صورتِ حال میں اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اُس کے گھیرے سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اسرائیل اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑ دئیے جائیں۔ اس کے لئے ہمیں عسکری کے ساتھ ساتھ نظریاتی تیاری بھی مکمل رکھنا ہوگی۔
عالمی سطح پر جب تک مسلمان ممالک آپس میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرکے ایک بڑی اجتماعیت کی صورت اختیار نہیں کرتے، دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں۔ سب کو سمجھ جانا چاہیے کہ:
ؔیہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہےہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026